• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

محرم کا پیغام

تحریکات میں بہت سے لوگ اپنی محنت اور لگائو کی بنیاد پر تاریخ میں نامور قرار پاتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تحریک کی شہرت کا باعث بنتے ہیں۔ حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات تھیں، جو اسلام کی شہرت کا استعارہ قرار پائیں۔ حضرت عمرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خود مانگا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو قوت عطا فرما۔ آپ کی دین اسلام سے فطری و طبعی مناسبت ایسی تھی کہ جو آپ تجویز دیتے، وہ ہی وحی اتر جاتی۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رائے ہو یا امہات المؤمنین کے حجاب کا مسئلہ… دسیوں امور میں آپ کی رائے وحی الٰہی کے موافق ثابت ہوئی۔ کوئی تو بات تھی کہ آپ کے بارے میں زبان نبوت سے یہ بات جاری ہوئی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ گویا وحی الٰہی سے مناسبت اور دیگر کوائف میں آپؓ میں صلاحیت تو تھی، لیکن نبوت مجاہدے سے حاصل ہونے والا مرتبہ نہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، لہٰذا آپ کو حاصل نہ ہوا۔ آپ کی دین اسلام سے مناسبت کا یہ عالم تھا کہ لسان نبی نے اعلان کردیا کہ شیطان عمر سے بھاگتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویل ڈن

وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف نے بھارتی سورمائوں کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ انڈیا کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ایم جے اکبر نے اسے مکمل طو رپر حیران کن قرار دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ تجارب کی وجہ سے بھارت کو اس کی امید نہ تھی کہ پاکستان اس شدو مد اور بھرپور تیاری کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھائے گا۔ بالعموم انڈیا جیسی ظالم ریاستوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ وہ تاریخ کو دھندلانے کے لیے معاملے کو طول دیتی ہیں۔ پھر ماضی کے دھندلے خاکے کے سہارے اپنے مجرمانہ کردار کا دفاع کرتی رہتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی رویہ اسرائیل نے بھی اختیار کیے رکھا ہے۔ فلسطینی وزیراعظم محمود عباس نے جب اپنے بیان میں برطانیہ کو کہا کہ وہ 1917ء کے ڈکلیریشن پر معذرت طلب کرے تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ماضی کی باتیں ہیں۔ گویا ماضی کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، حالانکہ اسرائیل کے وجود کے تمام مجروح دلائل ماضی کی کئی ہزار صدیوں کے ضمیر سے ہی تیار کردہ ہیں، لیکن طاقتور سے کوئی مزید پوچھنے کی جرأت نہیں کرسکتا، جبکہ مظلوم کی کوئی سنتا ہی مشکل سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکنالوجی کا جن

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی بے راہ روی کا باعث بنتی ہے۔ عملی طو رپر ایسا ہوتا نظر بھی آرہا ہے، لہٰذا یہ خیال مزید راسخ ہوتا جارہا ہے۔ سمارٹ فون اور 4G انٹرنیٹ نے دنیا بھر کی تفریحات کو آپ سے ایک کلک کی دوری پر پہنچادیا ہے۔ اب بلوغت تک پہنچنے کے تدریجی اور فطری مراحل سب کے سب تباہ ہوگئے ہیں۔ جسم بھی جلد بالغ ہورہے ہیں اور دماغ بھی۔ ایک وقت تھا کہ انسانی نفسیات اپنی عمر کے تقاضوں کو تدریجاً سمجھ کر ان سے ہم آہنگ ہوا کرتی تھی۔ اب سب کچھ بیک وقت آنکھوں کے سامنے ہے، لہٰذا بے راہ روی کا پھیلنا اور اس کے منفی نقصانات کا سامنے آنا ایک طبعی عمل ہے۔ یہ سب تو ہے، لیکن اس کا علاج کیا ہو؟ اس حوالے سے تین قسم کی سوچیں معاشرے میں چل رہی ہیں۔ ایک یہ کہ کیونکہ ٹیکنالوجی کے جن کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہے، لہٰذا اس سے دور ہی رہو۔ اسے استعمال ہی نہ کرو۔ دوسری سوچ یہ ہے کہ استعمال کرنا تو ضروری ہے، لیکن اس کے اثر کے ازالے کے لیے نیک کاموں اور نیک ماحول میں جانے کے معمولات بڑھادیے جائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قبولیت کی معراج

