• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نیا ظلم

یورپ نے اپنے تاریخی مظالم سے دامن چھڑانے کے لیے کافی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج اس کا شمار مہذب قوموں میں کیا جاتا ہے۔ جب اسلام آیا تھا تو یورپ ظلمت کا شکار تھا۔ وہاں مذہبی پیشوائوں کی سرکردگی میں ظلم کیے جاتے تھے۔ عورتیں غلاموں سی زندگی گزارتی تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا ’’تلافی‘‘ کا عقیدہ انہیں گناہوں کے ارتکاب میں آزاد کرچکا تھا۔ پھر مذہبی پیشوا بھی ہر اتوار کی عبادت کے دوران گناہ معاف کرسکتے تھے۔ یوں سفید چمڑے اور خوبصورت چہرے والے درندے اپنا اور دنیا کا امن تباہ کرنے میں مصروف تھے۔ پھر یورپ کا عہد تاریک اپنے عروج پر پہنچا۔ بادشاہوں او رکلیسا کے خلاف بغاوتیں ہوئیں۔ چند فلسفی دانشوروں نے اس بغاوت کی فکری قیادت کی۔ یوں عوامی انقلابات شروع ہوئے اور یورپ نے مذہب سے رہائی حاصل کرلی۔ یوں منحرف شدہ مذہب کی روشنی میں اور تلافی کے تصور کی وجہ سے ہونے والے مظالم کم ہونا شروع ہوگئے۔ ظالم بادشاہوں سے اختیارات چھین لیے گئے اور انہیں علامتی عہدے پر منتقل کردیا گیا۔ ظلم کے مقابلے میں حقوق دینے کی باتیں شروع ہوئیں۔ انسان کے حقوق سوچے گئے، خواتین اور بچوں کے حقوق، نایاب جانوروں کی نسلوں کے حقوق، ماحول کے حقوق، تعلیم کا حق، صحت کا حق… یوں حقوق کے قوانین او راس کی علمبردار انجمنوں کا ایک نہ ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مردم شناسی سے مردم شماری تک

’’ایک شخص کا کھانا دو افراد کے لیے کافی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ الہامی کلام ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی نظم میں کم وسائل سے بہت سہولت سے گزارہ ہوجاتا ہے۔ پھر یہ حقیقت مشاہدہ بھی ہے۔ ایک شخص ہوٹل سے کھانا کھاتا ہے تو کافی خرچہ آتا ہے، لیکن جب اتنے ہی خرچ سے گھر میں کھانا بنتا ہے تو کئی افراد کھالیتے ہیں۔ شادی یا دیگر تقریبات میں فی کس کھانے کا خرچہ بنسبت ایک دو افراد کی دعوت کے کافی کم ہوتا ہے۔ یہ اور ایسی کئی مثالیں اس حدیث کے مفہوم کی بھرپور تصدیق کرتی ہیں، لیکن ان سب صورتوں میں کم از کم یہ پتہ ہونا بہرحال ضروری ہے کہ کل افراد ہیں کتنے؟ ایک کا کھانا دو کے لیے ضرور کافی ہے، لیکن کل افراد اگر شمار نہ کیے

مزید پڑھیے۔۔۔

’’ترقی کا راز‘‘

’’خیریت تو ہے آپ بالکل وقت پرپہنچے؟‘‘ Time Focused کمپنی کے CEO کے جملے نے زاہد صاحب کو حیرت زدہ کردیا۔ Time Focused کمپنی مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والی کنسلٹینسی کمپنی تھی۔ ملک کے بہت سے معروف ٹرینرز اس کو جوائن کرنا چاہ رہے تھے۔ زاہد صاحب بھی اسی صف میں شامل تھے۔ انہوں نے نئی نئی یہ کمپنی جوائن کی تھی۔ یہ کمپنی مارکیٹ میں سب سے آگے شمار ہوتی تھی۔ آج ان کی ایک اہم میٹنگ تھی۔ وقت کی اہمیت سے تو زاہد صاحب پہلے سے واقف تھے اور ہمیشہ وقت پر پہنچنے کا اہتمام کرتے تھے۔ آج بھی انہوں نے بہت سی مصروفیات کو موخر کرکے وقت پر پہنچنے کا اہتمام کیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ان کے میٹنگ میں وقت پر پہنچنے کو سراہا جائے گا، لیکن ان کے نئے باس کے جملے نے ان کو حیران کردیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انمٹ فلسفہ

