• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سوالیہ نشان

وزیر اطلاعات پرویز رشید کی پریس کانفرنسوں اور میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز سے ان کی یہ شبیہ ذہن میں بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ صاحب فراست اور دانشور قسم کے آدمی ہیں۔ ہر بات ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر بیان کرتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا سے یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے مدارس کے خلاف انتہائی توہین آمیز گفتگو کی ہے تو ذہن نے اس بات کو فوری قبول نہ کیا۔ صاحب فراست آدمی عام طور پر بڑا فائول نہیں کھیلتا۔ سوشل میڈیا کی خبریں بھی فوراً یقین کرنے کی نہیں ہوتیں، اس لیے ذہن شش و پنج کا شکار رہا۔ خیال ہوا کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر الزام نہ لگ رہا ہو۔ چنانچہ اصل بیان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تحریری بیان سے بھی تسلی نہ ہوئی۔ بالآخر ویڈیو کلپ حاصل کیا اور اس وقت بندہ انتہائی افسردگی کے ساتھ وہ ’’تلخ جملے‘‘ سننے میں مصروف ہے جو ایک دانشور کی دانش پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو بیان کے کچھ حصے سامنے رکھ لیتے ہیں جس سے یہ احتمال ختم ہوجائے کہ موصوف کا مقصد کیا تھا یا کیا نہیں تھا؟ موصوف نے اپنی گفتگو میں مسلسل مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کا مقابلہ کردیا۔ انہوں نے مدارس کو اسکول کی مجبوری کا متبادل قرار دیا کہ انگریزوں کے زمانے سے اسکول کا چلن عام ہوگیا تھا، لہٰذا اس کی جگہ مدارس کو فروغ دیا گیا۔ 20 سے 25 لاکھ کی تعداد‘‘ کا حوالہ دیا جو مدارس کے طلبہ کی موجودہ تعداد ہے۔ مدارس کو ’’جہالت کی یونیورسٹیاں‘‘ قرار دیا اور عوام پر تنقید کی کہ ہم سب زکوٰۃ، عطیات اور کھالوں کے ذریعے انہیں پال رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو کیوں؟

قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظمت کا صحیح معنی میں ادراک کرنے والے صرف علماء (باخبر لوگ) ہی ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سے پہلے کیوں کا جواب تو بہت واضح ہے۔ کوئی بھی شخص کسی کی طاقت اور قدرت سے جتنا واقف ہوگا، وہ اس سے اتنا ہی مرعوب ہوگا۔ اگر کوئی کمشنر، گورنر یا صدر آپ سے ملے اور آپ کو اس کے اس عہدے کا اندازہ نہ ہو تو آپ اس سے بلاتکلف ملیں گے، لیکن اگر آپ کو اس کے عہدے کا پتہ ہو تو آپ پر گھبراہٹ کا طاری ہونا اور اس کے اعزاز و اکرام کی فکر کرنا نہایت فطری عمل ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ کو کسی کی ڈگری کا تو پتہ ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تو آپ ایک نارمل سا احترام ہی دے پائیں گے، لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ ان جیسے ڈبل Phd پاکستان میں صرف دو ہیں یا ان کی مہارت کا کسی عالمی ادارے نے بھی اعتراف کر رکھا ہے یا ان کے نام پر بے شمار تعلیمی ادارے بنائے جاچکے ہیں تو آپ ان کی عظمت کے گرویدہ ہوجائیں گے۔ بالکل اسی طرح جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت سے زیادہ واقف ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری کے مکمل اعتراف کے ساتھ سرتسلیم خم کریں گے اور ہمیشہ اپنے انجام کے بارے میں فکرمند رہیں گے۔ اس معلومات کے فرق سے درجات بھی قائم ہوں گے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ بہت سے حجابات تو خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے ازخود ہٹادیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سفر میں جنت و جہنم کے مشاہدات بھی کرلیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طاقتور ترین مخلوق فرشتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت کثرت سے میل جول تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مستقبل کا روڈ میپ

