• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ناکام ناکمی

آج ہر شخص وقت کی کمی کا شکار ہے۔ طلبہ کو کتابوں کے لحاظ سے تیاری کا وقت کم لگتا ہے۔ تاجر کو کاروباری امور کے لحاظ سے وقت کی کمی کی شکایت ہے۔ حکمرانوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لحاظ سے وقت ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ غرض! ہر شخص وقت کی کمی کا رونا روتا ہے، حالانکہ سب لوگوں کو دن میں 24 گھنٹے ہی ملتے ہیں۔ آخر تاریخ کے کامیاب ترین افراد بھی تو انہی 24 گھنٹوں کو کارآمد بناتے تھے۔ کیا وجہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 23 سالوں میں وہ انقلاب برپا کیا، جس کے اثرات آج تک عرب و عجم پر نمایاں ہیں؟ آخر حضرت عمرؓ بھی تو یہی 24 گھنٹے استعمال کرتے تھے، پھر کیا وجہ تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ 22 لاکھ مربع میل کی ایک بین البراعظمی سلطنت کو بنانے اور مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے؟ آخر اورنگزیب عالمگیر کے پاس بھی تو 24 گھنٹے ہی کا دن ہوتا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ باہمی چپقلش اور بیرونی طاقتوں کے اثر سے مضمحل مغلیہ سلطنت کو ایک مرتبہ پھر عروج دلانے میں کامیاب ہوئے تھے؟ آخر حضرت تھانویؒ کے پاس کتنا اضافی وقت تھا کہ وہ ہزار سے زیادہ تصانیف و تالیفات کا ذخیرہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے؟ آخر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے پاس وہ کون سا جادو ہے کہ وہ علومِ قرآن، ترجمہ و تفسیرِ قرآن، حدیثی مباحث، معاشی موضوعات اور قانونی فیصلوں پر ہزارہا محقق صفحات کا کام کرچکے ہیں اور بحمدللہ یہ خدمات مسلسل جاری و ساری ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جمود کا شکوہ

مشہور یہ ہے کہ مدارس میں صرف قرآن، حدیث اور روایات پڑھائی جاتی ہیں جن میں عقل کا استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ گویا مداس کا نظامِ تعلیم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفقود کردیتا ہے جس سے جمود پیدا ہوتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں ہر شخص کو دعوتِ فکر دی جاتی ہے جس سے خیالات میں تنوع اور تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر یہ سب کہنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے آج تک کسی مدرسے کا تفصیلی دورہ ہی نہیں کیا ہوتا۔ یہ لوگ عام طور پر پھیلے ہوئے نظریات اور بے بنیاد تجزیوں سے متاثر ہوکر ایک غیرمستند رائے قائم کرتے ہیں۔ پھر اس رائی پر پورا پہاڑ کھڑا کرکے اپنی دانشوری کا رعب جھاڑتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مدارس کے نصاب پر ایک گہری نظر ڈالنا ہوگی تاکہ واضح ہو کہ ’’عقلی علوم‘‘ اور عقل استعمال کرنے کے کس قدر مواقع یہاں موجود ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مخصوص چھاپ

شاہد صاحب کا تاثر ایک غیرمعمولی وقت کے پابند استاذ کا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ وہ سال کے شروع میں روزانہ کی مقدارِ خواندگی طے کرلیتے ہیں۔ پھر پورا سال اس کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے کسی دن کا سبق پورا نہ ہوا ہو یا ان سے کوئی سبق چھوٹا ہو۔ پورے اسکول میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کا نصاب ہمیشہ بروقت پورا ہوتا ہے اور جو کتاب بھی ان کے حوالے کی جائے وہ ہمیشہ مکمل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کسی اور استاد کی کتاب باقی ہو اور وقت پر ختم کرنا ناممکن نظر آرہا ہو تو شاہد صاحب اس کام کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کی کیا رائے بن رہی ہے شاہد صاحب کے بارے میں؟ یقینا اکثر قارئین ان کی وقت کی پابندی سے متاثر ہوئے ہوں گے یا ان کی مستقل مزاجی کی داد دیتے رہے ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویل ڈن پاکستان!

