• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پرسوں کی بات ہے ہمیں یہ اندوہناک خبر ملی کہ ہمارے کرم فرما ماسٹر مبین کی والدہ محترمہ کاا نتقال ہوگیا ہے۔ہم دوڑے دوڑے ماسٹر صاحب کے گھر پہنچے، کیونکہ ہمیں اندازہ تھا کہ یہ سانحہ ماسٹر صاحب کے لیے کتنا درد ناک اور کرب انگیز ہے۔ماسٹر صاحب کی والدہ کی شہرت ایک بہت ہی نیک، پارسا، خدمت گزار اور غریب پرور خاتون کی تھی اور ماسٹر صاحب کے مطابق ان کی بہت سی رفاہی خدمات کے پیچھے ان کی والدہ کی ترغیب، تعاون اور دعاوؤں کا عنصر کارفرما ہوتا تھا۔وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور ماسٹر صاحب دل وجان سے ان کی خدمت میں مصروف تھے۔ ہم پہنچے تو ماسٹر صاحب کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا اور ماسٹرصاحب ہمارے خدشات کے بر عکس صبرو تحمل اور وقار و تجمل کے ساتھ لوگوں سے تعزیت قبول کرنے کے ساتھ تجہیز و تکفین کے انتظامات میں مشغول تھے۔ہم نے بھی ان سے اظہار افسوس کیا اور تعزیت کے مسنون کلمات کے ساتھ دعائیں دیں۔تجہیز و تکفین کے بعدجنازے کا اعلان ہوا،کچھ ہی دیر میں ہزاروں لوگ امڈ آئے اور جنازے میں شرکت کی۔قریبی قبرستان میں تدفین ہوئی۔ قبرستان سے واپسی پر ہم نے مناسب جانا کہ مزید کچھ لمحات ماسٹر صاحب کے ساتھ گزارے جائیں تاکہ ان کے غم میں شرکت محض رسمی نہ رہے۔

 

ماسٹر صاحب کے مکان کے باہر شامیانہ لگایا گیاتھا اور لوگ بڑی تعداد میں تعزیت کے لیے آرہے تھے۔ جو بھی آتا ماسٹر صاحب سے تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ کی نیکی، تقویٰ،عبادت گزاری،غریب پروری اور احسانات کا تذکرہ کرتا۔ ہمیں ماسٹر صاحب پر رشک آیا کہ ان کی والدہ کی نیکی اور اچھائی کے باعث آج انہیں اتنے زیادہ غم گسار مل رہے ہیں۔وہ اپنے دکھ اور مصیبت میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ آج ہر کوئی ان کے ساتھ غم میں برابر کا شریک لگ رہا ہے۔ ہم نے موقع پر موجود لوگوں سے عرض کیا کہ دیکھیں نیکی اور اچھائی کی زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ انسان کو اپنی حیات میں بھی عزت ملتی ہے اور موت کے بعد بھی اس کی خوشبو چاروں طرف پھیلی اپنی بہار دکھارہی ہوتی ہے۔ہم نے عرض کیا کہ اسلام پر زندگی اور اعمال صالحہ کے ساتھ ایمان پر موت نصیب ہوجائے تو یہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔ ابھی ہماری یہ گفتگو جاری تھی کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی تشریف لائے۔انہوں نے ماسٹر صاحب سے تعزیت کی اور ماسٹر صاحب کے حکم پر ہم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے موت سے پہلے موت کی تیاری اور اللہ کی عبادت، اللہ کی مخلوق کی خدمت کی اہمیت پر کچھ اظہار خیال کیا۔ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی ہماری گفتگو سن رہے تھے اور ان کے چہرے کے تاثرات سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی سوال یہ اشکال ان کے ذہن میں گردش کر رہا ہو۔ ہماری گفتگو ختم ہوئی تو لوگ آہستہ آہستہ منتشر ہونے لگے تاکہ نئے آنے والوں کے لیے جگہ بن سکے۔ ہم بھی اسی ارادے سے ماسٹر صاحب سے اجازت لینے کے لیے موقع کے انتظار میں تھے کہ مسٹر کلین ہمارے قریب تشریف لائے اور کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’ملا جی! اگر اجازت ہو تو ایک بات پوچھ لوں؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ بخوشی پوچھیں۔‘‘ کہنے لگے:’’ میں نے آپ کی اسپیچ سنی،آپ نے اچھی باتیں کیں، ایک بتائیں، چند روز قبل پاکستان میں جذام کے خلاف کام کرنے اور انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والی جرمن خاتون ڈاکٹر رتھ فاؤکی ڈیتھ ہوگئی ہے۔

