• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ملا فوبیا!

ہمارے دوست مسٹر کلین پھر کچھ دنوں سے غائب تھے۔ پم پہلے بار ہا بتاچکے ہیں کہ موصوف کا منظر عام سے غائب ہونا ہمیشہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہی ثابت ہوتا ہے۔جب وہ منظر عام پر آجاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کسی اہم ’’پروجیکٹ‘‘ پر ’’کام‘‘ میں مصروف تھے یا کسی این جی او کے کسی معرکۃ الآراء سروے میں شریک تھے۔حالیہ دنوں چونکہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا تھا،اس لیے ہمارا قیاس یہی تھا کہ موصوف اسی واقعے کے حقائق و مضمرات کے کھوج میں لگے ہوں گے۔ویسے پہلے ایک بات یہ بھی ذہن میں آئی کہ ہوسکتا ہے افغانستان میں امریکا کی جانب سے’’ بموں کی ماں‘‘ گرائے جانے کے بعد وہاں انسانیت کا حال معلوم کرنے کے لیے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کسی این جی او کی جانب سے مسٹر کلین جیسے انسانیت نواز شخص کی تشکیل ہوگئی ہو مگر یہ خیال ہم نے فورا ہی ذہن سے جھٹک دیا کیونکہ افغانستان، عراق، کشمیر اور فلسطین جیسے علاقے تو’’ انسانیت ‘‘کے ’’دائرے ‘‘میں آتے ہی نہیں ہیں۔انسانیت کے عالمی علم برادروں نے ہمیں یہی بتایا ہوا ہے کہ انسان وہی ہوتے ہیں جن کا رنگ گورا ہو، ملک اسلامی نہ ہو۔ مذہب اسلام کے علاوہ کوئی اور ہو،اگر نام مسلمانوں جیسا ہے یا مذہب کے خانے میں اسلام ہی لکھاہے تو فرقہ اقلیتی ہو اکثریتی نہ ہو۔ہاں البتہ اگر قادیانی،بہائی وغیرہ وغیرہ ہو تو وہ تو بطریق اولیٰ ’’انسان‘‘ کہلائیں گے اور ان کو ہر صورت میں معصوم اور مظلوم ہی سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی توہین رسالت کے جرم میں ماخوذ یا مطلوب ہے تو اس کو تو ’’انسانیت ‘‘کی درجہ بندی میں’’ کٹیگری ون‘‘ میں رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کنفیوژن!

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل بڑی’’ کنفیوژن‘‘ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے سابق فکری قبلہ و کعبہ روس اور موجودہ ’’ان داتا‘‘ امریکا کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر ٹھن گئی ہے اور وہ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ اس معاملے میں کس کا ساتھ دیں۔وہ اس طرح کے فیصلے ہمیشہ تیل دیکھ کر اور تیل کی دھار دیکھ کر ہی کرتے ہیں مگر اس وقت انہیں تیل اور اس کی دھار دیکھنے میں دقت کا سامنا ہے۔ویسے تو وہ دور اندیش آدمی ہیں اور شاید انہیں اندازہ ہے کہ روس اور چین خطے میں امریکی بالادستی کے کھیل کو خراب کرنے کے لیے میدان میں آچکے ہیں اور ماسکو میں ہونے والی کانفرنس اس سلسلے کی ایک نئی اور بڑی کوشش ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے اس کے مقاصد کو ’’مشکوک ‘‘قرار دے کر اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے مگر دوسری جانب روس کا ساتھ دینے میں مسٹر کلین کی مشکل یہ ہے کہ روس نے مبینہ طور پر طالبان کے ساتھ معاملات سیدھے کر لیے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام میں بھی سہولت کاری کا فریضہ سر انجام دے کیونکہ وہ اس راز کو جان چکا ہے کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتا کیے بغیر افغانستان سے امریکا کا بوریا بستر گول کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔یہ کڑوی گولی روس جیسی طاقت تو اب نگل لینے کو تیار ہے مگر ہمارے دوست مسٹر کلین ابھی تک اس کے تصور سے ہی’’ تف تف‘‘ کرنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مجرم شماری!

