• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ڈبل گیم

امریکا کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے اور اعتراف ہے کہ سارے امریکی صدور انتہائی بے وقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 33؍ ارب ڈالر پاکستان کو دیتے رہے، جبکہ پاکستان نے اس کے مقابلے میں جھوٹی تسلیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ قارئین کرام! آپ یہ اصول تو جانتے ہیں کہ دعویٰ ثابت کرنا پڑتا ہے اور اعترافِ جرم خود ہی قبول کرلیا جاتا ہے، لہٰذا ہم امریکی صدر کی دوسری بات کو من و عن قبول کرتے ہوئے اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پہلی بات کی تصدیق کو ثبوت ملنے تک ملتوی کرتے ہیں اور سردست یہ عقدہ حل کرتے ہیں کہ ڈبل گیم کا لفظ درحقیقت کس پر صادق آرہا ہے۔ ڈبل گیم کا سادہ مطلب یہ ہے کہ قول و فعل میں تضاد ہو۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ۔ معاہدے کے خلاف کرنا۔ ظاہر ہے کہ یہ غیراخلاقی بات ہے کہ انسان وعدے سے پھرجائے۔ معاہدے کے خلاف کرے۔ اگر یہ تحریری معاہدے کی خلاف ورزی ہو تو ظاہر ہے اس کو گناہ کبیرہ بھی کہا جائے گا۔ حدیث میں ایسے عمل کو منافق کی علامت کہا گیا ہے، لہٰذا کسی بھی ملک نے اگر واقعتا ایسا کیا ہے تو غلط کیا ہے اور اسلام اس کی مذمت کرتا ہے۔ ہاں! یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس معنی میں ڈبل گیم پاکستان کھیل رہا ہے یا امریکا؟ البتہ بعض دفعہ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، لیکن ذہنی مفاہمت اور ایک دوسرے سے توقعات کو بھی وعدہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایسا عام طو رپر میاں بیوی میں ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے کوئی تحریری معاہدہ نہیں کرتے، لیکن توقعات بہت باندھ لیتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ توقعات پوری نہ ہونے پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے شکایت بھی کرتے ہیں، بلکہ خاندان کے بڑوں سے بھی مدد چاہتے ہیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنی موت آپ

نائن الیون چند مسلمان شدت پسندوں کی طرف منسوب ہے۔ اس کے بعد جب مسلمانوں پر حلقۂ زندگی تنگ کردیا گیا اور اسلام اور دہشت گردی کو مترادف ثابت کیا جانے لگا تو انہی دنوں اسلام کے بارے میں جستجو اور تحقیق کرنے والوں کی شرح بھی بڑھتی گئی۔ ماضی میں مسلمانوں کو ایک امن پسند قوم کے طور پر جاننے والے جاننا چاہتے تھے کہ کیا واقعی مسلمانوں کا مذہب دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ جو اب تک اسلام سے واقف نہیں تھے وہ اس جستجو میں تھے کہ یہ کیا مذہب ہے جس کے لوگ جان دینے اور جان لینے کے جذبے کے ساتھ روس اور امریکا سے ٹکر لے لیتے ہیں۔ ظاہر ہے مسلمانوں کو جاننے کے لیے سب سے زیادہ قرآن اور سیرت کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ عین انہی دنوں جب دنیا کے پرانے مسلمان ظلم و ستم سے پریشان، ہجرت اور جنگ سے دوچار تھے۔ مغرب میں مسلسل نئے مسلمان پیدا ہورہے تھے۔ یہاں تک کہ یورپ میں اسلام دشمن قوتوں نے بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کرنا شروع کیا۔ قرآن کے بارے میں منفی فلم بنائی گئی اور توہین رسالت کے جارحانہ اقدامات کیے گئے۔ مسلمانوں نے ناموس رسالت کے مسئلے پر اپنی تمام تر کمزوری کے باوجود اپنا مضبوط اسٹینڈ لیا۔ عامر چیمہ اور ممتاز قادری مغرب کے جارح مزاج افراد کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ عامر چیمہ کے گھر ہفتوں تک پھولوں کے تحفوں اور ممتاز قادری کے غیرمعمولی جنازے نے میڈیا کے غلط پروپیگنڈوں کو ایک مرتبہ پھر شکست دے ڈالی اور آج دنیا ایک مرتبہ پھر مزید قوت سے اسلام کی طرف کھینچی چلی آرہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عقل کا انتظار!

