• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آفت میں خیر!

’’دین اسلام‘‘ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس کے خلاف حملوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی تاریخ ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سازشیں بالآخر اسلام کے بجائے دشمنوں کو ہی مہنگی پڑتی آئی ہیں۔ دیکھیے! کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ’’سحر‘‘ سے لوگوں کو بچانے کے لیے مشہور کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ساحر‘‘ ہیں۔ اس پروپیگنڈے سے بہت سے دانشمند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’سحر‘‘ کو جانچنے کے چکر میں مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے پروپیگنڈا کیا کہ آپ نعوذ باللہ مجنون ہیں تو بہت سے لوگ آپ کے معجزانہ کلام کی بدولت آپ کے اسیر ہوگئے۔ پھر اہل بیت کی محبت کا نعرہ لگاکر اکابر صحابہ کرامؓ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تو علمائے امت نے صحابہ کرامؓ کے مقام، دین کی سند میں ان کی اساسی حیثیت اور ان کے معیارِ حق ہونے پر دلائل اور کتابوں کے انبار لگادیے۔ پھر معتزلہ نے عقل کو اصل دلیل مان کر جب اہل سنت والجماعۃ کے متفقہ عقائد سے انحراف اور نصوص میں غیرضروری توجیہات شروع کیں تو امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے متبعین نے مظالم جھیل کر ’’صبر‘‘ کی قوت سے انہیں کمزور بلکہ ’’بے نام‘‘ کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاغذی شیر

بھارتی فوج نے اپنی ’’تشہیر‘‘ بعنوان دیگر ’’بدنامی‘‘ کے لیے جو طرز ایجاد کیا ہے، اب وہ وہاں کی پولیس نے بھی سیکھ لیا ہے۔ دیوالی کی رات بھوپال کی محفوظ ترین سینٹرل جیل سے ’’ممکنہ‘‘ دہشت گرد فرار ہوئے، آٹھ تو گھنٹے تک جیل کے پاس ہی چھپے رہے اور پھر بھارت کی بہادر ترین پولیس نے پولیس مقابلے کے بعد انہیں مار ڈالا۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بھارتی پولیس کتنی منظم، پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مالا مال اور اس کی انٹیلی جنس کتنی باخبر ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حزب اختلاف بار بار پوچھ رہی ہے کہ یہ بھاگے تھے یا بھگائے گئے تھے؟ کچھ نالائق صحافی یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ ابھی تو ان نوجوانو ںپر مقدمہ ہی چل رہا تھا۔ نہ انہیں بھاگنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی ان کو تصادم میں لازماً مارنے کی۔ کچھ ملک دشمن عناصر یہ بھی بات کررہے ہیں کہ واقعے کے بعد بنائی گئی فوٹیج جعلی لگ رہی ہے۔ یہ سوال بھی دماغ میں گردش کررہا ہے کہ اتنے ماہر لوگ جنہوں نے پولیس کے دعوے کے مطابق لکڑی اور ٹوتھ برش سے چابیاں اور بیڈ شیٹوں کو جوڑ کر رسیاں بنائیں اور پھر پولیس کو چکما دے کر نکل گئے، باہر جاتے ہی اتنے بونگے کیسے ہوگئے کہ اسی علاقے میں اجتماعی طو رپر چھپے رہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاسی ہلچل

اسلام آباد میں ایک اور دھرنے اور دارالحکومت کو بند کرنے کی کوششوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اُٹھادیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مثالی تعلقات کیا ہونے چاہییں؟ یہ سوال اسلامی علوم کے شہسواروں سے بھی پوچھا جانا چاہیے اور ماہرین قانون سے بھی۔ حکومت کے ذمے قانون بنانے اور نظام کو چلانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر وہ دفاعی پوزیشن میں رہے گی یا اپنے اقدامات اور نیک نیتی کے ثبوت پیش کرتی رہے گی تو کام کیسے کرے گی؟ اسی طرح دوسری طرف سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنے ذاتی کردار میں کمزور ہو اور اسے مجبوراً دفاعی رویے اختیار کرنے پڑتے ہوں تو کیا ان کے لیے حکومت جاری رکھنے کا جواز ہے یا انہیں کسی بہتر متبادل کی جانب بڑھ جانا چاہیے؟ \

