• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ٹیمیں اس وقت جیتتی ہیں جب ان کے کھلاڑیوں میں فنی مہارت کے ساتھ ہم آہنگی، ایک دوسرے کے رویے کی برداشت اور مستقل مزاجی ہو۔ کوئی بھی سمجھ دار شخص کسی دفاعی کھلاڑی سے یہ سوال نہیں کرتا کہ تم نے فارورڈ کی طرح بہت سے گول کیوں نہیں کیے؟ بلکہ اگر کوئی دفاعی کھلاڑی بار بار گول کرنے لگے تو اس کی گرفت ہوسکتی ہے کہ اپنے اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کے کام میں کیوں دخل دے رہے ہو۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی ذمہ داری ٹھیک ادا نہ کررہا ہو تو دوسرے کھلاڑی اس کو متوجہ کرسکتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں یا اگر کوئی متبادل ہے تو اس کو بدلنے کی تجویز دے سکتے ہیں، لیکن کوئی کھلاڑی یہ نہیں کرسکتا کہ کسی دوسرے کھلاڑی کی جگہ جاکر خود کھڑا ہوجائے اور اپنی جگہ چھوڑ دے۔ یہ نہ صرف جرم ہوگا، بلکہ اس کا خمیازہ بھی ٹیم کو اٹھانا پڑے گا، کیونکہ اس کھلاڑی نے دوسرے کھلاڑی کا خلا پُر کرنے کے لیے اپنی پوزیشن پر خلا پیدا کردیا ہے۔ نیز یہ سودا اس لیے بھی گھاٹے کا ہے کہ ہر کھلاڑی کی تربیت اس کی پوزیشن کے لحاظ سے کی جاتی ہے، لہٰذا فل بیک اگر فارورڈ کی جگہ پر چلا بھی جائے تو وہ فارورڈ کی مہارت سے کھیل نہیں سکتا، جبکہ دفاعی پوزیشن وہ ویسے بھی چھوڑ آیا ہے، لہٰذا اس طرح کا اقدام نقصان ہی نقصان کا باعث ہوگا۔ ایک مسئلہ یہ بھی پیش آئے گا کہ جن کھلاڑیوں کی آپس میں ہم آہنگی تھی، ان میں جب ایک نیا کھلاڑی گھسے گا تو ہم آہنگی باقی نہ رہے گی، لہٰذا گول کرنے کے لیے جو ’’ربط‘‘ درکار ہے وہ حاصل نہ ہوسکے گا۔


اسی طرح اگر کوئی کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کی جگہ جانے کے بجائے اس پر غصہ ہوتا یا اس پر تنقید کرنا شروع کردے تو بھی ٹیم ورک میں خلل واقع ہوگا۔ اول تو وہ کھلاڑی غصے کی وجہ سے اپنی کارکردگی پر کنٹرول نہ رکھ سکے گا۔ ثانیاً دوسرے کھلاڑی کو بھی غصہ دلادے گا جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی مزید متاثر ہوجائے گی۔ ثالثاً ان دونو ںکی اَن بن کی وجہ سے ساری ٹیم ہی الجھن کا شکار ہوجائے گی۔ یوں ٹیم کے حوصلے بیٹھ جائیں گے، کنٹرول ختم ہوجائے گا اور انتشار پھیل جائے گا، لہٰذا کامیاب ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کو نہ صرف جسمانی تربیت دیتی اور فنی مہارت سکھاتی ہیں، وہیں ان کے معاشرتی رویوں اور اخلاق کی بھی کوچنگ اور کائونسلنگ کی جاتی ہے تاکہ یہ ٹیم ورک کے اصول کو سمجھ کر ٹیم میں اپنا کردار ادا کرے۔ ون میں شو کے چکر میں ٹیم کے مفادات کو ضائع کرنے کا باعث نہ بن جائے۔

اُمت مسلمہ بھی ایک ٹیم ہے۔ کبھی اس کا شمار کامیاب ٹیموں میں ہوتا تھا۔ اس کے کھلاڑی معاشرتی اور اخلاقی رویوں کو خوب سمجھتے اور برتتے تھے۔ اپنے کام سے کام رکھنا اور دوسرے کے کام میں دخل نہ دینا اس کے کارکنان کا مزاج ہوتا تھا۔ دوسروں کی اصلاح یا دوسرے لفظوں میں ان کو اپنی پوزیشن پر کھیلنے کے لیے تیار کرنا ان کی کوشش ہوتی تھی۔ اختلافات علمی ہوتے تھے۔ علماء کی مجالس میں رہتے تھے۔ عوام ایک دوسرے سے عبادات، نکاح یا ذبیحہ جیسے حساس معاملات میں تو احتیاط کرتے تھے، لیکن معاملات اور معاشرت میں سب کے ساتھ برابر کا برتائو کیا جاتا تھا۔

