• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

مشہور یہ ہے کہ مدارس میں صرف قرآن، حدیث اور روایات پڑھائی جاتی ہیں جن میں عقل کا استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ گویا مداس کا نظامِ تعلیم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفقود کردیتا ہے جس سے جمود پیدا ہوتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں ہر شخص کو دعوتِ فکر دی جاتی ہے جس سے خیالات میں تنوع اور تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر یہ سب کہنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے آج تک کسی مدرسے کا تفصیلی دورہ ہی نہیں کیا ہوتا۔ یہ لوگ عام طور پر پھیلے ہوئے نظریات اور بے بنیاد تجزیوں سے متاثر ہوکر ایک غیرمستند رائے قائم کرتے ہیں۔ پھر اس رائی پر پورا پہاڑ کھڑا کرکے اپنی دانشوری کا رعب جھاڑتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مدارس کے نصاب پر ایک گہری نظر ڈالنا ہوگی تاکہ واضح ہو کہ ’’عقلی علوم‘‘ اور عقل استعمال کرنے کے کس قدر مواقع یہاں موجود ہیں۔


جس طرح ڈاکٹری پڑھنے سے اہم ترین مقصد بیماریوں کا تعارف اور ان کا علاج ہوتا ہے، لیکن پہلے دن میڈیکل کے طالب علم کو بیماریوں اور ان کے علاج پر مضامین نہیں پڑھائے جاتے، اسی طرح عالم بننے کا مقصد بھی خدا تعالیٰ کی منشا اور رسولِ خدا کی سنت کا جاننا اور اس پر عمل کا ماحول تیار کرنا ہوتا ہے، لیکن پہلے دن سے قران اور سنت کے مباحث نہیں پڑھائے جاتے۔ ایک میڈیکل کے طالب علم کو جبکہ وہ بائیولوجی اور فوڈ سائنسز کی بنیادی معلومات میٹرک اور انٹر میں کسی قدر پڑھ چکا ہوتا ہے، ایم بی بی ایس میں دوبارہ بنیادی معلومات کا اعادہ کروایا جاتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں اور مختلف نظاموں کا تعارف، ان کے مزاج، مختلف کیمیائی تعامل، حتیٰ کہ اعضاء کے لیے سفیریکل ٹرگنومیٹری جیسی ٹھیٹ ریاضی سے بھی ان کو گزارا جاتا ہے اور سالہا سال کی تعلیم کے بعد ہی انہیں عملی طور پر بیماریوں اور بیماروں کے پاس چھوڑا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قرآن و حدیث کو سمجھنے اور ان کی روشنی میں اسلام طرزِ زندگی (فقہ) کو سمجھنے کے لیے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ پہلے پڑھائے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ قرآن و حدیث اور فقہ پر لایا جاتا ہے۔

کون کون سے علوم پڑھائے جاتے ہیں، ان کو سمجھنے کے ہم ایک مشق کیے لیتے ہیں۔ عقل لڑائیے کہ آپ کو اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سمجھنا ہو تو آپ کو کن کن باتوں کی ضرورت ہوگی؟ مثلاً: سب سے پہلے تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ یہ ڈیٹا واقعتا اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے ہے۔قرآن تو سب کے نزدیک یقینی ہے، لیکن حدیث میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ وہ کس درجے کی ہے؟ یعنی کیا 100 فیصد یقینی ہے یا یا اس کی صحت میں کوئی شبہ ہے یا سرے سے ہی من گھڑت ہے۔ اس قسم کی باتوں کو سمجھنے کے لیے اصولِ حدیث کی ضرورت پڑے گی جو خالص عقلیات کا مجموعہ ہے۔ مثلاً ایک روایت ثقہ راویوں اور محفوظ واسطوں سے آپ تک پہنچی ہے۔ درمیان میں کوئی واسطہ چھوٹا بھی نہیں ہے، اس روایت کی کسی اور راوی نے مخالفت بھی نہیں کی تو ہماری عقل کہتی ہے یہ حدیث صحیح ہوگی، لہٰذا اصولِ حدیث میں ایسی حدیث کو صحیح کہہ دیا گیا۔

پھر جب یہ طے ہوا کہ یہ کلام واقعتا قرآن و حدیث کا ہے تو اب اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ اس کی تشریحات وغیرہ ہمیں صحیح اور مستند انداز میں پہنچی ہوں تو اس کے لیے اصولِ تفسیر اور اصولِ حدیث کے بعض حصے استعمال ہوں گے۔

پھر صحیح معنی سمجھنے کے لیے عربی زبان سے واقفیت ضروری ہوگی، لہٰذا عربی الفاظ کی گرامر (صرف)، جملوں کی گرامر (نحو)، فصیح و بلیغ کلام کے معانی سمجھنے کے لیے (علم معانی، بیان، بدیع)، الفاظ کے اپنے معنی پر دلالت کے ضابطے سمجھنے کے لیے (علم اصول الفقہ)، راویوں کے حالات کو جانچنے کے لیے (علم اسماء الرجال)، قدیم عربی کے محاوروں کی مشق کے لیے (عہدہ جاہلیت کی شاعری اور نثر) اور اس قسم کے دیگر فنون کی مسلسل مشق و ریاضت ضروری ہوگی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سارے فنون عربی زبان کو صحیح طو رپر سمجھنے کے لیے ضروری ہیں اور اس ضرورت کا ادراک اور ان فنون کے قواعد سب کے سب ’’عقل‘‘ ہی پر موقوف ہیں۔

پھر ان سب فنون کے نتیجے میں جو عملی ضابطہ (فقہ) وجود میں آتا ہے، اس میں بھی عقل کابہترین استعمال موجود ہے، کیونکہ فقہ کا وجود علت اور سبب کی واقفیت، شرط اور رکن میں فرق جیسی بے شمار عقل بحثوں کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ پھر اس فقہ سے ’’فتویٰ‘‘ یعنی موجودہ واقعہ میں شرعی رہنمائی نکالنے کے لیے ’’اصولِ افتائ‘‘ کا استعمال بھی بے شمار عقلی قواعد، عرف اور زمینی حقائق سے واقفیت پر کھڑا ہے۔

آپ نے غور کیا کہ درسِ نظامی میں گو اصل مقصد قرآن و حدیث کا سمجھنا ہے، لیکن اس کے نصاب میں عقلی علوم کی کس درجے کثرت ہے۔ نیز فقہ میں ہر نوع کے احکام ہونے کی وجہ سے اس میں تمام سوشل سائنسز، مینجیریل سائنسز، پولیٹیکل سائنس، معاشیات، شہریت غرض تمام عقلی علوم تفصیل سے موجود ہیں۔ کیا اب بھی مدارس کے نصاب اور علماء میں جمود کا شکوہ درست ہے؟ ہاں! اس بات کی ضرورت ہے کہ حکومت اور بااختیار طبقہ ملک اور اپنے اداروں میں اسلام نافذ کرے تاکہ یہ سب عقلی و شرعی قوانین عملی طور پر رائج ہوں، علمائے کرام کو اس کی عملی تنقید کا موقع بھی ملے اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ ان علوم میں اضافات بھی ممکن ہوسکیں۔ یوں علماء اور عوام ایک پیج پر آجائیں گے اور جمود کا شکوہ عملی طور پر ختم ہوسکے گا۔