شدت پسندوں کی شدت پسندوں سے خوب نبھتی ہے۔ مودی جی نے اوباما کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فطری اتحاد کو فروغ دینے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی حکومت آنے سے پہلے ہی فلسطین کی آزادی کے خلاف اپنے منفی عزائم کا اظہار شروع کردیا تھا اور اب دونوں راہنما مل کر دنیا کو بتارہے ہیں کہ آج تک دنیا غلط سوچتی آئی ہے۔ اب انہیں ہماری عینک سے دنیا کو دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح مودی جی بھی اگلے ماہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بھارت عرب ممالک سے تعلقات بحال رکھنے کے لیے فلسطین کا حامی تھا۔ یاسر عرفات کو اندرا گاندھی اپنا بھائی کہتی تھی، درپردہ اسرائیل سے تعلقات بنائے جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ بھارت نے فلسطین پر اپنے موقف میں لچک پیدا کی اور اس کا پلڑا اسرائیل کی طرف جھکتا رہا۔ مودی سرکار کیونکہ اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کرنے کے قائل ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ان کا فطری جوڑ بیٹھتا ہے، اس لیے انہوں نے کھل کر اسرائیل کی طرف داری ضروری خیال کی اور اب وہ چند دنوں میں اسرائیل کا اعلانیہ دورہ کرنے والے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ کے غیرمتوقع طور پر صدر بننے سے ساری دنیا فکرمند ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیا ایشو!

’’میری بیوی مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ خرچے بھی زیادہ کرواتی ہے اور اطاعت بھی بہت کم ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ دوسری شادی کرلوں!‘‘ احمد صاحب نے بالآخر مدعا بیان کرہی دیا۔ موصوف گھریلو حالات سے پریشان تھے اور مناسب مشورے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ کچھ دیر وہ اپنے پریشان کن گھریلو حالات بیان کرتے رہے اور پھر انہوں نے خود ہی حل تجویز کیا کہ میں دوسری شادی کرلیتا ہوں۔ بندہ نے جواباً عرض کیا: ’’دیکھیں! ایک اصول ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ کسی ایشو کو ختم کرنے کے لیے نیا ایشو نہ چھیڑا کریں۔‘‘ میں نے مزید سمجھایا: ’’دیکھیں! ایک سے زیادہ شادی کرنا جائز اور مسنون ہے، لیکن اس وقت آپ اسے سنت کی نیت سے نہیں کررہے، بلکہ اپنی اہلیہ کا دماغ ٹھیک کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسا کرنا آپ کے پچھلے ایشو کو تو شاید حل نہ کرے، لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ بلاسوچے سمجھے دوسری شادی آپ کے لیے ایک مستقل اور نیا ایشو بن جائے گا، لہٰذا سردست آپ پہلی بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی کے لیے تدابیر اختیار کریں اور جب اطمینان ہو تو سنت کی نیت سے دوسری شادی بھی ضرور کریں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک پیج پر

اچانک دھماکوں کی لہر نے وطن عزیز کے باسیوں کے امن کے حوالے سے متفکر کردیا ہے۔ آور ان اور ڈیرہ اسمعیل خان میں فوجی قافلے پر حملے اور لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش دھماکے نے ساری مشینری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ 5 دنوں میں دہشت گردی کی 9 کارروائیاں ہوئی ہیں اور مجموعہ شہداء 100 سے تجاوز کرگیا ہے۔ دھماکوں کے لیے ایک جانب سافٹ ٹارگٹس کا انتخاب کیا گیا ہے تو دوسری جانب تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ فرقہ وارانہ معاملہ ہے۔ دولت اسلامیہ کے قبول کرنے سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ اس کی جڑیں پاکستان میں گہری ہوتی جارہی ہیں، لیکن اہم اور خوش کن بات یہ ہے کہ فوج اور حکومت ان باتوں سے متاثر ہونے کے بجائے اصل محرکات کو ختم کرنے میں مصروف ہیں، چنانچہ وزیراعظم نے یہ بات واضح طورپر کہی ہے کہ مزار پر حملہ ترقی پسند پاکستان پر ہے۔ ایسے واقعات سے خود کو تقسیم نہ ہونے دیں گے۔ ملک کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔ آرمی چیف نے بھی کہا کہ دہشت گرد افغانستان میں منظم ہورہے ہیں، قوم پرسکون رہے، قوم کے خون کا بدلہ جلد لیں گے۔ حکومت نے افغان سرحد طورخم اور چمن دونوں جگہ سے عارضی طور پر مکمل بند کردی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجدید

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ علمیت اتنی پختہ تھی کہ ہر فتویٰ پر دلائل اور حوالاجات کی ایک لمبی فہرست ہوا کرتی تھی۔ عمل میں پختگی ایسی تھی کہ بارہا فرمایا کہ یہاں (ادارے میں) سب کام سوچ کر کیے جاتے ہیں، لہٰذا کوئی بات خلافِ شرع محسوس ہو تو ضرور پوچھا کریں۔ استغناء ایسا کہ مالدار لوگ لاکھوں روپے کے عطیات دینے کے باوجود ایک عام سامع کی حیثیت رکھتے تھے، جبکہ تواضع ایسی کہ اسی مجلس میں بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس علماء و طلبہ کو حضرت قریب کی نشستوں پر اکرام سے بٹھاتے اور مصافحہ کرتے تھے۔ علمیت، عملیت، استغناء اور تواضع ایسی صفات ہیں کہ جس میں جمع ہوجائیں اسے دنیا کی ملامت کا ڈر نہیں رہتا۔ حضرت کے اندر بھی یہ اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ جس چیز کو آپ دین سمجھتے اس پر پورے یقین کے ساتھ جم جاتے تھے۔ اگر کسی چیز کے بارے میں دلائل سے سمجھتے کہ اب زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ضروری ہوچکی ہے تو کسی کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اسے فوراً شروع کردیتے۔ آپ کی نظر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بارے میں پس و پیش کی ذرہ برابر گنجائش نہ تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدیوں کی سوچ

اداروں کا دوام عمارتوں اور سہولیات سے نہیں، رجال کار اور نظریاتی پختگی سے وابستہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال پیدا کیے تو آپ کے وصال کے محض کچھ دہائیاں بعد تمام متمدن دنیا اسلام کے زیرنگیں تھی۔ مجدد الف ثانیؒ نے رجال پر محنت کی تو نہ صرف جلال الدین اکبر ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا، بلکہ اس کی نسلوں میں اورنگزیب جیسے علماء پیدا ہوئے۔ شاہ ولی اللہؒ نے رجال تیار کیے تو آج برصغیر کے تمام علمی سلسلے ان سے نسبت کے مدعی ہیں اور ان کی تعلیمات کا اثر پورے ہندو پاک میں واضح ہے۔ دیوبند نے رجال پیدا کیے تو آج اس کا فیض چہار دانگ عالم پھیلا ہو ہے، حالانکہ اس کا آغاز تو انار کا ایک درخت ہی تھا۔ مولانا الیاسؒ نے رجال پیدا کیے تو آج دنیا کا کوئی ملک ان کی تعلیمات سے خالی نہیں ہے۔ تبلیغی اجتماعات کا ایسا روح پرور سلسلہ چل نکلا کہ اس مجمع کو دیکھ کر ہی لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔ الحمدللہ! جامعۃ الرشید کے ارباب نظر و فکر کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سنت کو زندہ کرنے کی توفیق دی اور انہوں نے بھی رجال سازی کے کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ جامعۃ الرشید نے اپنے طلبہ کو جہاں فکر و نظر میں اونچی سوچ دینے کے لیے اکابر کی سوانح، کامیاب دینی تحریکات، اسلامی سلطنتوں کے سقوط اور تاریخ کے کامیاب قائدین سے متعارف کروایا، وہیں ان طلبہ کو مستقبل کے اہم چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کے لیے ضروری مہارتوں: تقویٰ، علمی استعداد، ابلاغی و تنظیمی صلاحیت، نیز مروجہ ٹیکنالوجی اور زبانوں سے واقفیت کو بھی یقینی بنایا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شکریہ ٹرمپ

آج تک مغرب کا دعویٰ رہا ہے کہ مسلمان ’’تشدد‘‘ پسند ہیں۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کے حقوق موجودہ عالمی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اسلام میں 10 سالہ بچے کو مار کر نماز پڑھائی جاتی ہے۔ عورت کو باپ اور شوہر کی اجازت کے بغیر سفر اور دیگر معاشرتی معاملات سے منع کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ شوہر کے لیے بیوی کو مارنے کی بھی اجازت ہے۔ اسلام میں غلامی کا تصور ہے۔ اسلام میں جہاد کے ذریعے کفار پر تشدد کیا جاتا ہے۔ مرتد کو قتل کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں کو دوسرے درجے کے حقوق دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف مغرب کا چہرہ یوں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔ وہ انسانی حقوق اور جمہوری رویوں کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں لڑرہا ہے۔ مغرب میں خواتین کو مکمل آزادی ہے۔ چائلڈ لیبر منع ہے۔ بے روزگاروں کو الائونسز دیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک کے آزاد فکر لوگوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ غرض! مغرب امن کا شیدائی اور سفارت کار ہے۔ اسلامی شدت پسندی سے دنیا میں جوتشدد پھیل رہا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