ایک دوسرے سے اگر اختلاف کیا جاتا تھا تو صرف اللہ کی خاطر اور جب موقع ہو تو ایک دوسرے سے بلاکسی عصبیت کے تعاون بھی کرتے۔ یوں ہم علمی اختلاف کے باوجود عملی طور پر ایک تھے۔ ہماری ترقی اور دشمن پر دھاک میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا تھا۔ ہمارے اختلافات کے باوجود ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنا، بغاوت پر آمادہ کرنا، قومی مفاد سے ہٹانا آسان نہ تھا۔ دشمن کی سازشیں داخلی اتحاد کی وجہ سے اپنی موت آپ مرجاتی تھیں۔

پھر آہستہ آہستہ ہمارے درمیان یہ رواداری کم ہوتی گئی۔ ہم ایک دوسرے سے علمی مجالس سے باہر بھی اختلاف کرنے لگے۔ حکومتی کنٹرول کمزور ہوا اور مختلف مکاتب فکر کے علمی مراکز اپنی حدود سے بڑھنے لگے۔ ایک دوسرے کی تکفیر یا تذلیل کی جانے لگی۔ ایک دوسرے نے معاشرتی تعلقات کم ہوتے گئے۔ ایک دوسرے سے کو دیکھتے ہی چہروں کے تاثرات بدلنے لگے۔ ایسے میں غیرمسلم طاقتوں کے لیے ’’غدار‘‘ خریدنا آسان ہوگیا۔ ملک، دوسرے فرقوں یا حکمرانوں کے خلاف غداری پرآمادہ لوگوں کے دماغ بھرنا سہل ہوگیا۔ یوں میر صادق، میر جعفر پیدا ہونے لگے۔ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے گماشتے پیدا ہوئے۔ جاگیرداری نظام کے تحت کالے انگریزوں کی ایک کمیونٹی پیدا ہوگئی۔ یہ سب لوگ غیرملکی آقائوں کی کرم نوازیوں کے آگے جھکے رہتے اور وطن عزیز اور اسلام کے مفادات کو نظرانداز کردیتے۔ گویا ہماری ٹیم کے اندر ایسے کھلاڑی آگئے جو ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ سپاٹ فکسنگ کے لیے تیار مفاد پرست کھلاڑی بھی موجود تھے۔ لسانیت، عصبیت یا فرقہ واریت کی بنیاد پر انتقامی جذبات کے حامل کھلاڑی بھی موجود تھے اور سیاسی پلیٹ فارم سے مغرب کی تابعداری کرنے والے جاگیردار کھلاڑی بھی موجود تھے۔

یوں ہم منتشر ہوگئے۔ محرم ہو یا ربیع الاوّل ہمیں داخلی امن پر اربوں روپے اسی انتشار کی وجہ سے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم علمی اختلافات کو علمی مجالس میں محدود کرکے ایک دوسرے امتی بھائی بن جائیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی ایک صحابہ اور یا اہل بیت کی گستاخی کو تمام فرقے جرم قرار دے دیں؟ ان کی مجالس اہل بیت یا صحابہ کے فضائل تک محدود رہیں۔ ایک دوسرے پر تعریض اور طعن و تشنیع سے رک جائیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ شعلے اُگلتی کتابوں، تحریرات اور پمفلٹوں کو ختم کردیا جائے۔ کیا جلوسوں کو شہری علاقوں سے گزارنے کے بجائے بائی پاس یا پلوں سے نہ گزار لیا جائے؟ کیا میلاد اور ماتم کرنے والے اپنی عبادت گاہوں اور مدارس تک محدود نہیں ہوسکتے؟ اگر آج بھی ہم کامیاب ٹیم بننا چاہیں اور اس کے اوصاف کو اپنالیں تو ایسا ضرور ممکن ہے۔ بس ذرا ہمت اور پہل کی ضرورت ہے۔