• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پانچ سے نوے تک

تعلیمی نصاب اور طرز تدریس اوسط طلبہ کو ذہن میں رکھ کر اختیار کیے جاتے ہیں۔ تقریباً دس فیصد ذہین طلبہ تو اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے ہر نصاب، ہر طریقۂ تدریس اور ہر استاذ سے سیکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح 20 فیصد طلبہ نسبتاً کمزور ہوتے ہیں جن کو زیادہ سے زیادہ اوسط طلبہ کی صف میں لانے کی کوشش ہی کی جاسکتی ہے، جبکہ 70 فیصد طلبہ اوسط صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جنہیں اعلیٰ کارکردگی پر ابھارنے کے لیے اساتذہ کی تربیت ضروری خیال کی جاتی ہے۔ نت نئے تدریس کے طریقے اختیا رکیے جاتے ہیں اور نصاب میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایک تحقیقی ادارے نے طریقۂ تدریس کی افادیت کے حوالے سے ایک بہت مفید گراف جاری کیا ہے۔ اس گراف سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف انداز تدریس اختیار کرکے طلبہ میں معلومات کو محفوظ رکھنے کے امکانات بڑھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً یہ گراف کہتا ہے کہ صرف لیکچر سننے سے طلبہ 5 فیصد باتیں یاد رکھتے ہیں۔ اگر ان طلبہ کو سننے کے ساتھ عبارت پڑھنے کا موقع بھی مل جائے تو ان کے یاد رکھنے کی صلاحیت 10 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ پھر اگر پروجیکٹر یا کسی بھی سمعی بصری طریقے سے سمجھایا جائے تو یاد رکھنے کی صلاحیت 20 فیصد ہوجاتی ہے۔ اگر ساتھ ہی ساتھ کوئی عملی مظاہرہ بھی ہوجائے تو یاد رکھنے کی صلاحیت 30 فیصد ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تین بروقت کام

ترکی میں ’’ناکام بغاوت‘‘ کیونکر کچلی گئی۔ یہ وہ موضوع ہے جس پر آج کل تجزیوں کی بھرمار ہے۔ سطحی بات تو فقط اتنی سی ہے کہ صدر اردگان نے ’’بروقت‘‘ فیس ٹائم کے ذریعے ایک ٹی وی اینکر کو فون کرکے قوم سے خطاب کی درخواست کی۔ خاتون اینکر نے تمام تر سیاسی دبائو اور مزاحمت کے امکانات کے باوجود صدر کو قوم سے ’’بروقت‘‘ خطاب کرنے دیا۔ پھر قوم نے ’’بروقت‘‘ لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر آکر طاقت کے نشے میں چور ’’باغی فوجیوں‘‘ کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔ کیا اتنے سارے ’’بروقت کام‘‘ محض قسمت کی یاوری کا نتیجہ تھے یا ان کو یقینی بنانے کے لیے طویل منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یوں اس ناکام بغاوت کا مطالعہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات اور مذہبی تنظیمات کے لیے انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ نیز جس انداز سے اس ناکام بغاوت کے وائرس کو ختم کرنے کی کاوشیں سامنے آرہی ہیں تو یہ کہنا ناروا نہ ہوگا کہ خود ترکی کی فاتح حکومت کو بھی اس فتح کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ فتوحات کا تسلسل باقی رکھا جاسکے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دو دھاری تلوار!