کسی قوم کی ترقی کی کچھ علامات تو وہ ہوتی ہیں جنہیں عام طور پر وزیر خزانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے نمایاں کرتے ہیں۔ مثلاً پچھلے سال سے GDP اتنا بڑھ گیا۔ بنیادی پے اسکیل بڑھاکر 12 ہزار کردیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کردیا گیا۔ سطحی معلومات رکھنے والے لوگ ان باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں، لیکن بجٹ کی تکنیکی معلومات رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثر چیزیں تو اخراجات ہیں جن کے بڑھانے سے ملک کی ترقی کا کوئی دور کا تعلق نہیں۔ باقیGDP کا بڑھنا گو ترقی کی علامت کہلاسکتا ہے، لیکن یہ حادثاتی بھی ہوسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اگلے سال اس شرح سے نہ بڑھے۔

ملک کی ترقی کی حقیقی علامتیں صرف دو ہیں: انفرااسٹرکچر میں اضافہ اور افرادی قوت کی مہارتوں Human Capital میں اضافہ۔ سیدھے لفظوں میں یوں کہیں کہ ملک کے باشندے زیادہ نظریاتی، خواندہ اور ہنرمند بن جائیں اور سڑکوں، ڈیموں، بندرگاہوں، لاء اینڈ ارڈر کے اداروں، ہسپتالوں میں اضافوں کے ذریعے تجارت، صحت اور امن و امان وغیرہ آسان سے آسان تر ہوجائے۔ ان باتوں کو عام طور پر 5 سالہ بجٹ میں چھیڑ کر بدنامی مول نہیں لی جاتی۔ استعمار نے اپنی یلغار کے ابتدائی دور میں جن نو آبادیوں میں پنجے گاڑھے، ان میں انفرا اسٹرکچر کو بہت پائیدار بنایا، لیکن عوام کو ترقی کرنے کا موقع نہ دیا۔ انگریزوں کا بنایا ہوا ریل کا نظام، بندرگاہیں آج بھی فعال ہیں۔ دوسری طرف عوام کے لیے خواندگی کو مشکل بنایا گیا اور اس میں ایسی شرائط لگائی گئیں کہ کالی کھال کے حامل دیسی انگریز پیدا کیے جاسکیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کشمیر جنت نظیر

آج مقبوضہ کشمیر کے چپّے چپّے میں سبزہلالی پرچم اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ یہ اتفاق نہیں، ہندوستان کے منفی طرزِ عمل اور غیرمقبول سیاست کے منطقی نتائج ہیں جنہیں روکنا کسی جابر کے بس میں نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بدھ کو سرینگر کی گلیوں میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ کشمیری رہنما سیّد علی گیلانی اور مسرت عالم کو گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔ حریت رہنما مسرت عالم نے جرأتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی نئی بات نہیں، ایسا 1947ء سے ہوتا آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے اس قبضے کی مخالفت کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے کیوں کہ ہم مذہبی اور نظریاتی طور سے پاکستان سے منسلک ہیں۔ سینئر رہنما نے اس تنازع کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی مسئلہ کے بجائے سہ فریقی مسئلہ قرار دیا۔ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل نہیں کرلیتے، ہم اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے وادی میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر کہا تھا کہ وہ دوبارہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ بھارتی ٹی وی میں انہوں نے کہا کہ جب بھی انہیں موقع ملا وہ پاکستانی پرچم ایک بار پھر لہرائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے یہ مضبوط پیغام ہے کہ کشمیر نئی دہلی کا حصہ نہیں ہے۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہاں 68 سال سے بھارت کے جھنڈے لہرائے جارہے ہیں تو پاکستان کا جھنڈا لہرانے میں کیا ہرج ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

میرا بچپن ایرفورس اور نیوی کے فوجیوں کے درمیان گزرا ہے۔ میرے والد مرحوم پاکستان بننے کے وقت رائل نیوی کا حصہ تھے۔ میری ابتدائی تعلیم ایرفورس کے اسکول اور کالج میں ہوئی ہے۔د وران تعلیم تربیتی پروازوں کی آوازیں ہمارے معمولات میں داخل تھیں۔ اس زمانے میں ہمارے کالج کے احاطے میں دو پرانے جہاز طلبہ کی تفریح اور معلومات کے لیے مستقل کھڑے رہتے تھے۔ مقصد یہ کہ فوج کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک جانب دل اس بات پر کڑھتا تھا کہ ہمارے ایرفورس بیس کے چند ایک بڑے افسر قادیانی تھے۔ نیز افسروں کا لائف اسٹائل بڑی حد تک مغربی تہذیب سے متاثر تھا، وہیں یہ بات انتہائی خوش کن تھی کہ فوجی افسران سے لے کر نچلی سطح کے سپاہیوں تک تمام افراد جذبۂ جہاد سے سرشار رہتے تھے۔ بھارت سے اپنی لڑائی کے خوش کن پہلوئوں پر فخر کرتے اور نعرئہ تکبیر سے اپنے ولولے کا اظہار کرتے۔ یہ جذبہ بلاکسی اختلاف کے ان میں دیکھا گیا، حتیٰ کہ قادیانی جو ’’جہاد‘‘ ہی کے منکر ہیں، انہیں بھی اس جذبے کا اظہار کیے بغیر فوج میں رہنا محال تھا۔ یہ قیامِ پاکستان کے شہداء کی کرامت ہے، علمائے کرام کی آئین اور اداروں کو اسلامی بنانے کی پارلیمانی جدوجہد کا ثمرہ ہے یا خانقاہوں میں بیٹھے اولیاء کی دعائوں کا نتیجہ، لیکن حقیقت ہے یہی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کبھی میں سوچتاہوں

