• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

قطر سے سیکھیں!

قطر ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ صرف 20 لاکھ آبادی، مختصر رقبے اور غیراہم محل وقوع کی وجہ سے اس کی سیاسی حیثیت کی کوئی زمینی وجہ نہیں ہے۔ پھر امریکا کو مستقل اڈے دینے کی وجہ سے اس کی شناخت ایک کٹھ پتلی حکومت کی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے حکمرانوں کی بصیرت کہ انہوں نے بڑی طاقتوں کی مخالف مول لینے کی بجائے اپنے نظام کو مضبوط کرنے پر ساری توجہ مرکوز رکھی۔ چنانچہ قطر اپنے منفرد انفراسٹرکچر کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز ہے۔ اس کے نظام میں غیرملکیوں کے لیے بے حد دلچسپیاں موجود ہیں، چنانچہ دنیا بھر کے اچھے دماغ اور ماہرین یہاں کام کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ پھر میڈیا کے میدان میں قطر کے الجزیرہ نے CNN اور BBC جیسے مغربی چینلز کو برابر کی ٹکر دے رکھی ہے۔ یوں قطر اپنے چھوٹے سے وجود کے باوجود بے انتہا سیاسی اہمیت کا حامل ملک بن گیا ہے۔ اس کے حکمران آزاد خارجہ پالیسی کے تحت دنیا کے مختلف ایشوز پر آزادانہ رائے رکھتے ہیں۔ وہ حماس اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد و نصرت بھی باوقار اور قانونی ذرائع سے کررہے ہیں تو شام کے مہاجرین کو سنبھالنے کے لیے ترکی کا بھی دست و بازو ہیں۔ شیخ یوسف قرضاوی جیسی کئی علمی شخصیات جنہیں حق گوئی کی وجہ سے اپنے ملکوں سے دربدر ہونا پڑا، قطر کی میزبانی کا لطف اٹھارہے ہیں۔ قطر کے حکمران خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے

مزید پڑھیے۔۔۔

بدی کا چکر

حضرت تھانویؒ نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ گوشت مہنگا ہوگیا ہے تو اسے سستا کرنا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ کھانا چھوڑ دو تو نرخ گرجائیں گے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی کھانا کیسے چھوڑے؟ بس اسی وجہ سے مہنگائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ آج بھی دیکھا جائے تو مہنگائی کا رونا ضرور رویا جاتا ہے، لیکن اپنی خواہشات میں کمی نہیں کی جاتی۔ جس کے بس میں ہوتا ہے وہ ضرور خریدتا ہے۔ جس کا حلال پر بس نہیں چلتا تو وہ رشوت وغیرہ سے حرام مال حاصل کرکے خریدتا ہے۔ اور جو حرام سے بچتا ہے وہ بسا اوقات اپنا بھرم برقرار رکھنے کے لیے ادھار یا قرض لے کر خریدتا ہے۔ نہ خریدنے کا خیال صرف اسے آتا ہے جو ان میں سے کوئی جائز یا ناجائز طریقہ اختیار نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو گاہک بآسانی دستیاب ہوجاتے ہیں اور بدی کا منفی چکر چلتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال کی تلاش

ایک زمانہ تھا کہ حلال و حرام کا مسئلہ زیادہ تر ’’ذبیحہ‘‘ (Slaughtering) تک محدود تھا۔ خنزیر کا تو لوگ نام بھی لینا برداشت نہیں کرتے تھے۔ اندرون ملک کے ذبیحے اور مقامی مصنوعات تو ویسے ہی حلال ہی تصور کی جاتی تھیں۔ اسی طرح بیرون ملک سے آنے والی دیگر پروڈکٹس کو بھی بہت زیادہ کھنگالنے کی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ البتہ بیرون ممالک سے اگر کوئی گوشت کی پروڈکٹ آتی تو تحقیق ضروری سمجھی جاتی، گویا حلال کے حوالے سے کوئی تشویش یا خدشہ موجود نہ تھا، لیکن صنعتی ترقی اور گلوبلائزیشن کے عمل نے اب ہر چیز کو مشکوک اور قابل تحقیق بنادیا ہے۔ آئیے! پہلے تھوڑا صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس کا حل ڈھونڈتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

