• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اکرم صاحب کو صبح دس بجے سے ہی روزہ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ سوچ کہ اب سارا دن بھوکا پیاسا رہنا ہے، انہیں صبح سے ہی نڈھال کردیتی ہے۔ ان سے کوئی دفتری یا گھریلو کام ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا۔ پیاس ان کو ہلکان کیے رکھتی ہے۔ منٹ منٹ بڑی مشکل سے گزرتا ہے۔ پھر جب مغرب ہوتی ہے تو وہ دن بھر کی کمزوری دور کرنے کے لیے خوب کھاتے پیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے۔ ایسے میں تراویح کا خیال انہیں مزید پریشان کرتا ہے، کیونکہ دن میں وہ بھوک سے نڈھال ہونے کی وجہ سے کچھ کرنے سے عاجز ہوتے ہیں تو اب خوب پیٹ بھرنے کی وجہ سے ان پر اعلیٰ درجے کی سستی طاری ہورہی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اسلم صاحب، اکرم صاحب ہی کی عمر اور صحت کے حامل ہیں۔ وہ روزے کے دوران چاک و چوبند نظر آتے ہیں۔ وہ تلاوت اور ذکر و وظائف بھی مکمل کرتے ہیں اور گھریلو امور اور دفتری کاموں میں بھی نڈھال نہیں ہوتے۔ افطار میں وہ بہت بے تابی سے زیادہ کھانے کی فکر نہیں کرتے، بلکہ عام معمول کی طرح بقدرِ ضرورت کھارہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ روزے کے دوران ہم نہ کھانا چھوڑتے ہیں اور نہ پینا۔ درحقیقت ہمارے کھانے پینے کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ صبح کا ناشتہ ہم کچھ جلدی کرلیتے ہیں اور دوپہر کا کھانا ہم کچھ تاخیر سے کھاتے ہیں، جبکہ رات کا کھانا تراویح کے بعد تقریباً معمول کے مطابق کھاتے ہیں۔

یوں عام دنوں کی طرح ہم تین وقت ہی کھارہے ہوتے ہیں۔ شام کی چائے کی کسر بھی ہم افطار میں کسی قدر تکلف کرکے پورا کرلیتے ہیں۔ تو آخر ہم کیوں کمزوری محسوس کریں اور کیوں نڈھال ہوں؟ قارئین! آپ نے دیکھا کہ زاویۂ فکر کی تبدیلی سے اکرم صاحب اور اسلم صاحب میں کتنا فرق پڑرہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے زاویۂ فکر کو درست کرکے اپنی زندگی اور سرگرمیوں کو بہت کارآمد بناسکتے ہیں، لیکن افسوس ہم اپنی منفی طرز فکر سے خود کو مشکلات میں گھرا محسوس کرتے ہیں۔

آئیے! اسے خوشگوار بنانے کے لیے ذہن کے مزید دریچے کھولتے ہیں۔ سادی سی مثال ہے کہ اگر ایک طالب علم سال بھر اپنی کتابوں سے تعلق رکھے۔ امتحان کے دنوں میں دیگر سرگرمیاں ترک کرکے صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود ہوجائے، اور امتحان کے بعد نتائج آنے تک تفریحات میں وقت لگائے تو اس کو تفریح کا وقت بھی مل گیا۔ نتیجہ بھی اچھا آگیا اور تعلیمی استعداد بھی پیدا ہوگئی۔ اور یہی ہر طالب علم چاہ رہا ہوتا ہے کہ اس کی علمی ترقی بھی ہو اور تفریح کے مواقع بھی ملتے رہیں۔ اب ایک طالب علم ہے جو سال بھر اپنے والدین اور اساتذہ سے چھپ کر یا جھوٹ بول کر تفریح میں وقت لگانے کی کوشش کرے تو نہ وہ تعلیم صحیح طور پر حاصل کرسکے گا اور نہ تفریح۔ امتحان کے دنوں میں وہ بھی کافی پریشان اور حرکت میں نظر آئے گا، لیکن جب سال بھر کتابوں سے تعلق ہی نہیں رہا تو امتحانات میں یکدم کیا خاک تیاری ہوگی؟ پھر جب نتیجہ آئے گا اور بہت ساری سَپلیاں آئیں گی تو اس کا تفریح کا کھلا وقت ضمنی امتحانات اور بڑوں کی ڈانٹ ڈپٹ کی نذر ہوجائے۔ اس نے اپنی تعلیمی زندگی کی ترتیب ٹھیک نہ کی، لہٰذا نہ اسے تعلیم کا ذوق آیا، نہ تفریح کا کھل کر لطف آسکا اور نہ ہی محنت میں کمی ہوئی، کیونکہ اب اسے زیادہ وقت لگاکر محنت کرنی پڑرہی ہوگی۔

