• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایک اور کامیابی

1947ء میں یہ قوم آزاد ہوئی تو دنیا کی غریب ترین، بے سرو سامان اور پسماندہ قوم سمجھی گئی۔ تاریخ کی سب سے بڑی اور خون ریز ہجرت نے اسے قیمتی افرادی قوت اور اربوں کھربوں کی جائیداد سے ہاتھ دھونے پر مجبور کردیا۔ ملک کا پہلا فوجی سربراہ بھی انگریزوں سے ادھار لینا پڑا۔ لٹے پٹے مہاجروں کو سنبھالنے ہی میں ایک طویل عرصہ لگ گیا، لیکن پھر اس قوم نے انگڑائی لی اور یہ ایوب خان کے زمانے تک تیز ترین شرح سے ترقی کرنے والی قوم ثابت ہوئی۔ 48ء اور 65ء کی لڑائی میں اس نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کردیا۔ 47ء میں نہ صرف یہ کہ رقبے کے لحاظ سے دھاندلی ہوئی تھی، بلکہ بیت المال کی تقسیم خصوصاً فوجی سامان کی تقسیم میں پاکستان کے ساتھ خوب دھوکے ہوئے، لیکن دنیا حیران رہ گئی جب ایوب خان ’’فیلڈ مارشل‘‘ کے طور پر مانے گئے۔ اس قوم نے اپنے وسائل کا جب بھی بامعنی استعمال کیا، تقدیر نے ہمیشہ یاوری کی اور اس قوم کو اعجوبے تراشنے میں کامیابی ہوئی۔ شاہراہ ریشم دنیا کا سب سے بلند موٹر وے ہے۔ اس کی تعمیر میں موسمی مشقتوں اور تعمیری مشکلات کی وجہ سے سینکڑوں مزدور شہید ہوئے، لیکن اس قوم نے اس انہونی کو ہونی کر دکھایا۔ گوادر دنیا کے گہرے پانی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ تمام تر عالمی سازشوں کے باوجود یہ قوم اس کی تعمیر میں کامیاب ہوچکی ہے۔ ملک کو ملی بے سرو سامان عسکری فوج نے جس کی قیادت بھی انگریز کے ہاتھ میں رکھنا مجبوری تھی، بالآخر وہ روپ نکالا کہ اسے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں چند گنی چنی افواج میں سے تسلیم کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاروں کے بغیر

آج شافع روز محشر، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر سے روانگی ہے اور احمد ندیم قاسمی صاحب کا یہ شعر بار بار ہتھوڑے کی طرح دماغ سے ٹکرا رہا ہے۔
یہ کہیں خامیٔ ایماں ہی نہ ہو
میں مدینے سے پلٹ آیا ہوں
سرکار دو عالم کا شہر مدینہ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ٹوٹ کر محبت کی ہو، جس میں بسنے اور یہاں مر کر اس کی مٹی میں امر ہونے کی خواہش کی دعا کون ہے جس نے نہ کی ہو۔ سیدنا عمرؓ ایک دعا کیا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! مجھے شہادت کی موت عطا فرما اور اسی شہر میں عطا فرما۔‘‘ جو اس شہر میں آ بسے انہوں نے پھر اس خاک سے اس قدر محبت کی کہ یہاں سے جانے کا نام نہ لیا۔ حضرت امام مالکؒ ساری زندگی مدینہ میں رہے، لیکن آپ نے پائوں میں جوتا نہیں پہنا۔ رفع حاجت کے لیے شہر سے باہر جاتے تو تیزی کے ساتھ جاتے اور تیزی کے ساتھ واپس آ جاتے کہ کہیں ان کی موت مدینہ سے باہر واقع نہ ہوجائے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