ہمارے دوست ماسٹر مبین کی مردم شماری میں ڈیوٹی لگی ہے اور وہ ایک فرض شناس ریاستی اہلکار ہونے کی حیثیت سے اپنی اس ذمہ داری کی ادائی کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔ انہیں چونکہ اپنے ہی علاقے( جس میں اتفاق سے ہم بھی پائے جاتے ہوتے ہیں) میں مردم شماری کی ذمہ داری ملی ہے، اس لیے وہ سرکاری طریقہ کار کی پیروی کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی سوچتے ہیں کہ علاقے کے بہتر مفاد میں مردم شماری اور خانہ شماری اس طرح سے کی جائے کہ آیندہ محلے اور علاقے کی سطح پر وسائل کی تقسیم، منصوبہ بندی اور تنظیم کار میں آسانی ہو۔ اسی احساس ذمہ داری کے زیر اثر ماسٹر صاحب نے پرسوں علاقے کے کچھ احباب کو چائے کی دعوت پر مدعو کیا تاکہ ان کی تجاویز بھی لی جاسکیں اور ہر ایک سے ہر ممکن تعاون بھی لیا جاسکے۔ ہم بھی حسب الحکم ماسٹر صاحب کے دولت کدے میں حاضر ہوئے تو وہاں کئی پرانے اور کچھ نئے چہرے دیکھنے کو ملے۔ پرانے چہروں میں ہمارے دوست مسٹر کلین بھی شامل تھے۔ ابھی ماسٹر صاحب نے حاضرین کے سامنے اپنا مدعا پیش نہیں کیا تھا اور وہ مہمانوں کے لیے چائے اور لوازمات کے اہتمام میں مصروف تھے کہ مسٹر کلین نے اپنی روایتی بے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم جیتیں گے!

پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ ہم ایک دوست کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہمارے سامنے میز پر اخبار رکھا ہوا تھا اور ہم چائے کی چسکیوں کے ساتھ باہمی دل چسپی کے امور پر ہلکی پھلکی گفتگو کر رہے تھے۔ ہمارے یہ دوست شگفتہ مزاج ہیں اور حالات حاضرہ پر ان کے مزیدار تبصرے چہروں پر مسکراہٹ لائے بغیر نہیں رہتے۔ ویسے بھی مصروفیتوں اور گوں ناگوں پریشانیوں کے اس دور میں کوئی پرانا لنگوٹیا دوست مل جائے اور کچھ دیر ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا موقع مل جائے تو اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اور لائن کٹ گئی!

ہم رات کے کھانے اور معمول کے مطالعے کے بعد سونے کی تیاری کر رہے تھی کہ ہمارے موبائل فون کی گھنٹی بجی، دیکھا تو اسکرین پر ہمارے دوست مسٹر کلین کا نمبر تھا۔ ہمیں تشویش سی ہوئی کہ مسٹر موصوف کو ایسا کیا کام پڑگیا کہ خلاف عادت اس وقت یاد کیا۔ سلام دعا اور حال احوال کے بعد مسٹر کلین نے بتایا کہ ایک سوال پوچھنے کے لیے فون کیا ہے۔ ہم نے ارشاد کرنے کے لیے عرض کیا تو کہنے لگے، یہ بتائیے کہ ’’رد الفساد‘‘ بھی کوئی’’ کلمہ‘‘ ہے؟ ہم نے عرض کیا، نہیں اس نام کا کوئی کلمہ ہم نے نہیں سنا۔ مسٹر کلین نے: ’’کہ ہم نے بچپن میں شش کلمے پڑھے تھے، ا ن میں غالبا ایک کلمہ ’’رد کفر‘‘ بھی تھا، آج ’’ رد الفساد‘‘ کا سنا تو ہمیں ایسا لگا کہ شاید اس نام کا بھی کوئی’’ کلمہ‘‘ ہوگا۔ ہوسکتا ہے کوئی ساتواں کلمہ بھی ہو، ہم نے تو چھ ہی پڑھے تھے نا۔ اس لیے آپ سے پوچھا…!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

دھلائی

ایمبولینسوں کے سائرن اور ٹریفک پولیس کے بھونپوکی آواز ویسے تو شہری زندگی کا معمول ہے اور لوگ ایسی آوازیں سن کر عموماً زیادہ پریشان نہیں ہوتے، لیکن اس دن یہ آوازیں معمول سے زیادہ اور ماحول پر ان کااثر غیرمعمولی محسوس ہورہا تھا۔ ہم نے کھڑکی سے دیکھ کر اندازہ لگایا کہ ضرور کوئی انہونی ہوگئی ہے۔ ماجرا معلوم کرنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے تو ہر شخص کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ سندھ کے شہر سیہون میںلال شہباز قلندرؒ کے مزار پر خود کش حملہ ہوا ہے جس میں بیسیوں افراد لقمۂ اجل بنے ہیں۔ یہ خبر سن کر اور سانحے میںجاں بحق ہونے والے بے گناہ افراد کے خونم خون جسد خاکی لے کر آنے والی ایمبولینس گاڑیاں دیکھ کر طبیعت سخت رنجیدہ ہوئی۔ اس بات پر شدید افسوس ہوا کہ بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی یہ واردات ایک صوفی بزرگ کے مزار پر کی گئی ہے، اوراس کا بظاہر مقصد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنا ہے۔ یہ بات توظاہر ہے کہ کوئی بھی فہمیدہ و سنجیدہ شخص جس کا تعلق کسی بھی مسلک یا مکتب فکر سے ہو، بزرگانِ دین کے مزارات پر ہونے والی بدعات و خرافات کو درست نہیں سمجھتا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایمپائر!

