• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

زلزلے کی سرگوشی

اسلام آباد سے نکلے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ خبر ملی کے 6.9 درجے کے شدید مگر بے ضرر زلزلے سے KPK اور پنجاب کے وسیع علاقے لرز کر رہ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا یہ دورہ جامعۃ الرشید کے ادارے SCS اور تھنک ٹینک CPRD کے اشتراک سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے سلسلے میں تھا۔ سیمینار کا موضوع ’’فیملی بزنس کے مسائل اور ان کا حل‘‘ تھا۔ عام طور پر خاندانی کاروبار ابہام درابہام کی دبیز تہوں میں جاری رہتے ہیں۔ ہر نسل میں شرکاء کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ لوگوں کی ملکیت کا تناسب بھی بدلتا ہے۔ مینجمنٹ میں بھی اختیارات کی رسہ کشی چلتی رہتی ہے۔ ابہام درابہام کی وجہ سے کاروبا رکی حکمت عملی(Strategy) واضح نہیں ہوتی جس کی وجہ سے شرکاء اور کارکنوں میں عدم دلچسپی اور ذہنی خلفشار پیدا ہوجاتا ہے۔ وراثت کے تناسب کا بھی بہت زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا اور خواتین کو تو بہت سے خاندانوں میں حصہ دیا ہی نہیں جاتا۔ پھر ان تعارضات (Conflicts) کی وجہ سے بے حد و حساب حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ ظلم در ظلم ہوتا ہے۔ مہذب لباس پہنے ہوئے لوگ اپنے رشتہ دارو ںکے مال پر ڈاکے ڈالتے ہیں۔ اپنی بہنوں کے مال کو غصب کرتے ہیں اور اس بھیانک ظلم کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مبارک ہو!

’’جو جسم حرام سے نشوونما پائے وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ جہنم میں جلے!‘‘ حدیث کے یہ الفاظ ہمیں حلال و حرام کی تاثیر کے حوالے سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک بچہ جس کے باپ نے اسے حرام کھلاکر جوان کیا، وہ اگرچہ اس حرام کھانے سے گناہ گار تو نہ ہوا، نہ ہی اس کو صدقہ کرنے کا کہا جاتا ہے، لیکن حدیث کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بچے کے گناہوں کی جانب مائل ہونے کے امکانات پاکیزہ کھانے سے نشوونما پانے والے بچے سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کی مثال فوڈ پائیزننگ کی طرح ہے۔ کوئی اگر غلط قسم کی غذا بھولے سے بھی کھالے، اس کے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف انبیاء علیہم السلام کو قرآن کا حکم ہے: ’’پاک چیزیں کھائو اور (ان کی قوت سے) نیک عمل کرو!‘‘ اس سے پتہ چلا کہ حرام کی طرح حلال کے بھی اپنے خصوصی اثرات ہوتے ہیں۔ ایسا شخص حرام کی نحوست سے بچنے کی وجہ سے پاکیزہ سوچ و فکر اور متعدل طرز عمل کا حامل ہوتا ہے۔ یہ چیز اسے نیکیوں پر مائل رکھتی ہے۔ حرام کھانے والا منفی افکار و طرزِ عمل کا حامل بنتا ہے، لہٰذا اس کے گناہ کی طرف مائل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حلال و حرام کی فکر نہ صرف یہ کہ ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری اور ضرورت ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ضرورت بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

