• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تاریخ کے اکثر اوراق میں مسلمان ہمیشہ مظلوم ہی رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں ظلم کرنا منع ہے، لہٰذا وہ عدل قائم کرسکیں تو ٹھیک، ورنہ وہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم بننے ہی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس مظلومانہ تاریخ کے باوجود ان کو ظالم اور دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب کے باسی اور مشرق کے لبرل اسلام کو دہشت گردی کا مترادف ماننے لگے ہیں۔ یہی حالات ہیں کہ جن کی وجہ سے بوسنیا، فلسطین اور افغانستان کے مظلوم عوام ابھی تک اپنی مظلومیت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا ہو یا اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹیں، ہر جگہ ظالم اسرائیل، ظالم ناٹو فورسز اور ظالم سربیا کے ساتھ یہ بھی ضرور لکھا جاتا ہے کہ اس ظلم و سربریت میں دوسرے فریق کا بھی برابر کا کردار ہے۔ یوں رپورٹ ایسی بے جان بن جاتی ہے کہ ظالم سے پوچھ گچھ کی بنا ہی سرے سے ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں پوری دنیا کے مسلمان اور غیرمسلم اگر کسی مسلمان قوم کو مظلوم ماننے پر اتفاق کرلیتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ظلم کس درجے اور کس سنگین نوعیت کا ہوگا؟!! جی ہاں! یہ روہنگیا مسلمان ہیں جن پر ظلم کی انتہا نے تماشائیوں کو جاگنے پر مجبور کردیا ہے۔


یقینا یہ ایسا ظلم ہے جو پتھر دل بنگلہ دیش کو بھی سرحدیں کھولنے پر مجبور کرچکا ہے۔ یہ ایسی ظلم کی داستاں ہے جسے سن کر اقوام متحدہ بھی کانپ اٹھا ہے اور روہنگیا مسلمانوں کو سب سے زیادہ ستائے جانے والی اقلیت قرار دے چکا ہے۔ بلاشبہ یہ ظلم کی وہ آخری حد ہے جس کے بعد مغربی میڈیا کو بھی ردّعمل میں اٹھنے والی ’’عسکری لہر‘‘ کو فطری قرار دینا پڑرہا ہے۔ یہ ظلم کی وہ انتہا ہے کہ جس کے بعد بے حس مسلم ممالک بھی ترکی کی تحریک پر مذمتیں شروع کرچکے ہیں۔ تاریخ جانتی ہے کہ ظلم کبھی بھی سدا بہار نہیں رہتا۔ ظالم کو ظلم کا جواب دینا پڑتا ہے۔ خونِ ناحق کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ بے بس آنکھوں کی فریاد دنیا سے چھپائی جاسکتی ہے، لیکن اسے آسمان تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ روہنگیا مسلمانوں پر برمی افواج کی سرپرستی میں کیا جانے والا ظلم حدود سے گزر چکا ہے۔ ان کی شناخت ہی ان سے نہیں چھینی گئی، بلکہ ان کی عزتیں، اولادیں اور اموال ہر چیز چھین لی گئی ہے اور چھیننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان کے گائوں دیہاتوں پر مچھر مار اسپرے کی طرح بارود برسایا جاتا ہے۔ جنگی جرائم، انسانی حقوق کی پامالی یا نسل کشی کے الفاظ اس ظلم کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے چھوٹے پڑرہے ہیں جو آج ہمارے بھائی بہنوں پر ہورہا ہے۔ اور یہ سب میڈیا سے بھی پوری چابکدستی سے چھپایا جاتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی چیمپئن اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کے دفاعی جملے اب انسانی حقوق کے علمبرداروں کو چبھنے لگے ہیں۔ ان سے نوبل انعام واپس لیے جانے کی تحریکیں اُبھررہی ہیں۔ آنگ سوچی کے انسانی حقوق کی جدوجہد کو سب دنیا تسلیم کرتی ہے، ان کے چپ ہونے سے جبر کی قوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن یہ جبر اب روہنگیا مسلمانوں کے معصوم لہو اور سسکتی آہوں کے سامنے بے بس ہورہا ہے۔

