• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تجدید

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ علمیت اتنی پختہ تھی کہ ہر فتویٰ پر دلائل اور حوالاجات کی ایک لمبی فہرست ہوا کرتی تھی۔ عمل میں پختگی ایسی تھی کہ بارہا فرمایا کہ یہاں (ادارے میں) سب کام سوچ کر کیے جاتے ہیں، لہٰذا کوئی بات خلافِ شرع محسوس ہو تو ضرور پوچھا کریں۔ استغناء ایسا کہ مالدار لوگ لاکھوں روپے کے عطیات دینے کے باوجود ایک عام سامع کی حیثیت رکھتے تھے، جبکہ تواضع ایسی کہ اسی مجلس میں بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس علماء و طلبہ کو حضرت قریب کی نشستوں پر اکرام سے بٹھاتے اور مصافحہ کرتے تھے۔ علمیت، عملیت، استغناء اور تواضع ایسی صفات ہیں کہ جس میں جمع ہوجائیں اسے دنیا کی ملامت کا ڈر نہیں رہتا۔ حضرت کے اندر بھی یہ اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ جس چیز کو آپ دین سمجھتے اس پر پورے یقین کے ساتھ جم جاتے تھے۔ اگر کسی چیز کے بارے میں دلائل سے سمجھتے کہ اب زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ضروری ہوچکی ہے تو کسی کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اسے فوراً شروع کردیتے۔ آپ کی نظر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بارے میں پس و پیش کی ذرہ برابر گنجائش نہ تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدیوں کی سوچ

اداروں کا دوام عمارتوں اور سہولیات سے نہیں، رجال کار اور نظریاتی پختگی سے وابستہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال پیدا کیے تو آپ کے وصال کے محض کچھ دہائیاں بعد تمام متمدن دنیا اسلام کے زیرنگیں تھی۔ مجدد الف ثانیؒ نے رجال پر محنت کی تو نہ صرف جلال الدین اکبر ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا، بلکہ اس کی نسلوں میں اورنگزیب جیسے علماء پیدا ہوئے۔ شاہ ولی اللہؒ نے رجال تیار کیے تو آج برصغیر کے تمام علمی سلسلے ان سے نسبت کے مدعی ہیں اور ان کی تعلیمات کا اثر پورے ہندو پاک میں واضح ہے۔ دیوبند نے رجال پیدا کیے تو آج اس کا فیض چہار دانگ عالم پھیلا ہو ہے، حالانکہ اس کا آغاز تو انار کا ایک درخت ہی تھا۔ مولانا الیاسؒ نے رجال پیدا کیے تو آج دنیا کا کوئی ملک ان کی تعلیمات سے خالی نہیں ہے۔ تبلیغی اجتماعات کا ایسا روح پرور سلسلہ چل نکلا کہ اس مجمع کو دیکھ کر ہی لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔ الحمدللہ! جامعۃ الرشید کے ارباب نظر و فکر کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سنت کو زندہ کرنے کی توفیق دی اور انہوں نے بھی رجال سازی کے کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ جامعۃ الرشید نے اپنے طلبہ کو جہاں فکر و نظر میں اونچی سوچ دینے کے لیے اکابر کی سوانح، کامیاب دینی تحریکات، اسلامی سلطنتوں کے سقوط اور تاریخ کے کامیاب قائدین سے متعارف کروایا، وہیں ان طلبہ کو مستقبل کے اہم چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کے لیے ضروری مہارتوں: تقویٰ، علمی استعداد، ابلاغی و تنظیمی صلاحیت، نیز مروجہ ٹیکنالوجی اور زبانوں سے واقفیت کو بھی یقینی بنایا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شکریہ ٹرمپ

آج تک مغرب کا دعویٰ رہا ہے کہ مسلمان ’’تشدد‘‘ پسند ہیں۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کے حقوق موجودہ عالمی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اسلام میں 10 سالہ بچے کو مار کر نماز پڑھائی جاتی ہے۔ عورت کو باپ اور شوہر کی اجازت کے بغیر سفر اور دیگر معاشرتی معاملات سے منع کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ شوہر کے لیے بیوی کو مارنے کی بھی اجازت ہے۔ اسلام میں غلامی کا تصور ہے۔ اسلام میں جہاد کے ذریعے کفار پر تشدد کیا جاتا ہے۔ مرتد کو قتل کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں کو دوسرے درجے کے حقوق دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف مغرب کا چہرہ یوں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔ وہ انسانی حقوق اور جمہوری رویوں کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں لڑرہا ہے۔ مغرب میں خواتین کو مکمل آزادی ہے۔ چائلڈ لیبر منع ہے۔ بے روزگاروں کو الائونسز دیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک کے آزاد فکر لوگوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ غرض! مغرب امن کا شیدائی اور سفارت کار ہے۔ اسلامی شدت پسندی سے دنیا میں جوتشدد پھیل رہا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