اخبار میں تصویر چھپی۔ 5 پولیس اہلکار وحسیانہ انداز میں لاٹھیاں اٹھائے ہوئے ہیں۔ چہرے پر درندگی نظر آرہی ہے۔ درمیان میں دو سادہ کپڑوں میں موجود معصوم شہری پر اعتماد انداز میں مقابلہ کررہے ہیں۔ قارئین کی بڑی تعداد نے جب یہ تصویر دیکھی تو پولیس کے مظالم کا انہیں عین الیقین حاصل ہوگیا۔ پورا دن لوگ تبصرے کرتے رہے کہ آج تو پولیس نے ظلم کی انتہائی کردی۔ بعض سول سوسائٹی کے ان ممبران کی جرأت کو بھی سراہتے رہے۔ اس دوران رپورٹر اور خبرنگار کے چہرے پر بار بار شاطرانہ مسکراہٹ آتی رہی۔ جو تصویر انہوں نے چھاپی تھی وہ درحقیقت ایک بڑی تصویر کا حصہ تھی۔ بڑی تصویر میں ان 5 پولیس اہلکاروں کے گرد بیسیوں سول سوسائٹی ممبران وائٹ کالر قصائی کی صورت میں وحشیانہ انداز میں بڑھ رہے تھے۔ وہ پولیس والے جو چھوٹی تصویر میں وحشی لگ رہے تھے اب بڑی تصویر میں جاکر بدحواس معلوم ہورہے تھے۔ سول سوسائٹی کے دو افراد جو پولیس کے حصار میں جراتمند لگ رہے تھے وہ اب پولیس کی بے بسی پر چہکتے محسوس ہونے لگے ہیں۔ قارئین کرام! آپ نے اندازہ لگایا کہ ’’بروڈپکچر‘‘ دیکھے بغیر کسی واقعے یا فلسفے کو سمجھنے میں کس قدر دھوکا لگ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حالات کی حساسیت!

ایک بے وقوف نے دعویٰ کیا کہ میں ہر ناممکن کو ممکن بناسکتا ہوں۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ استفسار کیا گیا تو کہنے لگا: ’’نا‘‘ ہٹاکر۔ قارئین کرام! جیسے ناممکن کو ’’نا‘‘ ہٹاکر ممکن بنایا جاسکتا ہے اسی طر نااہل کو بھی ’’نا‘‘ ہٹاکر اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آئین میں یہ ترمیم کی جاسکتی ہے بھی ’’نا‘‘ کہ نااہل کو ’’نا‘‘ ہٹاکر پڑھا جائے۔ ایک آسان صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ترمیم یوں کردی جائے: ویسے تو جو نااہل ہو وہ پارٹی صدر نہیں بن سکتا، لیکن جناب نواز شریف اس سے مستثنیٰ ہیں اور بھی کئی آسان صورتیں ہوسکتی تھیں۔ جن سے جناب نواز شریف صاحب کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا اور بقیہ آئین اپنی اصلی حالت پر برقرار رہتا، لیکن وہ کیا کہتے ہیں اسے، فیس سیونگ (Face Saving) یعنی عزت برقرار رکھنے کی خواہش کہ کھل کر یہ ماننا بھی نہیں چاہتے کہ یہ سب ترامیم ملکی مفاد یا قومی سلامتی کے لیے نہیں، بلکہ ایک شخص کے لیے کی جارہی ہیں اور اپنا مفاد بھی چھوڑنا گوارہ نہیں، لہٰذا خوب دور کی کوڑیاں لانے کی کوشش کی گئیں۔ ایسے میں قادیانی لابی کو اندازہ ہوگیا کہ یہ اپنے مفاد کے لیے آئین کو گھما پھرا کر چھیڑنے کی کوشش ضرور کریں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غلط فیصلے

’’غلط فیصلوں سے ملک ٹوٹا، ڈر ہے پھر کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔‘‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کا یہ جملہ گو حقائق کی دنیا میں انتہائی قیمتی اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے، لیکن موقع کے لحاظ سے اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلط فیصلے ہی کسی شخصیت، کسی تحریک، کسی ادارے یا کسی ریاست کو ناکامی سے دوچار کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا ادراک نجانے ہماری اشرافیہ کو اسی وقت کیوں ہوتا ہے جب وہ خود بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے جب وہ خود غلط فیصلے کررہے ہوتے ہیں یا مغرب کی ایماء پر ہونے والے غلط فیصلوں پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو کیا اس وقت حادثے کا خطرہ نہیں ہوتا؟ لہٰذا ہماری میاں نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ سب سیاستدانوں کے لیے نمونہ بنتے ہوئے اپنے سیاسی کیریئر پر ازسرنو عذر فرمائیں پھر ان کی روشنی میں آیندہ خود بھی ایسے غلط فیصلوں سے بچیں اور ہوسکے تو دوسرے غافلین کو بھی متوجہ کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمت اور پہل

