• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ریسرچ!

گزشتہ نشست میں ہم نے آپ کواپنے دوست مسٹر کلین کی مدرسہ آمد کی روداد بتائی تھی۔ مسٹر کلین کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا ہوجائے، جب تک اس پر ’’ریسرچ‘‘ کر کے اس کو حل نہ کرلیں، چین سے نہیں بیٹھتے۔ ہم نے انہیں مدارس میں نئے داخلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بتایا تھا تو ہمیں اندازہ تھا کہ وہ ضرور اس موضوع پرداد تحقیق دیں گے اور یقینا ہم سے بھی رجوع کریں گے۔ ہمارے اس یقین کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دینی مدارس کا نظام و نصاب ان ’’ہاٹ‘‘ موضوعات میں سے ہے جن پر نائن الیون سے اب تک اربوںڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس موضوع پر کام کے لیے مغربی ممالک کی طرف سے کسی کو’’ پراجیکٹ‘‘ مل جائے تو وہ اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سر کڑھائی میں۔ اب مسٹر کلین سے زیادہ کون اس موضوع کی ’’افادیت‘‘ کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ پہلے بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں۔ اس بناء پردینی مدارس کا موضوع ان کے لیے نیا نہیں ہے البتہ مدراس میں داخلوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ ان کے لیے شاید چونکا دینے والی بات تو تھی مگر ساتھ ہی یہ ان کے لیے ریسرچ کا ایک نیا باب کھلنے کی نوید بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سفارشی!

پچھلے ہفتے کا ذکر ہے۔ ہم مدرسے میں مسجد کے ایک ستون کے پاس بیٹھے تھے اور ہمارے اردگرد طلبہ کا ایک حلقہ سا بنا ہوا تھا۔ نئے طلبہ مدرسے میں داخلے کے خواہش مند تھے اور مدرسے میں گنجائش کم ہونے کے باعث انتہائی محدود داخلے دیے جارہے تھے۔ ہم کہ مسکین آدمی ہیں، انتظامی معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کے باوجود طلبہ اور ان کے سرپرست حضرات مدرسے کی انتظامیہ سے سفارش کروانے کے لیے دیگر بہت سے مدرسین کی طرح ہم سے بھی رابطہ کرتے ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ ہمارا ایک نام’’سفارشی‘‘ کے ہم معنیٰ ہے۔ خیر تو ہم طلبہ کی جھر مٹ میں بیٹھے اور ان کی درخواستوں پر سفارش لکھتے جارہے تھے کہ مدرسے کے مرکزی دروازے سے ایک مجمع اندر آتا دکھائی دیا۔ معلوم ہوا کہ محلے کے ایک صاحب کا انتقال ہوا ہے اور ان کا جنازہ مسجد میں پڑھا جانا ہے۔ ہم جنازہ گاہ کی طرف گئے اور طلبہ کو بھی جنازے میں شرکت کا کہا۔ جنازے سے فارغ ہوئے تو محلے کے کئی احباب سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ’’جمعہ خان‘‘ سے تو مسجد میں جمعہ جمعہ کو ملاقات ہوہی جاتی ہے البتہ ’’رمضان بیگ‘‘ صاحب سال میں صرف ماہ صیام میں ہی مسجد میں دکھائی دیتے ہیں تاہم ہمارے دوست مسٹر کلین چونکہ ’’سماجی شخصیت‘‘ بھی ہیں، اس لیے عیدین وغیرہ کے علاوہ جنازوں کے ساتھ بھی اکثر مسجد آتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے!

عید کا تیسرا دن تھا اور ہم سب دوست احباب حاجی لعل دین کی بیٹھک میں ان کی غیر رسمی عید ملن پارٹی میں شریک تھے۔ حاجی صاحب نے جہاں عید کی میٹھی میٹھی سوغاتوں کا اہتمام کیا ہوا تھا، وہیں ساتھ میں ’’میٹھے میٹھے‘‘ لوگوں کے لیے نمکین پکوانوں کا بھی بندوبست موجود تھا۔ میٹھے اور نمکین کا یہ امتزاج صرف کھانے پینے کی حد تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ مجلس کے شرکاء میں بھی ہر ذوق اور ذائقے کے لوگ شامل تھے۔

