• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

لبیک: مجاز سے حقیقت تک

مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کی ہماری عادت پرانی ہے۔ اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناقدری کی روایت ایسی چلی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ حج اور قربانی دو ایسے ہی مواقع ہیں۔ حج کے متعلق کچھ باتیں اس مرتبہ، کچھ قربانی کے متعلق ان شاء اللہ اگلی محفل میں۔

حج جیسا عظیم اجتماع کسی اور قوم کو ملے تو نجانے وہ اس سے کیسے کیسے مادّی و غیر مادّی فوائد حاصل کرے۔ دنیا میں کسی قوم کے پاس نہ ایسا شاندار، ایسا تاریخی روایات کا حامل، ایسی با برکت قدیم ترین روحانی یادگاروں کا امین کوئی مرکز ہے اور نہ ایسے کسی سالانہ عالمی عظیم القدر مسلسل اجتماع کی کسی کے پاس کوئی مثال ہے۔ جیسے ان یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے آج تک آنے والی مقدس ہستیوں اور خدا پرستی کے مخلصانہ واقعات سے ہے، اسی طرح یہاں ہونے والے مذہبی و روحانی یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک یادگار دن کی روئیداد

28؍ شوال 1436ھ بمطابق 14؍ اگست 2015ء اس فقیر کی زندگی کے باسعادت ترین دنوں میں سے ہے۔ احقر یہاں استنبول میں ہدایہ شریف کی ’’کتاب البیوع‘‘ کے 25 روزہ دورے کے سلسلے میں آیا ہوا ہے۔ اس دورے میں حضرت الاستاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز کتاب ’’فقہ البیوع‘‘ کا آخری حصہ جس میں اسلامی مالیاتی قوانین یا اسلامی اقتصادی ستور 235 دفعات کی شکل میں دیا گیا ہے، بھی شامل درس ہے۔ فقیر کا ہدایہ پر مقدمہ ’’ارشاد الطالب الی مانی الہدایۃ من المطالب‘‘ اور قواعد الفقہ بھی پڑھے پڑھائے جاتے ہیں۔ شرکاء میں کئی ملکوں کے علماء اور دکتور حضرات شامل ہیں، چونکہ استنبول میں اس وقت عراق، شام، مصر اور یمن کے کبار مشایخ موجود ہیں، اس لیے فجر کے بعد اور عصر تا عشاء ان حضرات کے حلقات درس میں حاضری اور ان سے ’’اجازت حدیث‘‘ کی برکت و سعادت حاصل کرنے کا سلسلہ رہتا ہے۔ پچھلے ہفتے جب علامہ کوثریؒ کے آخری اجازت یافتہ شاگرد جناب شیخ امین سراج حفظہم اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حصولِ اجازت کے لیے حاضری دی تو انہوں نے تعارف اور کارگزاری سننے کے بعد فرمایا کہ کچھ دنوں تک آتے رہو۔ ہم روز ظہر کی نماز حضرت کے ہاں سلطان فاتح مسجد میں پڑھتے تھے۔ آخرکار انہوں نے اجازت سے مشرف فرمایا۔ اب ہمیں عادت ہوگئی کہ اپنا درس ختم کرتے ہی سلطان فاتح مسجد چل پڑتے اور ظہر حضرت کے ہاں پڑھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو تختیاں، دس آداب

کامیاب معلم کی کیا پہچان ہے؟ اس حوالے سے ماہرین نے بہت سی آراء پیش کی ہیں۔ ایک رائے وہ ہے جو ترکی کے ایک معلم نے عملاً پیش کی اور وہ اتنی کامیاب ثابت ہوئی کہ آج اس کا کام خوب اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تجربے سے وابستہ داستان بچے بچے کی زبان پر ہے۔ اس کے تجربے اور تبصرے کی بنیاد پر کئی مقالہ نگار کامیاب مقالے لکھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کو ترکی کے روایت پرست ہوٹلوں میں خطاطی کے اعلیٰ نمونے آویزاں مل جائیں گے، وہیں عثمان حمدی کے اس تجربے کی عکاسی کرتی ہوئی پینٹنگز بھی نظر آجائیں گی۔ کسی صاحبِ دل نے محض دو مناظر کو چند تختیوں میں نقش کرکے ساری داستان اور مکمل فلسفے کو سمیٹ دیا ہے۔ ان دو مناظر میں اس عبقری معلم کا فلسفہ، تجربہ اور اس کا نتیجہ ایک لمحے میں آجاتا ہے۔ ذیل کی سطروں میں ہم اس کے تجربے اور اس تجربے سے اخذ کردہ چند اصولوں کو ذکر کریں گے۔