راہِ اعتدال

شہادتیں تو تاریخ اسلام میں بے شمار ہوئیں۔ حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت ہو یا حضرت عمرؓ کی المناک رخصتی، ایک سے بڑھ کا ایک واقعہ تاریخ اسلام کے صفحات پر موجود ہے، لیکن واقعہ کربلا کو ربّ کائنات نے عاشورا کی شہرت سے زندہ جاوید کردیا۔ عاشورا یہودیوں کے نزدیک پہلے سے مقدس تھا۔ رمضان المبارک سے پہلے عاشورا کے روزے واجب کے طور پر رکھے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے عاشورا کے ساتھ 9 یا 11 تاریخ کے روزے کا ملانے کا حکم فرمایا۔ رمضان کے بعد اس دن کا روزہ مسنون رہا اور غالب یہی ہے کہ نواسۂ رسول بھی واقعہ کربلا کے وقت روزے سے ہوں گے۔ حاصل یہ کہ واقعہ کربلا اس مشہور دن میں ہونے کی وجہ سے امت کو ہر برس ازخود یاد آجایا کرتا تھا اور آج بھی اس دن کی شہرت کے باعث ہر مسلمان اس واقعے سے واقف ہوگیا ہے۔ بہادری اور قربانی کا استعارہ بن گیا۔ مضمون نگاروں کے لیے اہم ترین موضوع اور شعراء کی غیرمعمولی دلچسپی کا محور بن گیا۔ شاعر مشرق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ یہ قدرت کا دیا ہوا ایک امتیاز تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت اس واقعے کو امت میں زندہ رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے موقع غیرت

لفظ ’’عشق‘‘ گوبدنام ضرور ہے، لیکن نظامِ کائنات کے لیے انتہائی ناگزیر اور اساسی حیثیت کا حامل بھی ہے۔ اسلام بھی ’’عشق‘‘ کی اس ناگزیری کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے لیے شادی کے بعد کا وقت تجویز کرتا ہے۔ شادی سے پہلے عشق ممنوع ہے۔ شادی کے بعد اسلام میاں بیوی کو لیلیٰ مجنوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کا محبوب دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ بیوی کو حکم ہے کہ چولہے پہ ہی کیوں نہ بیٹھی ہو، خاوند کی طلب پر اپنے ہر کام کو چھوڑ دے۔ عورت کو تو شوہر کی خاطر بننے سنورنے کا حکم ہے ہی، مرد کو بھی مسواک کے ذریعے منہ کی بو دور کرنے اور سفر سے واپسی پر پہلے سے آگاہ کرنے کا حکم ہے تاکہ بیوی کو میلی کچیلی حالت میں دیکھنے سے بے رغبتی نہ ہو۔ مرد کو بیوی کی خاطر جائز خضاب لگانے کی بھی ترغیب ہے۔ غرض اسلام چاہتا ہے کہ انسانی طبائع کو جو چیزیں بھاتی ہیں، میاں بیوی دونوں اس کا اہتمام کریں تاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ محبت بڑھتی چلی جائے، لیکن شادی سے پہلے ان نفیس جذبات کو سنبھال کر رکھنے کا حکم ہے۔ یہ حکم جہاں بہت سے معاشرتی و اخلاقی حکمتوں سے بھرا ہے، وہیں یہ کامیاب شادی کی بھی ضمانت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اعتراض برائے اعتراض

افغان طالبان ایک طویل عرصے سے ملا عمر مجاہد کی قیادت میں متحد اور عالمی طاقتوں کو ناکوں چنے چبوانے میں مصروف عمل ہیں۔ اب جبکہ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت ملا عمر مجاہد کی وفات کو تسلیم کیا ہے تو ’’اعتراض برائے اعتراض‘‘ کے شائقین کی موجیں ہو گئی ہیں اور وہ ان پر سیاسی بصیرت سے محرومی اور بد دیانتی کے الزام لگانے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اعتراضات کی کوئی علمی و اخلاقی حیثیت نہیں کہ انہیں اہمیت دی جائے لیکن معترضین کی میڈیا ذرائع پر گرفت کی وجہ سے ان کا جواب دیا جاتا ہے۔