استقبال رمضان… مگر کیسے؟

اپنے کام کو سلیقے سے کرنا ہمیشہ سے پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔ خود سیرت میں اس نوع کی بے شمار روایتیں موجود ہیں۔ قرآن کریم نے ان اللہ یحب المحسنین (اللہ تعالیٰ خوبتر کام کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) کے ذریعے ہمیں سلیقے اور نظم کی تعلیم دی ہے۔ آج کل اسی سلیقے اور ترتیب سے کام کرنے کو ’’پروفیشنلزم‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب سے ’’MBA‘‘ کا دور شروع ہوا تو اسے باقاعدہ منظم طریقے سے پڑھایا جانے لگا۔ یعنی اگر آپ نے خط و کتابت کرنی ہے تو اس تحریر کا اسلوب کیا ہو؟ الفاظ کا انتخاب کیسے ہو؟ تحریر میں کوئی پیچیدگی نہ رہ جائے۔ جامعیت کے ساتھ توضیح بھی ضرور ہو وغیرہ۔ اسی طرح اگر آپ نے گفتگو کرنی ہے تو مجمع دیکھ کر بات کی جائے۔ آپ کی باڈی لینگویج مناسب ہو۔ آپ کے چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھائو موضوع اور موقع کے مناسب ہو وغیرہ۔ اگر آپ دفتر جارہے ہیں تو آپ کا لباس کیسا ہو؟ استری کے کیا قواعد ہیں؟ ٹائی کیسے باندھی جائے؟ جوتے کس نوعیت کے ہوں؟ کلر کمبینیشن کیسا ہو؟ وغیرہ چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب صبح صبح کوئی چپڑاسی بھی گھر سے نکلتا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

بچوں کی تربیت

اس بات میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا کہ نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی تربیت کے لیے بہترین حکمت عملی اختیار کی ہوگی، لیکن اس حقیقت سے بھی سب واقف ہیں کہ وہ نتیجہ خیز نہ ہوسکی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بہترین جماعت تیار کی اس کے نتیجے میں خود صحابہ کرام کے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اب آیندہ لوگ ہدایت ہی پر رہیں گے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی کہ عنقریب بے جا اقربا پروری کا زمانہ آنے والا ہے تو صحابہ کرام نے شدید حیرانی ظاہر کی۔ اسی طرح جب مسلمانوں کے اوپر کفار قوموں کے ایسے جھپٹنے کی پیش گوئی فرمائی کہ جیسے لوگ دسترخوان پر ایک دوسرے کو دعوت دے کر کھانے پر آمادہ کرتے ہیں تو بھی صحابہ کرامؓ کو یہ خیال نہ گزرا کہ امت کے ایمان کمزور ہوچکے ہوں گے، بلکہ وہ یہ سمجھے کہ مسلمان بہت تھوڑے رہ گئے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ نہیں تم تو بہت کثرت سے ہوگے، لیکن سمندر کی جھاگ کی طرح بے شان و شوکت کیونکہ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پھیل چکی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ نوح علیہ السلام کی وضع کردہ حکمت عملی ہو یا سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر اور پرحکمت تربیت، زمانہ گزرنے سے اس کے اثرات بدل جاتے ہیں۔ چند نسلوں کے بعد اس کا اثر مضمحل ہوجاتا ہے۔ کئی صدیوں کے بعد اس کے اثرات کم ہوچکے ہوتے ہیں اور ایک دہائی کے بعد تو اس کے اثرات کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

