• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دشمن کا خرچہ

سیلاب کی آمد کے ساتھ ہی یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ کہیں یہ بھارت کی سازش تو نہیں؟ ظاہر ہے بھارت ہمارا دیرینہ دُشمن رہا ہے۔ خصوصاً موجودہ انتہاپسند حکومت کے زمانے میں کسی کو بھی سرحد پار سے پھولوں کے ٹوکرے یا آموں کی پیٹیاں آنے کی امید نہیں ہے۔ اس کا تو کام ہی جنگ، پراکسی وار یا سازشیں کرنا ہے۔ اگر اس کی کوئی سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس کے نزدیک بدنامی کا باعث نہیں، فخر کی علامت ہوگی۔ ایسے میں اگر ہم کسی کامیاب سازش کی شہہ تک پہنچتے ہیں تو یہ درحقیقت ’’دشمن کی کامیابی‘‘ کا ڈھنڈورا ہی ہے جو بلاکسی مقصد کے پیٹا جارہا ہوتا ہے۔ ہمیں ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے یہ آج کے کالم کا سوال ہے اور اس قضیے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

دیکھیے! دُشمن دو طرح سے لڑتا ہے۔ میدانی جنگ میں یا سازش نظریات سے۔ پراکسی وار بھی سازشی کی ہی ایک صورت ہے، کیونکہ پراکسی وار میں ہمارے ملک ہی کے لوگ دشمن کے لیے کام کرتے ہیں۔ دشمن براہ راست نہیں لڑتا۔ اب جبکہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ایٹمی قوت بن چکے ہیں، براہ راست تصادم کے احکامات کم ہوچکے ہیں۔ اِلا یہ کہ بی جے پی کی انتہاپسند حکومت کو آیندہ انتخابات میں اپنی بقا کے لیے کسی جنگ کی ضرورت پڑجائے تو وہ بھارت کے مفادات کو بھی بالائے طاق رکھ کر جنگ میں شاید کود پڑے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے حسی اور بے کسی

’’یونان‘‘ کرئہ ارض کے تہذیبی ارتقاء میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ منطق و فلسفہ کی بنیاد رکھنے والا ملک… گو وحی کی روشنی سے محروم تھا، لیکن عقل انسانی کے استعمال کی نت نئی صورتوں کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے بڑی بڑی تہذیبیں اس سے متاثر ہوئیں۔ مسلمانوں میں بھی یونانی علوم کے ترجمے سامنے آنے کے بعد ایک زمانے میں ان کا بڑا غلغلہ رہا۔ اسی غلغلے سے متاثر ہوکر بعض مسلمان حکمران عقائد کی گمراہ کن تشریحات کے روحِ رواں بن بیٹھے۔ اس موقع پر علمائے کلام نے یونانی فلسفے اور منطق کی تطہیر کی۔ انہی علوم کو گہرائی سے سیکھ کر یونان کے فلسفیوں کے مغالطے واضح کیے گئے اور یوں ’’علم کلام‘‘ کے نام سے ’’جدید فلسفہ‘‘ وجود میں آگیا۔ خیر یونان کی ’’علمیت‘‘ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے اثرات آنے والی تقریباً تمام بڑی تہذیبوں پر پڑے۔
آج وہی یونان سرمایہ دارانہ نظام کی بھینٹ چڑھ کر عالمی تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے ہم مذہب اور یورو زون میں جڑی برادری اس کے لیے اجنبی بن چکی ہے۔ سود کے نظام نے مذہبی اور علاقائی رشتوں کو پامال کردیا ہے۔ وقت پر سودی قرضے کی قسطیں نہ ملنے کی وجہ سے یونان ’’دیوالیہ‘‘ ہونے کے قریب ہوگیا ہے۔ اسے یورو زون میں رہنے کی سخت شرائط پیش کی جارہی ہیں۔ ان شرائط کو ایک ریفرنڈم میں یونانی عوام مسترد کرچکے ہیں۔ اگر وہ شرائط پوری نہیں کرتا تو اسے ’’برادری‘‘ سے نکل جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ جرمنی اور فرانس اپنے قرضے ڈوبنے کے ڈر سے ’’سودی بنیے‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو اُخوّتیں

