• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کبھی میں سوچتاہوں

ہجرت مدینہ کے موقع پر ایک نوزائیدہ ریاست پر آبادی کا دبائو یکدم بڑھ گیا تھا۔ رہائش، خوراک اور معیشت کے مسائل فوری طور پر سر اُٹھانے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری تدبیر کے طور پر مسجد نبوی کی تعمیر کی جو عبادت گاہ کے علاوہ مہاجرین کے لیے اولین اقامت گاہ اور افرادی قوت کے اندراج کا مرکز بھی تھی، جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مواخات‘‘ کے ذریعے حکومتی بوجھ کو نچلی سطح پر تقسیم کردیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ معاشی بوجھ قابل تحمل ہوگیا، بلکہ آپس میں اخوت اور ہم آہنگی کے جذبات بھی فروغ پانے لگے۔ مہاجرین نے انصار کے بے مثال تعاون سے تجارت اختیار کی اور جلد ہی آبادی حکومت پر بوجھ بننے کے بجائے اس کی معاشی معاون بن گئی۔ زکوٰۃ و عشر، مالِ غنیمت کے خمس، اوقاف اور عام صدقات و خیرات کی شکل میں مدینہ کی ریاست کو بڑے پیمانے پر اموال حاصل ہونا شروع ہوگئے۔ جب غیرمسلموں کے علاقوں پر قبضہ ہوجاتا تو جزیہ یا خراج کی شکل میں بڑی آمدنی حاصل ہونا شروع ہوجاتی۔ طرزِ زندگی سادہ تھا۔ یوں نظامِ حکومت چلانے کے ذرائع بسہولت میسر آنے لگے۔ کبھی مستقل ٹیکس لگانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ہاں! مخصوص حالات میں خصوصی دعوتیں دی جاتی رہیں۔ مثلاً تبوک کے موقع پر اموال کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی، لہٰذا دعوتِ عام دی گئی۔ یہی وہ موقع تھا جب حضرت عمرؓ گھر کا آدھا سامان اور حضرت ابوبکرؓ گھر کا سارا سامان لے آئے تھے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے میں مال کی کثرت ہوگئی۔ صرف شرعی کٹوتیاں کی جاتیں، ٹیکس کی ضرورت نہ پڑتی۔ بعد میں جب طرزِ زندگی میں سہولت پسندی آئی، نیز ضروریاتِ زندگی میں اضافہ ہوا تو مختلف بادشاہوں نے ٹیکس لگانے شروع کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بدامنی کا علاج

’’مجھے تم پر فقر و فاقہ کا ڈر نہیں! جلد ہی وہ وقت آئے گا جب ایک عورت مدینہ سے حیرۃ تک تنہا سفر کرے تو بھی اسے اپنے مال و جان کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔‘‘ حدیث مبارک کی یہ پیشین گوئی چند سالوں ہی میں حقیقت بن گئی اور خلافت راشدہ کے اکثر حصوں میں امن و امان کی یہی کیفیت حاصل رہی۔ آنے والے وقتوں میں گو مسلمان حکمران رفاہی اسلامی ریاست کے اصولوں پر پوری طرح کاربند نہ رہے، لیکن پھر بھی داخلی امن کی حالت کافی حد تک مستحکم رہی۔ بیرونی حملے تو ہوئے بھی اور کیے بھی جاتے رہے، لیکن داخلی امن بڑی حد تک معیاری رہا، چنانچہ جب لارڈ میکالے نے پورے برصغیر کا دورہ کیا تو اس نے اپنی رپورٹ میں حیرت کا اظہار کیا کہ ایسی امیری کہ کوئی فقیر نہ ہو اور ایسا امن کے آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو، حیران کن ہے۔ گویا خلافت راشدہ اور اسلامی بادشاہتوں تک کے زمانے میں امن کوئی نایاب چیز نہ تھا، لیکن آج مسلم ممالک کو بدامنی کے عفریت نے مکمل طور پر لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اسلامی تاریخ کے لحاظ سے یہ معمہ حل طلب بھی ہے اور فکرانگیز بھی کہ جب بڑے بڑے ظالم بادشاہوں کے ادوار میں داخلی امن نایاب نہ تھا تو آج یہ کیوں عنقا ہوچکا ہے؟

