• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

حالات کی حساسیت!

ایک بے وقوف نے دعویٰ کیا کہ میں ہر ناممکن کو ممکن بناسکتا ہوں۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ استفسار کیا گیا تو کہنے لگا: ’’نا‘‘ ہٹاکر۔ قارئین کرام! جیسے ناممکن کو ’’نا‘‘ ہٹاکر ممکن بنایا جاسکتا ہے اسی طر نااہل کو بھی ’’نا‘‘ ہٹاکر اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آئین میں یہ ترمیم کی جاسکتی ہے بھی ’’نا‘‘ کہ نااہل کو ’’نا‘‘ ہٹاکر پڑھا جائے۔ ایک آسان صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ترمیم یوں کردی جائے: ویسے تو جو نااہل ہو وہ پارٹی صدر نہیں بن سکتا، لیکن جناب نواز شریف اس سے مستثنیٰ ہیں اور بھی کئی آسان صورتیں ہوسکتی تھیں۔ جن سے جناب نواز شریف صاحب کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا اور بقیہ آئین اپنی اصلی حالت پر برقرار رہتا، لیکن وہ کیا کہتے ہیں اسے، فیس سیونگ (Face Saving) یعنی عزت برقرار رکھنے کی خواہش کہ کھل کر یہ ماننا بھی نہیں چاہتے کہ یہ سب ترامیم ملکی مفاد یا قومی سلامتی کے لیے نہیں، بلکہ ایک شخص کے لیے کی جارہی ہیں اور اپنا مفاد بھی چھوڑنا گوارہ نہیں، لہٰذا خوب دور کی کوڑیاں لانے کی کوشش کی گئیں۔ ایسے میں قادیانی لابی کو اندازہ ہوگیا کہ یہ اپنے مفاد کے لیے آئین کو گھما پھرا کر چھیڑنے کی کوشش ضرور کریں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غلط فیصلے

’’غلط فیصلوں سے ملک ٹوٹا، ڈر ہے پھر کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔‘‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کا یہ جملہ گو حقائق کی دنیا میں انتہائی قیمتی اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے، لیکن موقع کے لحاظ سے اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلط فیصلے ہی کسی شخصیت، کسی تحریک، کسی ادارے یا کسی ریاست کو ناکامی سے دوچار کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا ادراک نجانے ہماری اشرافیہ کو اسی وقت کیوں ہوتا ہے جب وہ خود بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے جب وہ خود غلط فیصلے کررہے ہوتے ہیں یا مغرب کی ایماء پر ہونے والے غلط فیصلوں پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو کیا اس وقت حادثے کا خطرہ نہیں ہوتا؟ لہٰذا ہماری میاں نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ سب سیاستدانوں کے لیے نمونہ بنتے ہوئے اپنے سیاسی کیریئر پر ازسرنو عذر فرمائیں پھر ان کی روشنی میں آیندہ خود بھی ایسے غلط فیصلوں سے بچیں اور ہوسکے تو دوسرے غافلین کو بھی متوجہ کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمت اور پہل

ٹیمیں اس وقت جیتتی ہیں جب ان کے کھلاڑیوں میں فنی مہارت کے ساتھ ہم آہنگی، ایک دوسرے کے رویے کی برداشت اور مستقل مزاجی ہو۔ کوئی بھی سمجھ دار شخص کسی دفاعی کھلاڑی سے یہ سوال نہیں کرتا کہ تم نے فارورڈ کی طرح بہت سے گول کیوں نہیں کیے؟ بلکہ اگر کوئی دفاعی کھلاڑی بار بار گول کرنے لگے تو اس کی گرفت ہوسکتی ہے کہ اپنے اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کے کام میں کیوں دخل دے رہے ہو۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی ذمہ داری ٹھیک ادا نہ کررہا ہو تو دوسرے کھلاڑی اس کو متوجہ کرسکتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں یا اگر کوئی متبادل ہے تو اس کو بدلنے کی تجویز دے سکتے ہیں، لیکن کوئی کھلاڑی یہ نہیں کرسکتا کہ کسی دوسرے کھلاڑی کی جگہ جاکر خود کھڑا ہوجائے اور اپنی جگہ چھوڑ دے۔ یہ نہ صرف جرم ہوگا، بلکہ اس کا خمیازہ بھی ٹیم کو اٹھانا پڑے گا، کیونکہ اس کھلاڑی نے دوسرے کھلاڑی کا خلا پُر کرنے کے لیے اپنی پوزیشن پر خلا پیدا کردیا ہے۔ نیز یہ سودا اس لیے بھی گھاٹے کا ہے کہ ہر کھلاڑی کی تربیت اس کی پوزیشن کے لحاظ سے کی جاتی ہے، لہٰذا فل بیک اگر فارورڈ کی جگہ پر چلا بھی جائے تو وہ فارورڈ کی مہارت سے کھیل نہیں سکتا، جبکہ دفاعی پوزیشن وہ ویسے بھی چھوڑ آیا ہے، لہٰذا اس طرح کا اقدام نقصان ہی نقصان کا باعث ہوگا۔ ایک مسئلہ یہ بھی پیش آئے گا کہ جن کھلاڑیوں کی آپس میں ہم آہنگی تھی، ان میں جب ایک نیا کھلاڑی گھسے گا تو ہم آہنگی باقی نہ رہے گی، لہٰذا گول کرنے کے لیے جو ’’ربط‘‘ درکار ہے وہ حاصل نہ ہوسکے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے بس جبر

