• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

گزشتہ نشست میں ہم نے آپ کواپنے دوست مسٹر کلین کی مدرسہ آمد کی روداد بتائی تھی۔ مسٹر کلین کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا ہوجائے، جب تک اس پر ’’ریسرچ‘‘ کر کے اس کو حل نہ کرلیں، چین سے نہیں بیٹھتے۔ ہم نے انہیں مدارس میں نئے داخلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بتایا تھا تو ہمیں اندازہ تھا کہ وہ ضرور اس موضوع پرداد تحقیق دیں گے اور یقینا ہم سے بھی رجوع کریں گے۔ ہمارے اس یقین کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دینی مدارس کا نظام و نصاب ان ’’ہاٹ‘‘ موضوعات میں سے ہے جن پر نائن الیون سے اب تک اربوںڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس موضوع پر کام کے لیے مغربی ممالک کی طرف سے کسی کو’’ پراجیکٹ‘‘ مل جائے تو وہ اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سر کڑھائی میں۔ اب مسٹر کلین سے زیادہ کون اس موضوع کی ’’افادیت‘‘ کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ پہلے بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں۔ اس بناء پردینی مدارس کا موضوع ان کے لیے نیا نہیں ہے البتہ مدراس میں داخلوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ ان کے لیے شاید چونکا دینے والی بات تو تھی مگر ساتھ ہی یہ ان کے لیے ریسرچ کا ایک نیا باب کھلنے کی نوید بھی تھی۔


ہمیں انتظار تھا کہ کب مسٹر کلین نیا پراجیکٹ لے کر تشریف لاتے ہیں۔ پرسوں ہم عشاء کے بعد مدرسے کے ایک برآمدے میں بیٹھے طلبہ کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے کہ مسٹر کلین کی آمد کی اطلاع ملی۔ ہم اپنی جگہ سے اٹھے اور مسٹر کلین کا استقبال کرتے ہوئے انہیں مدرسے کے دفتر میں لے گئے۔ موصوف نے بیٹھتے ہی کہا: ’’مجھے بھی ایک بچے کے داخلے کی سفارش کروانی ہے۔‘‘ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ مسٹر کلین جیسی شخصیت کسی بچے کے مدرسے میں داخلے کی سفارش کروانے آئی ہے۔ ہم نے عرض کیا: ’’لائے درخواست دکھائیے۔ ہم آنکھیں بند کرکے سفارش لکھ دیتے ہیں۔‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’پہلے ذرا میری پوری بات سنیں، پھر سفارش لکھ دیجیے گا۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’جی فرمائیے!‘‘ کہنے لگے: ’’میں جس بچے کی سفارش کے لیے آیا ہوں، وہ ایک دوسرے مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر قائم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ میری طرح ڈاڑھی منڈاتا ہے اور اسی حالت میں مدرسے میں داخلہ لینا چاہتا ہے۔ کیا آپ اسے داخلہ دے دیں گے؟‘‘