اس کے لیے شاید ہمیں سب سے پہلے داخلی امن کی تعریف کرلینی چاہیے۔ داخلی امن ایک ایسی کیفیت کو کہہ سکتے ہیں جس میں معاشرے کے تمام طبقات ایک دوسرے کے ساتھ برداشت، تحمل اور رواداری سے چل رہے ہوں۔ نہ کوئی کسی سے زیادتی کرتا ہو اور نہ ہی کوئی سی زیادتی پر ردّعمل۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سامنے کی بات

’’پاکستان اور بھارت کے درمیان اعصاب شکن معرکے کا میدان سج گیا۔‘‘ ’’پاک بھارت میچ کا بخار سوشل میڈیا پر چڑھ گیا۔‘‘ ورلڈ کپ کے آغاز پر یہ اور اس جیسی سرخیاں یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ کچھ عرصے کے لیے کاروبارِ زندگی مفلوج ہونے والا ہے۔ ہم اسپورٹس کے مخالف نہیں اور نہ اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ صحتمند جسم میں ہی صحتمند دماغ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صحتمند اور نمایاں قوم جہاں تہذیبی اور سائنسی ترقی کرتی نظر آتی ہے وہیں تفریح کے مواقع سے بھی بھرپور انصاف کرتی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ سیرت طیبہ پر نظر ڈالیں تو گھڑسواری، تیراکی اور حربی مشقوں پر مبنی کھیل مدینہ کی ثقافت کا حصہ نظر آتے ہیں۔ اماں عائشہؓ کم عمر ہونے کی وجہ سے گھریلو کھیلوں کی شوقین تو تھیں ہی، بعض مرتبہ پردے کی اوٹ سے باہر کے کھیلوں سے بھی محظوظ ہوتی تھیں۔ تو کھیل بذاتِ خود مفید، بلکہ ایک قومی ضرورت ہوا، لیکن جس طرح کھانے میں نمک یا اچار ایک مقدار سے بڑھ جائے تو بے رغبتی پیدا کردیتا ہے۔ اسی طرح کھیل اور تفریح اگر قوم کے اصل اہداف سے اس کو ہٹانے لگیں تو وہ دانشور ان قوم کو کھٹکنے لگتے ہیں۔ آئیے! کرکٹ فوبیا کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

کسی بھی کھیل سے دو اہم مقاصد مطلوب ہوتے ہیں: ایک ذہنی تازگی، دوسرے ورزش۔ اکثر مروج کھیل ان مقاصد کو پورا بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کا تسلسل

پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں امریکا ایک فعال ملک کے طور پر شریک رہا۔ ان جنگوں کے اختتام پرتقریباً تمام شریک ممالک تباہ حالی اور کساد بازاری کا شکار ہوئے، لیکن حیران کن طور پر امریکا نہ صرف یہ کہ تباہ حال نہ ہوا، بلکہ وہ ایک مضبوط اقتصادی اور عسکری طاقت کے طور پر دنیا کا نیا لیڈر بن بیٹھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ یورپ کے تباہ حالی کا یہ حال تھا کہ اس کی تعمیر نو کے لیے ایک عالمی فنڈ بنایا گیا جسے بعد میں ’’ورلڈ بینک‘‘ کہہ کر پردہ پوشی کی کوشش کی گئی۔ یوں اتحادی ممالک تو عالمی فنڈ کے بل بوتے پر پاؤں پر کھڑے ہوئے، لیکن امریکا کو ایسی کوئی ضرورت پیش نہ آئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ امریکا کے مالی استحکام کی حالت یہ تھی کہ ڈالر نے سونے کی جگہ حاصل کرلی اور WTO کو تجارتی پالیسیاں فائنل کرنے کے لیے امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سالہا سال انتظار کرنا پڑا۔ ایسا کیوں ہوا؟ جواب بہت آسان ہے۔

امریکا کا جغرافیائی محل وقوع اور اس کی فضائی قوت اس کے لیے یہ تمام محالات ممکن بنارہی تھی۔ امریکا بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کی طویل و عریض حفاظتی پٹی میں گھرا ہوا اور تمام اہم دُشمنوں سے جغرافیائی طور پرکٹا ہوا ملک ہے۔ پھر اس کے پاس بحری بیڑے اور میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنی قوت پہنچانیے!

امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے خلافتِ عثمانیہ کے صوبہ الجزائر کے گورنر بکلر حسن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا۔ اس معاہدے میں کہ امریکا فوراً 6 لاکھ 42 ہزار ڈالر ادا کرے گا اور 12 ہزار عثمانی لیرہ سالانہ ٹیکس ادا کرتا رہے گا۔ اس کے بدلے گورنر ان امریکی قیدیوں کو رہا کرے گا اور بحر متوسط یا بحراٹلانٹک میں امریکی بحریہ پر حملہ نہیں کر ے گا۔ یہ واقعہ مصری محقق احمد تمام نے الجزائر کی سرزمین کے حوالے سے ایک ریسرچ میں تحریر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: خلافتِ عثمانیہ کے زمانے میں اس کے صوبے الجزائر کا سمندروں پر راج تھا۔ اس کے بحری بیڑے کو ایک بڑی قوت سمجھا جاتا تھا۔ اٹھارویں صدی میں انہوں نے بحریہ کا جدید ترین نظام قائم کر رکھا تھا۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں امریکی بحریہ بھی اس وقت سے سمندر میں نمودار ہو نے لگی، جب 1776ء میں اس نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی۔ پہلی بار 1783ء میں اپنا بیڑہ سمندر میں داخل کرلیا۔ سمندر میں پائوں رکھتے ہی انہیں اسلامی بحریہ کا سامنا ہوا۔ اسلامی بحریہ نے ایک امریکی جہاز کو جون 1785ء میں قبضے میں لیا۔ اس کے بعد مزید 11 جہازوں کو قبضے میں لے کر ساحل پر لے گئے۔ امریکا نے پہلے عسکری طاقت کے ذریعے ان کو چھڑانے کی کوشش کی ، مگر ناکام ہوا۔ اس کو اندازہ ہوا کہ خلافت سے صلح کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اس لیے 5 ستمبر 1795ء کو الجزائر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ترکی زبان میں تھا۔ 22 دفعات پر مشتمل تھا۔ امریکا کی تاریخ میں یہی واحد معاہدہ ہے جو انگریزی کے علاوہ کسی زبان میں لکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آہ! خادمِ حرمین

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ عبدالعزیز 90 سال کی طویل متحرک زندگی گزار کر اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔ شاہ عبداللہ کی سیاسی حکمت عملی سے بہت سوں کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ خصوصاً مصری آمر سیسی کی فراخدلانہ تائید کو پوری اُمت مسلمہ کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا، لیکن ان کے بیسیوں ایسے اوصاف بھی ہیں جن پر صرف رَشک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کے وصال کے بعد شاہ سلمان عبدالعزیز نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جبکہ شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر کیا گیا ہے۔ مغلیہ سلطنت میں نئے بادشاہ کے تعین کے لیے خونریز جنگیں لڑی جاتی تھیں، جبکہ سعودی خاندان میں 7000 شہزادوں کی موجودگی میں بھی آج تک پرامن انتقال اقتدار ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ ایک مغربی رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ ولی عہد کی تقرری کے منظم ضابطے کی موجودگی ہے۔ اس خاندان نے ایک طویل پیش قدمی کے بعد ’’شریف حسین‘‘ جیسے مغربی ایجنٹ کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا۔ خود ترکی خلافت نے بھی ایسے وقت میں جبکہ اس کی سیاسی گرفت کمزور پڑرہی تھی، ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے حرمین شریفین ان کے حوالے کیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس خاندان نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع، عازمین حج کو سہولیات اور نقل و حمل کی جدید شکلوں کے ذریعے صحیح معنی میں خادم الحرمین الشریفین ہونے کا ثبوت دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئے دور کا آغاز

