• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اپنے کام کو سلیقے سے کرنا ہمیشہ سے پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔ خود سیرت میں اس نوع کی بے شمار روایتیں موجود ہیں۔ قرآن کریم نے ان اللہ یحب المحسنین (اللہ تعالیٰ خوبتر کام کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) کے ذریعے ہمیں سلیقے اور نظم کی تعلیم دی ہے۔ آج کل اسی سلیقے اور ترتیب سے کام کرنے کو ’’پروفیشنلزم‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب سے ’’MBA‘‘ کا دور شروع ہوا تو اسے باقاعدہ منظم طریقے سے پڑھایا جانے لگا۔ یعنی اگر آپ نے خط و کتابت کرنی ہے تو اس تحریر کا اسلوب کیا ہو؟ الفاظ کا انتخاب کیسے ہو؟ تحریر میں کوئی پیچیدگی نہ رہ جائے۔ جامعیت کے ساتھ توضیح بھی ضرور ہو وغیرہ۔ اسی طرح اگر آپ نے گفتگو کرنی ہے تو مجمع دیکھ کر بات کی جائے۔ آپ کی باڈی لینگویج مناسب ہو۔ آپ کے چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھائو موضوع اور موقع کے مناسب ہو وغیرہ۔ اگر آپ دفتر جارہے ہیں تو آپ کا لباس کیسا ہو؟ استری کے کیا قواعد ہیں؟ ٹائی کیسے باندھی جائے؟ جوتے کس نوعیت کے ہوں؟ کلر کمبینیشن کیسا ہو؟ وغیرہ چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب صبح صبح کوئی چپڑاسی بھی گھر سے نکلتا ہے

تو اچھا بھلا ’’صاحب‘‘ لگ رہا ہوتا ہے۔ تقریباً تمام ملازمت پیشہ افراد کو سارا دن انہی قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنی پڑتی ہے، لیکن عجیب بات کہ جب وہ نماز کے لیے جاتے ہیں تو وہاں مسجد کے ڈبے میں پڑی پرانی میلی کچیلی یا پلاسٹک کی کم قیمت ٹوپی سر پر رکھ لیتے ہیں۔ صاحب کے سامنے تو ٹائی کی ناٹ بھی ڈھیلی نہیں ہوتی، لیکن نماز کے دوران گرمی کے بہانے سے بٹن بھی کھل جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پروفیشنلزم پڑھا اور برتا تو ہے، لیکن سیکھا نہیں ہے۔ ورنہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ آفس میں ڈسپوزبل گلاس میں پانی پینے والا نظیف الطبع آدمی مسجد میں سب کے سامنے بلند آواز ناک صاف کرنے میں مصروف ہو۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ آفس میں لباس کو خاص ہیئت پر رکھنے کی کوشش میں مصروف باسلیقہ شخص مسجد میں پھٹی پرانی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے سے نہ شرمائے۔ یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ سلیقہ برتا تو ہے، لیکن سیکھا نہیں۔ سلیقہ آتا تو ہے، لیکن مزاج کا حصہ نہیں ہے، حالانکہ اسلام سلیقے کو مزاج کا حصہ بنوانا چاہتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو انسان کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں اور لوگ اسے ہر میدان میں باسلیقہ پاتے ہیں۔

افسوس! آج کا مسلمان سلیقہ برتنے کا تو ماہر ہے، لیکن سلیقے کو اپنے مزاج کا حصہ نہیں بنا پایا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دفتری آداب میں تو مستحبات پر بھی بھرپور عمل کرتا ہے حتیٰ کہ استری کی کریز بھی کبھی ٹیڑھی نہیں ہوتی، جبکہ اسلامی احکام میں فرائض سے بھی بچنے کے لیے حیلے اور گنجائش ڈھونڈتا ہے۔ اس ’’بدمزاجی‘‘ کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے سلیقہ برتا ہے، مزاج میں شامل نہیں کیا۔

