• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تھر کے صحرا میں خوراک کا بندوبست کیسے ہوتا ہوگا؟ وہاں کے لوگ وہاں کیوں رہتے ہیں؟ آخر وہ شہری علاقوں میں کیوں منتقل نہیں ہوجاتے؟ ولادت اور دیگر علاج معالجہ کے لیے وہ کیسے گزارہ کرتے ہوں گے؟ یہ سوال بار بار دل میں آیا کرتے تھے اور حیرت ہوتی تھی کہ 21 ویں صدی میں بھی کچھ لوگ صحرا میں کیوں پڑے ہیں؟ مٹھی کے ایک مطالعاتی دورے پر جانا ہوا تو راستے میں ایک صحرائی طالب علم مل گئے جو کراچی میں حفظ کرچکے تھے۔ میں نے ان سے اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ آپ کراچی کی سہولیات دیکھ چکے ہیں۔ یقیناًتھر میں ایسی سہولیات نہ ہوتی ہوں گی۔ پھر آپ تھر واپس کیوں آگئے؟ انہوں نے کہا: ’’جی! یہاں ہماری زمینیں ہیں۔ سینکڑوں مویشی ہیں اور پھر یہ ہمارے آباؤ و اجداد کی زمین ہے۔ ہم اسے کیسے چھوڑسکتے ہیں؟ کچھ زمین کی گرہیں کھلیں۔ اتفاق سے اسی سفر میں تھر کے ایک مدرسے کا دورہ ہوا تو انہوں نے انواع و اقسام کے کھانوں سے ہماری ضیافت کی۔ ہم حیران تھے کہ صحراء میں اتنی ڈشیں کیسے بنیں؟ وسائل کہاں سے آئے؟ اور پھر زیادہ ڈشوں کے لیے ذوق کی بھی ضرورت ہے۔ گاؤں کے باسیوں میں یہ ذوق کیسے آیا؟؟ لیکن جلد ہی واضح ہوگیا۔ تھر میں ایک خودرو سبزی اُگتی ہے۔ اس کے بڑے بڑے درخت ہوتے ہیں اور کیکر کی طرح اس کی پھلی ہوتی ہے۔ اس واحد سبزی کو جو بلاکسی محنت کے ہر جگہ اور سارا سال دستیاب رہتی ہے، کو پانچ طریقوں سے پکایا گیا تھا۔ شوربے والی، بھنی ہوئی، دہی والی۔۔۔ اسی طرح تھر میں دودھ وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

جانور بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ خود ہی چرتے رہتے ہیں۔ جب پیاس لگتی ہے تو وہ تھر پانی کا واحد نظام کنوؤں کے پاس آجاتے ہیں۔ مالکان پانی پلاتے ہیں اور اسی دوران دودھ بھی نکال لیتے ہیں۔ گویا جانوروں کو پالنے اور سنبھالنے کے لیے بھی ایک خودکار نظام سے موجود ہے۔ اس دودھ سے کئی انواع کے کھانے بنتے ہیں۔ دہی، پنیر، کچی لسی، میٹھی لسی، نمکیں لسی۔ اسی طرح تھر کی اہم پیداوار شہد ہے۔ شہد کی کئی انواع اصلی دیسی ذائقے کے ساتھ ہمارے سامنے وافر مقدار میں موجود تھے۔ کھانے کے بعد پھلوں کی چاہت ہوتی ہے۔ تھر میں انگور کی طرح کے ذائقے والا ایک فالسے کے رنگ اور حجم کا خودرو پھل موجود ہے جو تقریباً سارا سال وافر مقدار میں موجود رہتا ہے، لہٰذا کھانے کے بعد تازہ تازہ درخت سے اتار کر وہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ یقین جانیے! ایسا پرتکلف ناشتہ کراچی میں بھی خال خال ہی نصیب ہوتا ہے۔ گویا اس دعوت میں خرچہ صرف ایک تھا۔ یعنی گندم کی روٹی اور صرف گندم کے لیے مہینے میں ایک مرتبہ شہر جانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ باقی سب چیزیں علاقائی، بلامعاوضہ اور وافر دستیاب ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی بڑی دعوت ہو تو جانور بھی ذبح کرلیتے ہیں۔ یوں گوشت بھی متوازن غذا کے حصے کے طور پر کھانے کو ملتا رہتا ہے۔ جب تھر کے ایسے فضائل دیکھے تو اندازہ ہوا کہ صحرائی لوگ صحراء میں کیوں خوش رہتے ہیں۔

