• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ستمبر 1965ء میں یہ پاکستانی نوجوان ہی تھے جنہوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارت کو ناکو چنے چبوائے تھے۔ ایوب خان کے اسلام اور مادر وطن کی حفاظت پر مبنی چند منٹ کے غیرمعمولی خطاب نے نوجوانوں کو وطن کی محبت سے سرشار اور اسلام کا فدائی بنادیا تھا۔ چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ یہ نوجوان بھارتی ٹینکوں کو روکنے کے لیے ان کے آگے بارود باندھ کر لیٹنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ نوجوان کیا پوری قوم ایک پیج پر تھی۔ علماء و تاجر، مرد و خواتین سب ایک ہی جذبے سے سرشار تھے۔ اپنی مجاہد فوج سے تعاون کے لیے مساجد سے اعلانات ہوتے تھے۔ ان کے جذبات بڑھانے کے لیے جنگی ترانے تیار کیے جاتے تھے اور یوں دشمن تین گنا زیادہ نقصان اٹھاکر مایوسی اور خجالت کے ساتھ پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا تھا۔ یہ سب صرف 17 دنوں میں ہوگیا تھا۔ شاید بدر و اُحد کے بعد اتنا بہترین جنگی جذبہ اور حکمت عملی تاریخ پیش نہ کرسکے۔ دشمن جو لاہور میں ناشتہ کرنے اور جشن منانے کا متمنی تھا، اسے چند کلومیٹر کا راستہ برسوں کا سفر لگنے لگا۔ دوڑ کر میدان مارنے کا زعم لیے بھارتی سورما رینگنے اور گھسٹنے پر مجبور ہوئے اور پھر یہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ یہ سب قیادت پر اعتماد کا نتیجہ تھا۔ ایوب خان نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔

ان کے چند جوشیلے کلمات قوم کے مزاج و نفسیات کے عین مطابق تھے۔ ان کلمات میں جہاں وطن سے محبت کو اُبھارا گیا تھا، وہیں جذبہ جہاد کو بھی آواز دی گئی تھی۔ قوم کی مائیں اپنا مال تو دے ہی رہی تھیں، وہ اپنی اولاد دینے کے لیے بھی تیار ہوگئیں۔ نوجوانوں نے سمجھا کہ آج وطن کے لیے کچھ کرنے کا موقع ہے۔ پیچھے ہٹنا بے غیرتی ہوگی۔ مساجد و مدارس جذبۂ جہاد کو بڑھانے اور قوم کو اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے قوت فراہم کررہے تھے۔ میڈیا سے جنگی ترانے نشر ہوتے تھے۔ سب ایک پیج پر تھے۔ واقعتا اسلام اور پاکستان ہی اس قوم کو جوڑنے والی گوند ہے۔ قومیت اور لسانیت سے نکلنے کے لیے انہی دو نعروں کی ضرورت تھی۔ ایوب خان نے ایک بہترین لیڈر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان نعروں کی مدد سے چند لمحوں میں قوم کو متحد اور مؤثر بنادیا۔ ظاہر ہے اس زمانے میں بھی جاسوسی نیٹ ورکس ہوں گے۔ آج کل کے مقابلے میں ان کا توڑ بھی مشکل ہوگا، لیکن بھارتی جاسوس بھارتی ایجنٹس اور بھارتی لابیاں قوم کے جذبے کے سامنے سہم کر رہ گئے اور کسی کو جرأت نہ ہوئی کے قوم کو کسی اور رخ پر لے جاسکے۔