فیصلے کی مار

عرب کا معاشرہ شراب کا عادی تھا۔ صحابہ کرامؓ بھی ابتدائی زمانے میں اس معاشرتی عادت بد کا شکار رہے۔ شراب کے بغیر ان کی کوئی محفل مکمل نہ ہوتی تھی۔ ایسے میں اسلام نے آہستہ آہستہ شراب کی خرابیاں گنوانا شروع کی گئیں۔ بتایا گیا کہ کم از کم نماز میں نشے کی حالت نہ ہو۔ واضح کیا گیا کہ اس کے نقصانات فوائد پر غالب ہیں۔ رفتہ رفتہ صحابہ کرامؓ ذہنی طور پر تیار ہوگئے کہ اب اسے چھوڑنا پڑے گا، لیکن معاشرتی عادت اتنی آسانی سے کہاں چھوٹتی ہے، چنانچہ ابھی بھی ان کے گھروں میں شراب بنانے اور رکھنے کے برتن اور بڑی تعداد مقدار میں شراب پڑی رہتی تھی۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر شراب کو حرام قرار دے دیا۔ احادیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس فیصلے کو صحابہ کرامؓ نے اس شان سے قبول کیا کہ مدینے کی گلیوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے خاص برتن بھی منع کردیے۔ یوں شراب کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اس سے تعلق بھی تنفر بھی بدلنے لگا۔ پھر جب دیکھا کہ یہ سعادت مند معاشرہ شراب کی حرمت اور اس کی قباحتوں کو سمجھ چکا ہے، تو آپ نے برتنوں کو پاک کرکے استعمال کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس قسم کے مقبول فیصلے سیرت میں جابجا ملتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

علامتی اقدامات

خوشی کے مواقع پر بعض خرچے علامتی ہوتے ہیں۔ ایسے خرچوں کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ یہ محبت کا اظہار ہے۔ تحفے پر جو قیمتی کاغذ اور دیگر پیکنگ کی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں، حجلہ عروسی کو جو خوبصورت اور خوشبودار چیزوں سے آراستہ کیا جاتا ہے، مہمانوں کی آمد پر جو توپوں کی سلامتی دی جاتی ہے، یہ سب علامتی اقدامات ہوتے ہیں جن کا مقصد محبت اور تعلق کا اظہار ہوتا اور بس۔ اس سے زیادہ اس کی توجیہ کرنا تکلف ہوگا جسے ہر کوئی محسوس کرتا ہے۔ البتہ اس قسم کے علامتی اقدامات میں دو امور کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس میں اسراف یعنی اپنی بساط سے بڑھ کر خرچہ نہ کیا جائے۔ دوسرے اس کی وجہ سے کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہو۔ چنانچہ شادی کے موقع پر قرضے لے کر خرچے کرنا یا فائرنگ اور آتش بازی کرنا پسندیدہ نہیں، کیونکہ اس میں مذکورہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر جب دوست ملک کا سربراہ یا کوئی بڑی مذہبی شخصیت کا استقبال ہو تو یہ علامتی اقدامات ساری دنیا کے سامنے اپنے تعلق کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کے استقبال میں جو تکلف کیا گیا، ’’طلع البدر علینا‘‘ کے جو ترانے پڑھے گئے وہ سب باتیں ہمارے سامنے ہیں، لہٰذا اسے لایعنی تو نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اسراف یا ظلم و زیادتی نہ ہونے کی شرائط بہرحال ضروری ہیں۔ ترک صدر طیب اردگان کے تشریف لانے کے وقت پاکستان نے جو اہتمام کیا، انہیں عام مہمانوں سے زیادہ پروٹوکول دیا اور ان کے دیرینہ مطالبے پر جو گولن تحریک سے وابستہ ترک عملے کو ملک بدر کیا، اس پر جلے بھنے ناقدین پورا زور لگاکر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔ گو ان کی تنقید سے نہ حکومت نے کوئی خاص اثرلیا ہے، نہ عوام کی ترک عوام اور موجودہ ترک حکومت سے محبت میں کچھ خلل آیا ہے، لیکن پھر بھی ہم عدل و انصاف کے ساتھ اس کا جائزہ لینے کو ضروری سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