عید کا موقع ہو کھانے پینے کی مجلس ہو اور مختلف طبیعتوں کے لوگ جمع ہوں تو ہمارے ہاں سب سے اہم موضوع گفتگو ملکی و بین الاقوامی سیاست ہوتی ہے اور ایسی ایسی درفنطنیاں کی جاتی ہیں کہ بندہ سر دھنتا رہ جاتا ہے۔ پھر اگر ایسی مجلس میں ہمارے دوست مسٹر کلین جیسے سکہ بند قسم کے دانشور بھی موجود ہوں تو کیا کہنے! مجلس کا رنگ ہی کچھ اور ہوجاتا ہے۔ حاجی لعل دین کی دعوت عید میں بھی ایسا ہی سماں تھا۔ پاناما لیکس مقدمہ اہل مجلس کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہے ہی نہیں!

گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی ہمیں اپنے دیرینہ کرم فرما حکیم فقیر حسین کی ’’دعوتِ افطار‘‘ کا شدت سے انتظار تھا۔ اگر گرمیوں کے روزوں نے آپ کا حافظہ زیادہ متاثر نہ کیا ہو تو آپ کو یاد ہوگا ہم نے گزشتہ رمضان میں حکیم صاحب کی دعوت کی خصوصیات، بلکہ یوں کہنا چاہیے ’’خواص‘‘ کے بارے میں بتایا تھا کہ کس طرح حکیم صاحب کے خلوص اور چاہت کے ساتھ ان کی حکمت کے کمالات مل کر دو آتشہ ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کی دعوت افطار میں دستر خوان پر رکھا ہر کٹورا حکمت کا خزانہ اورہر ڈونگا طاقت کا دواخانہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ افطار کا شربت بھی ’’ چہار عرق‘‘ یا ’’بزوری‘‘ کاذائقہ و تاثیر لیے ہوتا ہے۔ حکیم صاحب نے اپنی نستعلیق زبان میں شوخئی تحریر سے لبریز دعوت نامہ کاغذی پیراہن میں ارسال فرمایا تو ہم نے شکر کا سانس لیا اور مقرر ہ دن کو مقرر ہ وقت پر یعنی افطار سے تھوڑی دیرقبل ہم حکیم صاحب کے دولت خانے میں جس کو وہ از راہ انکسار ’’فقیر خانہ‘‘ کہتے ہیں، حاضر ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی ایجاد!

علاقے کی ’’انجمن فلاح و بہبود‘‘ کا سالانہ اجلاس مقامی اسکول کے ہال میں ہورہا تھا۔ ہمارے دیرینہ کرم فرما ماسٹر مبین اس انجمن کے روح و رواں ہیں ۔انجمن کے زیر اہتمام علاقے کے غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ خوارک، علاج، تعلیم اور بچیوں کی شادیوں کے سلسلے میں تھوڑی بہت امدادی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن کی نگرانی ماسٹر صاحب کرتے ہیں۔ہر سال رمضان سے قبل وہ انجمن کا اجلاس عام منعقد کرتے ہیں جس میں انجمن کے ارکان کے علاوہ علاقے کے معززین اور مخیر حضرات بھی مدعو ہوتے ہیں۔’’برکت‘‘ کے لیے ہم جیسے مسکین ملا بھی بلائے جاتے ہیں۔ اجلاس کے آخر میں ارکان کے صلح مشورے سے نئے سال کے لیے انجمن کے عہدیداران کا بھی انتخاب ہوتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی تازی!

دو چار روز پہلے کی بات ہے، ہم صبح کے خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چہل قدمی کرتے کرتے تھوڑا سا آگے نکل گئے اور ایک پارک کے پاس پہنچے جہاں صبح کے وقت بہت سے لوگ واک کے لیے آتے ہیں۔ پارک کے پاس جوس کی دوکان ہے جہاں بعض لوگ واک کے بعد تازہ جوس پینے آجاتے ہیں۔ ’’جوس پی کر بندہ تازہ دم ہوجاتا ہے اور دن بھر کے لیے توانائی حاصل کرتا ہے۔‘‘یہ سوچ کر ہمارے قدم بھی خود بخود جوس کی دوکان کی طرف بڑھ گئے۔ ہم اندر داخل ہوئے تو دیکھا ہمارے دوست مسٹر کلین بھی ایک بنچ پر تشریف فرما اور اخبار کے مطالعے میں مصروف بلکہ مستغرق ہیں۔ ’’استغراق‘‘ کی اس کیفیت میںان کے چہرے پر طاری سدا کی’’خشونت‘‘ آج’’بہار‘‘ دکھارہی تھی اور صبح کے سہانے موسم کے اثرات کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ہمیں ایسا لگا کہ اخبار میں کوئی خبر ایسی ہوگی جو موصوف کے طبع نازک پر گراں گزر رہی ہوگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملا فوبیا!