روزہ کے متفرق مسائل

روزہ پر قدرت ہو تو کھانا کھلانے سے کفارہ اداء نہ ہوگا:
سوال: مسئلہ یہ ہے کہ آج سے ۳ سال پہلے میں نے ایک گناہ کرکے رمضان کا روزہ توڑ دیا تھا،جس کا کفارہ ابھی تک اداء نہیں کیا۔ موت کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے میں روزہ کا کفارہ دینا چاہتا ہوں،لیکن بات یہ ہے کہ میں شادی شدہ بھی ہوں اور بہت سخت مزدوری کرتا ہوں، جس کی وجہ سے ۲ ماہ کے روزے رکھنا بہت مشکل ہے۔ باقی رہا مسئلہ ۶۰ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانے یا ایک مسکین کو دو ماہ دو وقت کا کھانا کھلانے کا تو اب میں مسکین کہاں سے ڈھونڈوں۔ مجھ کو تو اپنی مزدوری سے فرصت نہیں۔ مہربانی فرماکر مجھ کو کچھ اچھا سا مشورہ عنایت فرمائیں۔ اگر ایسا ہوجائے کہ آپ دو وقت کے کھانے کی کُل رقم جو۶۰ مسکینوں کی بنتی ہے مجھے بتادیں تو میں مدارس کے طالب علموں کو خود بانٹ دوں گا یا مجاہدین کے دفتر میں جمع کرادوں گا۔ (ن۔ب۔خوشاب)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دو رُخ

چند سال پہلے ہمارے ایک جاننے والے نے ایک مدرسے کی کینٹین ٹھیکے پر لی تھی۔ ڈھائی ہزار طلبہ کی ہر وقت موجودگی کی وجہ سے دیکھنے میں بڑی کاروباری جگہ تھی۔ پھر وہ صاحب خود بھی مینجمنٹ کے بڑے ماہر تھے۔ اُمید یہی تھی کہ کچھ عرصے میں ان کے وارے نیارے ہوجائیں گے، لیکن سال کے بعد یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ ساری مینجمنٹ دھری کی دھری رہ گئی اور کئی لاکھ کا نقصان ہوگیا ہے۔ سخت حیرانی ہوئی۔ اسی دوران پتا چلا کہ ایک کوئٹہ وال خاندان نے یہ جگہ حاصل کی ہے۔ خیال ہوا کہ یہ لوگ تو پڑھے لکھے نہیں ہوتے، بظاہر مینجمنٹ سے بھی واقف نہیں ہوں گے، ان سے بھلا یہ کاروبار کیسے سنبھلے گا؟ لیکن سال بعد نتائج حیران کن تھے۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے کاروبار کو پورا سال نہ صرف اطمینان بخش انداز سے چلا یا بلکہ اگلے 5 سال مزید لینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ گتھی شروع میں تو نہ سلجھ سکی، لیکن کئی پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد ہوا کہ یہ سب ’’فیملی بزنس‘‘ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

جاننے والوں کو پتہ ہے کہ مدرسے کے طلبہ کے اوقات بہت منتشر ہوتے ہیں۔ انہیں فجر کے فوراً بعد ناشتہ چاہیے ہوتا ہے تو رات 12 بجے بھی چائے وغیرہ کی طلب ہوتی ہے جس کے لیے کم از کم دو شفٹوں کے ملازمین درکار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیادت!