میڈیا کی اثرانگیزی اب کسی پر مخفی نہیں رہی۔ وہ والدین جو انٹرنیٹ اور میڈیا سے اب تک کسی قدر بچے ہوئے ہیں وہ بھی اپنے بچوں پر میڈیا کے اثرات کو کھلی آنکھوں دیکھنے پر مجبور ہیں۔ وجہ وہی کہ میڈیا گھروں کے اندر گھس گیا ہے۔ آپ کے عام موبائل سیٹ پر بھی SMS کے ذریعے ازخود ہی گانے سننے کی پیشکش پہنچ جاتی ہیں۔ خدانخواستہ آپ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی بہت دفعہ ہر قسم کا ناپسندیدہ مواد آپ سے صرف ایک کلک کی دوری تک آپہنچتا ہے۔ کیمرے والے فون ازخود آپ کی تصاویر کو فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کی پوزیشن پر لے جاکر آخری اجازت چاہ رہے ہوتے ہیں۔ بعض ایسے سافٹ ویئرز ہیں جو آپ کی ویڈیو کال بناکر سامنے والے نمبر پر بھیج دیتے ہیں۔ آپشنز کو ایسے پیچیدہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو لوگ انہیں کم استعمال کرتے ہیں انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ غلط استعمال کرگئے ہیں۔ یہ بات تو ہوئی میڈیا کے تکنیکی استعمال کے حوالے سے، لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی افواہوں اور غیرمستند خبروں پر ردّعمل کا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک دنیا بیٹھی تبصروں اور تجزیوں میں مصروف ہے۔ دینی معاملات یا کسی معاملے کے دینی پہلو پر علماء کو بھی خوب گھسیٹا جاتا ہے کہ وہ اپنا نقطۂ نظر پیش کریں۔ خیر! یہاں تک تو بات کسی قدر مناسب ہے، لیکن سوالات کو ایسے پس منظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا مجبوراً وہی رائے دے جو سائل چاہتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لطیف اشارے!

23؍ مارچ کو یومِ پاکستان یا 14؍ اگست کو یومِ آزادی مناتے ہوئے شاید ہی کسی کے ذہن میں آیا ہو کہ پاکستان جب آزاد ہوا تو چاند کی کون سی تاریخ تھی؟ کون سا مہینہ تھا؟ اور اس وقت لوگوں کا مذہبی مورال اتنا بلند کیوں تھا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دن 27 رمضان تھی۔ 27 رمضان وہ تاریخ ہے جس کے لیلۃ القدر ہونے کے سب سے زیادہ امکانات بیان کیے گئے ہیں۔ لیلۃ القدر وہ رات ہے جو ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ گویا سال کا سب سے زیادہ بابرکت دن۔ سوچیے قادر مطلق کا پاکستان کو یہ اعزاز دینے میں کتنے لطیف اشارے موجود ہوں گے۔ اس سے ہمارا ایمان بڑھتا ہے کہ ہمارے اکابر کا پاکستان بنانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عنایت مقبول تھا۔ لاکھوں لوگوں کی ہجرت، شہادت اور جائیداد سے بے دخلی کی قربانی یقینا ایک بہت قیمتی اور نادر ریاست کی غرض سے ہی قبول کی گئی تھی۔ اس میں اشارہ تھا کہ ظاہری وضع قطع سے لبرل نظر آنے والے قائداعظم کی کوششوں کو تائید ربانی حاصل ہے۔ چنانچہ بعد کے حالات نے ان میں سے ہر بات کو بہت واضح طور پر ثابت کیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