آج پھر 6 ستمبر ہے۔ یومِ دفاع منایا جارہا ہے۔ اپنے آپ کو ماضیٔ قریب کی بدامنی، تعصب، داخلی لڑائیوں اور بھتہ خوری کے عفریت سے زندہ بچالانے والی قوم ابھی اس جذبے کوازسرنو سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔ چند سال پہلے تک اسے داخلی لڑائیوں میں اُلجھادیا گیا تھا۔ اسلام اور پاکستان کے نام پر ایک ہونے والی قوم کو ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ دینے کی کوشش کی گئی۔ یوں لبرل اور اسلام پسند کی تقسیم پیدا کی گئی۔ جب نیشنل ایکشن پلان کو عملی طور پر شروع کیا گیا تو بعض بدخواہوں نے دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ خاص کرکے ایک جانب لبرل اور اسلام پسند کی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب قوم پر مسلط بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کو فرار کا راستہ دینے کی کوشش بھی کی۔ اسی طرح بدنام زمانہ NRO کے ذریعے کرپشن کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی۔ جمہوریت کے دفاع کے نام پر کرپٹ سیاستدانوں کو رعایتیں ملتی رہیں۔ یوں پاکستان کا نوجوان پریشان ہوگیا کہ یہ ملک اسلامی نظریاتی پاکستان ہے جس کے لیے 65ء میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی گئی تھی یا یہ کوئی لبرل پاکستان ہے جس کے لیے جان دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں؟ ہم نے اپنی غلط روی سے نوجوانوں کو تاریخ سے کاٹ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض بلوچ جوانوں نے اسلام کے مقابلے میں قومیت پر مطالبات شروع کردیے۔ بعض قبائلی نوجوانوں نے اسلامی نظریاتی ریاست ہی کو ’’طاغوت‘‘ سمجھ کر اس سے لڑنا اور دشمن کا معاون بننا قبول کرلیا۔ سندھ میں خصوصاً شہر کراچی میں بھتہ خوری کا راج ہوگیا اور ملک دشمن بیانات سنے جانے لگے۔ بعض تاجروں نے پاکستان کو ایک عام سا لبرل ملک سمجھ کر اپنے کاروبار بیرون ملک منتقل کرلیے۔

اگر یہی سلسلے جاری رہتے تو نوجوان ہمارے ہاتھ سے بالکلیہ نکل جاتے۔ شکر ہے ایوب خان کے بعد راحیل شریف کی صورت میں قوم کے مزاج اور نفسیات کے مطابق اور زمینی و تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے رہنمائی کرنے والا لیڈر سامنے آیا۔ اس نے ضرب عضب، بلوچستان اور کراچی آپریشن کامیابی سے کرکے پوری قوم کو اس نکتے پر پھر سے جمع کردیا کہ ہم سب کو اسلامی پاکستان کی حفاظت کرنی ہے۔ ان کی اسی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے آج انہیں 40 اسلامی ممالک کی فوج کا سربراہ بنادیا گیا ہے۔ ان کے پیشرو محترم جاوید باوجوہ بھی انہی کے نقش قدم پر ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے نوجوان طلبہ سے بیان میں اسی جذبے کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوان داعش اور اس سے منسلک تنظیموں کا بڑا ہدف ہیں، نوجوان طلبہ سوشل میڈیا پر محتاط رہیں اور داعش کے فتنے سے دوررہیں۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا گزشتہ روز دورہ کیا اور آئی ایس پی

آر میں انٹرن شپ مکمل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی۔ طلبہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے مخالفانہ بیانیے سے متعلق مکمل طور پر آگاہ رہیں، شارٹ کٹس سے بچیں ، خود پر اعتماد اور میرٹ اور حکمرانی پر یقین رکھیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے،نوجوان نسل کی کامیابی کیلئے تین چیزیں بہت اہم ہیں، اللہ پر ایمان ، والدین کی خدمت اور انتھک محنت ، ملک میں دیرپا امن کے قیام کیلئے ہر کسی کو اپنے حصے کام کرنا ہوگا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے پناہ ٹیلنٹ سے نوازا ہے، پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے، نوجوان نسل میں ملک خوشحالی لانے اور امن قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔‘‘ جی ہاں! اسی جذبے کو قوم میں پیدا رکھنا ہے۔ یومِ دفاع کے موقع پر قوم اگر اسی جذبے سے سرشار ہے تو ہمیں بھارت کی جارحیت اور بڑھتی قوت سے ذرا پھر بھی گھبرانے کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ مملکتِ خداداد پاکستان اسلامی اور نظریاتی اساس پر ہی وجود میں آئی ہے اور اس کی بقاء بھی اسی میں ہے۔ مقصد سے ہٹنے والی قومیں اپنی شناخت کھوبیٹھی ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں اسی شناخت کو باقی رکھنے کی یاددہانی کرارہا ہے۔