یہ باتیں یوں یاد آئیں کہ رمضان المبارک سر پر آگیا ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ سبحانہ کا فضل و کرم عروج پر ہوتا ہے۔ یہ جہنم سے رہائی کا اور جنت کو واجب کروانے کا مہینہ ہے۔ یہ گناہوں سے بچنے اور تقویٰ پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ یہ کثرت سے عبادات کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی اہمیت کے پیش نظر پیشہ وارانہ انداز میں تیاری ضروری معلوم ہوتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی اندازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجب اور شعبان سے رمضان کے لیے دعائوں کا اہتمام کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تاکہ عادت ہوجائے۔(باقی صفحہ5پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات اور صدقات میں اضافہ فرمادیتے تاکہ رمضان میں اور توفیق ہو۔ پھر شعبان کے آخری دنوں میں روزہ بند کردیتے تاکہ رمضان کا ممتاز انداز میں ہو۔ کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ ہمارے بہت سے مسلمان بھائی اپنی تجارت کے لیے تو رمضان کو سیزن مانتے ہیں، لیکن اپنی عبادت کے لیے کم سے کم پر مطمئن ہوجاتے ہیں۔

لیلۃ القدر کی اہمیت بھی سب پر واضح ہے۔ اس ایک رات کی عبادت 1000 مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو پانے کے لیے اعتکاف فرماتے کہ جب مسجد میں ہر وقت رہیں گے تو یہ رات ضرور حاصل ہوگی حتیٰ کہ آخری رمضان میں تو آپ نے 20 دن اعتکاف کیا۔ اسی طرح آپ قرآن کریم کے اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کی دہرائی فرماتے تھے حتیٰ کہ آخری سال دو مرتبہ قرآن کا دور فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اہتمام کو دیکھیے اور اپنی غفلت کے ساتھ کی گئی ٹوٹی پھوٹی عبادات اور کمزور طاعات پر نظر دوڑائیے۔ اسی طرح مال کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل اور کم پر راضی رہنے کے مزاج کو دیکھیے اور کمانے میں اپنے غیرمعمولی پیشہ وارانہ اسلوب کو دیکھیے۔ ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہم پیشہ وارانہ صلاحیت کے ماہر ہیں یا اس کے عارضی طور پر برتنے والے۔

عزم کیجیے کہ ہم پروفیشنلزم کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں گے۔ ہم اسے دین کے ساتھ دنیا کی کمائی کا بھی ذریعہ بنائیں گے۔ ہم اس رمضان میں اپنی عبادات، صدقات، صلہ رحمی اور روزہ کھلوانے جیسی عبادات کی مکمل منصوبہ بندی کرکے انہیں کئی گنا بڑھائیں گے۔ ہم بھرپور انداز سے روزہ، تلاوت، ذکر، درود شریف غرض ہر عبادت کو متناسب انداز میں اور ہر روز کریں گے۔ ریاکاری سے بچتے ہوئے ہم خوب صدقات کریں گے۔ افطار کروائیں گے۔ اپنی اولاد پر رزق میں حتی الامکان وسعت کریں گے۔ اخلاق کے اعتبار سے یہ مہینہ ایسا ہوگا کہ لوگ ہمارے حسنِ اخلاق کے قائل ہوجائیں گے۔ گناہوں سے ہم ایسے بچیں گے، آیندہ پورا سال گناہوں سے دور رہ سکیں گے۔ ہم اس تمام عبادت اور ریاضت میں اپنی اولاد کو ساتھ رکھیں گے تاکہ ان کی تربیت ہوسکے۔ نیز اپنی تجارت کو اعتدال سے جاری رکھتے ہوئے عبادات کو اعلیٰ پیمانے پر کرنے کی کوشش کریں گے۔ عزم تو کیجیے، دیکھیے گا کہ اس سال آپ کو وہ لذت محسوس ہوگی جو کبھی سوچ بھی نہ ہوگی۔