• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جھپٹنا پلٹنا!

کل کی بات ہے۔ ہم حسب معمول صبح کی تازہ ہوا سے مشام جاں آسودہ کرنے اور کچھ ورزش کے اضافی فوائد سمیٹنے کے لیے کھلی فضا میں نکلے ہوئے تھے۔ اس دن موسم کی خنکی کچھ بڑھی ہوئی محسوس ہورہی تھی اور کانوں کی لو سے ٹکراتی باد صبا اب کہ کچھ پہن کر نکلنے کا پیغام دے رہی تھی۔ ہمارے دائیں بائیں چلنے والے بادصبا کے شیدائیوں میں سے بیشتر نے یہ پیغام شاید پہلے ہی سن لیا تھا، اس لیے وہ جیکٹوں اورجرسیوں میں ملبوس ٹھنڈ سے بے پرواہ چلے جارہے تھے، جبکہ ہماری طرح کے کچھ لا ابالی لوگ منہ سے ’’سی سی‘‘ کرتے اور ہتھیلیاں رگڑتے تیز تیز چل کر جسم کو گرمائش پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارے پاس ہمارا ’’کثیر المقاصد‘‘ رومال شریف تھا جس کو ہم اس وقت مفلر کے طور پر استعمال کر سکتے تھے، لیکن ابھی ہم ذرا دسمبر کی شروعاتی ٹھنڈ کا مزہ لینا چاہتے تھے، اس لیے ابھی یہ ہمارے کندھے پر ہی تھا۔ آگے چلنے سے پہلے ہمارے اس کرشماتی رومال کے ’’کثیر المقاصد‘‘ استعمال کی بات ہوجائے۔ کسی ملا کے کندھے پر آپ کو صاف ستھرا رومال رکھا ہوا آپ کو نظر آئے تو آپ شاید یہ سمجھیں گے کہ یہ اس کے لباس کا حصہ ہے۔ آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لفظی اختلاف!

ہمارے دوست مسٹر کلین چونکہ بہت مصروف شخصیت ہیں، اس لیے ان سے ملنا بسا اوقات ہمارے لیے بھی کارے دارد بن جاتا ہے۔ ہم نے ایک دفعہ ان سے گزارش کی کہ اپنا کوئی نظم الاوقات ہمیں بتادیں تاکہ ہم آپ کے کام کے اوقات میں مخل نہ ہوں اور فرصت دیکھ کر آپ سے استفادے کے لیے حاضر ہوسکیں تو انہوں نے جواب میں جوش ملیح آبادی کی ایک غزل لکھ کر ہمارے حوالے کردی اور بتایا کہ میری بھی مشغولیات کی ترتیب قریب قریب اس طرح کی ہوتی ہے۔ غزل یہ تھی؎
اے شخص! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے وہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گا اور صبح کو وہ ناظرِ نظّارۃ قدرت طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا اور دن کو وہ سرگشتہ اسرار و معانی شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا اور شام کو وہ مردِ خدا، رندِ خرابات رحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے گا اور رات کو وہ خلوتیِ کاکل و رخسار بزمِ طرب و کوچۂ خوباں میں ملے گا اور ہوگا کوئی جبر، تو وہ بندہ ٔمجبور مْردے کی طرح خانۂ ویراں میں ملے گا
جوش ملیح آبادی سے مسٹر کلین کی ’’عملی‘‘ ہم آہنگی کا تو ہمیں پہلے سے اندازہ تھا تاہم جوش جیسے بڑے شاعرو ادیب کے ساتھ اس طرح سے خود کو ملانے پر ہم ’’چہ نسبت خاک را…‘‘ والا اعتراض تو کرسکتے تھے، مگر کیا نہیں کیونکہ ہم اپنے ہمدم دیرینہ کی ناراضی کا متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم ایک چیز کی ہم بھی گواہی دیں گے کہ موصوف جوش کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ایمان و یقین!

