• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

’’غلط فیصلوں سے ملک ٹوٹا، ڈر ہے پھر کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔‘‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کا یہ جملہ گو حقائق کی دنیا میں انتہائی قیمتی اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے، لیکن موقع کے لحاظ سے اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلط فیصلے ہی کسی شخصیت، کسی تحریک، کسی ادارے یا کسی ریاست کو ناکامی سے دوچار کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا ادراک نجانے ہماری اشرافیہ کو اسی وقت کیوں ہوتا ہے جب وہ خود بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے جب وہ خود غلط فیصلے کررہے ہوتے ہیں یا مغرب کی ایماء پر ہونے والے غلط فیصلوں پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو کیا اس وقت حادثے کا خطرہ نہیں ہوتا؟ لہٰذا ہماری میاں نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ سب سیاستدانوں کے لیے نمونہ بنتے ہوئے اپنے سیاسی کیریئر پر ازسرنو عذر فرمائیں پھر ان کی روشنی میں آیندہ خود بھی ایسے غلط فیصلوں سے بچیں اور ہوسکے تو دوسرے غافلین کو بھی متوجہ کریں۔


کیاں میاں نواز شریف کو یاد ہے کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے (1981) اور اس کے بعد اپیلوں کے جواب میں مزید نظرثانی شدہ فیصلے (1999) کی روشنی میں ان کی حکومت کو یہ تاریخی موقع ملا تھا کہ وہ پاکستان سے سود کا خاتمہ کردیں۔ اس فیصلے کو قانونی تحفظ بھی حاصل تھا، عوامی پذیرائی بھی موجود تھی اور نون لیگ کے پاس بھرپور مینڈیٹ بھی موجود تھا۔ سود کی حرمت سے کون واقف نہیں ہے۔ اس کا ارتکاب قرآن کی رو سے اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ قرار پایا ہے۔ سود کا ایک درھم 36 زنا سے بدتر ہے۔ سود کے اندر 70 گناہ ہیں جن میں سے کم سے کم گناہ اپنی سگی ماں سے بدفعلی کرنا ہے۔ ایسی ناپاک اور حرام ترین چیز سے اس معاشرے کی صفائی کا آپ کو موقع ملا تھا، آپ کو طاقت ملی تھی۔ آپ کو عوامی پذیرائی حاصل کرنے کا بیش بہا امکان ہاتھ آیا تھا۔ کیا آپ نے اس وقت صحیح فیصلہ کیا تھا؟ یاد کریں! ساری قوم آپ سے صحیح فیصلے کی اُمید کررہی تھی۔ آپ نے اس موقع پر کیوں ٹال مٹول سے کام لیا؟ کیوں آپ نے خدا تعالیٰ اور 98 فیصد عوام کو خوش کرنے کے بجائے 2 فیصد اشرافیہ اور مغرب کو خوش کرنے کی ٹھان لی تھی؟

چلیں دوسرے منظرنامے پر چلتے ہیں۔ آج ممتاز قادری کی پھانسی کا واقعہ بھی آپ کو یاد آنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ممتاز قادری نے قانون ہاتھ میں لے کر اپنے لیے سزا خود طے کرلی تھی، لیکن اگر اس کی ایمانی غیرت کی رعایت کرتے ہوئے اس کی سزا کو کم از کم آپ اتنا مؤخر کردیتے جتنا کہ گستاخ آسیہ بی بی کی قانونی سزا میں اب تک تاخیر کی گئی ہے تو یہ سب آپ کے بس میں تھا، لیکن آپ نے مغربی آقائوں کے دبائو میں آکر ایک غیرمتوازن فیصلہ کرڈالا۔ آسیہ بی بی بچی رہی اور ممتاز قادری پھانسی چڑھ گیا۔ ممتاز قادری کے جنازے نے بتادیا کہ اس مجرم کا آخرت میں کیا مرتبہ ہوگا۔ کیا آپ قدرت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اسے اپنا غلط فیصلہ تسلیم کریں گے؟