توہین رسالت کے مکرر واقعات اور ان کی عالمی تائیدات پر آج ساری اُمت کے دل مجروح اور صدمے کا شکار ہیں، لیکن ہر صدمے کی خبر میں کچھ بشارتیں بھی ہوتی ہیں جیسے کہ ہر خوشی کی خبر میں کچھ منفی پیغامات پنہاں ہوتے ہیں۔ جب قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح اور غلبے کا سورۃ النصر میں ذکر کیا تو ابن عباسؓ نے اس خوشخبری کی تفسیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’وصال‘‘ یعنی غم کی خبر سے کی۔ اس کے برعکس جب شدائد و مصائب کی انتہائی کیفیت یعنی غزوہ خندق چل رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیندہ مسلمانوں کو دفاعی کی جگہ اقدامی جہاد کی خوشخبری سنارہے تھے… لہٰذا آج کے اس صدمے کی کیفیت میں بھی کچھ بشارتیں ضرور ہوں گی۔ آئیے کچھ جائزہ لے کر تسلی کا سامان پیدا کریں۔

توہین رسالت کا سلسلہ مکہ مکرمہ کی وادی میں اپنے زوروں پر تھا۔ ابوجہل اور اس کے تربیت یافتہ کارندے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا انڈیلنے اور اوجڑی پھینکنے سے لے کر آپ پر جملے کسنے اور پروپیگنڈا کرنے تک کے تمام ہتھکنڈے اختیار کیے جارہے تھے۔ ابتدا میں کمزور مسلمانوں کو اذیتیں دے کر مشرکین کا دل ٹھنڈا ہوجاتا تھا، لیکن روز بروز مسلمان بڑھتے جارہے تھے، لہٰذا اس عالی نسب صادق و امین کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ مولوی کیا پڑھتے ہیں؟

اسکائپ کال اُٹھائی تو کینیڈا سے ایک پڑھے لکھے نوجوان بات کررہے تھے۔ انہوں نے تعارف کرایا کہ IBA کی ایک ورکشاپ کے دوران ملاقات ہوئی تھی اور کچھ دینی رہنمائی حاصل کی تھی۔ کچھ دیر غور کرنے سے بندہ کو ان کا نورانی چہرہ یاد آگیا۔ نورانی یوں کہ وہ IBA کے طالبعلم کے علاوہ حافظ قرآن بھی تھے۔ دین کے حوالے سے ان کی فکرمندی اور علماء سے نیازمندی کا تعلق بھی یاد آیا۔

’’میں یہاں اپنے چچا کے پاس رہ کر مزید تعلیم حاصل کررہا ہوں۔ میرے چچا کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں، لیکن وہ علمائے کرام کے خلاف بہت زہریلی زبان استعمال کرتے ہیں، اس لیے آئے دن ان سے اس موضوع پر جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں۔‘‘ان کے لہجے میں بے بسی سی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں رونا نہ شروع کردیں۔ میں نے گفتگو کا رُخ پھیرا: ’’آپ کی پروفائل تصویر کی جگہ کس کی تصویر لگی ہے؟‘‘انہوں نے کہا: ’’میں چچا کی ID سے ہی بات کررہا ہوں۔ یہ چچا کی ہی تصویر ہے۔‘‘ایک گھنی ڈاڑھی والی تصویر میرے سامنے تھی۔

’’آپ کے چچا تو دینی مزاج کے لگتے ہیں۔ پھر انہیں علماء سے اتنا تنفر کیوں ہوگیا؟‘‘میں نے ان کے اوسان بحال دیکھے تو پھر سوال کر ڈالا۔ کہنے لگے:’’وہ نمازوں وغیرہ کے پابند ہیں، لیکن ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ قرآن و حدیث موجود ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وسعت ظرفی کے تقاضے

کسی بھی ریاست کے چلانے کے لیے وسعت ظرفی نہایت ضروری وصف ہے۔ ایک ریاست کی جغرافیائی حدود میں محض ایک ہی مسلک و مزاج کے لوگوں کا ہونا لازمی نہیں۔ آپ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ ریاست کو ہی لیجیے۔ وہاں مہاجرین کی شکل میں تربیت یافتہ پختہ مسلمان، اوس و خزرج کی شکل میں غیرتربیت یافتہ نومسلم، بنوقریظہ، بنونضیر اور بنوقینقاع کی شکل میں متعصب یہودی، منافقین اور مضافات میں بسنے والے ڈکیت قبائل سب طبقات موجود تھے۔ نظامِ سلطنت چلانے کے لیے سب غیرمسلموں کو باہر نہیں نکالا گیا۔ یہود اور مضافاتی قبائل سے معاہدات کیے گئے۔ منافقین کے بارے میں ایک غیررسمی مفاہمت پر عمل کیا گیا۔ یعنی جب تک کوئی منافق اسلام کے خلاف کھل کر سامنے نہیں آتا تو اسے مسلمانوں کی طرح امن حاصل رہتا تھا۔ نومسلموں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یوں وسعت ظرفی اور حکمت عملی سے تمام شہریوں کو ریاستی قوانین، عارضی معاہدوں اور رسوم کے ذریعے پرامن طور پر رہنے کا حق دیا گیا۔