’’درسِ نظامی‘‘ عالم بننے کا ایک تعلیمی نصاب ہے جو چند صدیوں سے ہندو پاک کے مدارس میں رائج ہے۔ اس نصاب کا کئی صدیوں تک رائج رہنا بذاتِ خود اس کی افادیت اور جامعیت کی روشن دلیل ہے۔ پھر اس گو بنیادی کتب تو نہیں بدلیں، لیکن ان کتابوں کے حاشیے اور شروح مسلسل لکھی جاتی رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ایک جانب ’’متن‘‘ مختصر اور جامع ہے تو دوسری طرف نت نئے حاشیوں اور شروح کے ذریعے عصری معلومات، مثالیں، عرف کے بدلنے کے اثرات بھی پڑھنے والوں کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ جامعیت کا یہ عالم ہے کہ عقائد و عبادات کے علاوہ خانگی و مالی معاملات، معاشرت کے مستحسن طریقے اور مکروہات، حکومت کے اختیارات اور عدلیہ کا ڈھانچہ، دفتری ریکارڈ رکھنے اور محفوظ مواصلات کے طریقے، میراث، سمت قبلہ، اوقات صلوٰۃ اور پارٹنر شپ وغیرہ کے انتہائی پیچیدہ حسابات اور انسان کے مثالی رویوں اور نامناسب رویوں کا تجزیہ اور احکام بھی اس کا حصہ ہیں۔ جب کوئی طالب علم اس جامع اور مفید نصاب کو واضح مقاصد کے تحت پڑھ لیتا ہے تو اسے قائدانہ صلاحیت حاصل ہونا لازمی ہے۔ آج لیڈر شپ کے تحت یہی تو سکھایا جارہا ہے کہ کون سے رویے مفید ہیں؟ نظام الاوقات کو کیسے کارآمد بنایا جائے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ممنونیت!

میرے تو وہم میں بھی ایسا دلکش اور متاثر کن مدرسہ نہ تھا جو کسی بھی طرح بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ سچ بات بتائوں آپ مجھے خلافت عثمانیہ کے زمانے میں لے گئے ہیں۔‘‘ یہ خیالات تھے ہمارے ایک ترکی بھائی کے جو غیرملکی طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے والی ترکی کی ایک مقامی این جی او کے سربراہ ہیں۔ جامعۃ الرشید کی جاذب نظر تعمیرات اور ذیلی اداروں کے حوالے سے ڈاکومینٹری دیکھنے کے بعد انہوں نے چشم تر کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کیا۔ پھر وضاحت کرتے ہوئے گویا ہوئے: ’’بچپن میں ہم نے چھپ چھپاکر قرآن پڑھا تھا۔ جب سے ہوش سنبھالا چھوٹے مدارس ہی دیکھنے کو ملے۔ اس لیے میرا تصور تھا کہ پاکستان میں جن مدارس کا ہم شہرہ سنتے ہیں، وہ بھی چھوتے سے رقبے پر ناقص تعمیرات کے ساتھ گزارہ کرتے ہوں گے۔ ‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حکومت کے سائے تلے جو دینی خدمات ہوسکتی ہیں، وہ عام وسائل سے بہت مشکل ہیں۔ خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت تک حاکم وقت کی دلچسپی کا معاشرے کے تعلیمی و تہذیبی معیار پر بڑا واضح اثر ہوتا تھا۔ اس زمانے میں مدارس میں نہ چندے کی حاجت ہوتی تھی اور نہ ادارے تنخواہیں دیتے تھے۔ یہ سارے خرچے بیت المال سے پورے ہوتے تھے۔ جب سے قومی طرز کی سلطنتوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے اسلامی ممالک اسلامی اقدار سے دور ہوئے تو مذہبی تعلیم کے ادارے لاوارث سے ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تلافی

98ء میں بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد حکومت پاکستان پر غیرمعمولی مغربی دبائو تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کیے جائیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی موجودہ وزیراعظم ہی حکومت چلارہے تھے۔ دوسری طرف عوام کی جانب سے واضح پیغام تھا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے اور اس کی علاقے میں بالادستی کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ یہ رساکشی جاری تھی۔ بار بار امریکی ارباب اقتدار کے فون آتے تھے۔ مغربی سفارت کار مسلسل ملاقاتیں کررہے تھے۔ امداد روکنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ’’قید تنہائی‘‘ سے ڈرایا جارہا تھا۔ دوسری طرف عوامی جلوس اور سائنسدانوں اور فوج کے جذبات تھے۔ اس موقع پر ’’نواز شریف صاحب‘‘ نے غیرمعمولی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ادھر سائنسدانوں کو تیاری کا سگنل دے دیا گیا۔ ادھر سعودیہ عرب اور دوست ممالک سے بند ہونے والی امداد کے ازالے کی کوشش شروع کردی گئی۔ ’’مغربی دبائو‘‘ کو حوصلے، استقامت اور عوامی دبائو کے ذریعے شکست دی گئی اور 28 ؍ مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر دھماکے کرکے نواز شریف صاحب نے دین و دنیا میں بڑی نیک نامی کما ڈالی اور پاکستان پہلی ایٹمی اسلامی ریاست بن گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی کہاں ہے؟