حال ہی میں انڈیا میں بی جے پی نے دلت برادری سے صدر کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ بی جے پی برہمن حکمرانی کی قائل اور عامل رہی ہے۔ اس کے دور میں مسلمانوں سے بھی زیادہ دلتوں پر حملے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس پر کڑی تنقید ہورہی تھی کہ وہ اقلیتوں کے خلاف تو ہے ہی، ہندو دلتوں کو بھی ہندو نہیں سمجھتی۔ اس نے صدر کے علامتی عہدے پر ایک انتہائی غیرمعروف دلت صدر کو مقرر کرکے اس تنقید کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش نتیجہ خیز نہیں ہوسکی، کیونکہ بی جے پی کی دلت دشمنی بھی بہت واضح ہے اور منتخب صدر اتنے غیرمعروف ہیں کہ ان کو دلت بھی نہیں جانتے۔ انہوں نے آج تک دلتوں کے حق میں کبھی آواز تک نہیں اٹھائی۔ نیز صدر کا عہدہ خود علامتی ہونے کی وجہ اس سے کسی تبدیلی کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ اگر بی جے پی اس کے بجائے ترتیب بدل لیتی اور دلتوں پر اس نوعیت کا احسان شروع حکومت میں کرلیتی تو لوگ اس کی وسعت ظرفی کے قائل ہوسکتے تھے اور اگر اس کے بعد بھی کوئی ظلم ہوتا تو اسے لوگوں کی شدت پسندی سمجھا جاتا، حکومت کی پالیسی نہ کہا جاتا۔ گویا بی جے پی کو دلتوں پر بالآخر احسان کرنا ہی پڑا، لیکن ترتیب ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اسے وہ فوائد حاصل نہ ہوسکے جس کے لیے وہ بادل نخواستہ تیار ہوئی تھی۔

افغانستان میں آج کل امریکا طالبان سے مذاکرات کی صورتیں ڈھونڈ رہا ہے۔ اسے خطرہ ہے کہ چین یا روس پراکسی جنگ میں طالبان کو اپنے ساتھ ملاکر امریکا کو مزید ہزیمت سے دوچار کرسکتے ہیں۔ یہی پیشکش اگر طالبان حکومت کے زمانے میں ہوجاتی تو آج افغانستان تباہی کا منظر پیش نہ کرتا۔ اس وقت امریکا نے ’’جنونی ہاتھی‘‘ بننے کو پسند کیا، لیکن وہ افغان قوم کو ہاتھی کی طرح روندنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور طویل جنگ نے جنونی ہاتھی کو نڈھال کردیا۔ اگر یہ ہاتھی پہلے سے سمجھداری دکھاتا اور جنگ سے پہلے مذاکرات کا آپشن رکھتا تو جنگ تو وہ بعد میں بھی کرسکتا تھا، لیکن اس نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ایسا نہ کیا۔ آج ترتیب کی مختصر سی غلطی نے امریکی قوم کو پوری دنیا میں رُسوا کر رکھا ہے۔

غرض! سپر طاقت ہو یا عام ملک، ملک ہو یا عام آدمی، ہر جگہ ترتیب کی تبدیلی سے بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ایسی تبدیلی کی صورت میں ہمارے وسائل بھی نسبتاً کم خرچ ہوں گے۔ ہمارے نقصانات بھی کم سے کم ہوں گے۔ ہماری ساکھ بھی بہتر رہے گی اور ہم نفسیاتی مسائل کا بھی شکار نہ ہوں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں عبادت، معاشرتی روابط، کاروباری سرگرمیوں وغیرہ کی سابقہ غیرمنطقی ترتیب پر ازسرنو غور کرکے اسے متوازن اور مناسب بنالیں تو ہماری زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے۔ کوشش شرط ہے۔