وطن عزیز پاکستان کو لیجیے۔ گو تحریک آزادی میں مختلف مسالک کے لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ لیا تھا، البتہ علمائے دیوبند کا کردار غیرمعمولی تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس بات کو تاریخی طور پر مسلّم بنانے کے لیے کراچی میں جناب مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں محدث مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں پرچم کشائی کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آزمائش کی گھڑی

کاروباری کمپنیاں نفع کمانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ تجربہ یہی ہے کہ 95 فیصد کمپنیاں کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کرلیتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان پر ان کا ’’مادّی مقصد‘‘ نہایت واضح ہوتا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ممکنہ تکنیکی رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ پھر انہیں دور کرنے کے لیے فلسفہ، تکنیک اور تربیت ہر ممکن طریقے سے مدد لی جاتی ہے اور مقصد یعنی کاروباری نفع حاصل کرکے ہی دم لیا جاتا ہے۔ کمپنی مالکان کی سوچ کو Vision بناکر اور قریبی مدت کے عزائم کو مشن اور اہداف بناکر پوری افرادی قوت کو ایک نظریے میں پرونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی نصاب پر بھی کام کیا گیا ہے۔ چنانچہ Organizational behavior اور HR کے فنون میں ایک ماحول میں مختلف قوموں اور مزاجوں کے افراد کو ایک ہی

مقصد کے لیے دل و جان کے ساتھ کام میں لگانے کی حکمت عملی سکھائی جاتی ہے۔ Management کے فن کے ذریعے مالکان، شعبہ جات کے نگرانوں اور سپروائزروں سے لے کر نچلی سطح کے ملازمین کے درمیان طبقاتی اور جغرافیائی فرق دور کرنے کے لیے مواصلات (Communication) کی جدید تکنیک اور آلات کا استعمال سکھایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے باکی کی سزا

وڈیرے کا کہنا تھا: ’’عید آج ہی پڑھانی ہے۔‘‘ مولانا صاحب نے کسی خوف کا شکار ہوئے بغیر کہا: ’’عید تو شرعی حکم ہے جب تک علماء کا فیصلہ نہ ہو عید نہیں پڑھاسکتا۔‘‘ اس ماحول میں وڈیرہ یہ سننے کے لیے بالکل تیار نہ تھا، لیکن پھر بھی اس نے کوئی بڑا ردّعمل ظاہر نہ کیا۔ شاید ایمانی قوت کے رعب سے متاثر ہوگیا تھا۔ ایک دن وڈیرے نے ان سے مزاحاً پوچھا: ’’مولانا! تمہارے مدرسے میں پٹھان اور پنجابی بچے بہت پڑھتے ہیں؟ کیا ان کے علاقوں میں ’’تعلیم‘‘ نہیں ہوتی؟‘‘ مولانا نے برجستہ کہا: ’’کیا پاکستان میں تعلیم ختم ہوگئی ہے جو تمہاری بیٹی… لندن جاکر پڑھ رہی ہے۔‘‘ ان دو واقعات سے آپ قوت ایمانی کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

یہ لاڑکانہ کے قریب ایک چھوٹا سا گائوں ’’عاقل‘‘ تھا۔ اس سرزمین کی خوش قسمتی تھی کہ وہاں اس ’’عاقل‘‘ نے عوام کی دینی رہنمائی کا بیڑا تن تنہا محض اللہ کے بھروسے پر اٹھایا تھا۔ علاقے میں شرک و بدعت کا دور دورہ تھا۔ ’’عاقل‘‘ صاحب نے توحید بیان کرنا شروع کی۔ دینی غیرت اور حکمت کے آمیزے سے تیار کردہ دروس نے دیکھتے ہی دیکھتے عوامی مقبولیت حاصل کرلی۔

مزید پڑھیے۔۔۔