آپ کو ان کی خدمات کے بارے میں علم ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اخبار میں ان کی رحلت کی خبر سے پتا چلا کہ آنجہانی نے پاکستان میں جذام کے خاتمے کے لیے اچھا کام کیا تھا،ان کی خدمات کے اعزاز میں حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ ٔامتیاز سے نوازا۔

مسٹر کلین نے کہا:’’ آپ کی کیا رائے ہے ان کے بارے میں؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کے لیے ان کی خدمات قابل قدر ہیں،ہم ان خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور حکومت پاکستان نے انہیں بجا طور پر ستارہ ٔامتیاز دیا ہے۔ ہمارے خیال میں حکومت کو اس سے بھی زیادہ ان کو عزت دینی چاہیے تھی اور ان کی زندگی میں ان کی خدمات کی تشہیر بھی کی جانی چاہیے تھی۔‘‘ مسٹر کلین نے کہا:’’ ملا جی! میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاتون بھی جنت نہیں جاسکتی؟‘‘ ہم نے جوابی سوال کیا:’’ یہ بتائیں کہ کیا ان خاتون نے یہ خدمات جنت میں جانے کے مقصد کے تحت سر انجام دی تھیں؟کیا ان کا کوئی بیان ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے کبھی کہا ہو کہ وہ یہ جو کچھ کر رہی ہیں،اللہ کی رضا کے لیے اور جنت کے حصول کے لیے کر رہی ہیں؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا:’’ مجھے یہ کنفرم نہیں ہے، مگر کیا اتنی بڑی نیکی کا بدلہ جنت نہیں ہونا چاہیے؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ اگر کسی کو جنت کی طلب ہوتی ہے تو وہ اس کے لیے راستہ بھی وہ اختیار کرتا ہے جو جنت کی طرف جاتا ہے۔وہ راستہ ہے ایمان اور اعمال صالحہ کا راستہ۔ ایمان پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ایمان کے بغیر کوئی عمل معتبر نہیں ہوتا۔‘‘

مسٹر کلین نے کہا:’’ کیا خدا کی مخلوق کی خدمت جنت کی طرف نہیں لے جاسکتی؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ بالکل لے جاسکتی ہے، مگر خداکی مخلوق کا نمبر دوسرے درجے پر آتا ہے، پہلے درجے پر خود خدا کا حق بنتا ہے کہ بندہ اسے پہچانے۔ آپ اسے ایک مثال سے سمجھیں۔ ایک شخص گھر سے باہر بہت رفاہی و سماجی خدمات سر انجام دیتا ہے، مگر گھر میں اپنے ماں باپ کو کبھی پوچھتا ہی نہیں۔کیا یہ شخص ماں باپ کی جائیداد کا مستحق بن سکتا ہے؟ مسٹر کلین تھوڑے سے فکر میں پڑ گئے،پھر کہنے لگے میرا سوال یہ ہے کہ کیا خدمت انسانیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا، بالکل ہے، اسے آپ ایک اور مثال سے سمجھیں۔ایک بچے کو امتحان پاس کرنے کے لیے دو لازمی مضامین مثلا انگریزی اور ریاضی میں پچاس نمبر لینے ضروری ہیں۔یہ بچہ انگریزی میں تو پورے 100نمبر لے لیتا ہے مگر ریاضی میں صفر لیتا ہے۔ اب کیا اس وجہ سے کہ اس نے انگریزی میں 100نمبر لیے ہیں، کوئی قانون اسے امتحان میں پاس قرار دے سکتا ہے؟؟؟‘‘ مسٹر کلین نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا:’’ میں نے آپ سے سیدھا سوال کیا تھا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ جنت میں جائے گی یا نہیں، آپ ریاضی لے کر بیٹھ گئے۔‘‘

یہ کہہ کر مسٹر کلین کرسی سے اٹھنے لگے۔ ہم نے چلتے چلتے ان سے عرض کیا:’’ ویسے تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم ملا مسلمانوں کو جوکہ جنت کے طلب گار بھی ہیں، جنت کی خوش خبری دیتے ہیں تو آپ لبرل لوگ ہم پر جنت کے ٹکٹ بانٹنے کی پھبتی کستے رہتے ہیں، جبکہ خود غیرمسلموں کو ان کی چاہت اور طلب نہ ہونے کے باوجود جنت کا ٹکٹ وہ بھی بزنس کلاس کا الاٹ کرنے سے گریز نہیں کرتے!!!‘‘ مسٹر کلین نے جیسے ہماری یہ بات سنی ہی نہیں، مڑے اور تیزی سے آگے گلی کی طرف نکل گئے!