نبی کا خواب بھی وحی ہی ہوتا ہے۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ اپنے بیٹے کو قربان کررہے ہیں تو انہوں نے طبعاً شاق گزرنے کے باوجود تعمیل کرنا ضروری سمجھا۔ دوسری طرف ہونہار صاحبزادے کی اس کم عمری میں انابت اور خداشناسی دیکھیے کہ والد صاحب کو اس کام کی خوش دلی سے اجازت بلکہ ترغیب دے ڈالی۔ جب اس اخلاصِ نیت سے قربانی دی جاتی ہے تو ربّ کائنات اسے قبولیت کی معراج تک پہنچادیتے ہیں۔ چنانچہ جنت سے مینڈھا آیا اور قربانی دینے والوں پر قربان ہوگیا۔ پھر امت مسلمہ کو حکم ہوا کہ اپنے جدامجد کی قربانی کی نقل اتارو اور بہتر سے بہتر جانور کی قربانی کرو۔ تاریخ میں بہت سی قربانیاں دی گئی ہیں، بہت سی جدوجہد اور کاوشیں کی گئی ہیں، لیکن جو قبولیت اور مقبولیت اس قربانی کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوسکی۔

آج امت مسلمہ تمام تر عملی کمزوریوں کے باوجود، معاشی بحرانوں کے علی الرغم اور قدرتی و انسانی آفات کے شکنجے میں ہونے کے بعد بھی جس بڑی تعداد میں قربانی کا فریضہ ادا کرتی ہے، وہ بیان سے زیادہ دیکھنے کی چیز ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فرضِ منصبی

وطن کی محبت ایک فطری اور طبعی امر ہے۔ مستند احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہجرت کے بعد مکہ کو مسلسل یاد کیا کرتے تھے۔ جس طرح انسان کو اپنے آس پاس رہنے والے انسانوں حتیٰ کہ جانوروں تک سے انس ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی طویل عرصہ جن در و دیوار اور ’’دیار‘‘ میں گزرتے ہیں، ان جگہوں سے بھی محبت ہوجانا ایک طبعی رویہ ہے۔ لہٰذا وطن کی محبت ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مکہ مکرمہ اس وقت کفار کا وطن تھا، لیکن پھر بھی اس کی محبت میں بعض صحابہ رویا بھی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمائیں کہ وہ وطن سے جدائی کا غم سہہ سکیں۔ان کی مدینہ سے مناسبت پیدا ہوجائے اور یہاں کا موسم ان کے موافق آجائے۔مدینہ کا بخار مشہور تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کا اثر تھا کہ اس وقت سے مدینہ منورہ کے موسم میں غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آج مدینہ ایک پر فضا مقام ہے۔ بتانا یہ ہے کہ جس علاقے سے تعلق رہتا ہے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے اور اگر کسی غرض سے کسی اور علاقے میں رہنا پڑے تو اس سے تعلق اور مناسبت اس قدر ضروری ہے کہ اس کی دعا بھی کی گئی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

پانچ سے نوے تک

تعلیمی نصاب اور طرز تدریس اوسط طلبہ کو ذہن میں رکھ کر اختیار کیے جاتے ہیں۔ تقریباً دس فیصد ذہین طلبہ تو اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے ہر نصاب، ہر طریقۂ تدریس اور ہر استاذ سے سیکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح 20 فیصد طلبہ نسبتاً کمزور ہوتے ہیں جن کو زیادہ سے زیادہ اوسط طلبہ کی صف میں لانے کی کوشش ہی کی جاسکتی ہے، جبکہ 70 فیصد طلبہ اوسط صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جنہیں اعلیٰ کارکردگی پر ابھارنے کے لیے اساتذہ کی تربیت ضروری خیال کی جاتی ہے۔ نت نئے تدریس کے طریقے اختیا رکیے جاتے ہیں اور نصاب میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایک تحقیقی ادارے نے طریقۂ تدریس کی افادیت کے حوالے سے ایک بہت مفید گراف جاری کیا ہے۔ اس گراف سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف انداز تدریس اختیار کرکے طلبہ میں معلومات کو محفوظ رکھنے کے امکانات بڑھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً یہ گراف کہتا ہے کہ صرف لیکچر سننے سے طلبہ 5 فیصد باتیں یاد رکھتے ہیں۔ اگر ان طلبہ کو سننے کے ساتھ عبارت پڑھنے کا موقع بھی مل جائے تو ان کے یاد رکھنے کی صلاحیت 10 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ پھر اگر پروجیکٹر یا کسی بھی سمعی بصری طریقے سے سمجھایا جائے تو یاد رکھنے کی صلاحیت 20 فیصد ہوجاتی ہے۔ اگر ساتھ ہی ساتھ کوئی عملی مظاہرہ بھی ہوجائے تو یاد رکھنے کی صلاحیت 30 فیصد ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تین بروقت کام