اگر کسی عقلمند آدمی سے پوچھا جائے کہ عقل بڑی یا بھینس؟ تو ظاہر ہے اس کا جواب ’’عقل‘‘ ہی ہوگا، لیکن اگر آپ یہ سوال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کریں تو پھر آپ کسی بھی جواب کی توقع کرسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال اس گنجے کی ہے جس کے ہاتھوں میں ناخن بھی فراضی سے بڑھے ہوئے ہوں۔ وہ پہلے اپنا سر نوچیں گے یا آپ کے پیچھے پڑیں گے کچھ کہنا مشکل ہے۔ وہ داعش اور شمالی کوریا کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت پسند ہیں۔ ان کی انگلیاں ہر وقت ٹویٹ کرنے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔ ان کی تنقید سے ملک کے خفیہ اداروں کے ارکان، کانگریس کے ممبران، ان کی اپنی پارٹی کے عہدیداران، میڈیا کے لوگ حتیٰ کہ اتحادی ممالک کے سربراہان بھی بچ نہیں پاتے۔ وہ اقلیتوں اور خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی جلد بازی کی کوئی نظیر پیش کرنا بھی مشکل ہے۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے کی تنقید پر سخت ترین زبان استعمال کرکے جب جواب دیا تو کسی غیرمعروف خاتون کو ٹیگ کردیا اور ایک تماشہ لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اصلاح اور نظرثانی

اہلِ مکہ کو اپنی قوم، اپنی زبان و فصاحت اور آباء و اجداد پر بڑا فخر تھا۔ انہیں یہ دھاصلاح اور نظرثانی وکا بھی تھا کہ وہ تمام تر اختراعات کے باوجود دین ابراہیمی پر قائم ہیں، لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دین ابراہیمی کے اصولوں ہی پر مبنی تعلیمات کو صرف اس لیے جھٹلادیتے تھے کہ یہ باتیں ان کے آباء و اجداد نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اہلِ مکہ میں سے تھے، لیکن اہلِ مکہ کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل بالکل مختلف تھا۔ آپ نے مسلمانوں کو ملت ابراہیمی قرار دیا۔ دینِ ابراہیمی کو اختراعات سے پاک کرکے اہلِ مکہ کو پیش کیا۔ آباء و اجداد کی خوبیاں مثلاً: ان کی فصاحت و بلاغت، بیت اللہ اور حجاج کرام کی خدمت، ان کی بہادری و سخاوت کو خوب سراہا اور اسلام قبول کرنے والوں کو یہ مزاج اختیار کرنے کا حکم دیا، لیکن ان کی جانب سے شرکیہ اختراعات، بتوں کو بیت اللہ میں داخل کرنا اور ننگے طواف کرنا وغیرہ ناپسندیدہ سرگرمیوں کی کھل کر واضح الفاظ میں تردید کی۔ یوں خوبیاں باقی رہیں اور خرابیوں کی تطہیر ہوگئی اور اسلامی معاشرہ جب وجود میں آیا تو وہ ’’خیرالقرون‘‘ کہلایا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ کی عبادات اور معاشرت میں سے خیر کو باقی رکھا اور شر کو واضح طور پر ختم فرمادیا۔ یہ ’’اصلاح‘‘ کا مسنون طریقہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غصے کو طلاق

مدثر صاحب کو میٹنگ پر وقت پر پہنچنا تھا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور عصری مہارتوں سے آراستہ شخص ہیں۔ انہوں نے ٹائم مینجمنٹ کے کئی کورسز کر رکھے ہیں۔ وہ وقت کے معاملے میں حساس بھی ہیں۔ اضافی وقت لے کر نکلنا ان کی عادت ہے اور اکثر وہ وقت پر پہنچ بھی جاتے ہیں، لیکن ساتھ ان کے ایک مسئلہ ہے کہ وہ غصے کے تیز ہیں۔ آج بھی وہ پندرہ منٹ اضافی لے کر نکلے تھے، لیکن شومیٔ قسمت ٹریفک جام تھا۔ یوں انہیں غصے آنے لگا۔ خدا خدا کرکے جب وہ ٹریفک سے نکل کر موٹر وے پرچڑھے تو ڈرائیور بے خیالی میں اصل لنک سے آگے نکل گیا جس کی وجہ سے میٹنگ میں دس منٹ لیٹ ہونا یقین ہوگیا۔ اب ان کا غصہ زوروں پر تھا۔ چہرہ سرخ، ماتھے پر شکنیں اور زبان میں کڑواہٹ… وہ ڈرائیور پر برس پڑے۔ ڈرائیور پہلے ہی ڈانٹ کے امکان سے گھبرایا ہوا تھا۔ سخت ڈانٹ سے اسے بھی غصہ آگیا اور گاڑی خطرناک انداز میں چلنے لگی۔ ڈرائیور زبان سے جو غصہ نہ دکھا سکتا تھا، وہ اب گاڑی کے جھٹکوں سے محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اسی سرد جنگ کے دوران گاڑی جب دفتر پہنچی تو مدثر صاحب دس منٹ کے بجائے آدھا گھنٹہ لیٹ ہوچکے تھے۔ ان کا دماغ گھوما ہوا تھا۔ گاڑی کے انچرپنچر ڈھیلے ہورہے تھے اور ذہنی طور پر مدثر صاحب میٹنگ پر توجہ دینے سے عاجز تھے۔ یہ سب ’’غصے‘‘ کے نتائج تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ناکام ناکمی