دو تین دن پہلے کا قصہ ہے۔ہمیں فرصت کے کچھ لمحات میسر آئے تو سوچا قریب میں واقع پبلک لائبریری سے ہوآئیں تاکہ کچھ استفادہ کرسکیں یا اگر کچھ نئی کتابیں آئی ہوں تو ان سے تعارف حاصل کرسکیں۔کسی زمانے میںاس لائبریری میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی، کچھ پڑھے لکھے لوگ اورطلبہ تو یہاں کتابیں پڑھنے آیا کرتے تھے جبکہ اکثریت ہمارے اور ہمارے دوست مسٹر کلین جیسے لوگوں کی ہوتی تھی جو اس لائبریری میں مفت کے اخبارات پڑھنے کی غرض سے آتے اور اخباری صفحات کی کھینچا تانی میں مصروف ہوتے۔اب چونکہ انٹر نیٹ اور موبائل فون کا زمانہ ہے، اس لیے بیشتر لوگ صرف نیٹ کے خرچے پر مفت کے اخبارات کمپیوٹر اور موبائل فون کی اسکرین پر ہی پڑھ لیتے ہیں، یوں اب اخبارات پڑھنے کے لیے اخبارات کے اسٹال یا پبلک لائبریری جانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ہم لائبریری پہنچے تو وہاں ہمارے اندازے کے عین مطابق ہو کا عالم تھا، لائبریری تو کھلی ہوئی تھی اور اس کے داخلی دروازے پراس کے منتظم شاہین صاحب جوپرانے زمانے سے اس کی دیکھ بھال پر مامور چلے آرہے ہیں، کرسی پربیٹھے اونگھ رہے تھے۔ہمیں دیکھ کر ان کی اونگھتی آنکھوں میں چمک سی آگئی، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا، حال احوال کیا اور ساتھ میں یہ خوش خبری بھی سنائی کہ اندر ایک کونے میں آپ کے ہمدم دیرینہ مسٹر کلین بھی تشریف فرما ہیں اور کسی خاص موضوع پر ریسرچ فرمارہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی سی!

مسٹر کلین سے حال احوال کے بعد ہم نے ان کے توسط سے مہمان کی بھی خیریت معلوم کی اور پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بھی انگریزی میں کچھ کہا جس میں’’ تھینک یو‘‘ کی ہمیں بھی سمجھ آئی اور باقی کی شاید مسٹر کلین کو بھی سمجھ نہیں آئی ورنہ وہ ضرور ترجمہ کرکے بتاتے۔

خیر !تو مسٹر کلین نے موصوفہ کا تعارف کرایا کہ انگلینڈ سے تشریف لائی ہیں، ریسرچر ہیں، میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں، انسانی حقوق اور حقوق نسواں پر تحقیقی رپورٹیں شائع کرنے پر انہیں کئی بین لاقوامی اعزازات بھی ملے ہیں۔ ابھی یہ پاکستان آئی ہیں اور یہاں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی صورت حال پر ایک معروف یورپی این جی او کے لیے تحقیقی کام کرنا چاہتی ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کے موصوفہ کے جذبے کو سرا ہا اور عرض کیا کہ ’’انسان میں تحقیق کا جذبہ ہو اور وہ غیر جانبدار ہوکر سچائی کی تلاش میں نکلے تو ایک نہ ایک دن حقیقت کو پاہی لیتا ہے، جیسے سسٹر یوان رڈلے بھی نائن الیون کے بعد اسی سلسلے میں پاکستان آئی تھیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی سی!

پرسوں کی بات ہے۔ ہمارے دوست مسٹر کلین نے ہمیں فون کیا اور کہنے لگے کہ ’’میرے پاس باہر سے آئی ہوئی ایک میم صاحبہ بیٹھی ہوئی ہیں اور آپ سے ملنا چاہتی ہیں…‘‘ ہم نے مسٹر کلین کی یہ بات سنتے ہی ان سے عرض کیا کہ ’’شاید آپ نے غلط نمبر ملا دیا ہے، ہم ملا مسکین بول رہے ہیں اورآپ شاید اپنی طرح کے کسی ’’مسٹر کلین‘‘ کو یہ ’’خوشخبری‘‘ سنانا چاہ رہے ہیں اور بد حواسی میں ہمارا نمبر ملا بیٹھے ہیں۔ ‘‘ مسٹر کلین نے کہا: ’’ملا جی! میں آپ ہی سے مخاطب ہوں اور یہ میم صاحبہ آپ سے ہی ملنا چاہ رہی ہیں۔ ‘‘ ہمیں حیرت ہوئی کہ ’’کوئی میم صاحبہ ہم سے کیوں ملنے لگی؟‘‘ ہمیں یہ بھی خیال آیا کہ شاید مسٹر کلین ہمارے ساتھ کوئی مذاق یا شرارت کرنے کے موڈ میں ہیں، ایسی کسی بات کی تمہید کے لیے یہ کہہ رہے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ہور چوپو!