ہجرت مدینہ کے موقع پر ایک نوزائیدہ ریاست پر آبادی کا دبائو یکدم بڑھ گیا تھا۔ رہائش، خوراک اور معیشت کے مسائل فوری طور پر سر اُٹھانے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری تدبیر کے طور پر مسجد نبوی کی تعمیر کی جو عبادت گاہ کے علاوہ مہاجرین کے لیے اولین اقامت گاہ اور افرادی قوت کے اندراج کا مرکز بھی تھی، جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مواخات‘‘ کے ذریعے حکومتی بوجھ کو نچلی سطح پر تقسیم کردیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ معاشی بوجھ قابل تحمل ہوگیا، بلکہ آپس میں اخوت اور ہم آہنگی کے جذبات بھی فروغ پانے لگے۔ مہاجرین نے انصار کے بے مثال تعاون سے تجارت اختیار کی اور جلد ہی آبادی حکومت پر بوجھ بننے کے بجائے اس کی معاشی معاون بن گئی۔ زکوٰۃ و عشر، مالِ غنیمت کے خمس، اوقاف اور عام صدقات و خیرات کی شکل میں مدینہ کی ریاست کو بڑے پیمانے پر اموال حاصل ہونا شروع ہوگئے۔ جب غیرمسلموں کے علاقوں پر قبضہ ہوجاتا تو جزیہ یا خراج کی شکل میں بڑی آمدنی حاصل ہونا شروع ہوجاتی۔ طرزِ زندگی سادہ تھا۔ یوں نظامِ حکومت چلانے کے ذرائع بسہولت میسر آنے لگے۔ کبھی مستقل ٹیکس لگانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ہاں! مخصوص حالات میں خصوصی دعوتیں دی جاتی رہیں۔ مثلاً تبوک کے موقع پر اموال کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی، لہٰذا دعوتِ عام دی گئی۔ یہی وہ موقع تھا جب حضرت عمرؓ گھر کا آدھا سامان اور حضرت ابوبکرؓ گھر کا سارا سامان لے آئے تھے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے میں مال کی کثرت ہوگئی۔ صرف شرعی کٹوتیاں کی جاتیں، ٹیکس کی ضرورت نہ پڑتی۔ بعد میں جب طرزِ زندگی میں سہولت پسندی آئی، نیز ضروریاتِ زندگی میں اضافہ ہوا تو مختلف بادشاہوں نے ٹیکس لگانے شروع کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدامنی کا علاج

’’مجھے تم پر فقر و فاقہ کا ڈر نہیں! جلد ہی وہ وقت آئے گا جب ایک عورت مدینہ سے حیرۃ تک تنہا سفر کرے تو بھی اسے اپنے مال و جان کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔‘‘ حدیث مبارک کی یہ پیشین گوئی چند سالوں ہی میں حقیقت بن گئی اور خلافت راشدہ کے اکثر حصوں میں امن و امان کی یہی کیفیت حاصل رہی۔ آنے والے وقتوں میں گو مسلمان حکمران رفاہی اسلامی ریاست کے اصولوں پر پوری طرح کاربند نہ رہے، لیکن پھر بھی داخلی امن کی حالت کافی حد تک مستحکم رہی۔ بیرونی حملے تو ہوئے بھی اور کیے بھی جاتے رہے، لیکن داخلی امن بڑی حد تک معیاری رہا، چنانچہ جب لارڈ میکالے نے پورے برصغیر کا دورہ کیا تو اس نے اپنی رپورٹ میں حیرت کا اظہار کیا کہ ایسی امیری کہ کوئی فقیر نہ ہو اور ایسا امن کے آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو، حیران کن ہے۔ گویا خلافت راشدہ اور اسلامی بادشاہتوں تک کے زمانے میں امن کوئی نایاب چیز نہ تھا، لیکن آج مسلم ممالک کو بدامنی کے عفریت نے مکمل طور پر لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اسلامی تاریخ کے لحاظ سے یہ معمہ حل طلب بھی ہے اور فکرانگیز بھی کہ جب بڑے بڑے ظالم بادشاہوں کے ادوار میں داخلی امن نایاب نہ تھا تو آج یہ کیوں عنقا ہوچکا ہے؟