14 صدیاں پہلے مسلمانوں کی پہلی ریاست ’’مدینہ‘‘ پر ایک بڑی آزمائش آئی تھی۔ اس پر یکدم دُگنی آبادی کا بوجھ آگیا تھا۔ آدھی آبادی کماتی تھی اور آدھی آبادی ہجرت کی وجہ سے قلاش اور مفلوک الحال تھی۔ کسی ملک کی آبادی ایک دم سے دُگنی ہوجائے اور وسائل نہ بڑھیں تو کسی بڑی جنگ سے بھی بڑا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے، لیکن مدینہ کے باسیوں کو ایسے کسی بحران کا ایک دن بھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہوا یوں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مواخات‘‘ کے نام سے ایک مذہبی اخوت اور بھائی چارگی کا رشتہ ترتیب دے دیا۔ اس رشتے نے رہائش اور خوراک کے عارضی مسئلوں کے ساتھ ’’افرادی قوت‘‘ (Human Resource) کے ذریعے مزید کمائی جیسے تمام مسائل حل کردیے۔ انصار نے اپنے گھر میں رہائش دی۔ اپنے دسترخوان پر اکرام سے بٹھاکر کھلایا اور تجارت کے عادی مہاجرین کو اتنی مالی معاونت کی کہ وہ اپنی تجارت کا آغاز کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ نتیجہ یہ تھا کہ چند ہفتوں میں ریاست کے کمانے والے دُگنے ہوگئے اور بحران، خوشحالی میں تبدیل ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غیرحسابی ضابطے!

مال بڑھانے کا سرمایہ دارانہ فارمولا یہ ہے کہ حلال و حرام کی قید سے آزاد ہوکر خوب کمائو اور بغیر کسی ناگزیر مجبوری کے کسی معاشرتی ضرورت پر ذرہ برابر بھی خرچ نہ کرو۔ عام حسابی ضابطوں سے یہ فارمولہ درست نظر آتا ہے۔ جب حلال کے ساتھ حرام جمع (+) ہوگا اور کسی غریب پر کم سے کم خرچ کرنے سے تفریق (-) کا عمل نہ ہوگا تو ممکنہ طور پر سب سے بڑا بیلنس ہی باقی بچے گا، لیکن اسلام انسان کو سوچنے کے بالکل مختلف زاویے دیتا ہے۔ اسلام کی نظر میں رزق سخاوت یعنی خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ جتنا اہل زمین پر لٹایا جائے گا اس سے دس گنا زیادہ سے آسمان والا آپ کو نواز دے گا۔ اسلام کہتا ہے کہ رزق کے خزانے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ جب کوئی کسی کے بچے کو کچھ کھانے کو دیتا ہے تو اس کا باپ اپنے بچے کے محسن کو اس سے بڑھ کر واپس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ اسی طرح کسی انسان کو دینے پر انسانوں کا خالق آپ کو زیادہ نواز دیتا ہے۔ پھر اس کے خزانے بھی لامحدود ہیں، جبکہ ہماری تجارت، نوکری اور محنت سب چیزیں محدود ہیں، لہٰذا عقلمندی یہی ہے کہ اپنی محنت و تجارت سے زیادہ ربّ تعالیٰ کے لامحدود خزانے سے نفع کمانے کی فکر کی جائے۔ نیز یہی عقلمندی مسنون بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیاوی جھمیلے اور بجٹ

بجٹ کی آمد آمد ہے۔ بجٹ کی حقیقت تو ہر شخص بلکہ بہت سے تعلیم یافتہ حضرات بھی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے، لیکن اپنے مطلب کی بات پر بہرحال ہر ایک کی نظر ہوتی ہے۔ مثلاً: سرکاری ملازمین تنخواہوں کے اضافے کے بارے میں پرامید ہوں گے۔ تاجر حضرات کی نظر ٹیکس کے اتار چڑھائو اور ایندھن کی قیمتوں پر رہیں گی۔ عام آدمی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں الجھارہے گا، جبکہ وزیر خزانہ اس فکر میں ہوں گے کہ بجٹ کی حقیقت سے نابلد ارکان اسمبلی اور عوام کو اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں پھنساکر یہ باور کروایا جائے کہ موجودہ حالات میں یہ بجٹ مثالی ہے۔ اس سے بہتر ممکن نہ تھا۔ حزب اختلاف کے راہنما آنکھیں اور کان بند کرکے صرف ان نکات کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے جن سے ثابت کیا جاسکے کہ اس سے کہیں بہتر بجٹ پچھلی حکومت کا تھا۔ میڈیا کو کیونکہ کئی دن اس موضوع پر بحث کرنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہ نہ ’’مثالی‘‘ کے دعوے کو مکمل مانے گا اور نہ ’’غیرفلاحی‘‘ ہونے کے الزام کو پوری طرح شرف قبولیت بخشے گا۔ یوں کئی دن تک بحث ہوتے ہوتے بے نتیجہ ختم ہوجائے گی۔