درپردہ

ایک زمانہ تھا کہ نظریاتی یا قومی بالادستی کی بنیادوں پر جنگیں چھڑا کرتی تھیں۔ مسلمان جرنیلوں کی یلغار کا جائزہ لیں یا چنگیز خان، ہٹلر اور سوویت یونین کی جنگی سرگرمیوں کا، یہ بات بہت واضح طور پر سمجھ آتی ہے کہ اکثر جنگیں میدانوں میں اپنی طاقت، صلاحیت اور جنگی تدابیر کی بنیادو ںپر لڑی جاتی تھیں۔ اب جب سے دنیا میں دو عظیم جنگوں کے بعد قومی بنیادوں پر سیاسی سرحدوں کا تعین ہوا اور ان کو باقی رکھنے کے لیے عالمی قوانین تشکیل پائے، سابقہ طرز کی جنگوں کا سلسلہ محدود ہوگیا ہے۔ اب ایسی جنگیں صرف وہ قوتیں لڑسکتی ہیں جن کی طاقت اور ہٹ دھرمی کے آگے بین الاقوامی قوانین ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ امریکا اس طرز کی لڑائیوں کا چیمپیئن ہے۔ ویت نام، صومالیہ، عراق، افغانستان اور اب لیبیا اور شام وغیرہ میں ذاتی مفادات کے لیے جارحیت کی ’’نئی تاریخ‘‘ رقم کی گئی ہے۔ گو وہ اس طرز میں کامیابی تو کوئی خاص حاصل نہیں کرسکا البتہ آہستہ آہستہ وہ ان جنگوں سے نکلنے کی فکر میں ہے اور دوسری طاقتوں کے لیے عبرت بن رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر سوویت یونین کو لیا جاسکتا ہے جس کا افغانستان میں داخل ہونے کے بعد وہ حال ہوا کہ نہ صرف اس میں ’’منکسر المزاجی‘‘ آئی، بلکہ عملی طور پر وہ متعدد حصوں میں تقسیم بھی ہوگیا۔ اسرائیل کی جارحیت بھی اس باب میں رکھی جاسکتی ہے، لیکن اس کی جارحیت صرف غزہ اور غرب اردن کے مسلمانوں تک محدود رہی ہے۔ باقی جگہ وہ دوسرے طرز کی جنگ یعنی پراکسی وار میں ملوث رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایسی تمام ریاستیں جو غیرمعمولی طاقت نہیں رکھتیں، لیکن عادتاً دوسروں پر جارحیت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں، وہ عام طور پر پراکسی وار ہی کو پسند کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ خود امریکا اور روس پراکسی وار کے بھی چیمپیئن ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

نسلوں کا قرض

یہ 1990ء کی بات ہے۔ ہمارے اسکول پی اے ایف بیس مسرور کی جانب سے کینپ کے پاور پلانٹ کا وزٹ طے ہوا۔ ایک طویل سفر کرکے ساحل سمندر پر واقع پلانٹ میں پہنچے تو وہاں کے پروٹوکول اسٹاف نے والہانہ انداز میں استقبال کیا اور پھر ویڈیوز کے ذریعے تفصیلی بریفنگ دی۔ ریڈیشین کے خطرے سے اصل آپریشنز کی جگہ تک ہر ایک کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کسی تکنیکی ضرورت سے کوئی جاتا بھی تو خلانوروردوں جیسا لباس پہن کر جانا پڑتا اور پھر واپسی پر کئی ٹیسٹس سے گزرنے کے بعد کلیئر ہوتا۔ ایسا غیرمعمولی نظام ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اور یہ کب تک بجلی فراہم کرسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وہ ملک کو مغربی دبائو سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور جہاں تک بات ہے ’’کب تک چلے گا؟‘‘ تو اس کے بنانے والے یورپینز کے مطابق اس کی زندگی چند سال پہلے ختم ہوچکی ہے۔ ’’جی کیا فرمایا، ختم ہوچکی ہے؟‘‘ کئی طلبہ حیرت سے چیخ اُٹھے۔ وہ مسکرایا اور کہنے لگا: ’’جی ہاں! بات ایسے ہی ہے۔ البتہ پاکستان کے سائنسدانوں نے اس کے نظام کو اچھی طرح سمجھ کر اس میں ایسے اضافے کرلیے ہیں کہ اب یہ پلانٹ مزید 20، 25 برس تک بجلی فراہم کرسکتا ہے۔‘‘ آج اس واقعے کو 26 سال گزر چکے ہیں، لیکن پلانٹ ’’حیات‘‘ ہے اور مسلسل بجلی فراہم کررہا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اور کامیابی