ٹیمیں اس وقت جیتتی ہیں جب ان کے کھلاڑیوں میں فنی مہارت کے ساتھ ہم آہنگی، ایک دوسرے کے رویے کی برداشت اور مستقل مزاجی ہو۔ کوئی بھی سمجھ دار شخص کسی دفاعی کھلاڑی سے یہ سوال نہیں کرتا کہ تم نے فارورڈ کی طرح بہت سے گول کیوں نہیں کیے؟ بلکہ اگر کوئی دفاعی کھلاڑی بار بار گول کرنے لگے تو اس کی گرفت ہوسکتی ہے کہ اپنے اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کے کام میں کیوں دخل دے رہے ہو۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی ذمہ داری ٹھیک ادا نہ کررہا ہو تو دوسرے کھلاڑی اس کو متوجہ کرسکتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں یا اگر کوئی متبادل ہے تو اس کو بدلنے کی تجویز دے سکتے ہیں، لیکن کوئی کھلاڑی یہ نہیں کرسکتا کہ کسی دوسرے کھلاڑی کی جگہ جاکر خود کھڑا ہوجائے اور اپنی جگہ چھوڑ دے۔ یہ نہ صرف جرم ہوگا، بلکہ اس کا خمیازہ بھی ٹیم کو اٹھانا پڑے گا، کیونکہ اس کھلاڑی نے دوسرے کھلاڑی کا خلا پُر کرنے کے لیے اپنی پوزیشن پر خلا پیدا کردیا ہے۔ نیز یہ سودا اس لیے بھی گھاٹے کا ہے کہ ہر کھلاڑی کی تربیت اس کی پوزیشن کے لحاظ سے کی جاتی ہے، لہٰذا فل بیک اگر فارورڈ کی جگہ پر چلا بھی جائے تو وہ فارورڈ کی مہارت سے کھیل نہیں سکتا، جبکہ دفاعی پوزیشن وہ ویسے بھی چھوڑ آیا ہے، لہٰذا اس طرح کا اقدام نقصان ہی نقصان کا باعث ہوگا۔ ایک مسئلہ یہ بھی پیش آئے گا کہ جن کھلاڑیوں کی آپس میں ہم آہنگی تھی، ان میں جب ایک نیا کھلاڑی گھسے گا تو ہم آہنگی باقی نہ رہے گی، لہٰذا گول کرنے کے لیے جو ’’ربط‘‘ درکار ہے وہ حاصل نہ ہوسکے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بے بس جبر

تاریخ کے اکثر اوراق میں مسلمان ہمیشہ مظلوم ہی رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں ظلم کرنا منع ہے، لہٰذا وہ عدل قائم کرسکیں تو ٹھیک، ورنہ وہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم بننے ہی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس مظلومانہ تاریخ کے باوجود ان کو ظالم اور دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب کے باسی اور مشرق کے لبرل اسلام کو دہشت گردی کا مترادف ماننے لگے ہیں۔ یہی حالات ہیں کہ جن کی وجہ سے بوسنیا، فلسطین اور افغانستان کے مظلوم عوام ابھی تک اپنی مظلومیت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا ہو یا اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹیں، ہر جگہ ظالم اسرائیل، ظالم ناٹو فورسز اور ظالم سربیا کے ساتھ یہ بھی ضرور لکھا جاتا ہے کہ اس ظلم و سربریت میں دوسرے فریق کا بھی برابر کا کردار ہے۔ یوں رپورٹ ایسی بے جان بن جاتی ہے کہ ظالم سے پوچھ گچھ کی بنا ہی سرے سے ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں پوری دنیا کے مسلمان اور غیرمسلم اگر کسی مسلمان قوم کو مظلوم ماننے پر اتفاق کرلیتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ظلم کس درجے اور کس سنگین نوعیت کا ہوگا؟!! جی ہاں! یہ روہنگیا مسلمان ہیں جن پر ظلم کی انتہا نے تماشائیوں کو جاگنے پر مجبور کردیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بڑے خواب!

