• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل بڑی’’ کنفیوژن‘‘ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے سابق فکری قبلہ و کعبہ روس اور موجودہ ’’ان داتا‘‘ امریکا کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر ٹھن گئی ہے اور وہ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ اس معاملے میں کس کا ساتھ دیں۔وہ اس طرح کے فیصلے ہمیشہ تیل دیکھ کر اور تیل کی دھار دیکھ کر ہی کرتے ہیں مگر اس وقت انہیں تیل اور اس کی دھار دیکھنے میں دقت کا سامنا ہے۔ویسے تو وہ دور اندیش آدمی ہیں اور شاید انہیں اندازہ ہے کہ روس اور چین خطے میں امریکی بالادستی کے کھیل کو خراب کرنے کے لیے میدان میں آچکے ہیں اور ماسکو میں ہونے والی کانفرنس اس سلسلے کی ایک نئی اور بڑی کوشش ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے اس کے مقاصد کو ’’مشکوک ‘‘قرار دے کر اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے مگر دوسری جانب روس کا ساتھ دینے میں مسٹر کلین کی مشکل یہ ہے کہ روس نے مبینہ طور پر طالبان کے ساتھ معاملات سیدھے کر لیے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام میں بھی سہولت کاری کا فریضہ سر انجام دے کیونکہ وہ اس راز کو جان چکا ہے کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتا کیے بغیر افغانستان سے امریکا کا بوریا بستر گول کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔یہ کڑوی گولی روس جیسی طاقت تو اب نگل لینے کو تیار ہے مگر ہمارے دوست مسٹر کلین ابھی تک اس کے تصور سے ہی’’ تف تف‘‘ کرنے لگتے ہیں۔


ہمیں اس کا اندازہ یوں ہوا کہ اس دن ہم محلے کی ایک دوکان سے کچھ اشیاء صرف خرید رہے تھے۔اتنے میں مسٹر کلین بھی شاید کچھ خریدنے کی غرض سے تشریف لائے،ویسے توان کے پاس ہر ایسے اتفاقی ملاقات کے موقع کے لیے کوئی نہ کوئی چست فقرہ تیار رکھاہوتا ہے جو وہ ہماری طرف اچھالنے میں دیر نہیں لگاتے مگر اب کی بار وہ کچھ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ لگ رہے تھے،ہمیں ایسا لگا جیسے وہ (حسب معمول) گھر سے ’’ آف موڈ ‘‘ میں آئے ہیں،خیر! ہم نے تو اپنے حصے کا فرض اداکرتے ہوئے انہیں خوش دلی سے خوش آمدید کہا اور حال احوال کرنے لگے۔اسی اثناء میں عقب سے ایک بڑے ڈیل ڈول والے سوٹ بوٹ میں ملبوس صاحب نے مسٹر کلین کو آواز دیتے ہوئے کہا،ماشاء اللہ، ماشا ء اللہ! بڑی اچھی کیمسٹری بنی ہوئی ہے آپ کی ’’طالبان‘‘ کے ساتھ! لگتا ہے بڑی گاڑھی چھننے لگی ہے آپ لوگوں میں۔ مولوی صاحب کو ماسکو لے چلیں،

خوب گزرے گی مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ مسٹر کلین جن کا’’ موڈ‘‘ پہلے ہی کافی’’ آف‘‘ تھا، یہ جملے سن کرمزید خراب ہوگیا اور موصوف نے اس مہمان سے جو کہ غالبا کسی این جی او کو عہدیدار تھا اور باہر کہیں سے ان سے ملنے آیا تھا،علیک سلیک کیے بغیر ہی تقریر شروع کردی کہ خدا نہ کرے کہ ان کی طالبان سے دوستی ہو۔ان کے مطابق طالبان غیر مہذب، اجڈ اور گنوار لوگ ہیں، موجودہ زمانے میں طالبان آئیڈیالوجی کی گنجائش ہی نہیں ہے،ہمیں پروگریسیو اپروچ اپنانا ہے اور فنڈامنٹلسٹ لوگوں سے دنیا کو بچانا ہے۔

مسٹر کلین کی تقریر کی شدت دیکھ کر ہمیں ایسا لگا کہ موصوف آنے والے مہمان کے اس تاثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے دیکھ کر اس نے قائم کیا تھا۔ہم نے دوکان سے باہر آکر مہمان سے بھی ہاتھ ملایا اور انہیں بتایا کہ مسٹر کلین ہمارے دیرنہ دوست اور کرم فرما ہیں۔ہمارے اور ان کے درمیان بہت قریبی مراسم ہیں…!مسٹر کلین یہ جملے سن کر اور پریشان سے ہونے لگے، ہم نے ان کی اس پریشانی کا ازالہ کرنے کی خاطر عرض کیا کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بڑے روشن خیال اور ترقی پسند آدمی ہیں۔ روشن خیالی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ آپ ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ رواداری ،برداشت اور دوستی کا معاملہ رکھتے ہیں۔ مسٹر کلین نے ہماری بات کاٹتے ہوئے کہا، لیکن یہ رواداری دہشت گردوں اور طالبان کے لیے نہیں ہے!ہم نے عرض کیا،دیکھیں اس وقت جب امریکا اور روس جیسی طاقتوں میں طالبان کے ساتھ’’ رواداری‘‘ قائم کرنے کے لیے مقابلہ چل رہا ہے تو ہمارے اور آپ کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔پھر طالبان نے جب روس جیسی طاقت کے ساتھ جس نے ماضی میں افغانستان کو تاراج کیا اور جس کے ساتھ ان کے ٓاباء و اجداد نے طویل جنگ کی تھی، مفاہمت کی راہ نکال لی ہے اور افغان مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ عالمی قوتوں سے بات چیت پر تیار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے اورآپ سے زیادہ ’’روشن خیال‘‘ اور ’’ترقی پسند‘‘ ہیں۔

ہمیں ایسا لگا کہ ہمارے طالبان کوروشن خیال اور ترقی پسند کہنے سے مسٹر کلین اور ان کے مہمان دونوں مزید ’’کنفیوژن ‘‘کا شکار ہوگئے ہیں، لہذا ہم نے ان سے جانے کی اجازت طلب کی جو انہوں نے خوشی سے مرحمت فرمادی اور دونوں مسٹر کلین کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے!