• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ممنونیت!

میرے تو وہم میں بھی ایسا دلکش اور متاثر کن مدرسہ نہ تھا جو کسی بھی طرح بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ سچ بات بتائوں آپ مجھے خلافت عثمانیہ کے زمانے میں لے گئے ہیں۔‘‘ یہ خیالات تھے ہمارے ایک ترکی بھائی کے جو غیرملکی طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے والی ترکی کی ایک مقامی این جی او کے سربراہ ہیں۔ جامعۃ الرشید کی جاذب نظر تعمیرات اور ذیلی اداروں کے حوالے سے ڈاکومینٹری دیکھنے کے بعد انہوں نے چشم تر کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کیا۔ پھر وضاحت کرتے ہوئے گویا ہوئے: ’’بچپن میں ہم نے چھپ چھپاکر قرآن پڑھا تھا۔ جب سے ہوش سنبھالا چھوٹے مدارس ہی دیکھنے کو ملے۔ اس لیے میرا تصور تھا کہ پاکستان میں جن مدارس کا ہم شہرہ سنتے ہیں، وہ بھی چھوتے سے رقبے پر ناقص تعمیرات کے ساتھ گزارہ کرتے ہوں گے۔ ‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حکومت کے سائے تلے جو دینی خدمات ہوسکتی ہیں، وہ عام وسائل سے بہت مشکل ہیں۔ خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت تک حاکم وقت کی دلچسپی کا معاشرے کے تعلیمی و تہذیبی معیار پر بڑا واضح اثر ہوتا تھا۔ اس زمانے میں مدارس میں نہ چندے کی حاجت ہوتی تھی اور نہ ادارے تنخواہیں دیتے تھے۔ یہ سارے خرچے بیت المال سے پورے ہوتے تھے۔ جب سے قومی طرز کی سلطنتوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے اسلامی ممالک اسلامی اقدار سے دور ہوئے تو مذہبی تعلیم کے ادارے لاوارث سے ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تلافی

98ء میں بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد حکومت پاکستان پر غیرمعمولی مغربی دبائو تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کیے جائیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی موجودہ وزیراعظم ہی حکومت چلارہے تھے۔ دوسری طرف عوام کی جانب سے واضح پیغام تھا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے اور اس کی علاقے میں بالادستی کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔ یہ رساکشی جاری تھی۔ بار بار امریکی ارباب اقتدار کے فون آتے تھے۔ مغربی سفارت کار مسلسل ملاقاتیں کررہے تھے۔ امداد روکنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ’’قید تنہائی‘‘ سے ڈرایا جارہا تھا۔ دوسری طرف عوامی جلوس اور سائنسدانوں اور فوج کے جذبات تھے۔ اس موقع پر ’’نواز شریف صاحب‘‘ نے غیرمعمولی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ادھر سائنسدانوں کو تیاری کا سگنل دے دیا گیا۔ ادھر سعودیہ عرب اور دوست ممالک سے بند ہونے والی امداد کے ازالے کی کوشش شروع کردی گئی۔ ’’مغربی دبائو‘‘ کو حوصلے، استقامت اور عوامی دبائو کے ذریعے شکست دی گئی اور 28 ؍ مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر دھماکے کرکے نواز شریف صاحب نے دین و دنیا میں بڑی نیک نامی کما ڈالی اور پاکستان پہلی ایٹمی اسلامی ریاست بن گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی کہاں ہے؟

میڈیا کی جادوگری کی کا کون قائل نہیں؟ یہ بلامبالغہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ منواسکتا ہے۔ میڈیا سائنس آج ایک متنوع تعلیمی شعبہ ہے۔ لب لہجہ، آواز کا اتار چڑھائو، پیشکش کے انداز، ترتیب، ماحول سے ہم آہنگی غرض کون سا پہلو ہے جسے مستقل علم بناکر پڑھایا اور سکھایا نہ جارہا ہو۔ اس قدر محنت اور وسائل سے جو شعبہ وجود میں آئے گا اس کی سحرانگیزی میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ اس کی جادوگری مشرق و مغرب میں مختلف قسم کے شعبدے سے دکھاتی ہے۔ اس فرق کا اندازہ آپ کو ایک امریکی مفکر کے ملفوظ سے ہوسکتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے حیرت سے پوچھا: ’’پاکستان میں دہشت گردی کہاں ہے؟ کراچی میں 22 ملین لوگ رات میں سوتے ہیں، 22 ملین صبح اٹھ جاتے ہیں۔ بدامنی کہاں ہے؟ امریکا میں جاکر دیکھیں سالانہ 50 ہزار قتل ہورہے ہیں۔‘‘ امریکی دانشور کا جواب سن کر پاکستانی میزبان حیران رہ گیا۔ اس نے مزید گرہیں کھولتے ہوئے بتایا کہ یہ اصل میں میڈیا کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے پرامن ممالک سمجھے جانے والے دبئی اور سنگاپور میں منفی خبر شائع کرنا جرم ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملنسار معاشرہ کیسے؟

