• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تفکر

ہمارے دوست مسٹر کلین ملک و قوم کے مستقبل کے لیے ہمیشہ متفکر رہتے ہیں۔ ہم ان کے لیے متفکر کی ’’فکر مند‘‘ کا لفظ بھی استعمال کر سکتے تھے، تاہم جو بات’’ متفکر‘‘ میں ہوتی ہے وہ ’’فکر مند‘‘ میں نہیں ہوتی۔ عربی صرف و نحو اور لغت سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ باب’’ تفعل‘‘ میں تکلف کا معنی پایا جاتا ہے۔ یعنی کسی چیز میں بتکلّف خود کو مبتلا کردینا۔ اسی سے’’ تجدد‘‘ بھی ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ ’’جدیدیدیت ‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں فرق نہیں کرتے اور کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم جدیدیت کے خلاف ہیں حالانکہ جدیدیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی مخالفت کی جائے۔ جدت زندگی کے آگے بڑھنے کا نام ہے اور ہم ہر وقت آگے کی طرف ہی جارہے ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ وقت سے بھی آگے نکلنے کی ناکام کوشش کرتے پائے جاتے ہیں اور جدیدیت کی سوچ کو ضرورت سے زیادہ خود پر طاری کردیتے ہیں، یہی رویہ’’ تجدد‘‘ کہلاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دوپہر کا وقت تھا ہم مدرسے پڑھ کر واپس ۔۔۔۔

دوپہر کا وقت تھا، ہم مدرسے سے سبق پڑھا کر واپس گھر آرہے تھے۔ آج معمول کے بر خلاف سڑکوں پر ٹریفک کم تھا اور لڑکے بالے سڑکوں کے کنارے پر اور گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ہم نے ذہن پر زور دیا کہ آج کیا دن ہے؟ دن تو پیر کا تھا جوکہ شہری زندگی کا مصروف ترین دن ہوتا ہے۔ پھر ہم نے تاریخ پر ذہن دوڑایا تو یاد آیا کہ آج 5 فروری ہے اور پاکستانی قوم آج کے دن چھٹی کرکے کرکٹ کھیل کر اور گھروں میں بھارتی فلمیں دیکھ کر ’’یومِ کشمیر‘‘ مناتی ہے۔ ہم دن منانے کی اس رسم کے ’’مالہ و ماعلیہ‘‘ پر غور کرتے ہوئے گلی میں پہنچے۔ وہاں تو جناب! گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ محلے کے نوجوانوں کی دوٹیموں کے درمیان ’’میچ‘‘جاری تھا اور تماشائی نوجوان اور بوڑھے اس اس انہماک کے ساتھ کھیل دیکھ رہے تھے جیسے ابھی اسی گلی میں مسئلہ کشمیر کا فیصلہ ہونے جارہا ہو۔ ہم وہاں سے گزرے تو نوجوانوں نے خواہی نخواہی کھیل روک کر ہمیں راستہ دیا اور ہم جلدی جلدی آگے کی طرف چلنے لگے۔ ہم بھی کرکٹ کے اس ’’میدان جنگ‘‘ سے باہر ہی نکلنے والے تھے کہ کسی نے عقب سے ہمیں آواز دی۔ ایک سیکنڈ کے سویں حصے میں ہمیں اندازہ ہوگیا کہ یہ ہمارے ہمدم دیرینہ مسٹر کلین ہی ہوسکتے ہیں جو محلے کی ہر ایسی سرگرمی میں ہمیشہ’’ خط اول‘‘ پر ہوتے ہیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو مسٹر کلین سر پر مخصوص ہیٹ سجائے تماشائیوں کے بیچ میں کھڑے تھے۔ ایسا لگا کہ وہ میچ دیکھ دیکھ کر اکتاگئے تھے اور انہیں دانشوری کا چورن بیچنے کے لیے کسی ’’شکار‘‘ کی تلاش تھی جو ہماری صورت میں انہیں مل گیا۔