کچھ خواب دیکھنے کے لیے سونا پڑتا ہے اور کچھ خواب سونے نہیںدیتے۔ مملکت پاکستان کا خواب بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس نے نہ صرف علامہ اقبال مرحوم کی بلکہ تمام مسلمان راہنمائوں اور عوام کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔ جب خواب بڑے اور جاذب ہوتے ہیں تو قوموں کی رفتار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ 23؍ مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہونے کے محض 7 سال بعد پاکستان ایک حقیقت بن چکا تھا۔ اگر خواب بڑے ہوں، پھر قیادت اس خواب میں ساری قوم کو دیانت داری سے شریک کرے اور اس کے حصول کے لیے وسائل بھی مہیا کرے تو بہت جلد خواب شرمندئہ تعبیر ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے! ایوب خان نے 65ء میں بھارتی حملے کے وقت انتہائی مختصر نوٹس پر چند منٹ کا خطاب کرکے ساری قوم کو یہ فتح کا خواب دکھایا بشرطیکہ ساری قوم ایک ہوجائے اور جہادی جذبے سے سرشار ہوکر دشمن کو جواب دے۔ 17 دن کی مختصر جارحانہ لڑائی کے بعد لاہور جیم خانہ میں جشن منانے کے شوقین بھارتی سورما، یاس و ندامت کے ساتھ واپسی پر مجبور ہوگئے۔ پاکستانی علاقوں میں قبضہ کے شوقین اپنے علاقوں سے قبضہ چھوڑنے کی اپیلیں کرنے لگے اور اقوام متحدہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔ یقینا اچھے لیڈر، بڑے خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے موافق قوم کو بھی تیار کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم سب ایک ہیں

ستمبر 1965ء میں یہ پاکستانی نوجوان ہی تھے جنہوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارت کو ناکو چنے چبوائے تھے۔ ایوب خان کے اسلام اور مادر وطن کی حفاظت پر مبنی چند منٹ کے غیرمعمولی خطاب نے نوجوانوں کو وطن کی محبت سے سرشار اور اسلام کا فدائی بنادیا تھا۔ چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ یہ نوجوان بھارتی ٹینکوں کو روکنے کے لیے ان کے آگے بارود باندھ کر لیٹنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ نوجوان کیا پوری قوم ایک پیج پر تھی۔ علماء و تاجر، مرد و خواتین سب ایک ہی جذبے سے سرشار تھے۔ اپنی مجاہد فوج سے تعاون کے لیے مساجد سے اعلانات ہوتے تھے۔ ان کے جذبات بڑھانے کے لیے جنگی ترانے تیار کیے جاتے تھے اور یوں دشمن تین گنا زیادہ نقصان اٹھاکر مایوسی اور خجالت کے ساتھ پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا تھا۔ یہ سب صرف 17 دنوں میں ہوگیا تھا۔ شاید بدر و اُحد کے بعد اتنا بہترین جنگی جذبہ اور حکمت عملی تاریخ پیش نہ کرسکے۔ دشمن جو لاہور میں ناشتہ کرنے اور جشن منانے کا متمنی تھا، اسے چند کلومیٹر کا راستہ برسوں کا سفر لگنے لگا۔ دوڑ کر میدان مارنے کا زعم لیے بھارتی سورما رینگنے اور گھسٹنے پر مجبور ہوئے اور پھر یہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ یہ سب قیادت پر اعتماد کا نتیجہ تھا۔ ایوب خان نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نوجوانوں کو سنبھالیے

اسلامی ممالک میں نوجوان کی تعداد 44 فیصد ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں اگر ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں تو ان میں 66 کروڑ نوجوان ہیں۔ پھر یہ نوجوان باصلاحیت بھی ہیں اور اسلام سے وابستہ بھی۔ پاکستان ہی کو لے لیجیے۔ یہ دنیا بھر میں انجینئرز اور کاریگروں کا سب سے بڑا حب (HUB) ہے۔ بے شمار پاکستانی سائنسدان مغربی ممالک میں اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ O لیولز میں نمایاں پوزیشنز ہوں یا مائیکروسافٹ کے مقابلے، ہمارے نوجوان میدان ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سیاسی، مذہبی، لسانی کتنی ہی تحریکیں اٹھتی ہیں اور ان سب کو وافر تعداد میں نوجوان دستیاب رہتے ہیں۔ا سلام سے تعلق بھی نوجوانوں کی اکثریت کے انگ انگ میں موجود ہے۔ 1953ء میں ختم نبوت کے لیے انہی کالجی نوجوانوں نے جانیں پیش کی تھیں۔ 1974ء میں قادیانیت پر پابندی کی تحریک بھی نوجوانوں کی مزاحمت سے ہی شروع ہوئی تھی۔ عامر چیمہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ مدارس کے جلسوں میں ایک بڑی تعداد بظاہر دنیادار نوجوانوں کی دیکھی جارہی ہے۔ افغان جہاد میں بھی نوجوانوں ہی نے معرکے سرانجام دیے تھے۔ غرض نوجوانوں کی تعداد بھی قابل رشک ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