کسی سیاسی حکمت کے تحت حقائق کو چھپانا ہمیشہ سے ’’جائز‘‘ بلکہ ملکی سیاست کے لیے ناگزیر سمجھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی عسکری پیش قدمیوں کو قریب ترین ساتھیوں سے بھی مخفی رکھا کرتے تھے۔ بخاری شریف میں حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ تبوک اور بدر کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ’’اخفائ‘‘ فرمایا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: ’’الحرب خدعۃ‘‘ جنگ تو دھوکے کا نام ہے۔ سوچیے! اگر پاکستان بھارت سے اپنی عسکری طاقت اور حکمت عملی کو چھپائے تو اسے ’’بد دیانتی‘‘ کہا جائے گا؟ دیکھیے! حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی موت کے بعد بھی ایک لاٹھی پر ٹکے رہے

مزید پڑھیے۔۔۔

دشمن کا خرچہ

سیلاب کی آمد کے ساتھ ہی یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ کہیں یہ بھارت کی سازش تو نہیں؟ ظاہر ہے بھارت ہمارا دیرینہ دُشمن رہا ہے۔ خصوصاً موجودہ انتہاپسند حکومت کے زمانے میں کسی کو بھی سرحد پار سے پھولوں کے ٹوکرے یا آموں کی پیٹیاں آنے کی امید نہیں ہے۔ اس کا تو کام ہی جنگ، پراکسی وار یا سازشیں کرنا ہے۔ اگر اس کی کوئی سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس کے نزدیک بدنامی کا باعث نہیں، فخر کی علامت ہوگی۔ ایسے میں اگر ہم کسی کامیاب سازش کی شہہ تک پہنچتے ہیں تو یہ درحقیقت ’’دشمن کی کامیابی‘‘ کا ڈھنڈورا ہی ہے جو بلاکسی مقصد کے پیٹا جارہا ہوتا ہے۔ ہمیں ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے یہ آج کے کالم کا سوال ہے اور اس قضیے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

دیکھیے! دُشمن دو طرح سے لڑتا ہے۔ میدانی جنگ میں یا سازش نظریات سے۔ پراکسی وار بھی سازشی کی ہی ایک صورت ہے، کیونکہ پراکسی وار میں ہمارے ملک ہی کے لوگ دشمن کے لیے کام کرتے ہیں۔ دشمن براہ راست نہیں لڑتا۔ اب جبکہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ایٹمی قوت بن چکے ہیں، براہ راست تصادم کے احکامات کم ہوچکے ہیں۔ اِلا یہ کہ بی جے پی کی انتہاپسند حکومت کو آیندہ انتخابات میں اپنی بقا کے لیے کسی جنگ کی ضرورت پڑجائے تو وہ بھارت کے مفادات کو بھی بالائے طاق رکھ کر جنگ میں شاید کود پڑے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے حسی اور بے کسی

’’یونان‘‘ کرئہ ارض کے تہذیبی ارتقاء میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ منطق و فلسفہ کی بنیاد رکھنے والا ملک… گو وحی کی روشنی سے محروم تھا، لیکن عقل انسانی کے استعمال کی نت نئی صورتوں کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے بڑی بڑی تہذیبیں اس سے متاثر ہوئیں۔ مسلمانوں میں بھی یونانی علوم کے ترجمے سامنے آنے کے بعد ایک زمانے میں ان کا بڑا غلغلہ رہا۔ اسی غلغلے سے متاثر ہوکر بعض مسلمان حکمران عقائد کی گمراہ کن تشریحات کے روحِ رواں بن بیٹھے۔ اس موقع پر علمائے کلام نے یونانی فلسفے اور منطق کی تطہیر کی۔ انہی علوم کو گہرائی سے سیکھ کر یونان کے فلسفیوں کے مغالطے واضح کیے گئے اور یوں ’’علم کلام‘‘ کے نام سے ’’جدید فلسفہ‘‘ وجود میں آگیا۔ خیر یونان کی ’’علمیت‘‘ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے اثرات آنے والی تقریباً تمام بڑی تہذیبوں پر پڑے۔
آج وہی یونان سرمایہ دارانہ نظام کی بھینٹ چڑھ کر عالمی تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے ہم مذہب اور یورو زون میں جڑی برادری اس کے لیے اجنبی بن چکی ہے۔ سود کے نظام نے مذہبی اور علاقائی رشتوں کو پامال کردیا ہے۔ وقت پر سودی قرضے کی قسطیں نہ ملنے کی وجہ سے یونان ’’دیوالیہ‘‘ ہونے کے قریب ہوگیا ہے۔ اسے یورو زون میں رہنے کی سخت شرائط پیش کی جارہی ہیں۔ ان شرائط کو ایک ریفرنڈم میں یونانی عوام مسترد کرچکے ہیں۔ اگر وہ شرائط پوری نہیں کرتا تو اسے ’’برادری‘‘ سے نکل جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ جرمنی اور فرانس اپنے قرضے ڈوبنے کے ڈر سے ’’سودی بنیے‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو اُخوّتیں