چنانچہ وہ ہماری طرف بڑھے اور کہنے لگے: ’’ملاجی! کشمیر ڈے نہیں منارہے آپ؟؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ آپ جو منارہے ہیں یہ کافی ہے نا!‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’میرا مطلب ہے آپ کسی جلسے جلوس میں نہیں گئے؟ آج تو سارے ملا لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔‘‘ ہم نے عرض کیا ’’پہلی بات یہ ہے کہ ہم پڑھنے پڑھانے سے تعلق رکھنے والے ملا لوگ کوئی دن نہیں مناتے۔ کتنے ہی اہم اور تاریخی دن ہوتے ہیں جو آتے اور گزر جاتے ہیں، ہمیں پتا ہی نہیں چلتا۔ ایسا لگتا ہے کہ’’ کام کام اور کام‘‘ کا فلسفہ بانئ پاکستان نے ہمارے لیے ہی پیش کیا تھا، کہ بس کام ہی کرتے رہنا ہے، نہ کبھی چھٹی کرنی اور نہ کبھی کوئی دن منانا ہے۔ باقی اہل وطن نے تو جیسے ثقل سماعت کی بناء پر قائد کے فرمان کو ’’آرام آرام اور آرام ‘‘ سنا تھا۔ کبھی فلاں ڈے منانا ہے، کبھی کس کو یاد کرنا ہے اور کبھی کس کی نقالی کرنی ہے۔ علامہ اقبال کے لازوال شعر ؂

بہار ہو کہ خزاں
مجھے ہے حکم اذاں
لا الہ الا اللہ
کابھی شاید قوم نے یہی مطلب لیا ہے کہ یہ بھی مسجد کے ملا اور موذن کے لیے ہی ہے۔ بہار ہو کہ خزاں، سردی ہو کہ گرمی، دن ہو یا رات ہر وقت اذان، نماز، تعلیم و تعلم اور عامۃ المسلمین کی خدمت کے لیے دستیاب رہنا ہے۔ مولوی نہ کوئی دن مناتا ہے، نہ کبھی ہڑتال کرتا ہے، نہ کبھی تنخواہ اور مراعات کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے۔ ‘‘

مسٹر کلین نے کہا: ’’میں کشمیر ڈے کی بات کر رہا ہوں۔ کشمیر کا دن منانے پر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آپ تو جہاد کشمیرکے علم برداروں میں سے ہیں۔ آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہے اور بہت سے ملا لوگ بھی جلوس نکال رہے ہیں تو آپ کیوں پیچھے رہ گئے ہیں؟ ہم نے عرض کیا، گویا آپ کی نظر میں یہ طے ہوگیا ہے کہ ’’کشمیر ڈے‘‘ پر کشمیریوں کے لیے جلسے جلوس نکالنے کا کام بھی اب ’’ملا‘‘ کے ہی ذمے ہے، باقی ’’قوم‘‘ صرف گلی میں کرکٹ کھیل کر یاگھروں میں بھارتی فلمیں دیکھ کر کشمیریوں کے ساتھ ’’اظہار یکجہتی‘‘ کرے گی!ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ خالصتاً ایک علاقائی مسئلہ ہے اور اسے مذہب سے جوڑنا اور جہاد کا عنوان دینا غلط ہے اور دوسری جانب آپ فرماتے ہیں کہ کشمیریوں کے لیے جلوس بھی ملا ہی نکالے۔ ہم تو بس کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جو بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے کہا تھا: اذہب انت وربک فقاتلا، اناہھنا قاعدون۔ ’’جائیں آپ اور آپ کا ربّ لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ‘‘

ہم نے مزید عرض کیا:’’ دیکھیں! ہم دن منانے کی رسم کے اسی لیے مخالف ہیں کہ اس میں کسی بھی چیز کا مقصد فوت ہوجاتا ہے صرف علامت باقی رکھی جاتی ہے۔ اب آپ اسی کو دیکھیں، کشمیر ڈے منانے کے نام پر کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی قوم کی یکجہتی کو پہلے سال میں صرف ایک ایک دن کے ساتھ مخصوص کردیا گیا اور اب اس یکجہتی کو پوری قوم کی بجائے صرف مذہبی اور جہادی تنظیموں تک محدود کردیا گیا ہے۔ آگے خد انخواستہ یہ اظہار یکجہتی بھی محض علامتی حد تک رہ جائے گا۔۔۔‘‘ ہم مزید کچھ کہنا چاہ رہے تھے، مگر ہوا یہ کہ ہمارے عقب میں جاری کھیل کے کسی کھلاڑی نے شاید زوردارشارٹ کھیلا اور گیند سیدھی جاکر قریبی عمارت کی ایک کھڑکی میں لگی اور شیشہ توڑتے ہوئے اندر چلی گئی۔