زیادہ جمہوری، زیادہ اسلامی

آج ترکی میں طیب اردگان سب سے زیادہ بااختیار حاکم کی حیثیت سے جلوہ افروز ہیں۔ انہیں یہ غیرمعمولی اختیارات ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں۔ بالکل اسی طرح کے اختیارات امریکی صدر کو بھی حاصل ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام بھی پارلیمانی نظام کی طرح ایک جمہوری طریقۂ کار ہے جس پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکا میں صدیوں سے عمل ہورہا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ پارلیمانی کے مقابلے میں زیادہ جمہوری ہے، کیونکہ اس میں فیصلہ سازی کی قوت براہِ راست عوامی ووٹ سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ پارلیمانی نظام میں عوام نے جس مقصد کے لیے ووٹ دیا ہوتا ہے، اس کے برخلاف منتخب لوگ نظریۂ ضرورت یا مفاہمت کے تحت دوسری پارٹیوں سے اتحاد کرلیتے ہیں۔ اور عوام کی منشا نسیا منسیا ہوجاتی ہے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ طیب اردگان نے ایک کم جمہوری طریقۂ حکومت کو زیادہ جمہوری طریقۂ حکومت سے بدل دیا ہے۔ افسوس اس کے باوجود ان پر مغرب اور مغرب زدہ لوگوں کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید ’’آمریت‘‘ یا ’’غیرجمہوری طرزِ عمل‘‘ پر کی جارہی ہے اور بظاہر یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سرمایۂ افتخار

تعلیمی ادارے قوم کو بنیادی فکر اور سوچنے سمجھنے کے زاویے عطا کرتے ہیں۔ یہ زاویے درست ہوں تو قوم بلارکاوٹ ترقی کرتی چلی جاتی ہے، اگر غلط ہوں تو پستیوں سے آشنا ہوجاتی ہے اور اگر واضح نہ ہوں تو قوم دگرگوں کی کیفیت سے دوچار رہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات عالی کو ’’معلم‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ’’صفہ‘‘ اور ’’مسجد نبوی‘‘ کے تعلیمی اداروں کے ذریعے قوم کی تربیت کی اور انہیں سوچنے کے ممتاز و منفرد زاویے عطا کیے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بدو قوم جس نے آج تک متمدن ماحول میں زندگی نہ گزاری تھی، نہ صرف قیصر و کسریٰ پر فتح پاگئی، بلکہ ان کی تہذیب کے مقابلے میں اپنی تہذیب و تمدن کو مکمل اعتماد کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلانے نکل گئی۔ یہ جرأت و حوصلہ اسی تعلیمی ادارے کا مرہون منت تھا۔ قوم کے افراد بلند حوصلگی، مستقل مزاجی، رواداری، کفر سے نفرت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جان دینے کے جذبات کے ساتھ شہری زندگی کے بیش بہا آداب اور معاشرے کے دیگر طبقات سے مثالی تعلقات رکھنے کے فن سے بھی پوری طرح آشنا تھے۔ بحیثیت قوم ان کے دیرپا اثرات ساری عرب دنیا، روس کے جنوبی اور افریقہ کے شمالی علاقوں میں آج تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تو تعلیمی ادارے کی کامیاب کاوش کی ایک مثال ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیا ظلم

یورپ نے اپنے تاریخی مظالم سے دامن چھڑانے کے لیے کافی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج اس کا شمار مہذب قوموں میں کیا جاتا ہے۔ جب اسلام آیا تھا تو یورپ ظلمت کا شکار تھا۔ وہاں مذہبی پیشوائوں کی سرکردگی میں ظلم کیے جاتے تھے۔ عورتیں غلاموں سی زندگی گزارتی تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا ’’تلافی‘‘ کا عقیدہ انہیں گناہوں کے ارتکاب میں آزاد کرچکا تھا۔ پھر مذہبی پیشوا بھی ہر اتوار کی عبادت کے دوران گناہ معاف کرسکتے تھے۔ یوں سفید چمڑے اور خوبصورت چہرے والے درندے اپنا اور دنیا کا امن تباہ کرنے میں مصروف تھے۔ پھر یورپ کا عہد تاریک اپنے عروج پر پہنچا۔ بادشاہوں او رکلیسا کے خلاف بغاوتیں ہوئیں۔ چند فلسفی دانشوروں نے اس بغاوت کی فکری قیادت کی۔ یوں عوامی انقلابات شروع ہوئے اور یورپ نے مذہب سے رہائی حاصل کرلی۔ یوں منحرف شدہ مذہب کی روشنی میں اور تلافی کے تصور کی وجہ سے ہونے والے مظالم کم ہونا شروع ہوگئے۔ ظالم بادشاہوں سے اختیارات چھین لیے گئے اور انہیں علامتی عہدے پر منتقل کردیا گیا۔ ظلم کے مقابلے میں حقوق دینے کی باتیں شروع ہوئیں۔ انسان کے حقوق سوچے گئے، خواتین اور بچوں کے حقوق، نایاب جانوروں کی نسلوں کے حقوق، ماحول کے حقوق، تعلیم کا حق، صحت کا حق… یوں حقوق کے قوانین او راس کی علمبردار انجمنوں کا ایک نہ ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مردم شناسی سے مردم شماری تک

