• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہمارے دوست مسٹر کلین چونکہ بہت مصروف شخصیت ہیں، اس لیے ان سے ملنا بسا اوقات ہمارے لیے بھی کارے دارد بن جاتا ہے۔ ہم نے ایک دفعہ ان سے گزارش کی کہ اپنا کوئی نظم الاوقات ہمیں بتادیں تاکہ ہم آپ کے کام کے اوقات میں مخل نہ ہوں اور فرصت دیکھ کر آپ سے استفادے کے لیے حاضر ہوسکیں تو انہوں نے جواب میں جوش ملیح آبادی کی ایک غزل لکھ کر ہمارے حوالے کردی اور بتایا کہ میری بھی مشغولیات کی ترتیب قریب قریب اس طرح کی ہوتی ہے۔ غزل یہ تھی؎
اے شخص! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے وہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گا اور صبح کو وہ ناظرِ نظّارۃ قدرت طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا اور دن کو وہ سرگشتہ اسرار و معانی شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا اور شام کو وہ مردِ خدا، رندِ خرابات رحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے گا اور رات کو وہ خلوتیِ کاکل و رخسار بزمِ طرب و کوچۂ خوباں میں ملے گا اور ہوگا کوئی جبر، تو وہ بندہ ٔمجبور مْردے کی طرح خانۂ ویراں میں ملے گا
جوش ملیح آبادی سے مسٹر کلین کی ’’عملی‘‘ ہم آہنگی کا تو ہمیں پہلے سے اندازہ تھا تاہم جوش جیسے بڑے شاعرو ادیب کے ساتھ اس طرح سے خود کو ملانے پر ہم ’’چہ نسبت خاک را…‘‘ والا اعتراض تو کرسکتے تھے، مگر کیا نہیں کیونکہ ہم اپنے ہمدم دیرینہ کی ناراضی کا متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم ایک چیز کی ہم بھی گواہی دیں گے کہ موصوف جوش کے


اس شعر کا تو صحیح مصداق ہیں کہ
اور صبح کو وہ ناظرِ نظّارۃ قدرت
طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا
وہ بہت سے اپنے ہم مشرب لوگوں کے بر عکس سحر خیز ہیں اور صبح کی سیر ضرور کرتے ہیں۔ یہاں آکر ہمارا اور ان کا بھی قارورہ بھی مل جاتا ہے، ہم بھی صبح کی سیر کے عادی ہیں، فرق یہ ہے کہ مسٹر کلین اسے ’’واک‘‘ کہتے ہیں اور ہم ’’چہل قدمی‘‘۔ ہمارے مشترکہ دوست ماسٹر مبین نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ آپ دونوں کا یہ اختلاف دراصل ’’لفظی‘‘ اور ’’اصطلاحی‘‘ ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ صرف یہیں نہیں، بلکہ دیگر بہت سے معاملات میں بھی مسٹر اور ملا کا اختلاف دراصل لفظی و اختلاف ہوتا ہے اور دونوں کاایک بڑا مسئلہ ایک دوسرے کی زبان اور اصطلاحات سے ناواقفیت بھی ہے۔

خیر! تو ہم اس موضوع کی طرف پھر کبھی آئیں گے، فی الوقت ہم آپ کو یہ بتانے جارہے تھے کہ اس دن ہم فجر کے بعد ’’چہل قدمی‘‘ کرتے ہوئے ایک قریبی پارک کی طرف جارہے تھے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی معمول کی ’’واک‘‘ کرتے ہوئے ہم سے آملے۔ ہم نے ان سے حال احوال کے بعد کچھ ’’نئی تازی‘‘ سنانے کی فرمائش کی تو ایسا لگا جیسے موصوف ہمیں ’’نئی تازی‘‘ کی بجائے ’’جلی کٹی‘‘ سنانے کے لیے بس اسی فرمائش کے انتظار میں تھے۔ مسٹر کلین نے ایک مذہبی جماعت کی جانب سے راول پنڈی میں دھرنا دینے اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی خبروں کا حوالہ دے کر ملاوں کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ ہم نے اس بات پر ان سے اتفاق کیا کہ مطالبہ خواہ کتنا ہی اہم، بڑا اور مقدس کیوں نہ ہو، اس کی منظوری کے لیے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کیا جانا چاہیے جس سے کسی انتشار کا خدشہ ہو، عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہوں یا شخصی و ریاستی املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہو، دینی و مذہبی رہنماؤں کو خاص طور پر اس سے احتراز کرنا چاہیے،

