• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

مسٹر کلین سے حال احوال کے بعد ہم نے ان کے توسط سے مہمان کی بھی خیریت معلوم کی اور پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بھی انگریزی میں کچھ کہا جس میں’’ تھینک یو‘‘ کی ہمیں بھی سمجھ آئی اور باقی کی شاید مسٹر کلین کو بھی سمجھ نہیں آئی ورنہ وہ ضرور ترجمہ کرکے بتاتے۔

خیر !تو مسٹر کلین نے موصوفہ کا تعارف کرایا کہ انگلینڈ سے تشریف لائی ہیں، ریسرچر ہیں، میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں، انسانی حقوق اور حقوق نسواں پر تحقیقی رپورٹیں شائع کرنے پر انہیں کئی بین لاقوامی اعزازات بھی ملے ہیں۔ ابھی یہ پاکستان آئی ہیں اور یہاں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی صورت حال پر ایک معروف یورپی این جی او کے لیے تحقیقی کام کرنا چاہتی ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کے موصوفہ کے جذبے کو سرا ہا اور عرض کیا کہ ’’انسان میں تحقیق کا جذبہ ہو اور وہ غیر جانبدار ہوکر سچائی کی تلاش میں نکلے تو ایک نہ ایک دن حقیقت کو پاہی لیتا ہے، جیسے سسٹر یوان رڈلے بھی نائن الیون کے بعد اسی سلسلے میں پاکستان آئی تھیں،

افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں اور حقائق کو اس پروپیگنڈے کے خلاف پایا جو ان کے ملک میں اسلام اور طالبان کے حوالے سے کیا جارہا تھا، چناچہ ان کی زندگی ہی بدل گئی اور اب وہ دنیا بھر میں مغربی پروپیگنڈے کی جگہ حقیقت کی ترجمان بنی ہوئی ہیں۔ ‘‘

یوان رڈلے کا اس انداز سے تذکرہ معزز مہمان اور ان کے میزبان مسٹر کلین دونوں کے لیے شاید زیادہ’’ ذائقہ دار‘‘ نہیں تھا،اس لیے انہوں نے اس پر کوئی خاص ردعمل دینے گریز کیا اور ہمیں گھیر کر اپنے متعین موضوع کی طرف لانے کی کوشش کی، مگر آج ہمیں چونکہ پہلی بار کسی مغربی باشندے کے سامنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع میسر آگیا تھااور برما میں آنگ سان سوچی کی حکومت، فوج اور بودھ دہشت گردوں کے ہاتھوں اراکانی مسلمانوں کے قتل عام اور خواتین کی آبروریزی کی اندوہناک خبروں سے کلیجہ چھلنی تھا،اس لیے مذکورہ خاتون کے لیے محض ایک ’’سورس آف ریسرچ‘‘ بننے پر دل آمادہ نہ ہوا۔ خاتون نے ایک سوالنامہ سامنے رکھا تھا جس میں جبری شادی، ونی، سورہ جیسی رسموں اور تیزاب گردی جیسے واقعات کے بارے میں پو چھا گیا تھا، کہ اسلام میں ان کا کیا حکم ہے؟ ہم نے اس کا اجمالی جواب دیا کہ ان میں سے کسی چیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام ہر قسم کی زیادتی کی ممانعت کرتا ہے۔ خاتون مزید سوالات پوچھنا چاہتی تھی، مگر ہم نے مسٹر کلین کے توسط سے ان سے یہ عرض کیا کہ ’’پہلے آپ یہ بتائیں کہ ان سوالات کا مقصد کیا ہے؟‘‘ موصوفہ نے جواب دیا کہ ’’یہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سوالات ہیں اور پاکستان میں خواتین کے معاملے میں بنیادی حقوق سے متعلق پاکستان کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے،اس لیے عالمی اداروں نے پاکستان پر’’فوکس ‘‘کیا ہوا ہے۔ ‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’پاکستان پر اس نوازش کا بہت شکریہ، لیکن کیا اس وقت پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین پر سب سے زیادہ ظلم ہورہا ہے؟؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ اس وقت برما میں لاکھوں روہنگیا خواتین اور بچے بد ترین مظالم کا شکار ہوکر موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں،خود اقوام متحدہ کے طبی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ برمی فوج وحشیانہ طریقے سے خواتین کی آبروریزی کر رہی ہے۔ آپ پاکستانی خواتین کے حقوق کی فکر میں پاکستان تشریف لائی ہیں،اس پر ہم آپ کے ممنون ہیں،

لیکن کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ ایک انسانی حقوق کی کارکن،ریسرچراور صحافی کی حیثیت سے پاکستان کی جگہ برما کا سفر کرتیں، وہاں کے اصل حقائق دنیا کے سامنے لاتیں… موصوفہ نے تھوڑے سے توقف کے بعد اس پر بس اتنا کہنا مناسب سمجھا… ’’آئی سی‘‘۔

مسٹر کلین نے موصوفہ کی خودساختہ ترجمان بن کر اس کی تشریح کی کہ موصوفہ کہہ رہی ہیں کہ میں اس پر بھی ضرور کام کروں گی، حالانکہ یہ وہی جواب ہے جو ہر ایسے نازک مسئلے پر ہر عالمی فورم پر مسلمانوں کو دیا جاتا ہے جس کا مقصد بس مسلمانوں کو ٹالنا ہی ہوتا ہے۔ ہم اب اس جواب پر کیا کہتے۔ ہم نے مسٹر کلین کے توسط سے ہی اس پر موصوفہ کو لطیفہ سنایا کہ ’’پنجاب کے کسی دیہات میں ایک نیا نویلا انگریزی پڑھا ہوا تھانیدار آیا، اگلے دن ایک بڑھیا روتی ہوئی اس کے پاس آئی کہ اس کی بکری گم ہوگئی ہے۔ اس پر تھانیدار نے کہا،’’ اوہ !آئی سی!‘‘۔ بڑھیا نے اپنا سر پیٹتے ہوئے کہا۔ ’’آئی سی تو فیر پکڑی کیوں نہیں سی!‘‘ مسٹر کلین نے بڑی مشکل سے لطیفے کا ترجمہ کیا تو موصوفہ کھسیانی ہنسی ہنسنے لگیں اورہم مسٹر کلین سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آئے۔