فیصلے کی مار

عرب کا معاشرہ شراب کا عادی تھا۔ صحابہ کرامؓ بھی ابتدائی زمانے میں اس معاشرتی عادت بد کا شکار رہے۔ شراب کے بغیر ان کی کوئی محفل مکمل نہ ہوتی تھی۔ ایسے میں اسلام نے آہستہ آہستہ شراب کی خرابیاں گنوانا شروع کی گئیں۔ بتایا گیا کہ کم از کم نماز میں نشے کی حالت نہ ہو۔ واضح کیا گیا کہ اس کے نقصانات فوائد پر غالب ہیں۔ رفتہ رفتہ صحابہ کرامؓ ذہنی طور پر تیار ہوگئے کہ اب اسے چھوڑنا پڑے گا، لیکن معاشرتی عادت اتنی آسانی سے کہاں چھوٹتی ہے، چنانچہ ابھی بھی ان کے گھروں میں شراب بنانے اور رکھنے کے برتن اور بڑی تعداد مقدار میں شراب پڑی رہتی تھی۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر شراب کو حرام قرار دے دیا۔ احادیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس فیصلے کو صحابہ کرامؓ نے اس شان سے قبول کیا کہ مدینے کی گلیوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے خاص برتن بھی منع کردیے۔ یوں شراب کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اس سے تعلق بھی تنفر بھی بدلنے لگا۔ پھر جب دیکھا کہ یہ سعادت مند معاشرہ شراب کی حرمت اور اس کی قباحتوں کو سمجھ چکا ہے، تو آپ نے برتنوں کو پاک کرکے استعمال کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس قسم کے مقبول فیصلے سیرت میں جابجا ملتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

علامتی اقدامات

خوشی کے مواقع پر بعض خرچے علامتی ہوتے ہیں۔ ایسے خرچوں کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ یہ محبت کا اظہار ہے۔ تحفے پر جو قیمتی کاغذ اور دیگر پیکنگ کی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں، حجلہ عروسی کو جو خوبصورت اور خوشبودار چیزوں سے آراستہ کیا جاتا ہے، مہمانوں کی آمد پر جو توپوں کی سلامتی دی جاتی ہے، یہ سب علامتی اقدامات ہوتے ہیں جن کا مقصد محبت اور تعلق کا اظہار ہوتا اور بس۔ اس سے زیادہ اس کی توجیہ کرنا تکلف ہوگا جسے ہر کوئی محسوس کرتا ہے۔ البتہ اس قسم کے علامتی اقدامات میں دو امور کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس میں اسراف یعنی اپنی بساط سے بڑھ کر خرچہ نہ کیا جائے۔ دوسرے اس کی وجہ سے کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہو۔ چنانچہ شادی کے موقع پر قرضے لے کر خرچے کرنا یا فائرنگ اور آتش بازی کرنا پسندیدہ نہیں، کیونکہ اس میں مذکورہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر جب دوست ملک کا سربراہ یا کوئی بڑی مذہبی شخصیت کا استقبال ہو تو یہ علامتی اقدامات ساری دنیا کے سامنے اپنے تعلق کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کے استقبال میں جو تکلف کیا گیا، ’’طلع البدر علینا‘‘ کے جو ترانے پڑھے گئے وہ سب باتیں ہمارے سامنے ہیں، لہٰذا اسے لایعنی تو نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اسراف یا ظلم و زیادتی نہ ہونے کی شرائط بہرحال ضروری ہیں۔ ترک صدر طیب اردگان کے تشریف لانے کے وقت پاکستان نے جو اہتمام کیا، انہیں عام مہمانوں سے زیادہ پروٹوکول دیا اور ان کے دیرینہ مطالبے پر جو گولن تحریک سے وابستہ ترک عملے کو ملک بدر کیا، اس پر جلے بھنے ناقدین پورا زور لگاکر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔ گو ان کی تنقید سے نہ حکومت نے کوئی خاص اثرلیا ہے، نہ عوام کی ترک عوام اور موجودہ ترک حکومت سے محبت میں کچھ خلل آیا ہے، لیکن پھر بھی ہم عدل و انصاف کے ساتھ اس کا جائزہ لینے کو ضروری سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آفت میں خیر!