جی ہاں! اس جبر کو بے بس کرنے میں آپ کے اتحاد اور فکر کا دخل ہے۔ اگر مسلمان اُمت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند سمجھتے رہیں۔ ایک دوسرے کے درد کو اپنا کہتے رہیں۔ پھر بے شک وہ بے بسی کی وجہ سے نیک تمنائوں اور دعائوں سے بڑھ کر کچھ نہ بھی کرسکیں، لیکن ان کا اتحاد، ان کی دعائیں اور ان کا ایک دوسرے کی حمایت کا اظہار کرنا پوری دنیا کو اس ظلم کے ازالے کی جانب متوجہ کرسکتا ہے۔ بے بسی ایک عارضی مسئلہ ہے اور جلد حل ہوجاتا ہے، لیکن بے حسی ایک مستقل مرض ہے جس کا علاج بہت مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکی دور میں ظلم کو ختم کرنے میں تو کامیاب نہ ہوئے، لیکن اُمت میں بے حسی بھی نہ پھیلنے دی۔ چنانچہ چند سالوں کی مشقت کے بعد بے بسی قوت میں بدل گئی اور ایک دوسرے کی فکر نے قیصر وکسریٰ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ آج بھی ہمیں اسی اصول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ مشکلات عارضی ہیں۔ صبر و تحمل اور حالات کی بہتر بنانے کے ولولے کے ذریعے جلد ہی زمانہ کی ڈور ہمارے ہاتھ میں آسکتی ہے۔ شرط وہی ہے کہ بے حسی سے دور اور فکرمند رہیں۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب بے حسی کی پرتیں اتراہی ہیں۔ یوں ایک جانب اُمت مسلمہ فکرمند اور گرمجوش ہے۔ تو دوسری طرف ظلم کے راستے بند کرنے کے لیے عالمی سطح پر بھی ہلچل مچ چکی ہے۔ ترکی نے قائدانہ کردار ادا کرکے خلافت عثمانیہ کی یاد تازہ کی ہے۔ دیگر اسلامی ممالک نے بھی اس موضوع کو اہمیت دے کر اپنی حمیت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان بھی اس موضوع کو سرکاری سطح پر اہمیت دے رہا ہے۔ پاکستان کے لوگ اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے ہر ممکن راستے کی تلاش میں ہیں۔ بعض نجی ادارے پہلے سے متحرک ہیں، لیکن اگر سرکاری سرپرستی میں یہ کام ہوسکے تو آسانی بھی ہوگی اور وطن عزیز کی نیک نامی بھی۔ اگر نجی اداروں کو سرکاری اجازت ناموں کے ذریعے کام کرنے کا کہا جائے تو اس سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن ایسے کسی نظم میں غیرضروری اجازتوں اور رابطوں کی بھرمار نہ ہو ورنہ کام میں رکاوٹیں بڑھ جائیں گی اور الٹا نقصان ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اس ایشو کو ضرور زندہ رکھنا چاہیے، لیکن اس حوالے سے مستند تصاویر اور کلپس ہی شیئر کیے جائیں۔ غیرمستند حوالے بعض دفعہ غلط ثابت ہونے پر پوری کمپین کی تاثیر ختم کردیتے ہیں۔

اسی طرح تعبیرات میں فکرمندی ضرور ہو، لیکن مایوسی یا جارحانہ طرزِعمل نہ ہو۔ ہم تو وہاں جانہیں رہے، کہیں ہماری دھمکیوں کی سزا ہمارے بھائی بہنوں کو نہ بھگتنی پڑے۔ یہ بھی مناسب ہے کہ لگے ہاتھوں آپ اس علاقے کا جغرافیہ اور تاریخ میں پڑھ لیں تاکہ آپ ہر فورم پر درست بات کہہ سکیں اور آپ کی بات سنی جائے۔ اگر ہم احتیاطات کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھاتے رہیں گے تو ان شاء اللہ! ہماری کوششیں ہر قسم کے منفی اثرات سے بچتے ہوئے بارآور ثابت ہوں گی۔ روہنگیا مسلمان اس ظلم سے بھی چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور وہ اپنی شناخت بھی پاسکیں گے، ان شاء اللہ!