 

مزید پڑھیے۔۔۔

انسانیت کی خیر

قانون کی کتابوں میں لکھا ہے کہ قانون سب سے پہلے رومن یا دوسرے لفظوں میں یورپ کی ایجاد ہے۔ انہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ قانون کا بانی ’’Father Of Jurisdiction‘‘ جرمی بینتھم (Jeremy Bentham) تھا، جو 1748ء میں پیدا ہوا۔ 18 ویں صدی میں قانون سے تعارف حاصل کرنے والی یورپی قومیں آج ناز کرتی ہیں کہ دنیا کو قانون کا تحفہ ہم نے دیا اور ان کے مشرقی متاثرین بھی اسی بات پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں۔ اسی لیے انگریزی یا فرنچ قانون اکثر سابقہ نوآبادیوں میں اب تک رائج ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فقہ اسلامی تو ساتویں صدی عیسوی میں ہی مکمل مدون ہوچکی تھی۔ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بابائے قانون نے جو کچھ بھی قانون کے بارے میں فلسفے بیان کیے وہ انتہائی خام حالت میں تھے۔ اس کے بنائے ہوئے خاکے پر اس کے شاگرد آسٹن نے سب سے پہلے ہاتھ صاف کیا۔ پھر آنے والے تمام فلسفی ہالینڈ، پولاک وغیرہ اس پر نظرثانی کرتے رہے۔ ہر ایک فلسفی پچھلی بات پر کھل کر رد کرتا تھا۔ کوئی حاکم وقت کی ہر بات کو قانون کہتا تھا۔ کوئی قانون میں فطرت سے مدد لینے کی بات کرتا تھا۔ کوئی معاشرے کی خواہشات کو اصل مدار قرار دیتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخی فرق

جنگیں مہذب قومیں صرف اس وقت کرتی ہیں جب وہ ناگزیر ہوں۔ مہذب اور متمدن قومیں جانتی ہیں کہ دہائیوں میں حاصل کی گئی تمدنی ترقی صرف ایک دن کی جنگ سے ختم ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے ایسا قدم خوب سوچ سمجھ کر اور غو رکرکے ہی اٹھایا جاتا ہے۔ ہاں! جنگ جب ناگزیر ہوجائے تو مہذب قومیں اس میں جان کی بازی بھی ضرور لگاتی ہیں، کیونکہ اب یہ ترقی سے بڑھ کر ’’بقا‘‘ کا معاملہ بن چکا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ جس طرح انسانی جسم پر غیرضروری ناخن اور بالوں کو ہم ہر ہفتے صاف کرکے انسانی جسم کو صحت مند اور خوب صورت بناتے ہیں۔ گھر کے اندر زائد چیزو ںکو اسٹور میں پہنچاکر یا کباڑیے کو بیچ کر ہم گھر کو صاف ستھرا اور پرفضا بناتے ہیں۔ ملکی امن میں خلل ڈالنے والے ڈاکوئوں اور رشوت خوروں کی صفائی ہم حدود، قصاص اور تعزیرات کے ذریعے کرکے معاشرے کو صحت مند بناتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بین الاقوامی طور پر شرپسند اور سر پھری قوموں کو ’’جنگ‘‘ کے ذریعے ٹھیک کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ معاملہ اس سے پہلے ٹھیک ہوسکے تو اسے وہیں حل کرلینا چاہیے، کیونکہ جنگ کی ہولناکیاں بہرحال ناقابل تحمل رہتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پرفیکٹ کمپٹیشن

’’کشمیر کے مسئلے پر اگر پاکستان کی نہ سنی گئی تو اس کا جھکائو چین اور روس کی جانب ہوجائے گا۔ امریکا اب عالمی طاقت نہیں ہے۔ اس کی طاقت کم ہورہی ہے۔ امریکا کو بدلتے ہوئے علاقائی توازن کو سمجھنا ہوگا۔‘‘ امریکی تھنک ٹینکس کے ایوانوں میں گونجنے والی اس آواز کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک جدید اور مؤثر اسلوب کے طو رپر دیکھا جائے گا۔ شاہد حسین جو پاکستان کے چند پڑھے لکھے اور مؤثر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں میں شامل ہیں، آج کل وزیراعظم کے خصوصی ایلچی کے طور پر امریکا کے دورے پر ہیں۔ وہ کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے موقف کو واضح کرنے اور اس پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے مشن پر ہیں۔ ان کے ساتھ رکن قومی اسمبلی شزرا منصب بھی ہیں۔

خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہمیشہ ’’ملکی مفاد‘‘ ہوتا ہے۔ بظاہر پاکستان بھی اپنی خارجہ پالیسی کو اسی مرکزی نکتے کے ساتھ مربوط رکھنے کی کوشش کرتا آیا ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی من مانیوں اور بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کی وجہ سے پاکستان کے لیے ’’ملکی مفاد‘‘ حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محرم کا پیغام

تحریکات میں بہت سے لوگ اپنی محنت اور لگائو کی بنیاد پر تاریخ میں نامور قرار پاتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تحریک کی شہرت کا باعث بنتے ہیں۔ حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات تھیں، جو اسلام کی شہرت کا استعارہ قرار پائیں۔ حضرت عمرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خود مانگا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو قوت عطا فرما۔ آپ کی دین اسلام سے فطری و طبعی مناسبت ایسی تھی کہ جو آپ تجویز دیتے، وہ ہی وحی اتر جاتی۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رائے ہو یا امہات المؤمنین کے حجاب کا مسئلہ… دسیوں امور میں آپ کی رائے وحی الٰہی کے موافق ثابت ہوئی۔ کوئی تو بات تھی کہ آپ کے بارے میں زبان نبوت سے یہ بات جاری ہوئی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ گویا وحی الٰہی سے مناسبت اور دیگر کوائف میں آپؓ میں صلاحیت تو تھی، لیکن نبوت مجاہدے سے حاصل ہونے والا مرتبہ نہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، لہٰذا آپ کو حاصل نہ ہوا۔ آپ کی دین اسلام سے مناسبت کا یہ عالم تھا کہ لسان نبی نے اعلان کردیا کہ شیطان عمر سے بھاگتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویل ڈن

وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف نے بھارتی سورمائوں کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ انڈیا کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ایم جے اکبر نے اسے مکمل طو رپر حیران کن قرار دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ تجارب کی وجہ سے بھارت کو اس کی امید نہ تھی کہ پاکستان اس شدو مد اور بھرپور تیاری کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھائے گا۔ بالعموم انڈیا جیسی ظالم ریاستوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ وہ تاریخ کو دھندلانے کے لیے معاملے کو طول دیتی ہیں۔ پھر ماضی کے دھندلے خاکے کے سہارے اپنے مجرمانہ کردار کا دفاع کرتی رہتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی رویہ اسرائیل نے بھی اختیار کیے رکھا ہے۔ فلسطینی وزیراعظم محمود عباس نے جب اپنے بیان میں برطانیہ کو کہا کہ وہ 1917ء کے ڈکلیریشن پر معذرت طلب کرے تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ماضی کی باتیں ہیں۔ گویا ماضی کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، حالانکہ اسرائیل کے وجود کے تمام مجروح دلائل ماضی کی کئی ہزار صدیوں کے ضمیر سے ہی تیار کردہ ہیں، لیکن طاقتور سے کوئی مزید پوچھنے کی جرأت نہیں کرسکتا، جبکہ مظلوم کی کوئی سنتا ہی مشکل سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکنالوجی کا جن