14 صدیاں پہلے مسلمانوں کی پہلی ریاست ’’مدینہ‘‘ پر ایک بڑی آزمائش آئی تھی۔ اس پر یکدم دُگنی آبادی کا بوجھ آگیا تھا۔ آدھی آبادی کماتی تھی اور آدھی آبادی ہجرت کی وجہ سے قلاش اور مفلوک الحال تھی۔ کسی ملک کی آبادی ایک دم سے دُگنی ہوجائے اور وسائل نہ بڑھیں تو کسی بڑی جنگ سے بھی بڑا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے، لیکن مدینہ کے باسیوں کو ایسے کسی بحران کا ایک دن بھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہوا یوں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مواخات‘‘ کے نام سے ایک مذہبی اخوت اور بھائی چارگی کا رشتہ ترتیب دے دیا۔ اس رشتے نے رہائش اور خوراک کے عارضی مسئلوں کے ساتھ ’’افرادی قوت‘‘ (Human Resource) کے ذریعے مزید کمائی جیسے تمام مسائل حل کردیے۔ انصار نے اپنے گھر میں رہائش دی۔ اپنے دسترخوان پر اکرام سے بٹھاکر کھلایا اور تجارت کے عادی مہاجرین کو اتنی مالی معاونت کی کہ وہ اپنی تجارت کا آغاز کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ نتیجہ یہ تھا کہ چند ہفتوں میں ریاست کے کمانے والے دُگنے ہوگئے اور بحران، خوشحالی میں تبدیل ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غیرحسابی ضابطے!

مال بڑھانے کا سرمایہ دارانہ فارمولا یہ ہے کہ حلال و حرام کی قید سے آزاد ہوکر خوب کمائو اور بغیر کسی ناگزیر مجبوری کے کسی معاشرتی ضرورت پر ذرہ برابر بھی خرچ نہ کرو۔ عام حسابی ضابطوں سے یہ فارمولہ درست نظر آتا ہے۔ جب حلال کے ساتھ حرام جمع (+) ہوگا اور کسی غریب پر کم سے کم خرچ کرنے سے تفریق (-) کا عمل نہ ہوگا تو ممکنہ طور پر سب سے بڑا بیلنس ہی باقی بچے گا، لیکن اسلام انسان کو سوچنے کے بالکل مختلف زاویے دیتا ہے۔ اسلام کی نظر میں رزق سخاوت یعنی خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ جتنا اہل زمین پر لٹایا جائے گا اس سے دس گنا زیادہ سے آسمان والا آپ کو نواز دے گا۔ اسلام کہتا ہے کہ رزق کے خزانے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ جب کوئی کسی کے بچے کو کچھ کھانے کو دیتا ہے تو اس کا باپ اپنے بچے کے محسن کو اس سے بڑھ کر واپس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ اسی طرح کسی انسان کو دینے پر انسانوں کا خالق آپ کو زیادہ نواز دیتا ہے۔ پھر اس کے خزانے بھی لامحدود ہیں، جبکہ ہماری تجارت، نوکری اور محنت سب چیزیں محدود ہیں، لہٰذا عقلمندی یہی ہے کہ اپنی محنت و تجارت سے زیادہ ربّ تعالیٰ کے لامحدود خزانے سے نفع کمانے کی فکر کی جائے۔ نیز یہی عقلمندی مسنون بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیاوی جھمیلے اور بجٹ

