• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اسلامی ممالک میں نوجوان کی تعداد 44 فیصد ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں اگر ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں تو ان میں 66 کروڑ نوجوان ہیں۔ پھر یہ نوجوان باصلاحیت بھی ہیں اور اسلام سے وابستہ بھی۔ پاکستان ہی کو لے لیجیے۔ یہ دنیا بھر میں انجینئرز اور کاریگروں کا سب سے بڑا حب (HUB) ہے۔ بے شمار پاکستانی سائنسدان مغربی ممالک میں اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ O لیولز میں نمایاں پوزیشنز ہوں یا مائیکروسافٹ کے مقابلے، ہمارے نوجوان میدان ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سیاسی، مذہبی، لسانی کتنی ہی تحریکیں اٹھتی ہیں اور ان سب کو وافر تعداد میں نوجوان دستیاب رہتے ہیں۔ا سلام سے تعلق بھی نوجوانوں کی اکثریت کے انگ انگ میں موجود ہے۔ 1953ء میں ختم نبوت کے لیے انہی کالجی نوجوانوں نے جانیں پیش کی تھیں۔ 1974ء میں قادیانیت پر پابندی کی تحریک بھی نوجوانوں کی مزاحمت سے ہی شروع ہوئی تھی۔ عامر چیمہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ مدارس کے جلسوں میں ایک بڑی تعداد بظاہر دنیادار نوجوانوں کی دیکھی جارہی ہے۔ افغان جہاد میں بھی نوجوانوں ہی نے معرکے سرانجام دیے تھے۔ غرض نوجوانوں کی تعداد بھی قابل رشک ہے۔

صلاحیت بھی زوروں پر ہے۔ اسلام سے وابستگی میں بھی کلام نہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی زور آور قوم کمزور کیوں ہے؟ دوسری اقوام کے زیرنگیں کیوں محسوس ہوتی ہے؟ ہم وہ ترقی کیوں نہ کرسکے جو یورپ کی کم نوجوانوں پر مشتمل قومیں کرچکی ہیں؟

شاید اس کا جواب ایک سطر میں دینا مشکل ہو، لیکن اگر اجمال سے کام لوں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو سنبھال نہیں سکے۔ ہمارے غیرمعمولی ذہین طلبہ کو تو مغرب اول فرصت میں اسکالر شپ پر باہر لے جاتا ہے۔ ایک جانب ہم نے ان غیرمعمولی نوجوانوں کو بھی عام نوجوانوں کی کیٹگری میں رکھ کر انہیں مایوس کیا۔ دوسرے ان کی یہ تربیت بھی نہیں کی کہ مغرب سے تربیت لینے کے بعد یہ وطن لوٹ آئیں اور وطن کی خدمت کریں۔ دشمن نے ہمارے جمع پونجی کو چند ہزار ڈالر میں ہم سے جدا کردیا اور مستقبل کے سہانے سپنے دکھاکر ہم سے مستقل کاٹ کر رکھ دیا۔

پھر جو نوجوان بچ گئے تھے، ہم ان کو بھی استعمال کرتے تو ترقی کے لیے بہت کچھ کرسکتے تھے، لیکن ہم نے نظام تعلیم ایسا بنایا کہ وہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نہ ابھارسکے۔ دیکھیں! اصل فن پڑھانے سے زیادہ غیرمعیاری انگریزی سکھانے میں وقت لگایا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ انگریزی کسی معیار کی ہوتی ہے اور نہ اپنے فن میں مہارت ہوتی ہے۔ اگر مادری زبان میں تعلیم کا اکثر حصہ ہو، انگریزی عالمی زبان کی حیثیت سے الگ سے سکھائی جائے اور وہ ہو بھی معیاری تو ہمارے اوسط طلبہ بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

پھر جو ہم نے اپنے نوجوانوں پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ انہیں کنفیوز کردیا۔ یعنی بے شمار الجھنوں میں گرفتار کردیا۔ پاکستان کے اسلامی نظریاتی ہونے پر بحثوں کی اجازت اور ستائش کی وجہ سے نوجوان شش و پنج میں ہیں کہ پاکستان اسلامی ہے یا لبرل؟ قائداعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی؟ اگر پاکستان لبرل تھا تو پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الٰہ الا اللہ کے نعرے کیوں لگتے تھے؟ مولانا شبیر احمد عثمانی سے پاکستان کا جھنڈا کیوں بلند کروایا گیا؟ مسلم لیگ علماء کو ساتھ لیے لیے جلسے کیوں کرتی پھرتی تھی؟ قائداعظم نے اپنے جنازے کی وصیت مولانا شبیر احمد عثمانی کے لیے کیوں فرمائی تھی؟ اور اگر وہ اسلامی تھا تو آج تک اسلام نافذ کیوں نہیں ہوسکا؟ آج میڈیا پر پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ ثابت کرنے والوں کو آزادی کیوں ہے؟ آج پاکستان میں اسلامی شعار کو کیوں اہمیت نہیں دی جاتی؟ ناموس رسالت کے ناموں کے خلاف سول سوسائٹی کیوں جمع رہتی ہے؟ غرض! الجھنیں ہی الجھنیں پیدا کردی گئی ہیں۔ بعض الجھن کی ذمہ دار پارلیمنٹ ہے جو اسلام کو سامنے رکھ کر قانون سازی نہ کرسکی۔ پرانے قوانین کو اسلام کے مطابق نہ ڈھال سکی۔ نیز بااختیار اور ذمہ دار ہونے کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو زیربحث نہ لائی۔ بعض الجھنوں کے ذمہ دار علمائے کرام ہیں جو مدارس میں مقید رہے اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی راہنمائی کے لیے مناسب فورمز کے استعمال سے گریز کرتے رہے۔ وہ نوجوانوں کو جہاد اور دہشت گردی کا فرق نہ سمجھاسکے۔ حکومت کے غیراسلامی اقدامات کے خلاف مناسب بند نہ باندھ سکے اور اس دوران نوجوانوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے نہ روک سکے۔ کچھ الجھنوں کا ذمہ دار میڈیا ہے جو نان ایشوز میں الجھانے اور ایشوز کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر کام کرتا رہا ہے۔ پروپیگنڈے کے زور سے جھوٹ کو سچ اور باطل کو حق ثابت کرنے کا مذموم کامکرنے سے باز نہیں آیا۔ یوں نوجوان الجھتے چلے گئے۔

کوئی بھی باصلاحیت شخص الجھنوں کے ساتھ کوئی بڑی کارکردگی نہیں دکھاسکتا۔ یہی حال ہمارے نوجوانوں کا ہوا۔ ان کا قیمتی ذہن، قوت اور وقت غیرتعمیری سوچوں اور کاموں میں خرچ ہوتے رہے اور ہم بحیثیت قوم وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے جو ہمیں ہونے چاہیے تھے۔ آئیے! عہد کریں کہ ہم اپنے نوجوانوں کو سنبھالیں گے۔ ان کے ذہن میں موجود الجھنیں دور کریں گے۔ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ان کی راہنمائی کریں گے اور ان سے نتائج حاصل کرنے کے لیے ان پر خوب خرچ بھی کریں گے۔ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہیں قیمتی بنائیے اور نتائج دیکھیے!