ہمارے دوست مسٹر کلین پھر کچھ دنوں سے غائب تھے۔ پم پہلے بار ہا بتاچکے ہیں کہ موصوف کا منظر عام سے غائب ہونا ہمیشہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہی ثابت ہوتا ہے۔جب وہ منظر عام پر آجاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کسی اہم ’’پروجیکٹ‘‘ پر ’’کام‘‘ میں مصروف تھے یا کسی این جی او کے کسی معرکۃ الآراء سروے میں شریک تھے۔حالیہ دنوں چونکہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا تھا،اس لیے ہمارا قیاس یہی تھا کہ موصوف اسی واقعے کے حقائق و مضمرات کے کھوج میں لگے ہوں گے۔ویسے پہلے ایک بات یہ بھی ذہن میں آئی کہ ہوسکتا ہے افغانستان میں امریکا کی جانب سے’’ بموں کی ماں‘‘ گرائے جانے کے بعد وہاں انسانیت کا حال معلوم کرنے کے لیے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کسی این جی او کی جانب سے مسٹر کلین جیسے انسانیت نواز شخص کی تشکیل ہوگئی ہو مگر یہ خیال ہم نے فورا ہی ذہن سے جھٹک دیا کیونکہ افغانستان، عراق، کشمیر اور فلسطین جیسے علاقے تو’’ انسانیت ‘‘کے ’’دائرے ‘‘میں آتے ہی نہیں ہیں۔انسانیت کے عالمی علم برادروں نے ہمیں یہی بتایا ہوا ہے کہ انسان وہی ہوتے ہیں جن کا رنگ گورا ہو، ملک اسلامی نہ ہو۔ مذہب اسلام کے علاوہ کوئی اور ہو،اگر نام مسلمانوں جیسا ہے یا مذہب کے خانے میں اسلام ہی لکھاہے تو فرقہ اقلیتی ہو اکثریتی نہ ہو۔ہاں البتہ اگر قادیانی،بہائی وغیرہ وغیرہ ہو تو وہ تو بطریق اولیٰ ’’انسان‘‘ کہلائیں گے اور ان کو ہر صورت میں معصوم اور مظلوم ہی سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی توہین رسالت کے جرم میں ماخوذ یا مطلوب ہے تو اس کو تو ’’انسانیت ‘‘کی درجہ بندی میں’’ کٹیگری ون‘‘ میں رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کنفیوژن!

ہمارے دوست مسٹر کلین آج کل بڑی’’ کنفیوژن‘‘ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے سابق فکری قبلہ و کعبہ روس اور موجودہ ’’ان داتا‘‘ امریکا کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر ٹھن گئی ہے اور وہ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ اس معاملے میں کس کا ساتھ دیں۔وہ اس طرح کے فیصلے ہمیشہ تیل دیکھ کر اور تیل کی دھار دیکھ کر ہی کرتے ہیں مگر اس وقت انہیں تیل اور اس کی دھار دیکھنے میں دقت کا سامنا ہے۔ویسے تو وہ دور اندیش آدمی ہیں اور شاید انہیں اندازہ ہے کہ روس اور چین خطے میں امریکی بالادستی کے کھیل کو خراب کرنے کے لیے میدان میں آچکے ہیں اور ماسکو میں ہونے والی کانفرنس اس سلسلے کی ایک نئی اور بڑی کوشش ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے اس کے مقاصد کو ’’مشکوک ‘‘قرار دے کر اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے مگر دوسری جانب روس کا ساتھ دینے میں مسٹر کلین کی مشکل یہ ہے کہ روس نے مبینہ طور پر طالبان کے ساتھ معاملات سیدھے کر لیے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام میں بھی سہولت کاری کا فریضہ سر انجام دے کیونکہ وہ اس راز کو جان چکا ہے کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتا کیے بغیر افغانستان سے امریکا کا بوریا بستر گول کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔یہ کڑوی گولی روس جیسی طاقت تو اب نگل لینے کو تیار ہے مگر ہمارے دوست مسٹر کلین ابھی تک اس کے تصور سے ہی’’ تف تف‘‘ کرنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مجرم شماری!