کھڑکی سے بنیان میں ملبوس جٹ صاحب آنکھوں میں خون کے آثار لیے نمودار ہوئے اور ’’کشمیر ڈے‘‘ منانے والوں سے اپنے مخصوص انداز میں ’’خطاب‘‘ شروع کردیا۔ پھر کیا تھا مسٹر کلین اور ہم نوا کان لپیٹ کر وہاں سے رفو چکر ہوگئے!

حالت مذاکرات!

ہمارے دیرینہ کرم فرما حکیم فقیر حسین کی جانب سے احباب کے لیے ’’حکیمی دعوت‘‘ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا اور کام و دہن کو پھر سے حکیم صاحب کے خوانِ یغما سے مستفید ہونے کی طلب تھی۔ پرسوں رات حکیم صاحب کا فون آیا تو ان کا نمبر دیکھتے ہوئے دل بلیوں اچھلنے لگا اور ہم نے اُچھلتے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے فون کان سے لگایا۔ حکیم صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تمہید باندھ کر ہمارے صبر کا امتحان لینا چاہا، مگر ہم نے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ’’حاضر‘‘ ہونے کا وعدہ کرکے بات پکی کرلی۔ حکیم صاحب نے بتایا کہ موسم کی شدت کو جواب دینے کے لیے دوستوں کے لیے دیسی مرغ کی یخنی کا بندوبست کیا گیا ہے، یہ سن کر ہمارے منہ میں یخنی… معاف کیجیے گا پانی آگیا اور ہم نے ابھی حاضر ہونے کا کہا، مگر حکیم صاحب نے بتایا کہ دعوت کل شام کو ہے اور اس میں دیگر احباب کو بھی زحمت دی ہے۔ حکیم صاحب نے اس ضمن میں از راہ تفنن کہا کہ چونکہ ’’دو ملاؤں میں مرغی حرام‘‘ ہوجاتی ہے، اس لیے اس دعوت میں ایک ’’ملا‘‘ اور ایک ’’مسٹر‘‘ کو بلایا گیا ہے۔ ہم ان کا اشارہ سمجھ گئے کہ ہمارے دوست مسٹر کلین بھی دعوت میں تشریف لائیں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جھپٹنا پلٹنا!

کل کی بات ہے۔ ہم حسب معمول صبح کی تازہ ہوا سے مشام جاں آسودہ کرنے اور کچھ ورزش کے اضافی فوائد سمیٹنے کے لیے کھلی فضا میں نکلے ہوئے تھے۔ اس دن موسم کی خنکی کچھ بڑھی ہوئی محسوس ہورہی تھی اور کانوں کی لو سے ٹکراتی باد صبا اب کہ کچھ پہن کر نکلنے کا پیغام دے رہی تھی۔ ہمارے دائیں بائیں چلنے والے بادصبا کے شیدائیوں میں سے بیشتر نے یہ پیغام شاید پہلے ہی سن لیا تھا، اس لیے وہ جیکٹوں اورجرسیوں میں ملبوس ٹھنڈ سے بے پرواہ چلے جارہے تھے، جبکہ ہماری طرح کے کچھ لا ابالی لوگ منہ سے ’’سی سی‘‘ کرتے اور ہتھیلیاں رگڑتے تیز تیز چل کر جسم کو گرمائش پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارے پاس ہمارا ’’کثیر المقاصد‘‘ رومال شریف تھا جس کو ہم اس وقت مفلر کے طور پر استعمال کر سکتے تھے، لیکن ابھی ہم ذرا دسمبر کی شروعاتی ٹھنڈ کا مزہ لینا چاہتے تھے، اس لیے ابھی یہ ہمارے کندھے پر ہی تھا۔ آگے چلنے سے پہلے ہمارے اس کرشماتی رومال کے ’’کثیر المقاصد‘‘ استعمال کی بات ہوجائے۔ کسی ملا کے کندھے پر آپ کو صاف ستھرا رومال رکھا ہوا آپ کو نظر آئے تو آپ شاید یہ سمجھیں گے کہ یہ اس کے لباس کا حصہ ہے۔ آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لفظی اختلاف!