آج ہر شخص وقت کی کمی کا شکار ہے۔ طلبہ کو کتابوں کے لحاظ سے تیاری کا وقت کم لگتا ہے۔ تاجر کو کاروباری امور کے لحاظ سے وقت کی کمی کی شکایت ہے۔ حکمرانوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لحاظ سے وقت ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ غرض! ہر شخص وقت کی کمی کا رونا روتا ہے، حالانکہ سب لوگوں کو دن میں 24 گھنٹے ہی ملتے ہیں۔ آخر تاریخ کے کامیاب ترین افراد بھی تو انہی 24 گھنٹوں کو کارآمد بناتے تھے۔ کیا وجہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 23 سالوں میں وہ انقلاب برپا کیا، جس کے اثرات آج تک عرب و عجم پر نمایاں ہیں؟ آخر حضرت عمرؓ بھی تو یہی 24 گھنٹے استعمال کرتے تھے، پھر کیا وجہ تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ 22 لاکھ مربع میل کی ایک بین البراعظمی سلطنت کو بنانے اور مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے؟ آخر اورنگزیب عالمگیر کے پاس بھی تو 24 گھنٹے ہی کا دن ہوتا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ باہمی چپقلش اور بیرونی طاقتوں کے اثر سے مضمحل مغلیہ سلطنت کو ایک مرتبہ پھر عروج دلانے میں کامیاب ہوئے تھے؟ آخر حضرت تھانویؒ کے پاس کتنا اضافی وقت تھا کہ وہ ہزار سے زیادہ تصانیف و تالیفات کا ذخیرہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے؟ آخر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے پاس وہ کون سا جادو ہے کہ وہ علومِ قرآن، ترجمہ و تفسیرِ قرآن، حدیثی مباحث، معاشی موضوعات اور قانونی فیصلوں پر ہزارہا محقق صفحات کا کام کرچکے ہیں اور بحمدللہ یہ خدمات مسلسل جاری و ساری ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جمود کا شکوہ

مشہور یہ ہے کہ مدارس میں صرف قرآن، حدیث اور روایات پڑھائی جاتی ہیں جن میں عقل کا استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ گویا مداس کا نظامِ تعلیم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفقود کردیتا ہے جس سے جمود پیدا ہوتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں ہر شخص کو دعوتِ فکر دی جاتی ہے جس سے خیالات میں تنوع اور تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر یہ سب کہنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے آج تک کسی مدرسے کا تفصیلی دورہ ہی نہیں کیا ہوتا۔ یہ لوگ عام طور پر پھیلے ہوئے نظریات اور بے بنیاد تجزیوں سے متاثر ہوکر ایک غیرمستند رائے قائم کرتے ہیں۔ پھر اس رائی پر پورا پہاڑ کھڑا کرکے اپنی دانشوری کا رعب جھاڑتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مدارس کے نصاب پر ایک گہری نظر ڈالنا ہوگی تاکہ واضح ہو کہ ’’عقلی علوم‘‘ اور عقل استعمال کرنے کے کس قدر مواقع یہاں موجود ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مخصوص چھاپ

شاہد صاحب کا تاثر ایک غیرمعمولی وقت کے پابند استاذ کا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ وہ سال کے شروع میں روزانہ کی مقدارِ خواندگی طے کرلیتے ہیں۔ پھر پورا سال اس کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے کسی دن کا سبق پورا نہ ہوا ہو یا ان سے کوئی سبق چھوٹا ہو۔ پورے اسکول میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کا نصاب ہمیشہ بروقت پورا ہوتا ہے اور جو کتاب بھی ان کے حوالے کی جائے وہ ہمیشہ مکمل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کسی اور استاد کی کتاب باقی ہو اور وقت پر ختم کرنا ناممکن نظر آرہا ہو تو شاہد صاحب اس کام کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کی کیا رائے بن رہی ہے شاہد صاحب کے بارے میں؟ یقینا اکثر قارئین ان کی وقت کی پابندی سے متاثر ہوئے ہوں گے یا ان کی مستقل مزاجی کی داد دیتے رہے ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویل ڈن پاکستان!