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ ہم اور ہمارے دوست مسٹر کلین ایک دعوت میں شرکت کے لیے شہر کے ایک مصروف علاقے کی طرف جارہے تھے۔ اس سے چند روز قبل اسی علاقے سے ہمارا گزر ہوا تھا تو یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوئی تھی کہ وسط شہر میں واقع اس کاروباری مرکزسے گزرنی والی سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارشوں سے سڑک کے بیچوں بیچ بڑے بڑے گڑھے بنے ہوئے ہیں جن میں بارشوں اور سیورج کا پانی جمع ہے اور جن پر ’’موت کے کنواں‘‘ کا گمان ہوتا ہے۔ سڑک کا جتنا کنارہ بچا ہوا تھا وہ کچرے اور مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ بجلی کے کھمبے ٹوٹے ہوئے اور اور تاریں بکھری پڑی تھیں۔ گلیوں میں لگے برقی قمقمے تاریکی میں گم تھے۔ اب کی بار ہم اس علاقے سے گزرے تو یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ ما شا ء اللہ سے سڑکوں کی نہ صرف مرمت ہوئی تھی بلکہ پورے علاقے میں تارکول کا کارپٹ بچھایا گیا تھا۔ کچرے کی صفائی کرکے چونا ڈال دیا گیا تھا اور لائٹیں درست کردی گئی تھی۔ ساتھ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے حفاظتی دستے بھی جگہ جگہ تعینات تھے۔ یہ سارا منظر دیکھ کر دل خوش ہوا اور مایوسی امید میں بدل گئی کہ چلیں شہر میں کچھ صفائی ستھرائی اور نظم و نسق کی بہتری کا کام تو شروع ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جنت کاٹکٹ!

پرسوں کی بات ہے ہمیں یہ اندوہناک خبر ملی کہ ہمارے کرم فرما ماسٹر مبین کی والدہ محترمہ کاا نتقال ہوگیا ہے۔ہم دوڑے دوڑے ماسٹر صاحب کے گھر پہنچے، کیونکہ ہمیں اندازہ تھا کہ یہ سانحہ ماسٹر صاحب کے لیے کتنا درد ناک اور کرب انگیز ہے۔ماسٹر صاحب کی والدہ کی شہرت ایک بہت ہی نیک، پارسا، خدمت گزار اور غریب پرور خاتون کی تھی اور ماسٹر صاحب کے مطابق ان کی بہت سی رفاہی خدمات کے پیچھے ان کی والدہ کی ترغیب، تعاون اور دعاوؤں کا عنصر کارفرما ہوتا تھا۔وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور ماسٹر صاحب دل وجان سے ان کی خدمت میں مصروف تھے۔ ہم پہنچے تو ماسٹر صاحب کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا اور ماسٹرصاحب ہمارے خدشات کے بر عکس صبرو تحمل اور وقار و تجمل کے ساتھ لوگوں سے تعزیت قبول کرنے کے ساتھ تجہیز و تکفین کے انتظامات میں مشغول تھے۔ہم نے بھی ان سے اظہار افسوس کیا اور تعزیت کے مسنون کلمات کے ساتھ دعائیں دیں۔تجہیز و تکفین کے بعدجنازے کا اعلان ہوا،کچھ ہی دیر میں ہزاروں لوگ امڈ آئے اور جنازے میں شرکت کی۔قریبی قبرستان میں تدفین ہوئی۔ قبرستان سے واپسی پر ہم نے مناسب جانا کہ مزید کچھ لمحات ماسٹر صاحب کے ساتھ گزارے جائیں تاکہ ان کے غم میں شرکت محض رسمی نہ رہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ریسرچ!

گزشتہ نشست میں ہم نے آپ کواپنے دوست مسٹر کلین کی مدرسہ آمد کی روداد بتائی تھی۔ مسٹر کلین کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا ہوجائے، جب تک اس پر ’’ریسرچ‘‘ کر کے اس کو حل نہ کرلیں، چین سے نہیں بیٹھتے۔ ہم نے انہیں مدارس میں نئے داخلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بتایا تھا تو ہمیں اندازہ تھا کہ وہ ضرور اس موضوع پرداد تحقیق دیں گے اور یقینا ہم سے بھی رجوع کریں گے۔ ہمارے اس یقین کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دینی مدارس کا نظام و نصاب ان ’’ہاٹ‘‘ موضوعات میں سے ہے جن پر نائن الیون سے اب تک اربوںڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس موضوع پر کام کے لیے مغربی ممالک کی طرف سے کسی کو’’ پراجیکٹ‘‘ مل جائے تو وہ اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سر کڑھائی میں۔ اب مسٹر کلین سے زیادہ کون اس موضوع کی ’’افادیت‘‘ کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ پہلے بھی اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں۔ اس بناء پردینی مدارس کا موضوع ان کے لیے نیا نہیں ہے البتہ مدراس میں داخلوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ ان کے لیے شاید چونکا دینے والی بات تو تھی مگر ساتھ ہی یہ ان کے لیے ریسرچ کا ایک نیا باب کھلنے کی نوید بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سفارشی!