ہمارے دوست مسٹر کلین چونکہ بہت مصروف شخصیت ہیں، اس لیے ان سے ملنا بسا اوقات ہمارے لیے بھی کارے دارد بن جاتا ہے۔ ہم نے ایک دفعہ ان سے گزارش کی کہ اپنا کوئی نظم الاوقات ہمیں بتادیں تاکہ ہم آپ کے کام کے اوقات میں مخل نہ ہوں اور فرصت دیکھ کر آپ سے استفادے کے لیے حاضر ہوسکیں تو انہوں نے جواب میں جوش ملیح آبادی کی ایک غزل لکھ کر ہمارے حوالے کردی اور بتایا کہ میری بھی مشغولیات کی ترتیب قریب قریب اس طرح کی ہوتی ہے۔ غزل یہ تھی؎
اے شخص! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے وہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گا اور صبح کو وہ ناظرِ نظّارۃ قدرت طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا اور دن کو وہ سرگشتہ اسرار و معانی شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا اور شام کو وہ مردِ خدا، رندِ خرابات رحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے گا اور رات کو وہ خلوتیِ کاکل و رخسار بزمِ طرب و کوچۂ خوباں میں ملے گا اور ہوگا کوئی جبر، تو وہ بندہ ٔمجبور مْردے کی طرح خانۂ ویراں میں ملے گا
جوش ملیح آبادی سے مسٹر کلین کی ’’عملی‘‘ ہم آہنگی کا تو ہمیں پہلے سے اندازہ تھا تاہم جوش جیسے بڑے شاعرو ادیب کے ساتھ اس طرح سے خود کو ملانے پر ہم ’’چہ نسبت خاک را…‘‘ والا اعتراض تو کرسکتے تھے، مگر کیا نہیں کیونکہ ہم اپنے ہمدم دیرینہ کی ناراضی کا متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم ایک چیز کی ہم بھی گواہی دیں گے کہ موصوف جوش کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ایمان و یقین!

دو تین دن پہلے کا قصہ ہے۔ہمیں فرصت کے کچھ لمحات میسر آئے تو سوچا قریب میں واقع پبلک لائبریری سے ہوآئیں تاکہ کچھ استفادہ کرسکیں یا اگر کچھ نئی کتابیں آئی ہوں تو ان سے تعارف حاصل کرسکیں۔کسی زمانے میںاس لائبریری میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی، کچھ پڑھے لکھے لوگ اورطلبہ تو یہاں کتابیں پڑھنے آیا کرتے تھے جبکہ اکثریت ہمارے اور ہمارے دوست مسٹر کلین جیسے لوگوں کی ہوتی تھی جو اس لائبریری میں مفت کے اخبارات پڑھنے کی غرض سے آتے اور اخباری صفحات کی کھینچا تانی میں مصروف ہوتے۔اب چونکہ انٹر نیٹ اور موبائل فون کا زمانہ ہے، اس لیے بیشتر لوگ صرف نیٹ کے خرچے پر مفت کے اخبارات کمپیوٹر اور موبائل فون کی اسکرین پر ہی پڑھ لیتے ہیں، یوں اب اخبارات پڑھنے کے لیے اخبارات کے اسٹال یا پبلک لائبریری جانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ہم لائبریری پہنچے تو وہاں ہمارے اندازے کے عین مطابق ہو کا عالم تھا، لائبریری تو کھلی ہوئی تھی اور اس کے داخلی دروازے پراس کے منتظم شاہین صاحب جوپرانے زمانے سے اس کی دیکھ بھال پر مامور چلے آرہے ہیں، کرسی پربیٹھے اونگھ رہے تھے۔ہمیں دیکھ کر ان کی اونگھتی آنکھوں میں چمک سی آگئی، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا، حال احوال کیا اور ساتھ میں یہ خوش خبری بھی سنائی کہ اندر ایک کونے میں آپ کے ہمدم دیرینہ مسٹر کلین بھی تشریف فرما ہیں اور کسی خاص موضوع پر ریسرچ فرمارہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی سی!