یہ بات یوں ذہن میں آئی کہ ’’شامی مسلمان‘‘ جنگ کی تلخیوں کا شکار ہیں۔ کون سا ظلم ہے جو ان پر روا نہیں رکھا گیا۔ انہیں اپنے ہی ملک کی حکومت مسلکی تعصب کی بنا پر شہید کررہی ہے۔ روس اپنے مفادات کے لیے ان کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔ امریکا کی کمزور حکمت عملی اور بزدلی کی سزا مقامی مسلمانوں کو بھگتنا پڑرہی ہے۔ ترکی کی جانب سے قابل قدر کوششوں کے باوجود ظالمانہ بمباری، کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال اور غیرانسانی محاصرے جاری ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان بے بسی سے ہونٹ کاٹ رہے ہیں۔ ایسے میں ذہن میں خیال ابھرتا ہے کہ شامی مسلمان ناک رگڑرہے ہوں گی۔ بشار سے معافیاں مانگ رہے ہوں گی۔ اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ سہمے ہوئے ہوں گے۔۔۔ لیکن جب ان مظلوموں پر ہونے والے ظلم کے چند محفوظ رہ جانے والے حصے سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہیں تو ہمت و شجاعت اور ایمان و غیرت کے نئے افق وا ہوجاتے ہیں۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ بظاہر ان بے بس و بے کس لوگوں میں ہمت کہاں سے آرہی ہے؟ اس قسم کی حیرت کا سامنا ان شامی مسلمانوں کے جذبات سن کر ہوتا ہے جو ترکی میں مہاجر کے طور پر رہ رہے ہیں۔ ترکی میں انہیں بہترین سہولیات حاصل ہونے کے باوجود وہ اپنے علاقوں میں جاکر رہنا چاہتے ہیں۔ صرف مجبوری میں کچھ مدد وصول کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ یتیم بچوں کو بھی جب تک مائیں خود سنبھال پاتی ہیں تو وہ کسی کو مدد لینے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کی یہ غیرت دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے یہاں ریل کا حادثہ ہو یا زلزلہ آئے، بچنے والے بھی متاثر بن کر امدادی سامان لینے بلکہ چھینا جھپٹی تک میں مصروف نظر آتے ہیں، جبکہ شامی بیوائیں جب تک کماسکتی ہیں، مانگنے سے گریز کرتی ہیں، امدادی سامان پر فریفتہ ہونے کے بجائے بقدر ضرورت لینے اور واپس جاکر اپنی سرزمین پر بسنے کا جذبہ موجود ہے۔ جیسے تھر کے لوگوں کے بارے میں خیال ہوتا تھا کہ ایسی زمین میں بسنے اور بستے رہنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ بالکل اسی طرح یہاں بھی ذہن میں آتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ظلم کی تاریک رات اپنے پیاروں پر گزرتی دیکھنے کے باوجود یہ واپسی کا کیوں سوچ رہے ہیں؟ ان کی ہمت کیوں باقی ہے؟ ان کے اس جرأت اور مستقل مزاجی کا کیا راز ہے؟

ارض شام کی مذہبی اہمیت کسی کو پتہ ہو تو شاید ان لوگوں کی نفسیات کو کسی قدر سمجھا جاسکے۔ یہ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہے۔ یہاں کے اصل باشندے بکثرت انبیاء علیہم السلام کی اولادوں میں سے ہیں۔ اس سرزمین کے پھل زیتون و انجیر تک کو قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ زیتون کے تیل کا ذکر آیا ہے۔ واقعہ اسراء کا ذکر آیا ہے کہ سرزمین شام (فلسطین بھی اس میں داخل تھا) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک بھی لگے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے بھی شام کی سرزین پر واپس آنا ہے۔ غرض! شام دنیا کا وہ خصوصی ٹکڑا ہے جس کی ہر ادا ہی نرالی ہے۔ اس کے مکین ہی نرالے ہیں۔ ان کا حسن، ان کی ہمت، ان کی اسلام سے وابستگی غیرمعمولی ہے۔ حتیٰ کہ ’’غوطہ‘‘ جس نے آج کل شام کے مسلمانوں کے لیے آخری پناہ گاہ کا روپ دھار رکھا ہے اور یہاں جنگی جرائم انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، اس کا ذکر بھی سنن ابی داؤد کی روایت میں موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کے لیے سخت جنگوں میں سب سے بہترین دفاع کا مقام شام کا علاقہ غوطہ ہے۔‘‘ شراح نے لکھا ہے کہ یہ علاقہ پہاڑیوں سے گھرا اور قدرتی مناظر کے حسن سے بھرپور ہے۔ دفاع اور رہائش دونوں لحاظ سے بہترین محل وقوع ہے۔ یہ روایت دیکھ کر شرح صدر ہوگیا کہ یہ ظلم کی رات بھی ’’شام‘‘ میں صبح ہی کی نوید ہے۔ ہم سب اس کے دفاع میں جو کچھ حصہ ڈال سکیں ہمیں ضرور ڈالنا چاہیے۔ جانی مالی جو تعاون ہوسکے اور جس حد تک ہوسکے ہمارے لیے ضروری اور باعث سعادت ہے، لیکن اگر خدانخواستہ مسلم ممالک سوتے بھی رہے اور وقت پر جاگ نہ سکے تو بھی یہ قوم اپنی ہمت سے تن تنہا بھی آمر جابر کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس ’’دفاعی مرکز‘‘ کی حفاظت کرنا اور اسے مسلمانوں کے قبضے میں رکھنا یہ مسلمان حکمرانوں کی ذمہ داری ہے، کیونکہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھمسان کی جنگوں میں سے بہترین مرکز قرار دیا ہے۔