• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ایک دعوت میں شرکت کے لیے شہر کے ایک مصروف علاقے کی طرف جارہے تھے۔ اس سے چند روز قبل اسی علاقے سے ہمارا گزر ہوا تھا تو یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوئی تھی کہ وسط شہر میں واقع اس کاروباری مرکزسے گزرنی والی سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارشوں سے سڑک کے بیچوں بیچ بڑے بڑے گڑھے بنے ہوئے ہیں جن میں بارشوں اور سیورج کا پانی جمع ہے اور جن پر ’’موت کے کنواں‘‘ کا گمان ہوتا ہے۔ سڑک کا جتنا کنارہ بچا ہوا تھا وہ کچرے اور مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ بجلی کے کھمبے ٹوٹے ہوئے اور اور تاریں بکھری پڑی تھیں۔ گلیوں میں لگے برقی قمقمے تاریکی میں گم تھے۔ اب کی بار ہم اس علاقے سے گزرے تو یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ ما شا ء اللہ سے سڑکوں کی نہ صرف مرمت ہوئی تھی بلکہ پورے علاقے میں تارکول کا کارپٹ بچھایا گیا تھا۔ کچرے کی صفائی کرکے چونا ڈال دیا گیا تھا اور لائٹیں درست کردی گئی تھی۔ ساتھ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے حفاظتی دستے بھی جگہ جگہ تعینات تھے۔ یہ سارا منظر دیکھ کر دل خوش ہوا اور مایوسی امید میں بدل گئی کہ چلیں شہر میں کچھ صفائی ستھرائی اور نظم و نسق کی بہتری کا کام تو شروع ہوگیا ہے۔


مگر اسی سڑک پر تھوڑا سا آگے گئے تو وہاں وہی پرانا نقشہ سامنے تھا۔ پہلے تو خیال آیا کہ شاید ابھی مرمت وغیرہ کا کام ابھی یہاں تک نہیں پہنچا ہوگااور جلد ہی پہنچنے والا ہوگا مگر اس طرح کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آرہے تھے کہ یہاں بھی جلد کام شروع ہونے والا ہوگا۔ ہم نے گاڑی میں خلاف معمول کافی دیر خاموش بیٹھے مسٹر کلین سے اپنی یہ الجھن حل کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ پیچھے جس علاقے سے ہم گز رہے تھے، وہاں گلی میں آگے جاکر ایک عبادت گاہ واقع ہے جہاں مجلسیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ صفائی ستھرائی اور مرمت و سیکیورٹی کے یہ انتظامات در اصل اس عبادت گاہ کے آس پاس کے علاقے میں کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی ہی کے پیش نظر قریبی مارکیٹ کے دوکانداروں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ عاشوراء سے کم از کم تین دن پہلے دوکانیں بند کرکے گھروں کو چلے جائیں۔ یہ سب سن کر ہمیں شدید حیرت بھی ہوئی، افسوس بھی ہوا اور غصہ بھی آیا جو شاید ہمارے چہرے سے بھی عیاں ہورہا تھا،اس لیے مسٹر کلین نے ہم پر چوٹ کرتے ہوئے کہا: ’’حکومت اگر ایک طبقے کو مذہبی رسومات کی ادائیگی میں سہولتیں دی رہی ہے تو اس پر آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’ہمیں تکلیف اس بات پر ہر گز نہیں ہورہی کہ انتظامیہ کسی بھی طبقے کو کیوں تحفظ اور سہولیات فراہم کر رہی ہے،ہما رادکھ تو یہ ہے کہ صرف ایک طبقے کو یہ سہولیات کیوں دی جارہی ہیں تمام اہل وطن کو کیوں نہیں دی جارہیں؟ کیا جس علاقے سے ابھی ہم گزر رہے ہیں،اس کے رہنے والے پاکستانی نہیں ہیں؟کیایہاں بھی سڑکوں کی مرمت و صفائی نہیں ہونی چاہیے؟کیا یہاں بھی لائٹیں ٹھیک نہیں کی جانی چاہئیں؟ کیا یہاں بھی حفاظتی دستے موجود نہیں ہونے چاہئیں؟؟؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’اس طرح حکومت اگر سب کو سہولیات دے سکتی تو جھگڑے ہی ختم ہوجاتے۔‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ مگر جھگڑے اس طرح سے بھی ختم نہیں ہوں گے کہ آپ کسی ایک طبقے کو تو نواز دیں باقی کو بالکل ہی محروم رکھیں۔ اسی سے توجھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘

اس پرمسٹر کلین نے کہا: ’’آپ کے طبقے کے ساتھ یہ مسئلہ بھی تو ہے کہ آپ سرکاری سہولیات کو قبول بھی نہیں کرتے۔ حکومت آپ کے مدارس کو امداد دینا چاہتی ہے تو آپ اسے سازش قرار دے کر رد کرتے ہیں اور ابھی خیبر پختونخوا حکومت نے مساجد کے اماموں کی تنخواہیں مقرر کرنے کی بات کی تو آپ لوگوں نے اس پر بھی شک کا اظہار کیا، حالانکہ ہمیں تو اس اعلان کے بعد آپ ملا لاگوں سے باقاعدہ حسد ہونے لگا تھا۔ ( ہم نے لقمہ دیا کہ یوں کہیں کہ ہمارے حسد کی آگ مزید بڑھ گئی تھی۔ اس پر موصوف نے زرودار قہقہہ لگایا )‘‘

ہم نے عرض کیا: ’’سرکاری سہولیات لینے سے کون نادان انکار کر سکتا ہے، ہمارا تو مطالبہ رہا ہے کہ ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناتے حکومت ملک میں دینی تعلیم، مساجد کا نظم سمیت تمام دینی ادارے خود چلائے اور علماء اور ائمہ کے وظایف مقرر کرے جیساکہ اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، مگر ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیاہمارے یہ حکمران ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں یا ایسا کر نے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں یا ان کا اصل مقصد بیرونی آقاوؤں کے اشارے پر رہے سہے دینی مراسم کو بھی مٹانا اور علماء کی زباں بندی کرنا ہے؟؟‘‘

مسٹر کلین نے شرارتی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاکر کہا: ’’کاش! ایسا ہوجائے!‘‘ پھر یکدم سنجیدہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا: ’’ملاجی! میری مانیں تو آپ بھی پشاور جائیں اور وہاں کی کسی مسجد کی امامت کے لیے اپلائی کریں۔ ہر مہینے کڑک کڑک نوٹ ملا کریں گے تو زندگی اچھی ہوجائے گی آپ کی۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’الحمدللہ! ہماری زندگی کڑک کڑک نوٹوں کے بغیر بھی اچھی بلکہ بہت اچھی گز ر رہی ہے مگر چلیں آپ کے مشورے پر غور کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ پشاور کے ائمہ مساجد کی تنخواہیں کون سے ماہ سے جاری ہورہی ہیں؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’اس کا تو ابھی فیصلہ نہیں ہوا، شاید اگلے انتخابات کے بعد کی بات کی ہے خان صاحب نے!‘‘

اس پر ہمیں ’’ہور چوپو‘‘ والا لطیفہ آگیا جو کچھ اس طرح ہے کہ مشرقی پنجاب کے کسی گاؤں میں سیانوں نے اس امر پر غور کرنے کے لیے کہ ’’ہم ترقی کیسے کریں‘‘، اجلاس بلایا،وڈے سیانے نے رائے دی کہ اس کے لیے ہمیں گنا کاشت کرنا چاہیئے۔ اس تجویز پر سب کا اتفاق ہوگیا، مگر کونے میں بیٹھے ایک نوجوان سردارجی نے توجہ دلائی کہ گنا کاشت کریں گے تو یہ قریبی گاؤں رہنے والے ’’مسلے‘‘ آکر ہمارے گنے ’’چوپ‘‘ لیں گے، اس طرح تو ہمارا نقصان ہوجائے گا؟ اس پر سب نے تشویش کا اظہار کیا اور اس کے حل کی تجویز طلب کی گئی۔ ایک نے رائے دی کہ اس کے لیے کہ ہمیں ابھی جاکر ان مسلوں کو ’’سبق‘‘ سکھانا ہوگا تاکہ جب ہم گنا کاشت کرلیں تو انہیں چوری چھپے آکر چوپنے کی ہمت ہی نہ ہوسکے۔ پھر کیا تھا! سارے سردار صاحبان ہاتھوں میں ڈنڈے اور سوٹے اٹھائے مسلمانوں کے محلے کی طرف بڑھے،جو سامنے آیا اسے پیٹنا شروع کردیا،کوئی اس اچانک افتاد کی وجہ پوچھتا تو سردار جی صاحبان اس کے سر پر ایک ڈنڈا اور رسید کرکے کہتے’’ ہور چوپو!۔ ‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ ابھی ائمہ کی تنخواہیں مقرر کرنے کاکوئی منصوبہ بناہے نہ اس کے لیے کوئی بجٹ منظور ہوا ہے۔ محض ایک شوشا چھوڑا گیا ہے اور اس پر مولویوں کے سروں پر ڈنڈے بر سائے جارہے ہیں کہ ’’ہور چوپو!‘‘

اس پرمسٹر کلین کا خیال اپنے توشہ دان کی طرف گیا جس کو وہ ہردور اور نزدیکی سفر میں ساتھ رکھتے ہیں۔ موصوف نے اس میں رکھی رسیلی گنڈیریاں نکالیں اور ہمیں پیش کرتے ہوئے کہنے لگے:’’ہور چوپو!ـ‘‘