مثلاً مذہب کو اپنے معاشرے سے دیس نکالا دیا تو اس سے وابستگی کی علامت کے طور پر ’’کرسمس‘‘ منانا شروع کردیا، حالانکہ یہ بات بائیبل سے یا کسی بھی مستند عیسائی ماخذ سے ثابت نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی پیدائش 25؍ دسمبر کو ہوئی تھی۔ حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ان کی خواہشات نفس پر بھاری تھا اس لیے انہوں نے دین عیسوی سے اپنے تعلق کے ثبوت کے لیے بس اتنی بات کافی سمجھی کہ سال میں صرف ایک دن مخصوص کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یاد کیا جائے، اس موقع پر جو خرافات ہوتی ہیں ان کا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح مغرب میں ماں، باپ اور استاذ شاگرد وغیرہ کے رشتے بھی مادیت کے ہاتھوں غتر بود ہوگئے اور حقیقی الفت و محبت کا سواد ہی نہ رہا تو مغرب نے اپنے احساس جرم کو چھپانے کے لیے ایک دن ماں کے لیے، ایک دن باپ کے لیے، اور ایک دن استاذ کے لیے مخصوص کر دیے۔ سال میں صرف ایک ان اولاد ماں باپ کو ان کے خاص دن کے موقع پر ’’وش‘‘ کر دے تو اسے ماں باپ کی خوش نصیبی اور اولاد کی سعادت مندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور تو اور مغرب نے محبت کے لازال جذبے کو بھی ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کی غلاظتوں میں لتھڑا کر بد بودار کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملاکھڑا!

سردیوں کی نرم دھوپ آپ کی طرح ہمیں بھی اچھی لگتی ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر دھوپ میں کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت سے بھی کچھ مستفید ہوں اور خنک موسم میںجسم وجاں کو کچھ قدرتی حرارت پہنچاکرمالک کا شکر ادا کریں۔ پرسوں ہم ظہر کی نماز کے بعد مسجد کے سامنے ہی ایک دیوار کے ساتھ کھڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ طبیعت میں بشاشت سی محسوس ہورہی تھی اور ہم قصیدہ بردہ شریف کا ایک خوبصورت مصرعہ زیر لب پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے ہمارے دوست مسٹر کلین آتے دکھائی دیے۔ ( مسجد کی طرف سے نہیں، دوسری طرف سے)۔ ہمیں کیف و سرور کے عالم میں دیکھ کر ان کا چہرہ بھی کھل سا گیا اور موصوف ہمارے پاس آکھڑے ہوگئے اورسلام دعا کے بعد حسب عادت ایک تیر چلادیا کہ ’’اچھا ہے ملا جی! کچھ وٹامن ڈی جمع کرلیں دھوپ میں کھڑے ہوکر۔ ویسے بھی اب ملاوں کا ’’ملاکھڑا‘‘ ہونا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ!‘‘ ہمیں یاد آیا کہ گزشتہ ملاقات میں بھی جب ہم ماسٹر مبین کی عیادت کے لیے رکشے میں جارہے تھے، مسٹر کلین نے یہ بحث چھیڑی تھی مگر اس وقت ہماری طرف سے رکشے والے نے ’’ڈرم بجا کر‘‘ موصوف کی بولتی بند کردی تھی، ہمیں ایسا لگا کہ مسٹر کلین ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر ہماری پریشانی اور تشویش سے مزا لینا چاہتے ہیں اور ہمازی زبانی ٹرمپ کے قصیدے سننا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈرم!