اسلام سلامتی و محبت کا مذہب ہے۔ اس کا اندازہ اس کی معتدل تعلیمات سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ معاشرت کے جو آداب اسلام نے سکھائے ہیں وہ کسی مذہب اور تہذیب میں ایک ساتھ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر اسلام نے ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت ’’سلام کرنے‘‘ کو ضروری قرار دیا جس میں ایک دوسرے کو خیر و عافیت اور خیرسگالی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ کوئی مضبوط وجہ نہ ہو تو اسلام تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کو حرام و ناجائز قرار دیتا ہے۔ جو لوگ آپ سے قطع تعلقی کرتے ہیں، اسلام ان کا لحاظ کرنے اور تعلقات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یوں اسلام ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جس میں ایک دوسرے کا احترام لازمی ہے۔ ہوسکتا ہے کوئی یہ کہے کہ یہ تو الفاظ ہیں، دل سے احترام تو ثابت نہ ہوا۔ تو یاد رکھیے کہ اول تو اسلام یہ احکامات مذہبی تناظر میں دیتا ہے لہٰذا اصل تعلیم تو ہے ہی دل کے لیے، لیکن اگر غور کریں کہ محبت کے اس لازمی و جبری اظہار کی پابندی کرنے والے کے دل میں ایک دوسرے کی محبت کا آجانا لازمی امر ہے۔ تکلف تو کچھ دیر کے لیے ہوسکتا ہے۔ زندگی کے معمولات تکلف کی بنیاد پر استوار نہیں کیے جاسکتے۔ درحقیقت اسلام نے یہ ’’جبری رابطہ‘‘ دلوں کے علاج کے لیے ہی کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عادلانہ خدمت

وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے۔ پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ مذہبی معلومات کے بھی شیدائی تھے۔ عام طور پر ایک پڑھے لکھے آدمی کو سلیم العقل ہونا چاہیے، لیکن کیا کہیے کہ میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کے زیراثر اس طبقے کو علمائے کرام سے کچھ بُعد سا رہتا ہے۔ ایک تقریب میں اتفاقی ملاقات کی وجہ سے وہ اس ’’ناچیز مولوی‘‘ سے ملنے پر مجبور ہوئے تو دل میں چھپے بہت سے سوالات زبان پر آگئے۔ آج کے زمانے میں ایسے سوالات کا ذہن میں آجانا کچھ مشکل نہیں۔ پھر علماء سے دوری کی وجہ سے یہ غلط مفروضے، غیرشعوری طور پر راسخ ہوتے جاتے ہیں اور بالآخر کسی دن عقیدہ و نظریہ بن جاتے ہیں۔ شاید ایسی ہی کیفیت کو حدیث میں دل کا مکمل سیاہ ہوجانا بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد واضح سی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی کیفیت سے محفوظ فرمائیں۔

تمہیدی گفتگو کے بعد موصوف کا اہم ترین سوال یہ تھا: ’’بھئی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا ہے تو ہمیں کرنا چاہیے۔ نہیں کیا تو نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فرض، واجب، سنت، مستحب سب علماء کی ایجاد ہے۔‘‘ ان کے انجینئرنگ کے بیک گرائونڈ کے پیش نظر بندہ نے ان سے پوچھا: ’’پہلے یہ بتائیے کہ اگر آپ کو کوئی پل بنانا درپیش ہو تو غالباً آپ سب سے پہلے اس کی فزیبلٹی رپورٹ بناتے ہیں؟‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ناگزیر اصلاح