پچھلے ہفتے کا ذکر ہے۔ ہم مدرسے میں مسجد کے ایک ستون کے پاس بیٹھے تھے اور ہمارے اردگرد طلبہ کا ایک حلقہ سا بنا ہوا تھا۔ نئے طلبہ مدرسے میں داخلے کے خواہش مند تھے اور مدرسے میں گنجائش کم ہونے کے باعث انتہائی محدود داخلے دیے جارہے تھے۔ ہم کہ مسکین آدمی ہیں، انتظامی معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کے باوجود طلبہ اور ان کے سرپرست حضرات مدرسے کی انتظامیہ سے سفارش کروانے کے لیے دیگر بہت سے مدرسین کی طرح ہم سے بھی رابطہ کرتے ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ ہمارا ایک نام’’سفارشی‘‘ کے ہم معنیٰ ہے۔ خیر تو ہم طلبہ کی جھر مٹ میں بیٹھے اور ان کی درخواستوں پر سفارش لکھتے جارہے تھے کہ مدرسے کے مرکزی دروازے سے ایک مجمع اندر آتا دکھائی دیا۔ معلوم ہوا کہ محلے کے ایک صاحب کا انتقال ہوا ہے اور ان کا جنازہ مسجد میں پڑھا جانا ہے۔ ہم جنازہ گاہ کی طرف گئے اور طلبہ کو بھی جنازے میں شرکت کا کہا۔ جنازے سے فارغ ہوئے تو محلے کے کئی احباب سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ’’جمعہ خان‘‘ سے تو مسجد میں جمعہ جمعہ کو ملاقات ہوہی جاتی ہے البتہ ’’رمضان بیگ‘‘ صاحب سال میں صرف ماہ صیام میں ہی مسجد میں دکھائی دیتے ہیں تاہم ہمارے دوست مسٹر کلین چونکہ ’’سماجی شخصیت‘‘ بھی ہیں، اس لیے عیدین وغیرہ کے علاوہ جنازوں کے ساتھ بھی اکثر مسجد آتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے!

عید کا تیسرا دن تھا اور ہم سب دوست احباب حاجی لعل دین کی بیٹھک میں ان کی غیر رسمی عید ملن پارٹی میں شریک تھے۔ حاجی صاحب نے جہاں عید کی میٹھی میٹھی سوغاتوں کا اہتمام کیا ہوا تھا، وہیں ساتھ میں ’’میٹھے میٹھے‘‘ لوگوں کے لیے نمکین پکوانوں کا بھی بندوبست موجود تھا۔ میٹھے اور نمکین کا یہ امتزاج صرف کھانے پینے کی حد تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ مجلس کے شرکاء میں بھی ہر ذوق اور ذائقے کے لوگ شامل تھے۔

عید کا موقع ہو کھانے پینے کی مجلس ہو اور مختلف طبیعتوں کے لوگ جمع ہوں تو ہمارے ہاں سب سے اہم موضوع گفتگو ملکی و بین الاقوامی سیاست ہوتی ہے اور ایسی ایسی درفنطنیاں کی جاتی ہیں کہ بندہ سر دھنتا رہ جاتا ہے۔ پھر اگر ایسی مجلس میں ہمارے دوست مسٹر کلین جیسے سکہ بند قسم کے دانشور بھی موجود ہوں تو کیا کہنے! مجلس کا رنگ ہی کچھ اور ہوجاتا ہے۔ حاجی لعل دین کی دعوت عید میں بھی ایسا ہی سماں تھا۔ پاناما لیکس مقدمہ اہل مجلس کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہے ہی نہیں!

گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی ہمیں اپنے دیرینہ کرم فرما حکیم فقیر حسین کی ’’دعوتِ افطار‘‘ کا شدت سے انتظار تھا۔ اگر گرمیوں کے روزوں نے آپ کا حافظہ زیادہ متاثر نہ کیا ہو تو آپ کو یاد ہوگا ہم نے گزشتہ رمضان میں حکیم صاحب کی دعوت کی خصوصیات، بلکہ یوں کہنا چاہیے ’’خواص‘‘ کے بارے میں بتایا تھا کہ کس طرح حکیم صاحب کے خلوص اور چاہت کے ساتھ ان کی حکمت کے کمالات مل کر دو آتشہ ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کی دعوت افطار میں دستر خوان پر رکھا ہر کٹورا حکمت کا خزانہ اورہر ڈونگا طاقت کا دواخانہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ افطار کا شربت بھی ’’ چہار عرق‘‘ یا ’’بزوری‘‘ کاذائقہ و تاثیر لیے ہوتا ہے۔ حکیم صاحب نے اپنی نستعلیق زبان میں شوخئی تحریر سے لبریز دعوت نامہ کاغذی پیراہن میں ارسال فرمایا تو ہم نے شکر کا سانس لیا اور مقرر ہ دن کو مقرر ہ وقت پر یعنی افطار سے تھوڑی دیرقبل ہم حکیم صاحب کے دولت خانے میں جس کو وہ از راہ انکسار ’’فقیر خانہ‘‘ کہتے ہیں، حاضر ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