کرپشن کو ختم کرنے کے لیے آپ کے پاس کئی مرتبہ مینڈیٹ آیا۔ آپ چاہتے تو بعض مقدمات میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر پورے ملک کو کرپشن سے محفوظ کرلیتے۔ آپ چاہتے تو سوئز بنکوں سے سارا لٹا ہوا مال پاکستان کو واپس مل سکتا تھا، لیکن آپ ’’میثاق جمہوریت‘‘ (2006ئ) کو نبھاتے رہے۔ نیب کا چیئرمین طے کرنے میں طویل ترین مشاورتیں کرتے رہے۔ سب کرپٹ لوگ تو آج آپ ہی کی نوازشوں سے اپنی کرپشن دبائے بیٹھے ہیں، بلکہ الٹا آپ کو چہرہ دکھارہے ہیں۔ یاد کیجیے NRO کے تحت تو سیاسی قتل اور تشدد کے الزامات بھی معاف ہوتے رہے۔ کیا ان سب باتوں کی وجہ آپ کا تساہل نہ تھا؟ کیا آپ انہیں اپنا غلط فیصلہ شمار کرنے کی جرأت فرمائیں گے؟

میاں نواز شریف صاحب! آپ کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مواقع اور سب سے بھاری مینڈیٹ ملتے رہے ہیں۔ یہ عوامی اعتماد آپ کو پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ملتا تھا، لیکن پھر آپ کبھی مودی کو گلے لگاتے تھے۔ کبھی اپنے ہندوستانی تاجر دوست کو مری میں بلوالیتے تھے۔ بھارت کو یکطرفہ طور پر پسندیدہ ملک قرار دینے کے عندیے دیتے رہے، جبکہ اسی دوران بھارتی سورما پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہے۔ سرجیکل اٹیک کے ڈھونگ رچاتے رہے۔ آرمی پبلک اسکول کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے خون میں نہلاتے رہے۔ کیا آپ کو ان مواقع پر اپنی ذاتی دوستی یا تجارتی مفادات سے ہٹ کر قوم کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا؟

خارجہ پالیسی کی بنیاد، قومی مفاد ہوتا ہے، لیکن آپ کے وزیر دفاع کہہ رہے ہیں کہ میں بین الاقوامی برادری کے ’’ڈومور‘، کے مطالبے سے متفق ہوں۔ کہا جارہا ہے کہ ہمیں گھر کی صفائی کرنی ہوگی۔ چودھری نثار صاحب کا بیان بھی آپ کو یاد ہوگا کہ گھر کی صفائی ہونی چاہیے، لیکن یہ داخلی مسئلہ ہے۔ عالمی برادری کے سامنے رکھنے کی بات نہیں۔ گویا آپ کے احباب قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے ’’اقرارِ جرم‘‘ کرکے ’’عالمی مفاد‘‘ یا سیدھے لفظوں میں امریکی مفاد کا دفاع کررہے ہیں۔ کیا اس قسم کے فیصلے بھی ہمیں حادثے کی طرف نہیں لے جارہے؟ کل امریکا اگر ڈرون حملے بڑھادے گا تو یہی احباب یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اگر صفائی ہوگئی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

غرض! غلط فیصلوں کی ایک فہرست آپ کے سامنے ہے۔ آپ کا ایک آمر کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کا عہدہ قبول کرنا اگر آغاز محسوس ہوتا ہے تو ماڈل ٹائون واقعہ یا پانامہ کیس میں آپ کا رویہ اختتام معلوم ہوتا ہے۔ یقینا آپ نے ملکی معیشت، امن عامہ، ایٹمی دھماکوں اور اس آخری مدت میں اسلامی بنکاری کے فروغ میں قابل قدر حصہ لیا ہے، لیکن غلط فیصلے بھی بہرحال ہوئے ہیں اور محسوس ہورہا ہے کہ آپ کے مشیر ابھی بھی انہیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ آج ان پر غور کرلیں تو ہوسکتا ہے کل غلط فیصلے ہونا بند ہوجائیں اور ہم مزید حادثوں سے محفوظ رہ سکیں۔ تشدد کا راج حاصلؔ تمنائی