تاریخ کے اکثر اوراق میں مسلمان ہمیشہ مظلوم ہی رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں ظلم کرنا منع ہے، لہٰذا وہ عدل قائم کرسکیں تو ٹھیک، ورنہ وہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم بننے ہی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس مظلومانہ تاریخ کے باوجود ان کو ظالم اور دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب کے باسی اور مشرق کے لبرل اسلام کو دہشت گردی کا مترادف ماننے لگے ہیں۔ یہی حالات ہیں کہ جن کی وجہ سے بوسنیا، فلسطین اور افغانستان کے مظلوم عوام ابھی تک اپنی مظلومیت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا ہو یا اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹیں، ہر جگہ ظالم اسرائیل، ظالم ناٹو فورسز اور ظالم سربیا کے ساتھ یہ بھی ضرور لکھا جاتا ہے کہ اس ظلم و سربریت میں دوسرے فریق کا بھی برابر کا کردار ہے۔ یوں رپورٹ ایسی بے جان بن جاتی ہے کہ ظالم سے پوچھ گچھ کی بنا ہی سرے سے ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں پوری دنیا کے مسلمان اور غیرمسلم اگر کسی مسلمان قوم کو مظلوم ماننے پر اتفاق کرلیتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ظلم کس درجے اور کس سنگین نوعیت کا ہوگا؟!! جی ہاں! یہ روہنگیا مسلمان ہیں جن پر ظلم کی انتہا نے تماشائیوں کو جاگنے پر مجبور کردیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بڑے خواب!

کچھ خواب دیکھنے کے لیے سونا پڑتا ہے اور کچھ خواب سونے نہیںدیتے۔ مملکت پاکستان کا خواب بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس نے نہ صرف علامہ اقبال مرحوم کی بلکہ تمام مسلمان راہنمائوں اور عوام کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔ جب خواب بڑے اور جاذب ہوتے ہیں تو قوموں کی رفتار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ 23؍ مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہونے کے محض 7 سال بعد پاکستان ایک حقیقت بن چکا تھا۔ اگر خواب بڑے ہوں، پھر قیادت اس خواب میں ساری قوم کو دیانت داری سے شریک کرے اور اس کے حصول کے لیے وسائل بھی مہیا کرے تو بہت جلد خواب شرمندئہ تعبیر ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے! ایوب خان نے 65ء میں بھارتی حملے کے وقت انتہائی مختصر نوٹس پر چند منٹ کا خطاب کرکے ساری قوم کو یہ فتح کا خواب دکھایا بشرطیکہ ساری قوم ایک ہوجائے اور جہادی جذبے سے سرشار ہوکر دشمن کو جواب دے۔ 17 دن کی مختصر جارحانہ لڑائی کے بعد لاہور جیم خانہ میں جشن منانے کے شوقین بھارتی سورما، یاس و ندامت کے ساتھ واپسی پر مجبور ہوگئے۔ پاکستانی علاقوں میں قبضہ کے شوقین اپنے علاقوں سے قبضہ چھوڑنے کی اپیلیں کرنے لگے اور اقوام متحدہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔ یقینا اچھے لیڈر، بڑے خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے موافق قوم کو بھی تیار کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم سب ایک ہیں