میڈیا کی جادوگری کی کا کون قائل نہیں؟ یہ بلامبالغہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ منواسکتا ہے۔ میڈیا سائنس آج ایک متنوع تعلیمی شعبہ ہے۔ لب لہجہ، آواز کا اتار چڑھائو، پیشکش کے انداز، ترتیب، ماحول سے ہم آہنگی غرض کون سا پہلو ہے جسے مستقل علم بناکر پڑھایا اور سکھایا نہ جارہا ہو۔ اس قدر محنت اور وسائل سے جو شعبہ وجود میں آئے گا اس کی سحرانگیزی میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ اس کی جادوگری مشرق و مغرب میں مختلف قسم کے شعبدے سے دکھاتی ہے۔ اس فرق کا اندازہ آپ کو ایک امریکی مفکر کے ملفوظ سے ہوسکتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے حیرت سے پوچھا: ’’پاکستان میں دہشت گردی کہاں ہے؟ کراچی میں 22 ملین لوگ رات میں سوتے ہیں، 22 ملین صبح اٹھ جاتے ہیں۔ بدامنی کہاں ہے؟ امریکا میں جاکر دیکھیں سالانہ 50 ہزار قتل ہورہے ہیں۔‘‘ امریکی دانشور کا جواب سن کر پاکستانی میزبان حیران رہ گیا۔ اس نے مزید گرہیں کھولتے ہوئے بتایا کہ یہ اصل میں میڈیا کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے پرامن ممالک سمجھے جانے والے دبئی اور سنگاپور میں منفی خبر شائع کرنا جرم ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملنسار معاشرہ کیسے؟

اسلام سلامتی و محبت کا مذہب ہے۔ اس کا اندازہ اس کی معتدل تعلیمات سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ معاشرت کے جو آداب اسلام نے سکھائے ہیں وہ کسی مذہب اور تہذیب میں ایک ساتھ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر اسلام نے ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت ’’سلام کرنے‘‘ کو ضروری قرار دیا جس میں ایک دوسرے کو خیر و عافیت اور خیرسگالی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ کوئی مضبوط وجہ نہ ہو تو اسلام تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کو حرام و ناجائز قرار دیتا ہے۔ جو لوگ آپ سے قطع تعلقی کرتے ہیں، اسلام ان کا لحاظ کرنے اور تعلقات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یوں اسلام ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جس میں ایک دوسرے کا احترام لازمی ہے۔ ہوسکتا ہے کوئی یہ کہے کہ یہ تو الفاظ ہیں، دل سے احترام تو ثابت نہ ہوا۔ تو یاد رکھیے کہ اول تو اسلام یہ احکامات مذہبی تناظر میں دیتا ہے لہٰذا اصل تعلیم تو ہے ہی دل کے لیے، لیکن اگر غور کریں کہ محبت کے اس لازمی و جبری اظہار کی پابندی کرنے والے کے دل میں ایک دوسرے کی محبت کا آجانا لازمی امر ہے۔ تکلف تو کچھ دیر کے لیے ہوسکتا ہے۔ زندگی کے معمولات تکلف کی بنیاد پر استوار نہیں کیے جاسکتے۔ درحقیقت اسلام نے یہ ’’جبری رابطہ‘‘ دلوں کے علاج کے لیے ہی کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عادلانہ خدمت

وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے۔ پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ مذہبی معلومات کے بھی شیدائی تھے۔ عام طور پر ایک پڑھے لکھے آدمی کو سلیم العقل ہونا چاہیے، لیکن کیا کہیے کہ میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کے زیراثر اس طبقے کو علمائے کرام سے کچھ بُعد سا رہتا ہے۔ ایک تقریب میں اتفاقی ملاقات کی وجہ سے وہ اس ’’ناچیز مولوی‘‘ سے ملنے پر مجبور ہوئے تو دل میں چھپے بہت سے سوالات زبان پر آگئے۔ آج کے زمانے میں ایسے سوالات کا ذہن میں آجانا کچھ مشکل نہیں۔ پھر علماء سے دوری کی وجہ سے یہ غلط مفروضے، غیرشعوری طور پر راسخ ہوتے جاتے ہیں اور بالآخر کسی دن عقیدہ و نظریہ بن جاتے ہیں۔ شاید ایسی ہی کیفیت کو حدیث میں دل کا مکمل سیاہ ہوجانا بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد واضح سی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی کیفیت سے محفوظ فرمائیں۔

تمہیدی گفتگو کے بعد موصوف کا اہم ترین سوال یہ تھا: ’’بھئی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا ہے تو ہمیں کرنا چاہیے۔ نہیں کیا تو نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فرض، واجب، سنت، مستحب سب علماء کی ایجاد ہے۔‘‘ ان کے انجینئرنگ کے بیک گرائونڈ کے پیش نظر بندہ نے ان سے پوچھا: ’’پہلے یہ بتائیے کہ اگر آپ کو کوئی پل بنانا درپیش ہو تو غالباً آپ سب سے پہلے اس کی فزیبلٹی رپورٹ بناتے ہیں؟‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ناگزیر اصلاح

گزشتہ دنوں اسلام میں دیے گئے انسانی حقوق پر ایک سیمینار میں گفتگو کا موقع ملا۔ اس دوران انسانی حقوق چارٹر اور اسلامی تعلیمات کا تقابلی جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ انسانی حقوق کے چارٹر میں تو بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ کے تاریک دور ( Dark Age) میں مذہب سے بیزاری، نیز سرمایہ داریت اور اشتراکیت کے نقائص کے ردّعمل میں جو حقوق انسان کو عطا کیے گئے ہیں وہ ایک جراتمندانہ ردّعمل تو کہلاسکتا ہے، لیکن متوازن قانون نہیں کہلاسکتا۔ انسانی حقوق کا چارٹر درحقیقت حقوق کی ایک فہرست ہے۔ جس میں خالق کائنات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ علاقائی رواجوں اور حقائق کو بائی پاس کرکے چند دماغوں کی سوچ کو عالمی سطح پر تھوپنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں اس چارٹر میں انتہائی غیرمتوازن امور جمع ہوگئے ہیں۔ اس نکتے کو یوں سمجھیے کہ کائنات میں جتنی شخصیات موجود ہیں انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان سب میں حقوق تقسیم ہوتے۔ کائنات میں صرف حضرت انسان ہی تو نہیں بستے، اس کائنات میں خالق کائنات کی ذات گرامی بھی موجود ہے۔ پھر دردو اَلم محسوس کرنے والے جاندار، نشونما (Growth) پانے والے اشجار اور بے حس و حرکت اشیاء سب ہی موجود ہیں۔ جب ہم انسانی حقوق کا عنوان قائم کرتے ہیں تو ہم لاشعوری طور پر صرف انسان کو حقوق دلانے کی کوشش کرتے ہیں، نتیجے میں کائنات کی دیگر شخصیات کے حقوق متاثر ہونے کا قوی امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ دیکھیے! ہر انسان کو تفریح کا حق حاصل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