مسٹر کلین سے حال احوال کے بعد ہم نے ان کے توسط سے مہمان کی بھی خیریت معلوم کی اور پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بھی انگریزی میں کچھ کہا جس میں’’ تھینک یو‘‘ کی ہمیں بھی سمجھ آئی اور باقی کی شاید مسٹر کلین کو بھی سمجھ نہیں آئی ورنہ وہ ضرور ترجمہ کرکے بتاتے۔

خیر !تو مسٹر کلین نے موصوفہ کا تعارف کرایا کہ انگلینڈ سے تشریف لائی ہیں، ریسرچر ہیں، میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں، انسانی حقوق اور حقوق نسواں پر تحقیقی رپورٹیں شائع کرنے پر انہیں کئی بین لاقوامی اعزازات بھی ملے ہیں۔ ابھی یہ پاکستان آئی ہیں اور یہاں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی صورت حال پر ایک معروف یورپی این جی او کے لیے تحقیقی کام کرنا چاہتی ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کے موصوفہ کے جذبے کو سرا ہا اور عرض کیا کہ ’’انسان میں تحقیق کا جذبہ ہو اور وہ غیر جانبدار ہوکر سچائی کی تلاش میں نکلے تو ایک نہ ایک دن حقیقت کو پاہی لیتا ہے، جیسے سسٹر یوان رڈلے بھی نائن الیون کے بعد اسی سلسلے میں پاکستان آئی تھیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی سی!

پرسوں کی بات ہے۔ ہمارے دوست مسٹر کلین نے ہمیں فون کیا اور کہنے لگے کہ ’’میرے پاس باہر سے آئی ہوئی ایک میم صاحبہ بیٹھی ہوئی ہیں اور آپ سے ملنا چاہتی ہیں…‘‘ ہم نے مسٹر کلین کی یہ بات سنتے ہی ان سے عرض کیا کہ ’’شاید آپ نے غلط نمبر ملا دیا ہے، ہم ملا مسکین بول رہے ہیں اورآپ شاید اپنی طرح کے کسی ’’مسٹر کلین‘‘ کو یہ ’’خوشخبری‘‘ سنانا چاہ رہے ہیں اور بد حواسی میں ہمارا نمبر ملا بیٹھے ہیں۔ ‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’ملا جی! میں آپ ہی سے مخاطب ہوں اور یہ میم صاحبہ آپ سے ہی ملنا چاہ رہی ہیں۔ ‘‘ ہمیں حیرت ہوئی کہ ’’کوئی میم صاحبہ ہم سے کیوں ملنے لگی؟‘‘ ہمیں یہ بھی خیال آیا کہ شاید مسٹر کلین ہمارے ساتھ کوئی مذاق یا شرارت کرنے کے موڈ میں ہیں، ایسی کسی بات کی تمہید کے لیے یہ کہہ رہے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ہور چوپو!

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ایک دعوت میں شرکت کے لیے شہر کے ایک مصروف علاقے کی طرف جارہے تھے۔ اس سے چند روز قبل اسی علاقے سے ہمارا گزر ہوا تھا تو یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوئی تھی کہ وسط شہر میں واقع اس کاروباری مرکزسے گزرنی والی سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارشوں سے سڑک کے بیچوں بیچ بڑے بڑے گڑھے بنے ہوئے ہیں جن میں بارشوں اور سیورج کا پانی جمع ہے اور جن پر ’’موت کے کنواں‘‘ کا گمان ہوتا ہے۔ سڑک کا جتنا کنارہ بچا ہوا تھا وہ کچرے اور مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ بجلی کے کھمبے ٹوٹے ہوئے اور اور تاریں بکھری پڑی تھیں۔ گلیوں میں لگے برقی قمقمے تاریکی میں گم تھے۔ اب کی بار ہم اس علاقے سے گزرے تو یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ ما شا ء اللہ سے سڑکوں کی نہ صرف مرمت ہوئی تھی بلکہ پورے علاقے میں تارکول کا کارپٹ بچھایا گیا تھا۔ کچرے کی صفائی کرکے چونا ڈال دیا گیا تھا اور لائٹیں درست کردی گئی تھی۔ ساتھ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے حفاظتی دستے بھی جگہ جگہ تعینات تھے۔ یہ سارا منظر دیکھ کر دل خوش ہوا اور مایوسی امید میں بدل گئی کہ چلیں شہر میں کچھ صفائی ستھرائی اور نظم و نسق کی بہتری کا کام تو شروع ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جنت کاٹکٹ!