ستمبر 1965ء میں یہ پاکستانی نوجوان ہی تھے جنہوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارت کو ناکو چنے چبوائے تھے۔ ایوب خان کے اسلام اور مادر وطن کی حفاظت پر مبنی چند منٹ کے غیرمعمولی خطاب نے نوجوانوں کو وطن کی محبت سے سرشار اور اسلام کا فدائی بنادیا تھا۔ چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ یہ نوجوان بھارتی ٹینکوں کو روکنے کے لیے ان کے آگے بارود باندھ کر لیٹنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ نوجوان کیا پوری قوم ایک پیج پر تھی۔ علماء و تاجر، مرد و خواتین سب ایک ہی جذبے سے سرشار تھے۔ اپنی مجاہد فوج سے تعاون کے لیے مساجد سے اعلانات ہوتے تھے۔ ان کے جذبات بڑھانے کے لیے جنگی ترانے تیار کیے جاتے تھے اور یوں دشمن تین گنا زیادہ نقصان اٹھاکر مایوسی اور خجالت کے ساتھ پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا تھا۔ یہ سب صرف 17 دنوں میں ہوگیا تھا۔ شاید بدر و اُحد کے بعد اتنا بہترین جنگی جذبہ اور حکمت عملی تاریخ پیش نہ کرسکے۔ دشمن جو لاہور میں ناشتہ کرنے اور جشن منانے کا متمنی تھا، اسے چند کلومیٹر کا راستہ برسوں کا سفر لگنے لگا۔ دوڑ کر میدان مارنے کا زعم لیے بھارتی سورما رینگنے اور گھسٹنے پر مجبور ہوئے اور پھر یہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ یہ سب قیادت پر اعتماد کا نتیجہ تھا۔ ایوب خان نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نوجوانوں کو سنبھالیے

اسلامی ممالک میں نوجوان کی تعداد 44 فیصد ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں اگر ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں تو ان میں 66 کروڑ نوجوان ہیں۔ پھر یہ نوجوان باصلاحیت بھی ہیں اور اسلام سے وابستہ بھی۔ پاکستان ہی کو لے لیجیے۔ یہ دنیا بھر میں انجینئرز اور کاریگروں کا سب سے بڑا حب (HUB) ہے۔ بے شمار پاکستانی سائنسدان مغربی ممالک میں اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ O لیولز میں نمایاں پوزیشنز ہوں یا مائیکروسافٹ کے مقابلے، ہمارے نوجوان میدان ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سیاسی، مذہبی، لسانی کتنی ہی تحریکیں اٹھتی ہیں اور ان سب کو وافر تعداد میں نوجوان دستیاب رہتے ہیں۔ا سلام سے تعلق بھی نوجوانوں کی اکثریت کے انگ انگ میں موجود ہے۔ 1953ء میں ختم نبوت کے لیے انہی کالجی نوجوانوں نے جانیں پیش کی تھیں۔ 1974ء میں قادیانیت پر پابندی کی تحریک بھی نوجوانوں کی مزاحمت سے ہی شروع ہوئی تھی۔ عامر چیمہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ مدارس کے جلسوں میں ایک بڑی تعداد بظاہر دنیادار نوجوانوں کی دیکھی جارہی ہے۔ افغان جہاد میں بھی نوجوانوں ہی نے معرکے سرانجام دیے تھے۔ غرض نوجوانوں کی تعداد بھی قابل رشک ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترتیب بدلیے اور خوش رہیے

اکرم صاحب کو صبح دس بجے سے ہی روزہ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ سوچ کہ اب سارا دن بھوکا پیاسا رہنا ہے، انہیں صبح سے ہی نڈھال کردیتی ہے۔ ان سے کوئی دفتری یا گھریلو کام ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا۔ پیاس ان کو ہلکان کیے رکھتی ہے۔ منٹ منٹ بڑی مشکل سے گزرتا ہے۔ پھر جب مغرب ہوتی ہے تو وہ دن بھر کی کمزوری دور کرنے کے لیے خوب کھاتے پیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے۔ ایسے میں تراویح کا خیال انہیں مزید پریشان کرتا ہے، کیونکہ دن میں وہ بھوک سے نڈھال ہونے کی وجہ سے کچھ کرنے سے عاجز ہوتے ہیں تو اب خوب پیٹ بھرنے کی وجہ سے ان پر اعلیٰ درجے کی سستی طاری ہورہی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اسلم صاحب، اکرم صاحب ہی کی عمر اور صحت کے حامل ہیں۔ وہ روزے کے دوران چاک و چوبند نظر آتے ہیں۔ وہ تلاوت اور ذکر و وظائف بھی مکمل کرتے ہیں اور گھریلو امور اور دفتری کاموں میں بھی نڈھال نہیں ہوتے۔ افطار میں وہ بہت بے تابی سے زیادہ کھانے کی فکر نہیں کرتے، بلکہ عام معمول کی طرح بقدرِ ضرورت کھارہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ روزے کے دوران ہم نہ کھانا چھوڑتے ہیں اور نہ پینا۔ درحقیقت ہمارے کھانے پینے کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ صبح کا ناشتہ ہم کچھ جلدی کرلیتے ہیں اور دوپہر کا کھانا ہم کچھ تاخیر سے کھاتے ہیں، جبکہ رات کا کھانا تراویح کے بعد تقریباً معمول کے مطابق کھاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلی ایڈوائس

