• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

شاہد صاحب کا تاثر ایک غیرمعمولی وقت کے پابند استاذ کا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ وہ سال کے شروع میں روزانہ کی مقدارِ خواندگی طے کرلیتے ہیں۔ پھر پورا سال اس کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے کسی دن کا سبق پورا نہ ہوا ہو یا ان سے کوئی سبق چھوٹا ہو۔ پورے اسکول میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کا نصاب ہمیشہ بروقت پورا ہوتا ہے اور جو کتاب بھی ان کے حوالے کی جائے وہ ہمیشہ مکمل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کسی اور استاد کی کتاب باقی ہو اور وقت پر ختم کرنا ناممکن نظر آرہا ہو تو شاہد صاحب اس کام کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کی کیا رائے بن رہی ہے شاہد صاحب کے بارے میں؟ یقینا اکثر قارئین ان کی وقت کی پابندی سے متاثر ہوئے ہوں گے یا ان کی مستقل مزاجی کی داد دیتے رہے ہوں گے۔


ویسے حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ شاہد صاحب کا یہ طرزعمل نہ صرف ان کے اور ان کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث ہے، بلکہ طلبہ کے لیے بھی مفید نہیں۔ وقت کی پابندی تو یقینا اچھی صفت ہے۔ اسی طرح نصاب وقت پر پورا ہونا بھی اچھی چیز ہے، لیکن روزانہ کے نظم پر بہرحال عمل کرنا کسی طور پر مستحسن نہیں ہے۔ یومیہ نظم پر سو فیصد چلنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ بہت سے فوری پیش آنے والے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ایسا ہوتا ہوگا کہ کوئی طالب علم کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہوگا، لیکن اس کا جواب دینے کی صورت میں یومیہ مقدار خواندگی پوری نہ ہورہی ہو تو یہ اس سوال کو لازماً نظرانداز کردیتے ہوں گے۔ یا مثلاً ان کی بیوی کو کسی دن ہسپتال جانے کی ضرورت ہوگی، لیکن یہ اس کے ساتھ نہیں جائیں گے، کیونکہ اس کے ساتھ جانے سے ناغہ ہوگا اور ان کی خواندگی کا ریکارڈ خراب ہوجائے گا۔ اسی طرح کبھی ہوسکتا ہے خود اسکول میں اضافی چھٹی ہوجائے تو یہ اگلے دن دو دن کا نصاب پڑھاکر اپنی مقدار پوری کرتے ہوں گے، کیونکہ اسی صورت میں ہی یومیہ مقدار کا چارٹ کسی سرخ رنگ کے بغیر بھرا جاسکتا ہے۔ گویا روزانہ کی ترتیب کی مکمل پابندی کا مزاج یا دوسرے لفظوں میں اپنے ریکارڈ کو فول پروف رکھنے کی کوشش انسان کو بہت سے حقوق ادا کرنے سے روک دیتا ہے، لہٰذا اپنے اوپر مخصوص چھاپ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ جب آپ سے دنیا ایک خاص طرزِ عمل کی توقع کرتی ہے تو آپ پر توقعات پر پورے اترنے کا دبائو آجاتا ہے۔ جب کچھ ہٹ کر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو ہماری ترجیح اپنا ریکارڈ قائم رکھنے کی ہوتی ہے جس سے آپ بہت سے حقوق ضائع کر بیٹھتے ہیں۔

دیکھیں! ایک شخص بہت پکا نمازی ہے، لیکن ایک دن جب وہ نماز کے لیے نکلا تو سامنے ایک زخمی شخص پڑا تھا جسے کوئی حادثہ پیش آیا تھا۔ اب پکے نمازی ہونے کا ریکارڈ بچانا ہو تو وہ نماز نہیں چھوڑے گا اور اگر اسلامی اخوت کو اہمیت دے تو وہ زخمی کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کرے گا اور یہی اس سے شریعت کا مطالبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں نماز کو قضا کرنا، اسی لیے گوارا کیا کہ نماز پڑھنے کی صورت میں جنگ کا نقشہ بدل سکتا تھا۔ اسی طرح صلوٰۃ خوف کے نازل ہونے پر ایسے انداز سے نماز پڑھی کہ نماز بھی ہوجائے اور اسلام اور کفر کے معرکے میں پسپائی بھی نہ ہو۔ آپ نے یہ نہ سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ نبی ہوکر نماز چھوٹ گئی۔

اس کا واضح مطلب یہ بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے آپ کو مخصوص چھاپ سے دور رکھتے تھے۔ ان کی زندگیاں میں ساری نیکیاں اور عبادات اتنی اہمیت اور اتنی کثرت سے پائی جاتی تھیں کہ یہ تاثر قائم کرنا کہ زیادہ نمازی ہیں یا زیادہ سخی ہیں، زیادہ معاشرت کا خیال کرنے والے ہیں یا زیادہ خانگی مسائل پر توجہ دیتے ہیں۔ ہر جگہ جو بھی وقت کا تقاضہ ہوتا تھا اس پر عمل کرتے تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر معاہدے کی پابندی کی اہمیت تھی، لہٰذا ابوالبصیر اور ابوجندل رضی اللہ عنہما کو واپس کردیا اور یہ نہ خیال کیا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوسکتے ہیں۔ جب تبوک کا فیصلہ فرمایا تو یہ نہ دیکھا کہ مسلمانوں کے پھل توڑنے کا موسم ہے اور بہت سے مسلمان پیچھے رہ سکتے ہیں۔ جب غزوئہ احد میں ابودجانہؓ اکڑ کر چلے تو اس کو سراہا اور واضح کیا کہ اور جگہ تو اس طرح چلنا گناہ ہے، لیکن آج یہ عبادت ہے۔ غرض! بے شمار واقعات آپ کے ذہن میں آتے چلے جائیں گے جہاں ہم جیسے لوگ شاید تکلف و مروت

میں ظاہری نیکی نبھانے میں مصروف ہوسکتے ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موقع اور ضرورت کے تقاضے پر کام کرتے تھے اور پھر کسی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔

گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نیکی کو اہمیت دیتے تھے، لیکن جب دو نیکیوں میں مقابلہ ہوتا تھا تو اس نیکی کو اختیار فرماتے تھے جو وقت کی ضرورت ہوتی اور اپنی شہرت بچانے کے درپے نہ ہوتے۔ بالکل اسی طرح ہمیں مخصوص چھاپ کے دبائو سے بچنا چاہیے۔ اچھے کام کریں بھی اور ان کی عادات بھی اپنائیں، لیکن ان کی چھاپ اور دبائو سے بچتے رہیں اور وقت پڑے وہی فیصلہ کریں جو وقت کا تقاضہ اور اللہ کا حکم ہو۔ چاہے اس کی وجہ سے کسی اچھے کام کو کبھی آگے پیچھے کرنا پڑے۔