بجٹ کی آمد آمد ہے۔ بجٹ کی حقیقت تو ہر شخص بلکہ بہت سے تعلیم یافتہ حضرات بھی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے، لیکن اپنے مطلب کی بات پر بہرحال ہر ایک کی نظر ہوتی ہے۔ مثلاً: سرکاری ملازمین تنخواہوں کے اضافے کے بارے میں پرامید ہوں گے۔ تاجر حضرات کی نظر ٹیکس کے اتار چڑھائو اور ایندھن کی قیمتوں پر رہیں گی۔ عام آدمی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں الجھارہے گا، جبکہ وزیر خزانہ اس فکر میں ہوں گے کہ بجٹ کی حقیقت سے نابلد ارکان اسمبلی اور عوام کو اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں پھنساکر یہ باور کروایا جائے کہ موجودہ حالات میں یہ بجٹ مثالی ہے۔ اس سے بہتر ممکن نہ تھا۔ حزب اختلاف کے راہنما آنکھیں اور کان بند کرکے صرف ان نکات کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے جن سے ثابت کیا جاسکے کہ اس سے کہیں بہتر بجٹ پچھلی حکومت کا تھا۔ میڈیا کو کیونکہ کئی دن اس موضوع پر بحث کرنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہ نہ ’’مثالی‘‘ کے دعوے کو مکمل مانے گا اور نہ ’’غیرفلاحی‘‘ ہونے کے الزام کو پوری طرح شرف قبولیت بخشے گا۔ یوں کئی دن تک بحث ہوتے ہوتے بے نتیجہ ختم ہوجائے گی۔

یہ تو تھی حقیقی صورتحال، ظاہر ہے یہ حالات خیرخواہی کے جذبے پر مبنی نہیں۔ اگر حکومت خیرخواہی کے جذبے سے کام کرتی تو چند سال کی بدنامی کو برداشت کرکے صرف وہ کام کرتی جو ملک کی حقیقی ترقی کی علامات ہیں۔ یہ صرف دو ہیں ملک کے انفراسٹرکچر میں بہتری اور ملک کی افرادی قوت (Human Capital) کی صلاحیتوں میں اضافہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خفیہ دُشمن

انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف بھیس بدل کر کام کرتے ہیں، بلکہ اپنے کاموں کو مختلف غیرضروری کاموں کی تہوں میں اتنا مبہم بنادیتے ہیں کہ ان کے حقیقی عزائم تک رسائی کافی پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ عموماً یہ خود سامنے بھی نہیں آتے، بلکہ اپنے مہروں کے ذریعے پراکسی وار لڑتے ہیں۔ آئی ایس آئی پاکستان ہی کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نمبر ایک انٹیلی جنس ایجنسی ہے، لیکن یہ باوقار انداز میں، اصول پسندی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔ اس کا مطمح نظر ’’ملکی دفاع‘‘ ہے، کسی اور ملک کی تخریب نہیں۔ پھر مسلمان ہونے کے ناتے بھی صریح جھوٹ اور حرام کاموں سے بچنا ان کی مجبوری ہے، لہٰذا ہم نمبر ایک ہونے کے باوجود اس کے کارناموں میں ’’تخریبی انداز‘‘ مفقود پاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ وہ بدنام زمانہ ایجنسی ہے جو ہر جائز ناجائز اور اوچھے ہتھکنڈے کے ذریعے اپنے تخریبی مقاصد حاصل کرنے کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں تعصب کی آگ کو بھڑکانے اور سقوط ڈھاکا تک معاملہ پہنچانے میں اس کا بے حد و حساب تخریبی کردار رہا ہے۔ اب یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ را کو اپنی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا بجٹ پاک چین تجارتی راہداری کو فلاپ کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ سانحہ صفورہ گوٹھ ’’را‘‘ کے اس معاملے میں فعال ہوجانے کا ایک عملی ثبوت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