کیونکہ ان کا ہر فعل دین و مذہب کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے، مگر اس اتفاق کے بعد ہم نے مسٹر کلین سے ایک سوال کیا آخر کیا وجہ ہے کہ ختم نبوت سے متعلق قوانین میں اتنی بڑی تبدیلیاں کی گئیں، پھر جب اس پر احتجاج ہوا تو اول اول حکومت نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایسی کوئی تبدیلی ہوئی ہی نہیں ہے، احتجاج کرنے والے دراصل’’ لفظی‘‘ اور ’’اصطلاحی‘‘ اختلاف میں الجھے ہوئے ہیں۔ پھر جب قوانین میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی تو حکومت کا بیان آیا کہ غلطی تو ہوئی ہے، لیکن یہ کوئی دانستہ اقدام نہیں بلکہ ’’کتابتی غلطی‘‘ ہے۔ یعنی یہاں بھی ملا کی انگریزی سے ناواقفیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی، مگر جب ملا وںنے مطالبہ کیا کہ چلیں اب اس ’’کتابتی غلطی‘‘ کو درست کردیا جائے تو یہاں بھی چال بازی کی کوشش کی گئی اور کچھ’’ غلطیوں‘‘ کی اصلاح کرکے قادیانیوں کی حیثیت متعین کرنے والی دفعات کو محذوف ہی رکھاگیا اور پھر جب ملا ایک جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور دوسری جانب سے فیض آباد پہنچ گئے تب کہیں جاکر وہ دفعات بھی بحال کردی گئیں، مگر اس کے بعد اس اصولی مطالبے کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا کہ یہ ساری سازش، جس میں سب سے زیادہ بدنامی اور سبکی خود حکومت کی ہوئی ہے، جس نے بھی کی ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ گویا کہ حکمران خود سو جوتے اور سو پیاز دونوں کھانے کی’’ پالیسی‘‘ اور’’ حکمت عملی‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔ اب اس میں اگر دھرنا دینے والے قصور وار ہیں تو حکمران ان سے زیادہ قصوروار ہیں، کیونکہ عمل اور ردعمل کا نیوٹن کا قانون تو یہی کچھ کہتا ہے!

اور پھر دوسرااہم سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے ختم نبوت کے مسئلے پر دھرنا دینے سے شہریوں کو پہنچنے والی تکلیف پر تو مسٹر کلین سمیت ہر کوئی سیخ پا ہے، مگر اسی اسلام آباد میں ایک سیاسی جماعت کی جانب سے تین ماہ تک دھرنا دے کر پورے ملک کے نظام اور معیشت کو مفلوج کیا گیا تواس پر کسی کو عوام کی مشکلات کا احساس کیوں نہیں ہوا اور مسٹر کلین سمیت تمام ’’ترقی پسند‘‘ اور ’’انسان دوست‘‘ لوگ اس کی حمایت فرمارہے تھے۔

ہمارا خیال تھا کہ مسٹر کلین ہمارے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب دیں گے۔ اگر کہیں ’’لفظی‘‘ اور ’’اصطلاحی‘‘ فرق کو سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہو تو اس کی توضیح کریں گے، مگر ہم ہوا یہ کہ جب ہم یہاں تک پہنچے تو پارک کاداخلی دروازہ آگیا اور مسٹر کلین ہم سے ہاتھ (یاجان) چھڑا کر پارک کے اندر چلے گئے اورہم تشنہ ٔجواب وہیں سے واپس ہوگئے۔