• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اخبار میں تصویر چھپی۔ 5 پولیس اہلکار وحسیانہ انداز میں لاٹھیاں اٹھائے ہوئے ہیں۔ چہرے پر درندگی نظر آرہی ہے۔ درمیان میں دو سادہ کپڑوں میں موجود معصوم شہری پر اعتماد انداز میں مقابلہ کررہے ہیں۔ قارئین کی بڑی تعداد نے جب یہ تصویر دیکھی تو پولیس کے مظالم کا انہیں عین الیقین حاصل ہوگیا۔ پورا دن لوگ تبصرے کرتے رہے کہ آج تو پولیس نے ظلم کی انتہائی کردی۔ بعض سول سوسائٹی کے ان ممبران کی جرأت کو بھی سراہتے رہے۔ اس دوران رپورٹر اور خبرنگار کے چہرے پر بار بار شاطرانہ مسکراہٹ آتی رہی۔ جو تصویر انہوں نے چھاپی تھی وہ درحقیقت ایک بڑی تصویر کا حصہ تھی۔ بڑی تصویر میں ان 5 پولیس اہلکاروں کے گرد بیسیوں سول سوسائٹی ممبران وائٹ کالر قصائی کی صورت میں وحشیانہ انداز میں بڑھ رہے تھے۔ وہ پولیس والے جو چھوٹی تصویر میں وحشی لگ رہے تھے اب بڑی تصویر میں جاکر بدحواس معلوم ہورہے تھے۔ سول سوسائٹی کے دو افراد جو پولیس کے حصار میں جراتمند لگ رہے تھے وہ اب پولیس کی بے بسی پر چہکتے محسوس ہونے لگے ہیں۔ قارئین کرام! آپ نے اندازہ لگایا کہ ’’بروڈپکچر‘‘ دیکھے بغیر کسی واقعے یا فلسفے کو سمجھنے میں کس قدر دھوکا لگ سکتا ہے۔


یہی بات ہر صورت حال یا فلسفے پر صادق آئے گی۔ یعنی آپ کچھ حصے کو دیکھیں گے تو ایک تاثر پیدا ہوگا اور پوری تصویر کو دیکھیں گے تو کچھ اور تاثر بنے گا۔ مثلاً امریکا کہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سی عسکری تنظیمیں ہیں اور یہ غیرریاستی طاقتیں افغانستان میں امن کی خرابی کی ذمہ دار ہیں۔ یہاں امریکا چھوٹی تصویر دکھاکر دنیا کو گمراہ کررہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سرپرست ہے۔ اب آجائیے! بڑی تصویر میں۔ بڑی تصویر کہتی ہے کہ امریکا نے بلاکسی مربوط پلان اور علاقائی پارٹنرز کے ساتھ برابری کی سطح کے تعاون کے افغانستان پر جارحیت کی۔ ایک جانب پاکستان میں سابق صدر مشرف کے ذریعے لال مسجد اور سوات آپریشن کروائے، دوسری طرف ڈرون حملوں سے عوام الناس میں اشتعال پیدا کیا اور تیسرے بھارت جیسے پاکستان میں دہشت گردی کے سرپرست کو پوری آزادی اور سپورٹ دی۔ بھارت نے پاکستان میں TTP جیسی ملک دشمن قوت کو پنپنے میں مدد دی۔ انہوں نے جابجا حملے بھی کیے اور انہیں قبول بھی کیا۔ جب تک امریکا کی ڈومور پر پاکستان چلتا رہا تو یہ مسئلہ گھمبیر ہوتا رہا۔ پھر پاکستان کو عقل آئی اور اس نے ملک سے ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی CIA ایجنٹوں کا نیٹ ورک ختم کیا، TTP سے آپریشن کے ذریعے علاقے خالی کرائے اور بارڈر پر سخت چیکنگ شروع کی تو پاکستان میں امن قائم ہوگیا۔ کراچی اور بلوچستان میں بھی جو ملک دشمن عناصر تھے، ان کو قوت کے ذریعے قابو کرلیا گیا۔ اب امریکا کی پاکستان مںی چلنا کم ہوگئی۔ بھارتی ایجنٹ کل بھوشن کے گرفتار ہونے سے بھارتی دخل اندازی بھی کم ہوگئی اور پاکستان میں سکون آگیا۔ اب امریکا پر یہ بدنما داغ تھا کہ اس کی جنگ اس کے لیے دردِ سر بن گئی ہے اور پاکستان جیسا اتحادی احکامات ماننے سے انکاری ہے تو اس نے بھارت اور اپنی عزت بچانے کے لیے یہ الزامات لگائے ہیں۔ تاریخی طور پر ایسی تنظیمیں پاکستان کا حصہ رہی ہیں، لیکن اب یہ ملک دشمن تنظیمیں امریکی نگہداشت میں افغانستان میں روپوش ہوچکی ہیں۔ اگر امریکا کی مراد جماعۃ الدعوۃ وغیرہ ہیں تو یہ جماعتیں نہ کبھی دنیا کے لیے خطرہ رہی ہیں اور نہ ہی ملک دشمن ہیں۔ ہاں ’’دہشت گردی کی جنگ‘‘ کی آڑ میں امریکا ایسے بہت سے مطالبات منوانے کی کوششوں میں ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ آج کل امریکا چھوٹی تصویر دکھاکر پاکستان کو ڈرارہا ہے، جبکہ پاکستان بڑی تصویر دکھاکر دنیا کو حقائق سے آگاہ کررہا ہے۔ ویل ڈن پاکستان!

آئیے! کوئی دینی مثال بھی سمجھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب اللہ ایک، قرآن ایک، رسول ایک تو فقہ بھی ایک ہونی چاہیے۔ یہ پیغام، کیونکہ بظاہر اتحاد کا ہے، لہٰذا لوگ اس سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور دھوکا کھالیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک چھوٹی تصویر دکھاکر دھوکا دیتے ہیں۔ بڑی تصویر کو سمجھنے کے لیے چند سوال اٹھانے ضروری ہوں گے۔ مثلاً: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ایک ہی حکم دیا یا کبھی اسے بدلا بھی ہے؟ اگر ہمیشہ ایک ہی حکم رہا تو چھوٹی تصویر درست ہے، لیکن اگر حکم بدلتا رہا تو پھر ’’رسول ایک‘‘ والی بات میں کچھ وضاحت درکار ہوگی۔ یہ سوال بھی کیا جائے گا کہ کیا صحابہ کرامؓ میں بھی ایک ہی رائے ہوتی تھی یا اختلاف بھی ہوتا تھا؟ جواب یہ ہے کہ اختلاف ہوتا تھا۔ اگر صحابہ کرامؓ میں اختلاف ہوتا تھا اور وہ پھر بھی قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق جنتی لوگ ہیں تو یہ کہنا کہ فقہ ایک ہی ہونا ضروری ہے کتنا بڑا مغالطہ ہے۔ نیز صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بہت سے تابعینؒ ’’جبال علم‘‘ بنے اور انہوں نے بھی علمی اختلاف کیا، لیکن صحابہ کرامؓ نے اس پر کبھی بھی نکیر نہیں فرمائی۔ اس بڑی تصویر کو دیکھیے اور اس چھوٹی تصویر پر دوبارہ نظر دوڑائیے۔ آپ اندازہ لگاچکے ہوں گے کہ کچھ لوگ جو شاید خود بھی ذہنی انتشار کا شکار ہیں، وہ دوسروں کی غلط رہنمائی کا بیڑا اٹھاکر معاشرے میں کتنی گمراہی پھیلارہے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ معاملات کو بڑی تصویر سے دیکھنے کی عادت ڈالیے۔ چھوٹی تصویر، بڑی تصویر کے پس منظر کے بغیر گمراہ کن ہوسکتی ہے۔ اگر ہم اس عادت کو اپنالیں تو شاید معاشرے سے بڑی حد تک غلط فہمیاں اور گمراہ کن باتیں ختم ہوجائیں۔ اس عادت کو اپنانے کے لیے علمِ دین اور عصری معلومات دونوں میں رسوخ رکھنے والے اہلِ علم کی صحبت اور رفاقت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تفقہ اور فراست سے نوازیں، آمین!