’’دین اسلام‘‘ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس کے خلاف حملوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی تاریخ ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سازشیں بالآخر اسلام کے بجائے دشمنوں کو ہی مہنگی پڑتی آئی ہیں۔ دیکھیے! کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ’’سحر‘‘ سے لوگوں کو بچانے کے لیے مشہور کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ساحر‘‘ ہیں۔ اس پروپیگنڈے سے بہت سے دانشمند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’سحر‘‘ کو جانچنے کے چکر میں مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے پروپیگنڈا کیا کہ آپ نعوذ باللہ مجنون ہیں تو بہت سے لوگ آپ کے معجزانہ کلام کی بدولت آپ کے اسیر ہوگئے۔ پھر اہل بیت کی محبت کا نعرہ لگاکر اکابر صحابہ کرامؓ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تو علمائے امت نے صحابہ کرامؓ کے مقام، دین کی سند میں ان کی اساسی حیثیت اور ان کے معیارِ حق ہونے پر دلائل اور کتابوں کے انبار لگادیے۔ پھر معتزلہ نے عقل کو اصل دلیل مان کر جب اہل سنت والجماعۃ کے متفقہ عقائد سے انحراف اور نصوص میں غیرضروری توجیہات شروع کیں تو امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے متبعین نے مظالم جھیل کر ’’صبر‘‘ کی قوت سے انہیں کمزور بلکہ ’’بے نام‘‘ کردیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاغذی شیر

بھارتی فوج نے اپنی ’’تشہیر‘‘ بعنوان دیگر ’’بدنامی‘‘ کے لیے جو طرز ایجاد کیا ہے، اب وہ وہاں کی پولیس نے بھی سیکھ لیا ہے۔ دیوالی کی رات بھوپال کی محفوظ ترین سینٹرل جیل سے ’’ممکنہ‘‘ دہشت گرد فرار ہوئے، آٹھ تو گھنٹے تک جیل کے پاس ہی چھپے رہے اور پھر بھارت کی بہادر ترین پولیس نے پولیس مقابلے کے بعد انہیں مار ڈالا۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بھارتی پولیس کتنی منظم، پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مالا مال اور اس کی انٹیلی جنس کتنی باخبر ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حزب اختلاف بار بار پوچھ رہی ہے کہ یہ بھاگے تھے یا بھگائے گئے تھے؟ کچھ نالائق صحافی یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ ابھی تو ان نوجوانو ںپر مقدمہ ہی چل رہا تھا۔ نہ انہیں بھاگنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی ان کو تصادم میں لازماً مارنے کی۔ کچھ ملک دشمن عناصر یہ بھی بات کررہے ہیں کہ واقعے کے بعد بنائی گئی فوٹیج جعلی لگ رہی ہے۔ یہ سوال بھی دماغ میں گردش کررہا ہے کہ اتنے ماہر لوگ جنہوں نے پولیس کے دعوے کے مطابق لکڑی اور ٹوتھ برش سے چابیاں اور بیڈ شیٹوں کو جوڑ کر رسیاں بنائیں اور پھر پولیس کو چکما دے کر نکل گئے، باہر جاتے ہی اتنے بونگے کیسے ہوگئے کہ اسی علاقے میں اجتماعی طو رپر چھپے رہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاسی ہلچل

اسلام آباد میں ایک اور دھرنے اور دارالحکومت کو بند کرنے کی کوششوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اُٹھادیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مثالی تعلقات کیا ہونے چاہییں؟ یہ سوال اسلامی علوم کے شہسواروں سے بھی پوچھا جانا چاہیے اور ماہرین قانون سے بھی۔ حکومت کے ذمے قانون بنانے اور نظام کو چلانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر وہ دفاعی پوزیشن میں رہے گی یا اپنے اقدامات اور نیک نیتی کے ثبوت پیش کرتی رہے گی تو کام کیسے کرے گی؟ اسی طرح دوسری طرف سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنے ذاتی کردار میں کمزور ہو اور اسے مجبوراً دفاعی رویے اختیار کرنے پڑتے ہوں تو کیا ان کے لیے حکومت جاری رکھنے کا جواز ہے یا انہیں کسی بہتر متبادل کی جانب بڑھ جانا چاہیے؟ \

 