اخبار میں تصویر چھپی۔ 5 پولیس اہلکار وحسیانہ انداز میں لاٹھیاں اٹھائے ہوئے ہیں۔ چہرے پر درندگی نظر آرہی ہے۔ درمیان میں دو سادہ کپڑوں میں موجود معصوم شہری پر اعتماد انداز میں مقابلہ کررہے ہیں۔ قارئین کی بڑی تعداد نے جب یہ تصویر دیکھی تو پولیس کے مظالم کا انہیں عین الیقین حاصل ہوگیا۔ پورا دن لوگ تبصرے کرتے رہے کہ آج تو پولیس نے ظلم کی انتہائی کردی۔ بعض سول سوسائٹی کے ان ممبران کی جرأت کو بھی سراہتے رہے۔ اس دوران رپورٹر اور خبرنگار کے چہرے پر بار بار شاطرانہ مسکراہٹ آتی رہی۔ جو تصویر انہوں نے چھاپی تھی وہ درحقیقت ایک بڑی تصویر کا حصہ تھی۔ بڑی تصویر میں ان 5 پولیس اہلکاروں کے گرد بیسیوں سول سوسائٹی ممبران وائٹ کالر قصائی کی صورت میں وحشیانہ انداز میں بڑھ رہے تھے۔ وہ پولیس والے جو چھوٹی تصویر میں وحشی لگ رہے تھے اب بڑی تصویر میں جاکر بدحواس معلوم ہورہے تھے۔ سول سوسائٹی کے دو افراد جو پولیس کے حصار میں جراتمند لگ رہے تھے وہ اب پولیس کی بے بسی پر چہکتے محسوس ہونے لگے ہیں۔ قارئین کرام! آپ نے اندازہ لگایا کہ ’’بروڈپکچر‘‘ دیکھے بغیر کسی واقعے یا فلسفے کو سمجھنے میں کس قدر دھوکا لگ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حالات کی حساسیت!

ایک بے وقوف نے دعویٰ کیا کہ میں ہر ناممکن کو ممکن بناسکتا ہوں۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ استفسار کیا گیا تو کہنے لگا: ’’نا‘‘ ہٹاکر۔ قارئین کرام! جیسے ناممکن کو ’’نا‘‘ ہٹاکر ممکن بنایا جاسکتا ہے اسی طر نااہل کو بھی ’’نا‘‘ ہٹاکر اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آئین میں یہ ترمیم کی جاسکتی ہے بھی ’’نا‘‘ کہ نااہل کو ’’نا‘‘ ہٹاکر پڑھا جائے۔ ایک آسان صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ترمیم یوں کردی جائے: ویسے تو جو نااہل ہو وہ پارٹی صدر نہیں بن سکتا، لیکن جناب نواز شریف اس سے مستثنیٰ ہیں اور بھی کئی آسان صورتیں ہوسکتی تھیں۔ جن سے جناب نواز شریف صاحب کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا اور بقیہ آئین اپنی اصلی حالت پر برقرار رہتا، لیکن وہ کیا کہتے ہیں اسے، فیس سیونگ (Face Saving) یعنی عزت برقرار رکھنے کی خواہش کہ کھل کر یہ ماننا بھی نہیں چاہتے کہ یہ سب ترامیم ملکی مفاد یا قومی سلامتی کے لیے نہیں، بلکہ ایک شخص کے لیے کی جارہی ہیں اور اپنا مفاد بھی چھوڑنا گوارہ نہیں، لہٰذا خوب دور کی کوڑیاں لانے کی کوشش کی گئیں۔ ایسے میں قادیانی لابی کو اندازہ ہوگیا کہ یہ اپنے مفاد کے لیے آئین کو گھما پھرا کر چھیڑنے کی کوشش ضرور کریں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غلط فیصلے

’’غلط فیصلوں سے ملک ٹوٹا، ڈر ہے پھر کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔‘‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کا یہ جملہ گو حقائق کی دنیا میں انتہائی قیمتی اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے، لیکن موقع کے لحاظ سے اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلط فیصلے ہی کسی شخصیت، کسی تحریک، کسی ادارے یا کسی ریاست کو ناکامی سے دوچار کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا ادراک نجانے ہماری اشرافیہ کو اسی وقت کیوں ہوتا ہے جب وہ خود بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے جب وہ خود غلط فیصلے کررہے ہوتے ہیں یا مغرب کی ایماء پر ہونے والے غلط فیصلوں پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو کیا اس وقت حادثے کا خطرہ نہیں ہوتا؟ لہٰذا ہماری میاں نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ سب سیاستدانوں کے لیے نمونہ بنتے ہوئے اپنے سیاسی کیریئر پر ازسرنو عذر فرمائیں پھر ان کی روشنی میں آیندہ خود بھی ایسے غلط فیصلوں سے بچیں اور ہوسکے تو دوسرے غافلین کو بھی متوجہ کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