پرسوں کی بات ہے ہمیں یہ اندوہناک خبر ملی کہ ہمارے کرم فرما ماسٹر مبین کی والدہ محترمہ کاا نتقال ہوگیا ہے۔ہم دوڑے دوڑے ماسٹر صاحب کے گھر پہنچے، کیونکہ ہمیں اندازہ تھا کہ یہ سانحہ ماسٹر صاحب کے لیے کتنا درد ناک اور کرب انگیز ہے۔ماسٹر صاحب کی والدہ کی شہرت ایک بہت ہی نیک، پارسا، خدمت گزار اور غریب پرور خاتون کی تھی اور ماسٹر صاحب کے مطابق ان کی بہت سی رفاہی خدمات کے پیچھے ان کی والدہ کی ترغیب، تعاون اور دعاوؤں کا عنصر کارفرما ہوتا تھا۔وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور ماسٹر صاحب دل وجان سے ان کی خدمت میں مصروف تھے۔ ہم پہنچے تو ماسٹر صاحب کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا اور ماسٹرصاحب ہمارے خدشات کے بر عکس صبرو تحمل اور وقار و تجمل کے ساتھ لوگوں سے تعزیت قبول کرنے کے ساتھ تجہیز و تکفین کے انتظامات میں مشغول تھے۔ہم نے بھی ان سے اظہار افسوس کیا اور تعزیت کے مسنون کلمات کے ساتھ دعائیں دیں۔تجہیز و تکفین کے بعدجنازے کا اعلان ہوا،کچھ ہی دیر میں ہزاروں لوگ امڈ آئے اور جنازے میں شرکت کی۔قریبی قبرستان میں تدفین ہوئی۔ قبرستان سے واپسی پر ہم نے مناسب جانا کہ مزید کچھ لمحات ماسٹر صاحب کے ساتھ گزارے جائیں تاکہ ان کے غم میں شرکت محض رسمی نہ رہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ریسرچ!

گزشتہ نشست میں ہم نے آپ کواپنے دوست مسٹر کلین کی مدرسہ آمد کی روداد بتائی تھی۔ مسٹر کلین کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا ہوجائے، جب تک اس پر ’’ریسرچ‘‘ کر کے اس کو حل نہ کرلیں، چین سے نہیں بیٹھتے۔ ہم نے انہیں مدارس میں نئے داخلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بتایا تھا تو ہمیں اندازہ تھا کہ وہ ضرور اس موضوع پرداد تحقیق دیں گے اور یقینا ہم سے بھی رجوع کریں گے۔ ہمارے اس یقین کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دینی مدارس کا نظام و نصاب ان ’’ہاٹ‘‘ موضوعات میں سے ہے جن پر نائن الیون سے اب تک اربوںڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس موضوع پر کام کے لیے مغربی ممالک کی طرف سے کسی کو’’ پراجیکٹ‘‘ مل جائے تو وہ اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سر کڑھائی میں۔ اب مسٹر کلین سے زیادہ کون اس موضوع کی ’’افادیت‘‘ کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ پہلے بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں۔ اس بناء پردینی مدارس کا موضوع ان کے لیے نیا نہیں ہے البتہ مدراس میں داخلوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ ان کے لیے شاید چونکا دینے والی بات تو تھی مگر ساتھ ہی یہ ان کے لیے ریسرچ کا ایک نیا باب کھلنے کی نوید بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