• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

مصر میں جمہوریت کشی اور امریکا

عوام کو جمہوری حقوق دلانے کے نام پر عراق اور افغانستان پر فوج کشی کرنے والے امریکی حکمرانوں نے مصر میں جاری جمہوریت کشی اور انسانیت سوز مظالم سے مکمل چشم پوشی اختیار کررکھی ہے جو ان کے دوہرے معیارات کا کھلا ثبوت ہے۔ جمہوریت کی قاتل فوجی حکومت کو نوازنے کا سلسلہ بھی ان کی جانب سے جاری ہے، لیکن امریکا کے باضمیر افراد اپنی حکومت کے اس رویے کے خلاف اپنی حد تک صدائے احتجاج ضرور بلند کررہے ہیں۔ حالات کے اصل رخ کو سامنے لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک حال ہی میں وکلا اورماہرین قانون کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے مصر کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس دورے کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’’ہم نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کیا ہے۔ ہم نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس نے ہمیں سخت اذیت پہنچائی۔ فوجی بغاوت کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کی امریکی انتظامیہ کی جانب سے حمایت اور مدد سے ہمارے نزدیک بلا جواز ہے۔ امریکا اور 160 سے زیادہ دوسری ریاستوں نے ایسی حکومت کے احترام اور اس سے اشتراک کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے جو شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔ امریکی انتظامیہ مصری فوج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ وہ مصری عوام پر اپنی مرضی جبراً مسلط کررہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