• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کچھ خواب دیکھنے کے لیے سونا پڑتا ہے اور کچھ خواب سونے نہیںدیتے۔ مملکت پاکستان کا خواب بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس نے نہ صرف علامہ اقبال مرحوم کی بلکہ تمام مسلمان راہنمائوں اور عوام کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔ جب خواب بڑے اور جاذب ہوتے ہیں تو قوموں کی رفتار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ 23؍ مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہونے کے محض 7 سال بعد پاکستان ایک حقیقت بن چکا تھا۔ اگر خواب بڑے ہوں، پھر قیادت اس خواب میں ساری قوم کو دیانت داری سے شریک کرے اور اس کے حصول کے لیے وسائل بھی مہیا کرے تو بہت جلد خواب شرمندئہ تعبیر ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے! ایوب خان نے 65ء میں بھارتی حملے کے وقت انتہائی مختصر نوٹس پر چند منٹ کا خطاب کرکے ساری قوم کو یہ فتح کا خواب دکھایا بشرطیکہ ساری قوم ایک ہوجائے اور جہادی جذبے سے سرشار ہوکر دشمن کو جواب دے۔ 17 دن کی مختصر جارحانہ لڑائی کے بعد لاہور جیم خانہ میں جشن منانے کے شوقین بھارتی سورما، یاس و ندامت کے ساتھ واپسی پر مجبور ہوگئے۔ پاکستانی علاقوں میں قبضہ کے شوقین اپنے علاقوں سے قبضہ چھوڑنے کی اپیلیں کرنے لگے اور اقوام متحدہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔ یقینا اچھے لیڈر، بڑے خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے موافق قوم کو بھی تیار کرلیتے ہیں۔


سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو یہ مضمون جگہ جگہ ملے گا۔ مکی دور میں قوت نہ تھی، لیکن فتح کا یقین پھر بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مظلوم ساتھیوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں فتح کا یقین بھی دلاتے اور صبر کی تلقین بھی کرتے۔ فتح کا خواب دکھانا بھی اہم تھا کہ مایوس نہ ہوں اور صبر کی تلقین بھی اہم تھی کہ بے موقع ردعمل سے مسلمانوں کے لیے مزید مسائل نہ پیدا ہوں۔ غزوئہ خندق کے موقع پر بھوک اور پیاس سے ہلکان اور موسم کی شدت سے پریشان صحابہؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس اور روم کی فتوحات کا ’’خواب‘‘ دکھایا۔ اس تنگی کے زمانے میں جب کہ اپنی بقا بھی مخدوش تھی، مدینہ منورہ کو مشرکین اور یہودیوں کے قبائل نے مل کر گھیرا ہوا تھا۔ ایسا بڑا خواب دیکھنا یقینا نبی برحق ہی کا دل گردہ تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ چند سالوں کے اندر تبوک تک رسائی ہوئی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کے خواب کو آپ کی قوم نے تعبیر دی اور روم و فارس مسلمانوں کے زیرنگیں آگیا۔ طائف کی وادی میں شدید مظالم کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ نہ لیا اور ایک خواب دیکھا کہ ان کی نسلوں میں کوئی خیر سامنے آئے گی، چنانچہ طائف کے حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو دیبل بھیجا اور اس کے نتیجے میں آج برصغیر میں کروڑوں لوگ مسلمان ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے خواب دیکھا کہ قرآن ایک مصحف میں جمع ہوجائے۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کو اس خواب میں شریک کیا اور زید بن ثابتؓ کو اس کام پر آمادہ کیا یوں کچھ عرصے میں نہ صرف یہ کہ قرآن ایک مصحف میں مہیا ہوگیا، بلکہ کچھ عرصے بعد وہ ایک رسم الخط میں بھی آگیا۔ سلطان صلاح ایوبیؒ نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس آزاد کرائیں گے اور اس کے لیے انہوں نے لشکر کو بھی اس خواب میں شریک کیا۔ نتیجہ یہ کہ آج سلطان فتح کا استعارہ ہیں۔

غرض سیرت و تاریخ کے اوراق بڑے خوابوں کے دیکھنے، اس کے لیے قوم کو تیار کرنے اور ان کے شرمندئہ تعبیر ہونے سے بھرے ہوئے ہیں۔

خود پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے اسلامی جمہوری ہونے کا خواب قائداعظم اور ان کے قریب ترین رفقا نے مل کر دیکھا۔ گو قائداعظم کے جلد داغ مفارقت دینے کی وجہ سے اس کام میں کچھ رکاوٹ رہی، لیکن قرارداد مقاصد، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، امتناع قادیانیت آرڈیننس، حدود و قصاص آرڈیننس اور اسلامی بنکاری وغیرہ اسی خواب کی منتشر تعبیرات ہیں۔ نیز اسی خواب کے پیش نظر 1973ء میں اسلامی آئین بنایا جاسکا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کا خواب دیکھا۔ آج دشمن نہ چاہتے ہوئے بھی محض الزامات پر اکتفاء یا ہم سے مذاکرات تک محدود رہنے پر مجبور ہے۔ یہ ایٹمی طاقت ہمارے ناقابل تسخیر دفاع کے طور پر موجود ہے۔

الحمدللہ! یہ اُمت اب بھی بانجھ نہیں ہے۔ اس کے کچھ ناعاقبت اندیش رہنمائوں کی دفاعی حکمت عملی نے اگرچہ امریکا کو یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ چند ڈالروں کے احسان جتاکر جب چاہے ڈومور کا مطالبہ کردیا کرے، لیکن موجودہ سمجھ دار قیادت نے جیو پولیٹکس کو سمجھتے ہوئے امریکا سے تعلقات محدود کرلیے ہیں۔ آج امریکا کے کھوکھلے ’’ڈومور‘‘ پر خود امریکی اخبار ہنس رہے ہیں۔ کمزور ترین امدادی پیکیج بند کرنے کی دھمکی بذات خود مضحکہ خیز ہے۔ ریمنڈ ڈیوس جیسے نیٹ ورک سے محروم ہونے کے بعد اس کا غصہ گیدڑ بھپکی سے زیادہ نہیں سمجھا جارہا۔ اسی لیے آرمی چیف نے امریکا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم امداد کے نہیں، صرف حقیقت کی حد تک قدردانی کے خواہاں ہیں۔ ہم بیساکھیوں پر چلنے والی قوم نہیں ہیں۔ ہم بڑے خواب دیکھنے والے لوگ ہیں۔ ہم تماشائی نہیں، گیم چینجر ہیں۔ ہم نے سی پیک شروع کرکے تمام دنیا کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وسطی ایشیا، روس، چین اور عرب ممالک ہمارے سحر کے پیچھے کھنچے چلے آرہے ہیں اور بالآخر یورپ اور امریکا حتیٰ کہ انڈیا بھی ہمیں اہمیت دینے پر مجبور ہوں گے۔ انڈیا کا اس پروگرام سے خار کھانا اسے دنیا میں تنہا کردے گا اور ایک تنہا ملک کی طرف داری کرنا امریکا کی ناکام خارجہ پالیسی کی علامت بن رہا ہے۔ ہم نے پھر بڑے خواب دیکھیں ہیں۔ قوم بھی غلامانہ کردار سے تنگ آگئی ہے۔ ہماری قیادت کا رخ سہی رہا تو اگلی دہائی میں پاکستان کو معاشی سپر طاقت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