مسٹر کلین کی ان باتوں سے ہمیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ وہ دراصل کسی کے داخلے کی سفارش کے لیے نہیں بلکہ’’ ریسرچ‘‘ کرنے کے لیے آئے ہیں اور ان کے یہ سوالات دراصل ان کے انہیں، بلکہ ان کو دیے گئے پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔ ہم نے عرض کیا: ’’کوئی بات نہیں، ہمارے ہاں داخلے کے وقت ایسی کوئی تفتیش نہیں کی جاتی کہ کون کس مسلک سے تعلق رکھتا ہے؟ ہاں! جو مدرسے میں داخلہ لے گا، اسے مدرسے کے مسلک و مزاج کے مطابق چلنا ہوگا، کیونکہ یہ نظم و ضبط کا تقاضا ہے۔ جیسے کوئی شخص فوج میں جاتا ہے تو اس سے نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کیا سوچتا؟ کیا کھاتا؟ کیا پہنتا؟ اور کیا معمولات رکھتا ہے؟ لیکن جب وہ فوج میں شامل ہوجاتا ہے تو اسے کھانے پینے سے لے کر لباس اور معمولات تک ہر چیز میں فوجی ڈسپلن کی پابندی کرنا پڑتی ہے اور اپنے افسران کے ہر حکم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’ملاجی! میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے مدرسے میں ایک ہی فقہ کی تعلیم کیوںدی جاتی ہے جس سے فرقہ واریت پھیلتی ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’دنیا کے ہر ملک میں لوگوں کی اکثریت جس قانون کو مانتی ہے، اسی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، ہاں اقلیتوں کے لیے اپنے قانون کی تعلیم اور انفرادی طور پر اس پر عمل کی اجازت ہوتی ہے، ہمارے ہاں عوام کی نوے فی صد اکثریت فقہ حنفی کو مانتی ہے، اب اگر ہم اس اکثریتی قانون کی تعلیم دیتے ہیں تو اس میں کون سی ایسی انوکھی بات ہے؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’اچھا! تو ڈاڑھی کے مسئلے کا کیا ہوگا؟‘‘ (باقی صفحہ5پر) ہم نے عرض کیا: ’’آپ پہلے یہ بتائیں کہ جس بچے کا آپ داخلہ کروانا چاہتے ہیں، وہ مدرسے میں کیوں پڑھنا چاہتا ہے؟ اور کیا بننا چاہتا ہے؟‘‘

مسٹر کلین نے کہا: ’’ظاہر ہے دین پڑھنا چاہتا ہے اور آپ کی طرح ملا بن کر کسی مسجد میں امام یا مدرسے میں استاذ بننا چاہتا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’اگر وہ دین پڑھنا چاہتا ہے تو دین کا پہلا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ ڈاڑھی رکھنا صرف فقہ حنفی ہی نہیں چاروں فقہی مذاہب کے مطابق واجب ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایک واجب حکم پر عمل کرنے کو تیار نہیں تو اس کے دین پڑھنے کا فائدہ کیا ہے؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’چھوڑیں ملاجی! اسلام میں ڈاڑھی ہے، ڈاڑھی میں اسلام نہیں ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’چلیں! اس بات کو چھوڑ ہی دیتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ وہ بچہ مدرسے سے فارغ ہوکر مسجد کا امام بننا چاہتا ہے۔ اب آپ دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیں، کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کسی دن (غلطی سے سہی) مسجد میں نماز پڑھنے آئیں اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھیں جس کے چہرے پر ڈاڑھی اورسر پر ٹوپی نہ ہو؟‘‘ مسٹر کلین تھوڑاسا سوچ میں پڑ گئے اور پھر کہنے لگے: ’’اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے، لیکن آئی تھنک یہ بات درست ہے کہ ہمارے ماحول میں مسجد کا امام وہی اچھا لگتا ہے جو پوری ڈاڑھی رکھتا اور عمامہ وغیرہ باندھتا ہو۔‘‘ یہ کہہ کر مسٹر کلین کسی گہری سوچ میں چلے گئے۔ جیسے ان کے ذہن میں کوئی بات اٹک سی گئی ہو۔ ہم نے عرض کیا: ’’اور کوئی خدمت؟‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’نہیں! بس مجھے جانا ہے۔‘‘ ہم نے پوچھا: ’’وہ سفارش کروانی تھی آپ نے؟‘‘ مسٹر کلین نے بے خیالی میں کہا: ’’کون سی سفارش؟؟؟؟‘‘ پھر یکدم سنبھلتے ہوئے کہنے لگے: ’’اچھا! اس کے لیے پھر آؤں گا۔ ابھی ایک اور کام یاد آگیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے مسٹر کلین نے ہمیں ’’گڈبائے‘‘ کیا اور جوتے چھوڑ کر برآمدے میں چلنے لگے۔ ہم نے طالب جان کو ان کے جوتے اٹھانے کا کہا اور مسٹر کلین ’’تھینک یو، تھینک یو‘‘ کہتے ہوئے جوتے پہن کر چلتے بنے۔