اس کے لیے شاید ہمیں سب سے پہلے داخلی امن کی تعریف کرلینی چاہیے۔ داخلی امن ایک ایسی کیفیت کو کہہ سکتے ہیں جس میں معاشرے کے تمام طبقات ایک دوسرے کے ساتھ برداشت، تحمل اور رواداری سے چل رہے ہوں۔ نہ کوئی کسی سے زیادتی کرتا ہو اور نہ ہی کوئی سی زیادتی پر ردّعمل۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سامنے کی بات

’’پاکستان اور بھارت کے درمیان اعصاب شکن معرکے کا میدان سج گیا۔‘‘ ’’پاک بھارت میچ کا بخار سوشل میڈیا پر چڑھ گیا۔‘‘ ورلڈ کپ کے آغاز پر یہ اور اس جیسی سرخیاں یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ کچھ عرصے کے لیے کاروبارِ زندگی مفلوج ہونے والا ہے۔ ہم اسپورٹس کے مخالف نہیں اور نہ اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ صحتمند جسم میں ہی صحتمند دماغ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صحتمند اور نمایاں قوم جہاں تہذیبی اور سائنسی ترقی کرتی نظر آتی ہے وہیں تفریح کے مواقع سے بھی بھرپور انصاف کرتی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ سیرت طیبہ پر نظر ڈالیں تو گھڑسواری، تیراکی اور حربی مشقوں پر مبنی کھیل مدینہ کی ثقافت کا حصہ نظر آتے ہیں۔ اماں عائشہؓ کم عمر ہونے کی وجہ سے گھریلو کھیلوں کی شوقین تو تھیں ہی، بعض مرتبہ پردے کی اوٹ سے باہر کے کھیلوں سے بھی محظوظ ہوتی تھیں۔ تو کھیل بذاتِ خود مفید، بلکہ ایک قومی ضرورت ہوا، لیکن جس طرح کھانے میں نمک یا اچار ایک مقدار سے بڑھ جائے تو بے رغبتی پیدا کردیتا ہے۔ اسی طرح کھیل اور تفریح اگر قوم کے اصل اہداف سے اس کو ہٹانے لگیں تو وہ دانشور ان قوم کو کھٹکنے لگتے ہیں۔ آئیے! کرکٹ فوبیا کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

کسی بھی کھیل سے دو اہم مقاصد مطلوب ہوتے ہیں: ایک ذہنی تازگی، دوسرے ورزش۔ اکثر مروج کھیل ان مقاصد کو پورا بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کا تسلسل

پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں امریکا ایک فعال ملک کے طور پر شریک رہا۔ ان جنگوں کے اختتام پرتقریباً تمام شریک ممالک تباہ حالی اور کساد بازاری کا شکار ہوئے، لیکن حیران کن طور پر امریکا نہ صرف یہ کہ تباہ حال نہ ہوا، بلکہ وہ ایک مضبوط اقتصادی اور عسکری طاقت کے طور پر دنیا کا نیا لیڈر بن بیٹھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ یورپ کے تباہ حالی کا یہ حال تھا کہ اس کی تعمیر نو کے لیے ایک عالمی فنڈ بنایا گیا جسے بعد میں ’’ورلڈ بینک‘‘ کہہ کر پردہ پوشی کی کوشش کی گئی۔ یوں اتحادی ممالک تو عالمی فنڈ کے بل بوتے پر پاؤں پر کھڑے ہوئے، لیکن امریکا کو ایسی کوئی ضرورت پیش نہ آئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ امریکا کے مالی استحکام کی حالت یہ تھی کہ ڈالر نے سونے کی جگہ حاصل کرلی اور WTO کو تجارتی پالیسیاں فائنل کرنے کے لیے امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سالہا سال انتظار کرنا پڑا۔ ایسا کیوں ہوا؟ جواب بہت آسان ہے۔