1947ء میں یہ قوم آزاد ہوئی تو دنیا کی غریب ترین، بے سرو سامان اور پسماندہ قوم سمجھی گئی۔ تاریخ کی سب سے بڑی اور خون ریز ہجرت نے اسے قیمتی افرادی قوت اور اربوں کھربوں کی جائیداد سے ہاتھ دھونے پر مجبور کردیا۔ ملک کا پہلا فوجی سربراہ بھی انگریزوں سے ادھار لینا پڑا۔ لٹے پٹے مہاجروں کو سنبھالنے ہی میں ایک طویل عرصہ لگ گیا، لیکن پھر اس قوم نے انگڑائی لی اور یہ ایوب خان کے زمانے تک تیز ترین شرح سے ترقی کرنے والی قوم ثابت ہوئی۔ 48ء اور 65ء کی لڑائی میں اس نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کردیا۔ 47ء میں نہ صرف یہ کہ رقبے کے لحاظ سے دھاندلی ہوئی تھی، بلکہ بیت المال کی تقسیم خصوصاً فوجی سامان کی تقسیم میں پاکستان کے ساتھ خوب دھوکے ہوئے، لیکن دنیا حیران رہ گئی جب ایوب خان ’’فیلڈ مارشل‘‘ کے طور پر مانے گئے۔ اس قوم نے اپنے وسائل کا جب بھی بامعنی استعمال کیا، تقدیر نے ہمیشہ یاوری کی اور اس قوم کو اعجوبے تراشنے میں کامیابی ہوئی۔ شاہراہ ریشم دنیا کا سب سے بلند موٹر وے ہے۔ اس کی تعمیر میں موسمی مشقتوں اور تعمیری مشکلات کی وجہ سے سینکڑوں مزدور شہید ہوئے، لیکن اس قوم نے اس انہونی کو ہونی کر دکھایا۔ گوادر دنیا کے گہرے پانی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ تمام تر عالمی سازشوں کے باوجود یہ قوم اس کی تعمیر میں کامیاب ہوچکی ہے۔ ملک کو ملی بے سرو سامان عسکری فوج نے جس کی قیادت بھی انگریز کے ہاتھ میں رکھنا مجبوری تھی، بالآخر وہ روپ نکالا کہ اسے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں چند گنی چنی افواج میں سے تسلیم کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاروں کے بغیر

آج شافع روز محشر، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر سے روانگی ہے اور احمد ندیم قاسمی صاحب کا یہ شعر بار بار ہتھوڑے کی طرح دماغ سے ٹکرا رہا ہے۔
یہ کہیں خامیٔ ایماں ہی نہ ہو
میں مدینے سے پلٹ آیا ہوں
سرکار دو عالم کا شہر مدینہ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ٹوٹ کر محبت کی ہو، جس میں بسنے اور یہاں مر کر اس کی مٹی میں امر ہونے کی خواہش کی دعا کون ہے جس نے نہ کی ہو۔ سیدنا عمرؓ ایک دعا کیا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! مجھے شہادت کی موت عطا فرما اور اسی شہر میں عطا فرما۔‘‘ جو اس شہر میں آ بسے انہوں نے پھر اس خاک سے اس قدر محبت کی کہ یہاں سے جانے کا نام نہ لیا۔ حضرت امام مالکؒ ساری زندگی مدینہ میں رہے، لیکن آپ نے پائوں میں جوتا نہیں پہنا۔ رفع حاجت کے لیے شہر سے باہر جاتے تو تیزی کے ساتھ جاتے اور تیزی کے ساتھ واپس آ جاتے کہ کہیں ان کی موت مدینہ سے باہر واقع نہ ہوجائے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

روزہ کے متفرق مسائل

روزہ پر قدرت ہو تو کھانا کھلانے سے کفارہ اداء نہ ہوگا:
سوال: مسئلہ یہ ہے کہ آج سے ۳ سال پہلے میں نے ایک گناہ کرکے رمضان کا روزہ توڑ دیا تھا،جس کا کفارہ ابھی تک اداء نہیں کیا۔ موت کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے میں روزہ کا کفارہ دینا چاہتا ہوں،لیکن بات یہ ہے کہ میں شادی شدہ بھی ہوں اور بہت سخت مزدوری کرتا ہوں، جس کی وجہ سے ۲ ماہ کے روزے رکھنا بہت مشکل ہے۔ باقی رہا مسئلہ ۶۰ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانے یا ایک مسکین کو دو ماہ دو وقت کا کھانا کھلانے کا تو اب میں مسکین کہاں سے ڈھونڈوں۔ مجھ کو تو اپنی مزدوری سے فرصت نہیں۔ مہربانی فرماکر مجھ کو کچھ اچھا سا مشورہ عنایت فرمائیں۔ اگر ایسا ہوجائے کہ آپ دو وقت کے کھانے کی کُل رقم جو۶۰ مسکینوں کی بنتی ہے مجھے بتادیں تو میں مدارس کے طالب علموں کو خود بانٹ دوں گا یا مجاہدین کے دفتر میں جمع کرادوں گا۔ (ن۔ب۔خوشاب)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دو رُخ