’’ایک شخص کا کھانا دو افراد کے لیے کافی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ الہامی کلام ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی نظم میں کم وسائل سے بہت سہولت سے گزارہ ہوجاتا ہے۔ پھر یہ حقیقت مشاہدہ بھی ہے۔ ایک شخص ہوٹل سے کھانا کھاتا ہے تو کافی خرچہ آتا ہے، لیکن جب اتنے ہی خرچ سے گھر میں کھانا بنتا ہے تو کئی افراد کھالیتے ہیں۔ شادی یا دیگر تقریبات میں فی کس کھانے کا خرچہ بنسبت ایک دو افراد کی دعوت کے کافی کم ہوتا ہے۔ یہ اور ایسی کئی مثالیں اس حدیث کے مفہوم کی بھرپور تصدیق کرتی ہیں، لیکن ان سب صورتوں میں کم از کم یہ پتہ ہونا بہرحال ضروری ہے کہ کل افراد ہیں کتنے؟ ایک کا کھانا دو کے لیے ضرور کافی ہے، لیکن کل افراد اگر شمار نہ کیے

مزید پڑھیے۔۔۔

’’ترقی کا راز‘‘

’’خیریت تو ہے آپ بالکل وقت پرپہنچے؟‘‘ Time Focused کمپنی کے CEO کے جملے نے زاہد صاحب کو حیرت زدہ کردیا۔ Time Focused کمپنی مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والی کنسلٹینسی کمپنی تھی۔ ملک کے بہت سے معروف ٹرینرز اس کو جوائن کرنا چاہ رہے تھے۔ زاہد صاحب بھی اسی صف میں شامل تھے۔ انہوں نے نئی نئی یہ کمپنی جوائن کی تھی۔ یہ کمپنی مارکیٹ میں سب سے آگے شمار ہوتی تھی۔ آج ان کی ایک اہم میٹنگ تھی۔ وقت کی اہمیت سے تو زاہد صاحب پہلے سے واقف تھے اور ہمیشہ وقت پر پہنچنے کا اہتمام کرتے تھے۔ آج بھی انہوں نے بہت سی مصروفیات کو موخر کرکے وقت پر پہنچنے کا اہتمام کیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ان کے میٹنگ میں وقت پر پہنچنے کو سراہا جائے گا، لیکن ان کے نئے باس کے جملے نے ان کو حیران کردیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انمٹ فلسفہ

شدت پسندوں کی شدت پسندوں سے خوب نبھتی ہے۔ مودی جی نے اوباما کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فطری اتحاد کو فروغ دینے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی حکومت آنے سے پہلے ہی فلسطین کی آزادی کے خلاف اپنے منفی عزائم کا اظہار شروع کردیا تھا اور اب دونوں راہنما مل کر دنیا کو بتارہے ہیں کہ آج تک دنیا غلط سوچتی آئی ہے۔ اب انہیں ہماری عینک سے دنیا کو دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح مودی جی بھی اگلے ماہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بھارت عرب ممالک سے تعلقات بحال رکھنے کے لیے فلسطین کا حامی تھا۔ یاسر عرفات کو اندرا گاندھی اپنا بھائی کہتی تھی، درپردہ اسرائیل سے تعلقات بنائے جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ بھارت نے فلسطین پر اپنے موقف میں لچک پیدا کی اور اس کا پلڑا اسرائیل کی طرف جھکتا رہا۔ مودی سرکار کیونکہ اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کرنے کے قائل ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ان کا فطری جوڑ بیٹھتا ہے، اس لیے انہوں نے کھل کر اسرائیل کی طرف داری ضروری خیال کی اور اب وہ چند دنوں میں اسرائیل کا اعلانیہ دورہ کرنے والے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ کے غیرمتوقع طور پر صدر بننے سے ساری دنیا فکرمند ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