• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دو تین دن پہلے کا قصہ ہے۔ہمیں فرصت کے کچھ لمحات میسر آئے تو سوچا قریب میں واقع پبلک لائبریری سے ہوآئیں تاکہ کچھ استفادہ کرسکیں یا اگر کچھ نئی کتابیں آئی ہوں تو ان سے تعارف حاصل کرسکیں۔کسی زمانے میںاس لائبریری میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی، کچھ پڑھے لکھے لوگ اورطلبہ تو یہاں کتابیں پڑھنے آیا کرتے تھے جبکہ اکثریت ہمارے اور ہمارے دوست مسٹر کلین جیسے لوگوں کی ہوتی تھی جو اس لائبریری میں مفت کے اخبارات پڑھنے کی غرض سے آتے اور اخباری صفحات کی کھینچا تانی میں مصروف ہوتے۔اب چونکہ انٹر نیٹ اور موبائل فون کا زمانہ ہے، اس لیے بیشتر لوگ صرف نیٹ کے خرچے پر مفت کے اخبارات کمپیوٹر اور موبائل فون کی اسکرین پر ہی پڑھ لیتے ہیں، یوں اب اخبارات پڑھنے کے لیے اخبارات کے اسٹال یا پبلک لائبریری جانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ہم لائبریری پہنچے تو وہاں ہمارے اندازے کے عین مطابق ہو کا عالم تھا، لائبریری تو کھلی ہوئی تھی اور اس کے داخلی دروازے پراس کے منتظم شاہین صاحب جوپرانے زمانے سے اس کی دیکھ بھال پر مامور چلے آرہے ہیں، کرسی پربیٹھے اونگھ رہے تھے۔ہمیں دیکھ کر ان کی اونگھتی آنکھوں میں چمک سی آگئی، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا، حال احوال کیا اور ساتھ میں یہ خوش خبری بھی سنائی کہ اندر ایک کونے میں آپ کے ہمدم دیرینہ مسٹر کلین بھی تشریف فرما ہیں اور کسی خاص موضوع پر ریسرچ فرمارہے ہیں۔


ہمیں یہ سن کر خوشی ہوئی کیونکہ کئی دنوں سے مسٹر کلین سے ملاقات نہیں ہوپارہی تھی اور ہمیں تشویش سی تھی کہ کہیں ہمارے دوست کے دشمنوں کی طبیعت توخراب نہیں ہوئی۔خیر تو ہم لائبریری میں داخل ہوئے اوردیکھا کہ مسٹر کلین ایک میز کے کونے پر ڈھیر ساری کتابیں سامنے دھرے بیٹھے ہیں، کتابوں سے حوالے نکال نکال کرسامنے گتے پر لگے کاغذ پر لکھ رہے ہیں۔ ہم نے کوشش کی کہ ان کے اس تحقیقی عمل میں دخل نہ دیں اور اپنی ضرورت کی کتاب تلاش کریں، مگر مسٹر موصوف کی نظر ہم پر پڑ گئی اور انہوں نے ہمیں آواز دے کر اپنے پاس بلالیا، ہم ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے اور ان سے خیر خیریت دریافت کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ایسی کیا الجھن در پیش ہوگئی ہے جس کے حل کے لیے وہ آج یہاں پرانی یادیں تازی کرنے آئے ہیں۔مسٹر کلین نے بتایا کہ ایک بہت ہی اہم معرکہ درپیش ہے۔حالیہ دنوں ایک انگریزی اخبار میں مضمون چھپا ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے لیے جو ’’ماٹو‘‘ دیا تھا، اس میں بڑی تحریف کا انکشاف ہوا ہے اور اس مضمون کیااشاعت کے بعد پارلیمنٹ کی ایک مجلس میںبھی یہ آوازاٹھائی گئی ہے کہ قائد کے دیے گئے اصل ماٹو کو بحال کیا جائے۔میں اس پر’’ ریسرچ‘‘ کر رہا ہوں کہ یہ سانحہ کب اور کیسے ہوا؟ ہم نے عرض کیا: ’’آخر قائد کا دیا گیا اصل ماٹو کیا تھا اور اس میں کیا تحریف کی گئی ہے؟‘‘