گزشتہ دنوں اسلام میں دیے گئے انسانی حقوق پر ایک سیمینار میں گفتگو کا موقع ملا۔ اس دوران انسانی حقوق چارٹر اور اسلامی تعلیمات کا تقابلی جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ انسانی حقوق کے چارٹر میں تو بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ کے تاریک دور ( Dark Age) میں مذہب سے بیزاری، نیز سرمایہ داریت اور اشتراکیت کے نقائص کے ردّعمل میں جو حقوق انسان کو عطا کیے گئے ہیں وہ ایک جراتمندانہ ردّعمل تو کہلاسکتا ہے، لیکن متوازن قانون نہیں کہلاسکتا۔ انسانی حقوق کا چارٹر درحقیقت حقوق کی ایک فہرست ہے۔ جس میں خالق کائنات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ علاقائی رواجوں اور حقائق کو بائی پاس کرکے چند دماغوں کی سوچ کو عالمی سطح پر تھوپنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں اس چارٹر میں انتہائی غیرمتوازن امور جمع ہوگئے ہیں۔ اس نکتے کو یوں سمجھیے کہ کائنات میں جتنی شخصیات موجود ہیں انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان سب میں حقوق تقسیم ہوتے۔ کائنات میں صرف حضرت انسان ہی تو نہیں بستے، اس کائنات میں خالق کائنات کی ذات گرامی بھی موجود ہے۔ پھر دردو اَلم محسوس کرنے والے جاندار، نشونما (Growth) پانے والے اشجار اور بے حس و حرکت اشیاء سب ہی موجود ہیں۔ جب ہم انسانی حقوق کا عنوان قائم کرتے ہیں تو ہم لاشعوری طور پر صرف انسان کو حقوق دلانے کی کوشش کرتے ہیں، نتیجے میں کائنات کی دیگر شخصیات کے حقوق متاثر ہونے کا قوی امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ دیکھیے! ہر انسان کو تفریح کا حق حاصل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

زلزلے کی سرگوشی

اسلام آباد سے نکلے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ خبر ملی کے 6.9 درجے کے شدید مگر بے ضرر زلزلے سے KPK اور پنجاب کے وسیع علاقے لرز کر رہ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا یہ دورہ جامعۃ الرشید کے ادارے SCS اور تھنک ٹینک CPRD کے اشتراک سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے سلسلے میں تھا۔ سیمینار کا موضوع ’’فیملی بزنس کے مسائل اور ان کا حل‘‘ تھا۔ عام طور پر خاندانی کاروبار ابہام درابہام کی دبیز تہوں میں جاری رہتے ہیں۔ ہر نسل میں شرکاء کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ لوگوں کی ملکیت کا تناسب بھی بدلتا ہے۔ مینجمنٹ میں بھی اختیارات کی رسہ کشی چلتی رہتی ہے۔ ابہام درابہام کی وجہ سے کاروبا رکی حکمت عملی(Strategy) واضح نہیں ہوتی جس کی وجہ سے شرکاء اور کارکنوں میں عدم دلچسپی اور ذہنی خلفشار پیدا ہوجاتا ہے۔ وراثت کے تناسب کا بھی بہت زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا اور خواتین کو تو بہت سے خاندانوں میں حصہ دیا ہی نہیں جاتا۔ پھر ان تعارضات (Conflicts) کی وجہ سے بے حد و حساب حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ ظلم در ظلم ہوتا ہے۔ مہذب لباس پہنے ہوئے لوگ اپنے رشتہ دارو ںکے مال پر ڈاکے ڈالتے ہیں۔ اپنی بہنوں کے مال کو غصب کرتے ہیں اور اس بھیانک ظلم کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مبارک ہو!

’’جو جسم حرام سے نشوونما پائے وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ جہنم میں جلے!‘‘ حدیث کے یہ الفاظ ہمیں حلال و حرام کی تاثیر کے حوالے سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک بچہ جس کے باپ نے اسے حرام کھلاکر جوان کیا، وہ اگرچہ اس حرام کھانے سے گناہ گار تو نہ ہوا، نہ ہی اس کو صدقہ کرنے کا کہا جاتا ہے، لیکن حدیث کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بچے کے گناہوں کی جانب مائل ہونے کے امکانات پاکیزہ کھانے سے نشوونما پانے والے بچے سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کی مثال فوڈ پائیزننگ کی طرح ہے۔ کوئی اگر غلط قسم کی غذا بھولے سے بھی کھالے، اس کے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف انبیاء علیہم السلام کو قرآن کا حکم ہے: ’’پاک چیزیں کھائو اور (ان کی قوت سے) نیک عمل کرو!‘‘ اس سے پتہ چلا کہ حرام کی طرح حلال کے بھی اپنے خصوصی اثرات ہوتے ہیں۔ ایسا شخص حرام کی نحوست سے بچنے کی وجہ سے پاکیزہ سوچ و فکر اور متعدل طرز عمل کا حامل ہوتا ہے۔ یہ چیز اسے نیکیوں پر مائل رکھتی ہے۔ حرام کھانے والا منفی افکار و طرزِ عمل کا حامل بنتا ہے، لہٰذا اس کے گناہ کی طرف مائل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حلال و حرام کی فکر نہ صرف یہ کہ ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری اور ضرورت ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ضرورت بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