ہمارے دوست ماسٹر مبین کی مردم شماری میں ڈیوٹی لگی ہے اور وہ ایک فرض شناس ریاستی اہلکار ہونے کی حیثیت سے اپنی اس ذمہ داری کی ادائی کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔ انہیں چونکہ اپنے ہی علاقے( جس میں اتفاق سے ہم بھی پائے جاتے ہوتے ہیں) میں مردم شماری کی ذمہ داری ملی ہے، اس لیے وہ سرکاری طریقہ کار کی پیروی کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی سوچتے ہیں کہ علاقے کے بہتر مفاد میں مردم شماری اور خانہ شماری اس طرح سے کی جائے کہ آیندہ محلے اور علاقے کی سطح پر وسائل کی تقسیم، منصوبہ بندی اور تنظیم کار میں آسانی ہو۔ اسی احساس ذمہ داری کے زیر اثر ماسٹر صاحب نے پرسوں علاقے کے کچھ احباب کو چائے کی دعوت پر مدعو کیا تاکہ ان کی تجاویز بھی لی جاسکیں اور ہر ایک سے ہر ممکن تعاون بھی لیا جاسکے۔ ہم بھی حسب الحکم ماسٹر صاحب کے دولت کدے میں حاضر ہوئے تو وہاں کئی پرانے اور کچھ نئے چہرے دیکھنے کو ملے۔ پرانے چہروں میں ہمارے دوست مسٹر کلین بھی شامل تھے۔ ابھی ماسٹر صاحب نے حاضرین کے سامنے اپنا مدعا پیش نہیں کیا تھا اور وہ مہمانوں کے لیے چائے اور لوازمات کے اہتمام میں مصروف تھے کہ مسٹر کلین نے اپنی روایتی بے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم جیتیں گے!

پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ ہم ایک دوست کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہمارے سامنے میز پر اخبار رکھا ہوا تھا اور ہم چائے کی چسکیوں کے ساتھ باہمی دل چسپی کے امور پر ہلکی پھلکی گفتگو کر رہے تھے۔ ہمارے یہ دوست شگفتہ مزاج ہیں اور حالات حاضرہ پر ان کے مزیدار تبصرے چہروں پر مسکراہٹ لائے بغیر نہیں رہتے۔ ویسے بھی مصروفیتوں اور گوں ناگوں پریشانیوں کے اس دور میں کوئی پرانا لنگوٹیا دوست مل جائے اور کچھ دیر ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا موقع مل جائے تو اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اور لائن کٹ گئی!

ہم رات کے کھانے اور معمول کے مطالعے کے بعد سونے کی تیاری کر رہے تھی کہ ہمارے موبائل فون کی گھنٹی بجی، دیکھا تو اسکرین پر ہمارے دوست مسٹر کلین کا نمبر تھا۔ ہمیں تشویش سی ہوئی کہ مسٹر موصوف کو ایسا کیا کام پڑگیا کہ خلاف عادت اس وقت یاد کیا۔ سلام دعا اور حال احوال کے بعد مسٹر کلین نے بتایا کہ ایک سوال پوچھنے کے لیے فون کیا ہے۔ ہم نے ارشاد کرنے کے لیے عرض کیا تو کہنے لگے، یہ بتائیے کہ ’’رد الفساد‘‘ بھی کوئی’’ کلمہ‘‘ ہے؟ ہم نے عرض کیا، نہیں اس نام کا کوئی کلمہ ہم نے نہیں سنا۔ مسٹر کلین نے: ’’کہ ہم نے بچپن میں شش کلمے پڑھے تھے، ا ن میں غالبا ایک کلمہ ’’رد کفر‘‘ بھی تھا، آج ’’ رد الفساد‘‘ کا سنا تو ہمیں ایسا لگا کہ شاید اس نام کا بھی کوئی’’ کلمہ‘‘ ہوگا۔ ہوسکتا ہے کوئی ساتواں کلمہ بھی ہو، ہم نے تو چھ ہی پڑھے تھے نا۔ اس لیے آپ سے پوچھا…!‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