امریکا کا جغرافیائی محل وقوع اور اس کی فضائی قوت اس کے لیے یہ تمام محالات ممکن بنارہی تھی۔ امریکا بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کی طویل و عریض حفاظتی پٹی میں گھرا ہوا اور تمام اہم دُشمنوں سے جغرافیائی طور پرکٹا ہوا ملک ہے۔ پھر اس کے پاس بحری بیڑے اور میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنی قوت پہنچانیے!

امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے خلافتِ عثمانیہ کے صوبہ الجزائر کے گورنر بکلر حسن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا۔ اس معاہدے میں کہ امریکا فوراً 6 لاکھ 42 ہزار ڈالر ادا کرے گا اور 12 ہزار عثمانی لیرہ سالانہ ٹیکس ادا کرتا رہے گا۔ اس کے بدلے گورنر ان امریکی قیدیوں کو رہا کرے گا اور بحر متوسط یا بحراٹلانٹک میں امریکی بحریہ پر حملہ نہیں کر ے گا۔ یہ واقعہ مصری محقق احمد تمام نے الجزائر کی سرزمین کے حوالے سے ایک ریسرچ میں تحریر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: خلافتِ عثمانیہ کے زمانے میں اس کے صوبے الجزائر کا سمندروں پر راج تھا۔ اس کے بحری بیڑے کو ایک بڑی قوت سمجھا جاتا تھا۔ اٹھارویں صدی میں انہوں نے بحریہ کا جدید ترین نظام قائم کر رکھا تھا۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں امریکی بحریہ بھی اس وقت سے سمندر میں نمودار ہو نے لگی، جب 1776ء میں اس نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی۔ پہلی بار 1783ء میں اپنا بیڑہ سمندر میں داخل کرلیا۔ سمندر میں پائوں رکھتے ہی انہیں اسلامی بحریہ کا سامنا ہوا۔ اسلامی بحریہ نے ایک امریکی جہاز کو جون 1785ء میں قبضے میں لیا۔ اس کے بعد مزید 11 جہازوں کو قبضے میں لے کر ساحل پر لے گئے۔ امریکا نے پہلے عسکری طاقت کے ذریعے ان کو چھڑانے کی کوشش کی ، مگر ناکام ہوا۔ اس کو اندازہ ہوا کہ خلافت سے صلح کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اس لیے 5 ستمبر 1795ء کو الجزائر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ترکی زبان میں تھا۔ 22 دفعات پر مشتمل تھا۔ امریکا کی تاریخ میں یہی واحد معاہدہ ہے جو انگریزی کے علاوہ کسی زبان میں لکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آہ! خادمِ حرمین

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ عبدالعزیز 90 سال کی طویل متحرک زندگی گزار کر اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔ شاہ عبداللہ کی سیاسی حکمت عملی سے بہت سوں کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ خصوصاً مصری آمر سیسی کی فراخدلانہ تائید کو پوری اُمت مسلمہ کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا، لیکن ان کے بیسیوں ایسے اوصاف بھی ہیں جن پر صرف رَشک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کے وصال کے بعد شاہ سلمان عبدالعزیز نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جبکہ شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر کیا گیا ہے۔ مغلیہ سلطنت میں نئے بادشاہ کے تعین کے لیے خونریز جنگیں لڑی جاتی تھیں، جبکہ سعودی خاندان میں 7000 شہزادوں کی موجودگی میں بھی آج تک پرامن انتقال اقتدار ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ ایک مغربی رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ ولی عہد کی تقرری کے منظم ضابطے کی موجودگی ہے۔ اس خاندان نے ایک طویل پیش قدمی کے بعد ’’شریف حسین‘‘ جیسے مغربی ایجنٹ کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا۔ خود ترکی خلافت نے بھی ایسے وقت میں جبکہ اس کی سیاسی گرفت کمزور پڑرہی تھی، ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے حرمین شریفین ان کے حوالے کیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس خاندان نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع، عازمین حج کو سہولیات اور نقل و حمل کی جدید شکلوں کے ذریعے صحیح معنی میں خادم الحرمین الشریفین ہونے کا ثبوت دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