ترکی میں ’’ناکام بغاوت‘‘ کیونکر کچلی گئی۔ یہ وہ موضوع ہے جس پر آج کل تجزیوں کی بھرمار ہے۔ سطحی بات تو فقط اتنی سی ہے کہ صدر اردگان نے ’’بروقت‘‘ فیس ٹائم کے ذریعے ایک ٹی وی اینکر کو فون کرکے قوم سے خطاب کی درخواست کی۔ خاتون اینکر نے تمام تر سیاسی دبائو اور مزاحمت کے امکانات کے باوجود صدر کو قوم سے ’’بروقت‘‘ خطاب کرنے دیا۔ پھر قوم نے ’’بروقت‘‘ لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر آکر طاقت کے نشے میں چور ’’باغی فوجیوں‘‘ کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔ کیا اتنے سارے ’’بروقت کام‘‘ محض قسمت کی یاوری کا نتیجہ تھے یا ان کو یقینی بنانے کے لیے طویل منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یوں اس ناکام بغاوت کا مطالعہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات اور مذہبی تنظیمات کے لیے انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ نیز جس انداز سے اس ناکام بغاوت کے وائرس کو ختم کرنے کی کاوشیں سامنے آرہی ہیں تو یہ کہنا ناروا نہ ہوگا کہ خود ترکی کی فاتح حکومت کو بھی اس فتح کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ فتوحات کا تسلسل باقی رکھا جاسکے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دو دھاری تلوار!

میڈیا کی اثرانگیزی اب کسی پر مخفی نہیں رہی۔ وہ والدین جو انٹرنیٹ اور میڈیا سے اب تک کسی قدر بچے ہوئے ہیں وہ بھی اپنے بچوں پر میڈیا کے اثرات کو کھلی آنکھوں دیکھنے پر مجبور ہیں۔ وجہ وہی کہ میڈیا گھروں کے اندر گھس گیا ہے۔ آپ کے عام موبائل سیٹ پر بھی SMS کے ذریعے ازخود ہی گانے سننے کی پیشکش پہنچ جاتی ہیں۔ خدانخواستہ آپ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی بہت دفعہ ہر قسم کا ناپسندیدہ مواد آپ سے صرف ایک کلک کی دوری تک آپہنچتا ہے۔ کیمرے والے فون ازخود آپ کی تصاویر کو فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کی پوزیشن پر لے جاکر آخری اجازت چاہ رہے ہوتے ہیں۔ بعض ایسے سافٹ ویئرز ہیں جو آپ کی ویڈیو کال بناکر سامنے والے نمبر پر بھیج دیتے ہیں۔ آپشنز کو ایسے پیچیدہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو لوگ انہیں کم استعمال کرتے ہیں انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ غلط استعمال کرگئے ہیں۔ یہ بات تو ہوئی میڈیا کے تکنیکی استعمال کے حوالے سے، لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی افواہوں اور غیرمستند خبروں پر ردّعمل کا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک دنیا بیٹھی تبصروں اور تجزیوں میں مصروف ہے۔ دینی معاملات یا کسی معاملے کے دینی پہلو پر علماء کو بھی خوب گھسیٹا جاتا ہے کہ وہ اپنا نقطۂ نظر پیش کریں۔ خیر! یہاں تک تو بات کسی قدر مناسب ہے، لیکن سوالات کو ایسے پس منظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا مجبوراً وہی رائے دے جو سائل چاہتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لطیف اشارے!

23؍ مارچ کو یومِ پاکستان یا 14؍ اگست کو یومِ آزادی مناتے ہوئے شاید ہی کسی کے ذہن میں آیا ہو کہ پاکستان جب آزاد ہوا تو چاند کی کون سی تاریخ تھی؟ کون سا مہینہ تھا؟ اور اس وقت لوگوں کا مذہبی مورال اتنا بلند کیوں تھا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دن 27 رمضان تھی۔ 27 رمضان وہ تاریخ ہے جس کے لیلۃ القدر ہونے کے سب سے زیادہ امکانات بیان کیے گئے ہیں۔ لیلۃ القدر وہ رات ہے جو ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ گویا سال کا سب سے زیادہ بابرکت دن۔ سوچیے قادر مطلق کا پاکستان کو یہ اعزاز دینے میں کتنے لطیف اشارے موجود ہوں گے۔ اس سے ہمارا ایمان بڑھتا ہے کہ ہمارے اکابر کا پاکستان بنانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عنایت مقبول تھا۔ لاکھوں لوگوں کی ہجرت، شہادت اور جائیداد سے بے دخلی کی قربانی یقینا ایک بہت قیمتی اور نادر ریاست کی غرض سے ہی قبول کی گئی تھی۔ اس میں اشارہ تھا کہ ظاہری وضع قطع سے لبرل نظر آنے والے قائداعظم کی کوششوں کو تائید ربانی حاصل ہے۔ چنانچہ بعد کے حالات نے ان میں سے ہر بات کو بہت واضح طور پر ثابت کیا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