یہ تو تھی حقیقی صورتحال، ظاہر ہے یہ حالات خیرخواہی کے جذبے پر مبنی نہیں۔ اگر حکومت خیرخواہی کے جذبے سے کام کرتی تو چند سال کی بدنامی کو برداشت کرکے صرف وہ کام کرتی جو ملک کی حقیقی ترقی کی علامات ہیں۔ یہ صرف دو ہیں ملک کے انفراسٹرکچر میں بہتری اور ملک کی افرادی قوت (Human Capital) کی صلاحیتوں میں اضافہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خفیہ دُشمن

انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف بھیس بدل کر کام کرتے ہیں، بلکہ اپنے کاموں کو مختلف غیرضروری کاموں کی تہوں میں اتنا مبہم بنادیتے ہیں کہ ان کے حقیقی عزائم تک رسائی کافی پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ عموماً یہ خود سامنے بھی نہیں آتے، بلکہ اپنے مہروں کے ذریعے پراکسی وار لڑتے ہیں۔ آئی ایس آئی پاکستان ہی کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نمبر ایک انٹیلی جنس ایجنسی ہے، لیکن یہ باوقار انداز میں، اصول پسندی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔ اس کا مطمح نظر ’’ملکی دفاع‘‘ ہے، کسی اور ملک کی تخریب نہیں۔ پھر مسلمان ہونے کے ناتے بھی صریح جھوٹ اور حرام کاموں سے بچنا ان کی مجبوری ہے، لہٰذا ہم نمبر ایک ہونے کے باوجود اس کے کارناموں میں ’’تخریبی انداز‘‘ مفقود پاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ وہ بدنام زمانہ ایجنسی ہے جو ہر جائز ناجائز اور اوچھے ہتھکنڈے کے ذریعے اپنے تخریبی مقاصد حاصل کرنے کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں تعصب کی آگ کو بھڑکانے اور سقوط ڈھاکا تک معاملہ پہنچانے میں اس کا بے حد و حساب تخریبی کردار رہا ہے۔ اب یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ را کو اپنی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا بجٹ پاک چین تجارتی راہداری کو فلاپ کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ سانحہ صفورہ گوٹھ ’’را‘‘ کے اس معاملے میں فعال ہوجانے کا ایک عملی ثبوت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سوالیہ نشان

وزیر اطلاعات پرویز رشید کی پریس کانفرنسوں اور میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز سے ان کی یہ شبیہ ذہن میں بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ صاحب فراست اور دانشور قسم کے آدمی ہیں۔ ہر بات ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر بیان کرتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا سے یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے مدارس کے خلاف انتہائی توہین آمیز گفتگو کی ہے تو ذہن نے اس بات کو فوری قبول نہ کیا۔ صاحب فراست آدمی عام طور پر بڑا فائول نہیں کھیلتا۔ سوشل میڈیا کی خبریں بھی فوراً یقین کرنے کی نہیں ہوتیں، اس لیے ذہن شش و پنج کا شکار رہا۔ خیال ہوا کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر الزام نہ لگ رہا ہو۔ چنانچہ اصل بیان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تحریری بیان سے بھی تسلی نہ ہوئی۔ بالآخر ویڈیو کلپ حاصل کیا اور اس وقت بندہ انتہائی افسردگی کے ساتھ وہ ’’تلخ جملے‘‘ سننے میں مصروف ہے جو ایک دانشور کی دانش پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو بیان کے کچھ حصے سامنے رکھ لیتے ہیں جس سے یہ احتمال ختم ہوجائے کہ موصوف کا مقصد کیا تھا یا کیا نہیں تھا؟ موصوف نے اپنی گفتگو میں مسلسل مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کا مقابلہ کردیا۔ انہوں نے مدارس کو اسکول کی مجبوری کا متبادل قرار دیا کہ انگریزوں کے زمانے سے اسکول کا چلن عام ہوگیا تھا، لہٰذا اس کی جگہ مدارس کو فروغ دیا گیا۔ 20 سے 25 لاکھ کی تعداد‘‘ کا حوالہ دیا جو مدارس کے طلبہ کی موجودہ تعداد ہے۔ مدارس کو ’’جہالت کی یونیورسٹیاں‘‘ قرار دیا اور عوام پر تنقید کی کہ ہم سب زکوٰۃ، عطیات اور کھالوں کے ذریعے انہیں پال رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو کیوں؟

قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظمت کا صحیح معنی میں ادراک کرنے والے صرف علماء (باخبر لوگ) ہی ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سے پہلے کیوں کا جواب تو بہت واضح ہے۔ کوئی بھی شخص کسی کی طاقت اور قدرت سے جتنا واقف ہوگا، وہ اس سے اتنا ہی مرعوب ہوگا۔ اگر کوئی کمشنر، گورنر یا صدر آپ سے ملے اور آپ کو اس کے اس عہدے کا اندازہ نہ ہو تو آپ اس سے بلاتکلف ملیں گے، لیکن اگر آپ کو اس کے عہدے کا پتہ ہو تو آپ پر گھبراہٹ کا طاری ہونا اور اس کے اعزاز و اکرام کی فکر کرنا نہایت فطری عمل ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ کو کسی کی ڈگری کا تو پتہ ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تو آپ ایک نارمل سا احترام ہی دے پائیں گے، لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ ان جیسے ڈبل Phd پاکستان میں صرف دو ہیں یا ان کی مہارت کا کسی عالمی ادارے نے بھی اعتراف کر رکھا ہے یا ان کے نام پر بے شمار تعلیمی ادارے بنائے جاچکے ہیں تو آپ ان کی عظمت کے گرویدہ ہوجائیں گے۔ بالکل اسی طرح جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت سے زیادہ واقف ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری کے مکمل اعتراف کے ساتھ سرتسلیم خم کریں گے اور ہمیشہ اپنے انجام کے بارے میں فکرمند رہیں گے۔ اس معلومات کے فرق سے درجات بھی قائم ہوں گے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ بہت سے حجابات تو خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے ازخود ہٹادیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سفر میں جنت و جہنم کے مشاہدات بھی کرلیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طاقتور ترین مخلوق فرشتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت کثرت سے میل جول تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مستقبل کا روڈ میپ

کسی قوم کی ترقی کی کچھ علامات تو وہ ہوتی ہیں جنہیں عام طور پر وزیر خزانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے نمایاں کرتے ہیں۔ مثلاً پچھلے سال سے GDP اتنا بڑھ گیا۔ بنیادی پے اسکیل بڑھاکر 12 ہزار کردیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کردیا گیا۔ سطحی معلومات رکھنے والے لوگ ان باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں، لیکن بجٹ کی تکنیکی معلومات رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثر چیزیں تو اخراجات ہیں جن کے بڑھانے سے ملک کی ترقی کا کوئی دور کا تعلق نہیں۔ باقیGDP کا بڑھنا گو ترقی کی علامت کہلاسکتا ہے، لیکن یہ حادثاتی بھی ہوسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اگلے سال اس شرح سے نہ بڑھے۔