چند سال پہلے ہمارے ایک جاننے والے نے ایک مدرسے کی کینٹین ٹھیکے پر لی تھی۔ ڈھائی ہزار طلبہ کی ہر وقت موجودگی کی وجہ سے دیکھنے میں بڑی کاروباری جگہ تھی۔ پھر وہ صاحب خود بھی مینجمنٹ کے بڑے ماہر تھے۔ اُمید یہی تھی کہ کچھ عرصے میں ان کے وارے نیارے ہوجائیں گے، لیکن سال کے بعد یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ ساری مینجمنٹ دھری کی دھری رہ گئی اور کئی لاکھ کا نقصان ہوگیا ہے۔ سخت حیرانی ہوئی۔ اسی دوران پتا چلا کہ ایک کوئٹہ وال خاندان نے یہ جگہ حاصل کی ہے۔ خیال ہوا کہ یہ لوگ تو پڑھے لکھے نہیں ہوتے، بظاہر مینجمنٹ سے بھی واقف نہیں ہوں گے، ان سے بھلا یہ کاروبار کیسے سنبھلے گا؟ لیکن سال بعد نتائج حیران کن تھے۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے کاروبار کو پورا سال نہ صرف اطمینان بخش انداز سے چلا یا بلکہ اگلے 5 سال مزید لینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ گتھی شروع میں تو نہ سلجھ سکی، لیکن کئی پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد ہوا کہ یہ سب ’’فیملی بزنس‘‘ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

جاننے والوں کو پتہ ہے کہ مدرسے کے طلبہ کے اوقات بہت منتشر ہوتے ہیں۔ انہیں فجر کے فوراً بعد ناشتہ چاہیے ہوتا ہے تو رات 12 بجے بھی چائے وغیرہ کی طلب ہوتی ہے جس کے لیے کم از کم دو شفٹوں کے ملازمین درکار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیادت!

’’درسِ نظامی‘‘ عالم بننے کا ایک تعلیمی نصاب ہے جو چند صدیوں سے ہندو پاک کے مدارس میں رائج ہے۔ اس نصاب کا کئی صدیوں تک رائج رہنا بذاتِ خود اس کی افادیت اور جامعیت کی روشن دلیل ہے۔ پھر اس گو بنیادی کتب تو نہیں بدلیں، لیکن ان کتابوں کے حاشیے اور شروح مسلسل لکھی جاتی رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ایک جانب ’’متن‘‘ مختصر اور جامع ہے تو دوسری طرف نت نئے حاشیوں اور شروح کے ذریعے عصری معلومات، مثالیں، عرف کے بدلنے کے اثرات بھی پڑھنے والوں کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ جامعیت کا یہ عالم ہے کہ عقائد و عبادات کے علاوہ خانگی و مالی معاملات، معاشرت کے مستحسن طریقے اور مکروہات، حکومت کے اختیارات اور عدلیہ کا ڈھانچہ، دفتری ریکارڈ رکھنے اور محفوظ مواصلات کے طریقے، میراث، سمت قبلہ، اوقات صلوٰۃ اور پارٹنر شپ وغیرہ کے انتہائی پیچیدہ حسابات اور انسان کے مثالی رویوں اور نامناسب رویوں کا تجزیہ اور احکام بھی اس کا حصہ ہیں۔ جب کوئی طالب علم اس جامع اور مفید نصاب کو واضح مقاصد کے تحت پڑھ لیتا ہے تو اسے قائدانہ صلاحیت حاصل ہونا لازمی ہے۔ آج لیڈر شپ کے تحت یہی تو سکھایا جارہا ہے کہ کون سے رویے مفید ہیں؟ نظام الاوقات کو کیسے کارآمد بنایا جائے؟

مزید پڑھیے۔۔۔