مزید پڑھیے۔۔۔

انسانیت کی خیر

قانون کی کتابوں میں لکھا ہے کہ قانون سب سے پہلے رومن یا دوسرے لفظوں میں یورپ کی ایجاد ہے۔ انہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ قانون کا بانی ’’Father Of Jurisdiction‘‘ جرمی بینتھم (Jeremy Bentham) تھا، جو 1748ء میں پیدا ہوا۔ 18 ویں صدی میں قانون سے تعارف حاصل کرنے والی یورپی قومیں آج ناز کرتی ہیں کہ دنیا کو قانون کا تحفہ ہم نے دیا اور ان کے مشرقی متاثرین بھی اسی بات پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں۔ اسی لیے انگریزی یا فرنچ قانون اکثر سابقہ نوآبادیوں میں اب تک رائج ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فقہ اسلامی تو ساتویں صدی عیسوی میں ہی مکمل مدون ہوچکی تھی۔ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بابائے قانون نے جو کچھ بھی قانون کے بارے میں فلسفے بیان کیے وہ انتہائی خام حالت میں تھے۔ اس کے بنائے ہوئے خاکے پر اس کے شاگرد آسٹن نے سب سے پہلے ہاتھ صاف کیا۔ پھر آنے والے تمام فلسفی ہالینڈ، پولاک وغیرہ اس پر نظرثانی کرتے رہے۔ ہر ایک فلسفی پچھلی بات پر کھل کر رد کرتا تھا۔ کوئی حاکم وقت کی ہر بات کو قانون کہتا تھا۔ کوئی قانون میں فطرت سے مدد لینے کی بات کرتا تھا۔ کوئی معاشرے کی خواہشات کو اصل مدار قرار دیتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخی فرق

جنگیں مہذب قومیں صرف اس وقت کرتی ہیں جب وہ ناگزیر ہوں۔ مہذب اور متمدن قومیں جانتی ہیں کہ دہائیوں میں حاصل کی گئی تمدنی ترقی صرف ایک دن کی جنگ سے ختم ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے ایسا قدم خوب سوچ سمجھ کر اور غو رکرکے ہی اٹھایا جاتا ہے۔ ہاں! جنگ جب ناگزیر ہوجائے تو مہذب قومیں اس میں جان کی بازی بھی ضرور لگاتی ہیں، کیونکہ اب یہ ترقی سے بڑھ کر ’’بقا‘‘ کا معاملہ بن چکا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ جس طرح انسانی جسم پر غیرضروری ناخن اور بالوں کو ہم ہر ہفتے صاف کرکے انسانی جسم کو صحت مند اور خوب صورت بناتے ہیں۔ گھر کے اندر زائد چیزو ںکو اسٹور میں پہنچاکر یا کباڑیے کو بیچ کر ہم گھر کو صاف ستھرا اور پرفضا بناتے ہیں۔ ملکی امن میں خلل ڈالنے والے ڈاکوئوں اور رشوت خوروں کی صفائی ہم حدود، قصاص اور تعزیرات کے ذریعے کرکے معاشرے کو صحت مند بناتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بین الاقوامی طور پر شرپسند اور سر پھری قوموں کو ’’جنگ‘‘ کے ذریعے ٹھیک کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ معاملہ اس سے پہلے ٹھیک ہوسکے تو اسے وہیں حل کرلینا چاہیے، کیونکہ جنگ کی ہولناکیاں بہرحال ناقابل تحمل رہتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پرفیکٹ کمپٹیشن

’’کشمیر کے مسئلے پر اگر پاکستان کی نہ سنی گئی تو اس کا جھکائو چین اور روس کی جانب ہوجائے گا۔ امریکا اب عالمی طاقت نہیں ہے۔ اس کی طاقت کم ہورہی ہے۔ امریکا کو بدلتے ہوئے علاقائی توازن کو سمجھنا ہوگا۔‘‘ امریکی تھنک ٹینکس کے ایوانوں میں گونجنے والی اس آواز کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک جدید اور مؤثر اسلوب کے طو رپر دیکھا جائے گا۔ شاہد حسین جو پاکستان کے چند پڑھے لکھے اور مؤثر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں میں شامل ہیں، آج کل وزیراعظم کے خصوصی ایلچی کے طور پر امریکا کے دورے پر ہیں۔ وہ کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے موقف کو واضح کرنے اور اس پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے مشن پر ہیں۔ ان کے ساتھ رکن قومی اسمبلی شزرا منصب بھی ہیں۔

خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہمیشہ ’’ملکی مفاد‘‘ ہوتا ہے۔ بظاہر پاکستان بھی اپنی خارجہ پالیسی کو اسی مرکزی نکتے کے ساتھ مربوط رکھنے کی کوشش کرتا آیا ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی من مانیوں اور بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کی وجہ سے پاکستان کے لیے ’’ملکی مفاد‘‘ حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