ملک کی ترقی کی حقیقی علامتیں صرف دو ہیں: انفرااسٹرکچر میں اضافہ اور افرادی قوت کی مہارتوں Human Capital میں اضافہ۔ سیدھے لفظوں میں یوں کہیں کہ ملک کے باشندے زیادہ نظریاتی، خواندہ اور ہنرمند بن جائیں اور سڑکوں، ڈیموں، بندرگاہوں، لاء اینڈ ارڈر کے اداروں، ہسپتالوں میں اضافوں کے ذریعے تجارت، صحت اور امن و امان وغیرہ آسان سے آسان تر ہوجائے۔ ان باتوں کو عام طور پر 5 سالہ بجٹ میں چھیڑ کر بدنامی مول نہیں لی جاتی۔ استعمار نے اپنی یلغار کے ابتدائی دور میں جن نو آبادیوں میں پنجے گاڑھے، ان میں انفرا اسٹرکچر کو بہت پائیدار بنایا، لیکن عوام کو ترقی کرنے کا موقع نہ دیا۔ انگریزوں کا بنایا ہوا ریل کا نظام، بندرگاہیں آج بھی فعال ہیں۔ دوسری طرف عوام کے لیے خواندگی کو مشکل بنایا گیا اور اس میں ایسی شرائط لگائی گئیں کہ کالی کھال کے حامل دیسی انگریز پیدا کیے جاسکیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کشمیر جنت نظیر

آج مقبوضہ کشمیر کے چپّے چپّے میں سبزہلالی پرچم اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ یہ اتفاق نہیں، ہندوستان کے منفی طرزِ عمل اور غیرمقبول سیاست کے منطقی نتائج ہیں جنہیں روکنا کسی جابر کے بس میں نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بدھ کو سرینگر کی گلیوں میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ کشمیری رہنما سیّد علی گیلانی اور مسرت عالم کو گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔ حریت رہنما مسرت عالم نے جرأتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی نئی بات نہیں، ایسا 1947ء سے ہوتا آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے اس قبضے کی مخالفت کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے کیوں کہ ہم مذہبی اور نظریاتی طور سے پاکستان سے منسلک ہیں۔ سینئر رہنما نے اس تنازع کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی مسئلہ کے بجائے سہ فریقی مسئلہ قرار دیا۔ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل نہیں کرلیتے، ہم اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے وادی میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر کہا تھا کہ وہ دوبارہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ بھارتی ٹی وی میں انہوں نے کہا کہ جب بھی انہیں موقع ملا وہ پاکستانی پرچم ایک بار پھر لہرائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے یہ مضبوط پیغام ہے کہ کشمیر نئی دہلی کا حصہ نہیں ہے۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہاں 68 سال سے بھارت کے جھنڈے لہرائے جارہے ہیں تو پاکستان کا جھنڈا لہرانے میں کیا ہرج ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

میرا بچپن ایرفورس اور نیوی کے فوجیوں کے درمیان گزرا ہے۔ میرے والد مرحوم پاکستان بننے کے وقت رائل نیوی کا حصہ تھے۔ میری ابتدائی تعلیم ایرفورس کے اسکول اور کالج میں ہوئی ہے۔د وران تعلیم تربیتی پروازوں کی آوازیں ہمارے معمولات میں داخل تھیں۔ اس زمانے میں ہمارے کالج کے احاطے میں دو پرانے جہاز طلبہ کی تفریح اور معلومات کے لیے مستقل کھڑے رہتے تھے۔ مقصد یہ کہ فوج کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک جانب دل اس بات پر کڑھتا تھا کہ ہمارے ایرفورس بیس کے چند ایک بڑے افسر قادیانی تھے۔ نیز افسروں کا لائف اسٹائل بڑی حد تک مغربی تہذیب سے متاثر تھا، وہیں یہ بات انتہائی خوش کن تھی کہ فوجی افسران سے لے کر نچلی سطح کے سپاہیوں تک تمام افراد جذبۂ جہاد سے سرشار رہتے تھے۔ بھارت سے اپنی لڑائی کے خوش کن پہلوئوں پر فخر کرتے اور نعرئہ تکبیر سے اپنے ولولے کا اظہار کرتے۔ یہ جذبہ بلاکسی اختلاف کے ان میں دیکھا گیا، حتیٰ کہ قادیانی جو ’’جہاد‘‘ ہی کے منکر ہیں، انہیں بھی اس جذبے کا اظہار کیے بغیر فوج میں رہنا محال تھا۔ یہ قیامِ پاکستان کے شہداء کی کرامت ہے، علمائے کرام کی آئین اور اداروں کو اسلامی بنانے کی پارلیمانی جدوجہد کا ثمرہ ہے یا خانقاہوں میں بیٹھے اولیاء کی دعائوں کا نتیجہ، لیکن حقیقت ہے یہی۔

مزید پڑھیے۔۔۔