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی بے راہ روی کا باعث بنتی ہے۔ عملی طو رپر ایسا ہوتا نظر بھی آرہا ہے، لہٰذا یہ خیال مزید راسخ ہوتا جارہا ہے۔ سمارٹ فون اور 4G انٹرنیٹ نے دنیا بھر کی تفریحات کو آپ سے ایک کلک کی دوری پر پہنچادیا ہے۔ اب بلوغت تک پہنچنے کے تدریجی اور فطری مراحل سب کے سب تباہ ہوگئے ہیں۔ جسم بھی جلد بالغ ہورہے ہیں اور دماغ بھی۔ ایک وقت تھا کہ انسانی نفسیات اپنی عمر کے تقاضوں کو تدریجاً سمجھ کر ان سے ہم آہنگ ہوا کرتی تھی۔ اب سب کچھ بیک وقت آنکھوں کے سامنے ہے، لہٰذا بے راہ روی کا پھیلنا اور اس کے منفی نقصانات کا سامنے آنا ایک طبعی عمل ہے۔ یہ سب تو ہے، لیکن اس کا علاج کیا ہو؟ اس حوالے سے تین قسم کی سوچیں معاشرے میں چل رہی ہیں۔ ایک یہ کہ کیونکہ ٹیکنالوجی کے جن کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہے، لہٰذا اس سے دور ہی رہو۔ اسے استعمال ہی نہ کرو۔ دوسری سوچ یہ ہے کہ استعمال کرنا تو ضروری ہے، لیکن اس کے اثر کے ازالے کے لیے نیک کاموں اور نیک ماحول میں جانے کے معمولات بڑھادیے جائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قبولیت کی معراج

نبی کا خواب بھی وحی ہی ہوتا ہے۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ اپنے بیٹے کو قربان کررہے ہیں تو انہوں نے طبعاً شاق گزرنے کے باوجود تعمیل کرنا ضروری سمجھا۔ دوسری طرف ہونہار صاحبزادے کی اس کم عمری میں انابت اور خداشناسی دیکھیے کہ والد صاحب کو اس کام کی خوش دلی سے اجازت بلکہ ترغیب دے ڈالی۔ جب اس اخلاصِ نیت سے قربانی دی جاتی ہے تو ربّ کائنات اسے قبولیت کی معراج تک پہنچادیتے ہیں۔ چنانچہ جنت سے مینڈھا آیا اور قربانی دینے والوں پر قربان ہوگیا۔ پھر امت مسلمہ کو حکم ہوا کہ اپنے جدامجد کی قربانی کی نقل اتارو اور بہتر سے بہتر جانور کی قربانی کرو۔ تاریخ میں بہت سی قربانیاں دی گئی ہیں، بہت سی جدوجہد اور کاوشیں کی گئی ہیں، لیکن جو قبولیت اور مقبولیت اس قربانی کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوسکی۔

آج امت مسلمہ تمام تر عملی کمزوریوں کے باوجود، معاشی بحرانوں کے علی الرغم اور قدرتی و انسانی آفات کے شکنجے میں ہونے کے بعد بھی جس بڑی تعداد میں قربانی کا فریضہ ادا کرتی ہے، وہ بیان سے زیادہ دیکھنے کی چیز ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فرضِ منصبی

وطن کی محبت ایک فطری اور طبعی امر ہے۔ مستند احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہجرت کے بعد مکہ کو مسلسل یاد کیا کرتے تھے۔ جس طرح انسان کو اپنے آس پاس رہنے والے انسانوں حتیٰ کہ جانوروں تک سے انس ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی طویل عرصہ جن در و دیوار اور ’’دیار‘‘ میں گزرتے ہیں، ان جگہوں سے بھی محبت ہوجانا ایک طبعی رویہ ہے۔ لہٰذا وطن کی محبت ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مکہ مکرمہ اس وقت کفار کا وطن تھا، لیکن پھر بھی اس کی محبت میں بعض صحابہ رویا بھی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرمائیں کہ وہ وطن سے جدائی کا غم سہہ سکیں۔ان کی مدینہ سے مناسبت پیدا ہوجائے اور یہاں کا موسم ان کے موافق آجائے۔مدینہ کا بخار مشہور تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کا اثر تھا کہ اس وقت سے مدینہ منورہ کے موسم میں غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آج مدینہ ایک پر فضا مقام ہے۔ بتانا یہ ہے کہ جس علاقے سے تعلق رہتا ہے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے اور اگر کسی غرض سے کسی اور علاقے میں رہنا پڑے تو اس سے تعلق اور مناسبت اس قدر ضروری ہے کہ اس کی دعا بھی کی گئی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