درپردہ

ایک زمانہ تھا کہ نظریاتی یا قومی بالادستی کی بنیادوں پر جنگیں چھڑا کرتی تھیں۔ مسلمان جرنیلوں کی یلغار کا جائزہ لیں یا چنگیز خان، ہٹلر اور سوویت یونین کی جنگی سرگرمیوں کا، یہ بات بہت واضح طور پر سمجھ آتی ہے کہ اکثر جنگیں میدانوں میں اپنی طاقت، صلاحیت اور جنگی تدابیر کی بنیادو ںپر لڑی جاتی تھیں۔ اب جب سے دنیا میں دو عظیم جنگوں کے بعد قومی بنیادوں پر سیاسی سرحدوں کا تعین ہوا اور ان کو باقی رکھنے کے لیے عالمی قوانین تشکیل پائے، سابقہ طرز کی جنگوں کا سلسلہ محدود ہوگیا ہے۔ اب ایسی جنگیں صرف وہ قوتیں لڑسکتی ہیں جن کی طاقت اور ہٹ دھرمی کے آگے بین الاقوامی قوانین ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ امریکا اس طرز کی لڑائیوں کا چیمپیئن ہے۔ ویت نام، صومالیہ، عراق، افغانستان اور اب لیبیا اور شام وغیرہ میں ذاتی مفادات کے لیے جارحیت کی ’’نئی تاریخ‘‘ رقم کی گئی ہے۔ گو وہ اس طرز میں کامیابی تو کوئی خاص حاصل نہیں کرسکا البتہ آہستہ آہستہ وہ ان جنگوں سے نکلنے کی فکر میں ہے اور دوسری طاقتوں کے لیے عبرت بن رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر سوویت یونین کو لیا جاسکتا ہے جس کا افغانستان میں داخل ہونے کے بعد وہ حال ہوا کہ نہ صرف اس میں ’’منکسر المزاجی‘‘ آئی، بلکہ عملی طور پر وہ متعدد حصوں میں تقسیم بھی ہوگیا۔ اسرائیل کی جارحیت بھی اس باب میں رکھی جاسکتی ہے، لیکن اس کی جارحیت صرف غزہ اور غرب اردن کے مسلمانوں تک محدود رہی ہے۔ باقی جگہ وہ دوسرے طرز کی جنگ یعنی پراکسی وار میں ملوث رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایسی تمام ریاستیں جو غیرمعمولی طاقت نہیں رکھتیں، لیکن عادتاً دوسروں پر جارحیت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں، وہ عام طور پر پراکسی وار ہی کو پسند کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ خود امریکا اور روس پراکسی وار کے بھی چیمپیئن ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

نسلوں کا قرض

یہ 1990ء کی بات ہے۔ ہمارے اسکول پی اے ایف بیس مسرور کی جانب سے کینپ کے پاور پلانٹ کا وزٹ طے ہوا۔ ایک طویل سفر کرکے ساحل سمندر پر واقع پلانٹ میں پہنچے تو وہاں کے پروٹوکول اسٹاف نے والہانہ انداز میں استقبال کیا اور پھر ویڈیوز کے ذریعے تفصیلی بریفنگ دی۔ ریڈیشین کے خطرے سے اصل آپریشنز کی جگہ تک ہر ایک کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کسی تکنیکی ضرورت سے کوئی جاتا بھی تو خلانوروردوں جیسا لباس پہن کر جانا پڑتا اور پھر واپسی پر کئی ٹیسٹس سے گزرنے کے بعد کلیئر ہوتا۔ ایسا غیرمعمولی نظام ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اور یہ کب تک بجلی فراہم کرسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وہ ملک کو مغربی دبائو سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور جہاں تک بات ہے ’’کب تک چلے گا؟‘‘ تو اس کے بنانے والے یورپینز کے مطابق اس کی زندگی چند سال پہلے ختم ہوچکی ہے۔ ’’جی کیا فرمایا، ختم ہوچکی ہے؟‘‘ کئی طلبہ حیرت سے چیخ اُٹھے۔ وہ مسکرایا اور کہنے لگا: ’’جی ہاں! بات ایسے ہی ہے۔ البتہ پاکستان کے سائنسدانوں نے اس کے نظام کو اچھی طرح سمجھ کر اس میں ایسے اضافے کرلیے ہیں کہ اب یہ پلانٹ مزید 20، 25 برس تک بجلی فراہم کرسکتا ہے۔‘‘ آج اس واقعے کو 26 سال گزر چکے ہیں، لیکن پلانٹ ’’حیات‘‘ ہے اور مسلسل بجلی فراہم کررہا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