’’جب چاروں امام برحق تھے۔ انہوں نے نہایت باریک بینی اور للہیت کے ساتھ فقہ کی تدوین فرمائی اور آپ کے بقول ہر فقہ پر عمل کرنے والا درست بھی ہے تو کیا آج ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم چاروں فقہوں پر غور کرکے کوئی ایک فقہ تیار کرلیں؟‘‘

لاہور سے آئے ایک مہمان پروفیسر صاحب کے سوال سے مجھے دو سال پہلے IBA کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ہونے والا مکالمہ یاد آگیا۔ ہوا یوں کہ IBA میں ایک تین روزہ ورکشاپ کے بعد جب ہم CED کی عمارت سے نکل رہے تھے تو وہاں کے ایک دینی مزاج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ IBA کے اسٹوڈنٹس اور انٹیلیکٹس پر مشتمل ایک بزم قائم کرنے جارہے ہیں۔ اس ’’بزم‘‘ کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم شریعت کے اہم مسئلوں پر مذاکرہ کریں اور قرآن، حدیث اور چاروں فقہوں کی روشنی میں یہ طے کریں کہ اس میں سب سے بہتر رائے کس کی ہے اور پھر ہم اس پر عمل کریں۔ اس کا مقصد انہوں نے بتایا کہ یوں چار فقہوں کی وجہ سے جو اختلاف ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ پھر انہوں نے بندہ کو اس بزم کا شریعہ ایڈوائزر بننے کی پیشکش کی۔ یعنی میرا کام یہ ہوگا کہ چاروں اماموں کی رائے اور دلائل کا بندوبست کروں اور انٹیلیکٹس یہ رائے دیں کہ کون سی فقہ سب سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فراست مؤمن

تمام مہذب قوموں کا اس پر اتفاق ہے کہ جنگ کبھی نہ کبھی ناگزیر ہوہی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ جنگ کی تیاری رکھی جائے۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو خالی آپ کا پرامن ہونا کافی نہیں، بلکہ ایسی قوت و صلاحیت کی بھی ضرورت ہے جو شرارتی عناصر پر رعب قائم رکھ سکے۔ اسلام نے بھی جنگ سے نفرت دلانے کے ساتھ ساتھ اس کی تیاری کی بھرپور ترغیب دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو واضح ہدایت دے رکھی تھی کہ جنگ کی تمنا نہ کرو، البتہ جب وہ ناگزیر ہو تو ڈٹ جائو۔ قرآن کہتا ہے کہ جو کچھ بھی قوت تم جمع کرسکو ضرور کرو۔ قرآن منافقین کو عار دلاتا ہے کہ اگر یہ مخلص ہوتے تو جہاد کی تیاری تو رکھتے۔ معلوم ہوا جنگ کی خواہش تو مناسب نہیں ہے، لیکن اس کی تیاری بہرحال اہم ہے۔ اسی طرح قوت جمع کرنے کی حکمت قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس سے تمہارے اعلانیہ اور درپردہ دونوں طرح کے دشمن مرعوب ہوجائیں گے اور یوں جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا۔ گویا یہ مہذب قوموں کے اتفاق سے بڑھ کر مسلمانوں کے لیے مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مذہبی فریضہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ دیگر مذہبی تصورات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

الارم

ہر سمجھدار انسان اپنے وقت کا قدردان ہوتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام اہم کاموں کو ضرور کرپائے۔ وہ بھرپور تمنا رکھتا ہے کہ اس کا کوئی اہم کام غفلت کی وجہ سے رہ نہ جائے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے بہت سے اہم کام نہیں کرپاتے۔ ہم بھول جاتے ہیں، ہمیں وقت پر یاد نہیں رہتا اور کام ہم سے رہ جاتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اور اپنے کاموں کو وقت کرلینے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے؟ آئیے! اس اہم اور عمومی مسئلے پر غور کریں اور کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں۔

سب سے پہلے یہ غور کیجیے کہ کیا ہم سب اہم کاموں کو برابر بھولتے ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے۔ مثلاً کھانا ایک اہم کام ہے۔ سونا بھی ایک اہم کام ہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کئی کئی دن گزر گئے ہوں اور ہمیں پتہ نہ چلا ہو کہ ہمیں کھانا بھی کھایا تھا یا ہم بھول گئے ہوں کہ ہمیں سونا بھی تھا؟ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا، ذکر کرنا، کسی سے کیا وعدہ، بچوں کو دینے کے لیے وقت یا اس نوعیت کی اور چیزیں وقتاً فوقتاً ہم بھولتے رہتے ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