راہِ اعتدال

شہادتیں تو تاریخ اسلام میں بے شمار ہوئیں۔ حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت ہو یا حضرت عمرؓ کی المناک رخصتی، ایک سے بڑھ کا ایک واقعہ تاریخ اسلام کے صفحات پر موجود ہے، لیکن واقعہ کربلا کو ربّ کائنات نے عاشورا کی شہرت سے زندہ جاوید کردیا۔ عاشورا یہودیوں کے نزدیک پہلے سے مقدس تھا۔ رمضان المبارک سے پہلے عاشورا کے روزے واجب کے طور پر رکھے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے عاشورا کے ساتھ 9 یا 11 تاریخ کے روزے کا ملانے کا حکم فرمایا۔ رمضان کے بعد اس دن کا روزہ مسنون رہا اور غالب یہی ہے کہ نواسۂ رسول بھی واقعہ کربلا کے وقت روزے سے ہوں گے۔ حاصل یہ کہ واقعہ کربلا اس مشہور دن میں ہونے کی وجہ سے امت کو ہر برس ازخود یاد آجایا کرتا تھا اور آج بھی اس دن کی شہرت کے باعث ہر مسلمان اس واقعے سے واقف ہوگیا ہے۔ بہادری اور قربانی کا استعارہ بن گیا۔ مضمون نگاروں کے لیے اہم ترین موضوع اور شعراء کی غیرمعمولی دلچسپی کا محور بن گیا۔ شاعر مشرق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ یہ قدرت کا دیا ہوا ایک امتیاز تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت اس واقعے کو امت میں زندہ رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے موقع غیرت

لفظ ’’عشق‘‘ گوبدنام ضرور ہے، لیکن نظامِ کائنات کے لیے انتہائی ناگزیر اور اساسی حیثیت کا حامل بھی ہے۔ اسلام بھی ’’عشق‘‘ کی اس ناگزیری کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے لیے شادی کے بعد کا وقت تجویز کرتا ہے۔ شادی سے پہلے عشق ممنوع ہے۔ شادی کے بعد اسلام میاں بیوی کو لیلیٰ مجنوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کا محبوب دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ بیوی کو حکم ہے کہ چولہے پہ ہی کیوں نہ بیٹھی ہو، خاوند کی طلب پر اپنے ہر کام کو چھوڑ دے۔ عورت کو تو شوہر کی خاطر بننے سنورنے کا حکم ہے ہی، مرد کو بھی مسواک کے ذریعے منہ کی بو دور کرنے اور سفر سے واپسی پر پہلے سے آگاہ کرنے کا حکم ہے تاکہ بیوی کو میلی کچیلی حالت میں دیکھنے سے بے رغبتی نہ ہو۔ مرد کو بیوی کی خاطر جائز خضاب لگانے کی بھی ترغیب ہے۔ غرض اسلام چاہتا ہے کہ انسانی طبائع کو جو چیزیں بھاتی ہیں، میاں بیوی دونوں اس کا اہتمام کریں تاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ محبت بڑھتی چلی جائے، لیکن شادی سے پہلے ان نفیس جذبات کو سنبھال کر رکھنے کا حکم ہے۔ یہ حکم جہاں بہت سے معاشرتی و اخلاقی حکمتوں سے بھرا ہے، وہیں یہ کامیاب شادی کی بھی ضمانت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اعتراض برائے اعتراض

افغان طالبان ایک طویل عرصے سے ملا عمر مجاہد کی قیادت میں متحد اور عالمی طاقتوں کو ناکوں چنے چبوانے میں مصروف عمل ہیں۔ اب جبکہ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت ملا عمر مجاہد کی وفات کو تسلیم کیا ہے تو ’’اعتراض برائے اعتراض‘‘ کے شائقین کی موجیں ہو گئی ہیں اور وہ ان پر سیاسی بصیرت سے محرومی اور بد دیانتی کے الزام لگانے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اعتراضات کی کوئی علمی و اخلاقی حیثیت نہیں کہ انہیں اہمیت دی جائے لیکن معترضین کی میڈیا ذرائع پر گرفت کی وجہ سے ان کا جواب دیا جاتا ہے۔

کسی سیاسی حکمت کے تحت حقائق کو چھپانا ہمیشہ سے ’’جائز‘‘ بلکہ ملکی سیاست کے لیے ناگزیر سمجھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی عسکری پیش قدمیوں کو قریب ترین ساتھیوں سے بھی مخفی رکھا کرتے تھے۔ بخاری شریف میں حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ تبوک اور بدر کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ’’اخفائ‘‘ فرمایا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: ’’الحرب خدعۃ‘‘ جنگ تو دھوکے کا نام ہے۔ سوچیے! اگر پاکستان بھارت سے اپنی عسکری طاقت اور حکمت عملی کو چھپائے تو اسے ’’بد دیانتی‘‘ کہا جائے گا؟ دیکھیے! حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی موت کے بعد بھی ایک لاٹھی پر ٹکے رہے

مزید پڑھیے۔۔۔