پچھلے کئی روز سے ہمارے دوست مسٹر کلین دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ہمیں خدشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں ہمارے دوست بھی’’بھینسا‘‘ کی طرح ’’لاپتا‘‘ تو نہیں کر دیے گئے۔ کچھ دنوں سے ہم سن رہے تھے کہ کوئی پاکستان کی سول سوسائٹی کا کوئی’’بھینسا‘‘ لاپتا ہوگیا ہے اور واشنگٹن سے لے کر لندن تک اس کے لیے’’آہ و زاری‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کونسا ایسا اعلیٰ نسل کا بھینسا ہوگا جس کے لیے اتنی زیادہ پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہم نے یہ تو سنا تھا کہ لبرل کہلانے والی مخلوق کو کتا کہلانے والی مخلوق سے بہت شغف اور محبت ہوتی ہے اور یہاں تک ہوتی ہے کہ انہیں انسانوں کی اور خود اپنی نسل اور حسب نسب کی اتنی معلومات نہیں ہوتیں جتنی کتوں کی نسلوں کی معلومات ہوتی ہیں اور سنا ہے کہ بعض کتے ان کی نظروں میں جچنے کے بعد لاکھوں کروڑوں کے ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ یہ حضرات بھینسے بھی پالتے ہیں اوراس بڑے ڈیل ڈول والے بے زبان جانور کی بھی ان کے ہاں کوئی خاص اہمیت ہے، اس لیے ہمیں یہ سارا ماجرا جاننے کا تجسس تھا اور ہمارے دوست مسٹر کلین ہی اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر سکتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چل سوچل!

سردی کی نئی لہر آنے پر ہمارے دانت بجنے لگے تو ہم سرما کی گرما گرم سوغات مونگ پھلی لینے گلی میں نکلے، خشک میوہ جات اور مونگ پھلی بیچنے والا گلی کی نکڑ میں ٹھیلا سجائے کھڑا تھا اور آج اس کے پاس غیر معمولی رش لگا ہوا تھا۔ وہ ٹھیلے میں رکھی ریت کی بھٹی میں بھون کر مونگ پھلی کاغذ کے لفافوں میں ڈال ڈال کر بیچ رہا تھا اور لوگ ایسے لے رہے تھے جیسے مفت میں مونگ پھلی بٹ رہی ہو۔ ہم نے اپنی باری آنے کا انتظار کیا اور جب ٹھیلے والا ہماری طرف متوجہ ہوا تو ہم نے انہیں دو چھٹانگ مونگ پھلی تول کر دینے کا کہا، لیکن ہماری آواز میں ایک مانوس سی آواز آکر شامل ہوگئی کہ ’’ملاجی، چلغوزے لے لیں چلغوزے، آپ نے نہیں سنا کہ چھلکے والے زیادہ اچھے اور میٹھے ہوتے ہیں؟‘‘ ہم نے سامنے دیکھا تو ہمارے دیرینہ کرم فرما مسٹر کلین تھے جو ہمیں مفت میں اتنا’’مہنگا‘‘مشورہ دے رہے تھے۔ وہ خود ایک چھٹانگ مونگ پھلی لے چکے تھے اور ہمیں چلغوزے لینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ٹھیلے والے نے جلدی جلدی مونگ پھلی کا لفافہ ہمیں پکڑا دیا اور ہم ایک طرف کو ہوگئے، مسٹر کلین بھی ہمارے تعاقب میں تھے۔ ہم نے اس’’خیر خواہی‘‘ پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم تو آپ کی اصطلاح میں’رجسٹرڈ‘‘او’’ر یکنائزڈ‘‘مسکین ہیں، مونگ پھلی ہی خرید سکتے ہیں، ہاں آپ جیسے’’کھاتے پیتے‘‘ دانشور لوگ بقول آپ کے’’افورڈ‘‘ کر سکتے ہیں کہ اتنے مہنگے چلغوزے خرید کر خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ مسٹر کلین ہمارے اس سادے سے جواب پر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ ملاجی! آپ بہت معصوم اور بھولے ہیں، آپ کو شاید پتا ہی نہیں کہ سوشل میڈیا میں’’چلغوزے‘‘ کے کیسے چھلکے اتارے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شکست تمنا

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے، ہمارے دوست مسٹر کلین کی بیگم کے ساتھ ان بن چل رہی چل رہی تھی۔ ہمیں بھی محرم راز درون خانہ ہونے کے ناتے اس پر تشویش تھی اور ہم اپنے طور پر اصلاح احوال کی کوئی تدبیر سوچ رہے تھے۔ایک دن مسٹر کلین ہمیں راستے میں ملے تو کافی خوش اور مطمئن دکھائی دیے۔ ہم نے پوچھا : ’’کیا بیگم سے لڑائی ختم ہوئی؟‘‘ مسٹر کلین نے فاتحانہ انداز میںجواب دیا: ’’ہاں! وہ گھٹنے ٹیک کر میرے پاس آئی۔‘‘ ہمیں نے حیرت اور بے یقینی کی سی کیفیت میں پوچھا: ’ ’ ماشا ء اللہ ،یہ ہوئی نا بات! کیا کہا انہوں نے ؟‘‘ مسٹر کلین نے بتایا: ’’یہی کہ بیڈ کے نیچے سے نکل آئو کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