مسٹر کلین نے بتایا کہ اصل ماٹو تھاUnity, Faith, Discipline ۔یعنی اتحاد، یقین اور نظم۔اسے بدل کر ایمان، اتحاد اور تنظیم کردیا گیا ہے، یعنی ایک تو یقین کی جگہ ایمان ڈال دیا گیا اور دوسرا ایمان کو اتحاد سے پہلے کردیا گیا۔ہم نے عرض کیا: ’’یہ تحریف کس نے کی ہے؟‘‘ مسٹر کلین نے بتایا کہ سب سے پہلے تولیاقت علی خان کے دور میں یقین کو’’ یقین محکم‘‘ بدلا گیا۔ہم نے عرض کیا: ’’بھائی! لیاقت علی خان قائد اعظم کے دست راست اور جانشین تھے، ظاہر ہے کہ قائد اعظم کے افکار وخیالات سے ان سے بڑھ کر کوئی واقف نہیں ہوسکتا، اگر انہوں نے faithکے اردو معنی میں تبدیلی کی تو قائد کے نظریات کے مطابق ہی کی ہوگی۔ ہم اور آپ کون ہوتے ہیں، 70 سال بعد قائد کے دست راست پر تحریف کا الزام لگانے والے۔‘‘

پھر ہمیںیہ بات سمجھ نہیں آتی کہ’’ ایمان‘‘ کے لفظ سے کسی کو کیا تکلیف ہوسکتی ہے؟؟ کیا مسئلہ صرف یہ ہے کہ’’ ایمان‘‘ کا لفظ مذہبی تاثر رکھتا ہے اور جیسا کہ چچا غالب نے کہا تھا؎ ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

ایمان بندے کو’’ کلیسا ‘‘یا آج کے دور میں’’امریکا‘‘ کی طرف مکمل جھکاؤ سے روکتا ہے، اس لیے اس سے پیچھا چھڑانا ضروری ہے، اس لیے اس کے ماٹو سے ایمان کے لفظ کو نکال دیا جائے، مگر مشکل یہ ہے کہ اردو میں تو آپ ایمان کے لفظ کو مذہبی تاثر کی وجہ سے نکال سکتے ہیں، مگرانگریزی میں قائد اعظم نے جو یہ لفظ Faith استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں ایک تو ہم نے یہ پڑھا ہے کہ خود انہوں نے اس کی تشریح کرتے ہوئے Faith on Allah کا فقرہ بھی کہا تھا اور ہمیں اگرچہ انگریزی نہیں آتی مگر آپ ( مسٹر کلین) جیسے دانشوروں کی صحبت میں رہ کر ہم بین المذاہب مکالمہ کے لیے

Inter Faith Dialogue کی اصطلاح سنتے آئے ہیں۔اس اصطلاح کے مطابق تو فیتھ سیدھے سیدھے مذہب کے معنیٰ میں استعمال ہورہا ہے تو یہ جو ریسرچ آپ فرمارہے ہیں، یہ آپ کے حق میں نہیں، بلکہ آپ کے خلاف جاسکتی ہے۔مسٹر کلین نے تھوڑی سی بیزاری اور بے بسی کا تاثر چہرے پر سجاکر ہماری طرف دیکھا، ہم نے عرض کیا، ہاں! یہ بھی سنیے کہ ایمان کو یقین سے بدلنے کی آپ کی سوچ بھی آپ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ علماء بتاتے ہیں کہ یقین ایمان سے بھی آگے کی چیز ہے۔ایمان تو جیسے تیسے سہی، سبھی رکھتے ہیں، مگر یقین کا درجہ اس سے آگے کے مقامات میں سے ہے۔پھر تبلیغی جماعت نے ’’ایمان و یقین ‘‘کی محنت کے ذریعے یقین کے لفظ کو ایمان کے ساتھ ایسا جوڑا ہے کہ اسے آپ لوگوں کے تصور سے الگ کر ہی نہیں سکتے۔ یہاں ہمیں یقین سے متعلق یہ شعر بھی یاد آیا جو ہم نے مسٹر کلین کی نذر کردیا کہ؎ جو یقین کی راہ میں چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا، وہ قدم قدم پہ بہک گئے
ہم نے دیکھا مسٹر کلین نے قلم ہاتھ سے رکھ لیا، سامنے رکھی کتابیں سمیٹنے لگے۔ ہم نے انہیں لائبریری کے سامنے بنے کوئٹہ ہوٹل میں دودھ پتی پلانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلی اور ہم لائبریری سے باہر آگئے۔