عثمان حمدی کا ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا جو اس کی کل کائنات، اس کی امیدوں کا مرکز اور اس کا اوڑھنا بچھونا یا جینا مرنا تھا۔ اسے اس بات سے نہایت کرب اور کڑھن محسوس ہوتی تھی کہ جتنی بھی کوشش کی جائے بعض طلبہ سست رفتار ہوتے ہیں اور دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ہر طالب علم کو کامیاب، قابل اور امتیازی صلاحیت کا مالک اور امتیازی خدمات کا حامل دیکھنا چاہتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیامت کی صبح تک

آخر کار اللہ تعالی کے امر کو قائم کرنے کی جد و جہد کرنے والا خود امر ہو گیا۔ مادّیت پرستی کے اس دور میں خدا پرستی کی ایسی مثال قائم کر گیا جو اللہ کی مخلوق پر حجت ہو گئی۔ جب کلیجے اچھل کر حلق کو آ رہے تھے، آنکھوں کی پتلیوں کا رنگ بدل گیا تھا، تب وہ چٹان کی طرح سینہ سپر ہو گیا اور ثابت کر دیا کہ ’’مؤمن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘۔ صحابہ کرام کی سیرت، فاتحین اسلام کی عبقریت، غازیان اسلام کی شجاعت و فراست، سلاطین اسلام کی بصیرت و سیاست، غرضیکہ جو چیز تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی تھی، اس کی زندہ تصویر، اس کا مجسم پیکر، اس کا مثالی نمونہ قدرت نے اس کی شکل میں پھر سے دکھا دیا۔ ایوبی سے غزنوی تک اور بن زیاد سے بن لادن تک سبھی صاحب عزیمت تھے، لیکن جس طرح مدرسے کی گود سے امارت کی مسند تک کا ایمانی و تحریکی سفر اس نے طے کیا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسجد کی امامت سے مجاہدین کی خفیہ قیادت تک کون سا روپ ہے جو حیرت انگیز نہیں؟ اس کی زندگی کے کتنے ہی رخ ایسے ہیں جس پر مستقل لیکچر دیے، مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ ناول، افسانے چھاپے اور ڈاکومنٹریاں بنائی جا سکتی ہیں۔ اس نے تاریخ میں منقول اعلی انسانی صفات، خرق عادت کرامات اور مجاہدانہ اوصاف کو پھر سے سچ کر دکھایا۔ اس کے مؤمنانہ کردار نے تاریخی روایتوں کو حقیقت اور جھوٹی داستانوں کو عبث بنا دیا۔ جھوٹ سننے کی عادی دنیا اور جھوٹے دعووں پر چلنے والے بونے حکمرانوں اور ان کے کاسہ لیس قلم کاروں، میڈیا کے فنکاروں کی پہنچ سے وہ بہت آگے نکل گیا۔ بہت آگے، اتنا بلند اور اتنا آگے کہ مریخ تک پہنچنے کا دعوی کرنے والوں کے لیے اب اس کی گرد کو پہنچنا بھی مشکل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کی کنجی

اس دنیا میں انسان کی کامیابی کے بہت سے راز گنوائے جاتے ہیں۔ انسانی عقل، تجربہ اور تدبّر بہت سے ایسے گُر دریافت کرچکا ہے جنہیں ’’کامیابی کی کنجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس عقل کو وحی کی راہنمائی اور جس تجربے کو تائید غیبی کی توفیق حاصل ہو اس کی بات بہرحال مستند اور مفید ترین قرار دی جاسکتی ہے۔ ہمارے اکابر کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ علم کے نور اور تقویٰ کی برکات دونوں چیزوں سے نوازا تھا، پھر وہ طلبہ کی تربیت اور فضلائے کرام کی میں راہنمائی دونوں حوالوں سے سچی ہمدردی اور طویل تجربہ رکھتے تھے، اس لیے اس موضوع پر ان کا فرمایا ہوا یقینا مستند ترین اور مفید ترین ہے۔ تعلیمی سال کے آغاز پر چند ایسی باتیں عرض کروں گا جن میں ایک طرف تو ہمارے بڑوں کے فرمودات کی خوشبو ہے، دوسری طرف وہ آج کے دور میں نو فارغ التحصیل فضلاء حضرات کے احوال کے گہرے مشاہدے اور ان کے ساتھ طویل نشستوں اور مذاکروں کے بعد سامنے آئی باتوں کا نچوڑ ہیں۔

سب سے پہلی بات جو اپنے نئے ساتھیوں سے عرض کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی سب کے لیے

مفتی صاحب:مولانا صاحب جیسا کہ میں نے یہاں مشاہدہ کیا کہ بچوں کو کھانے پینے کی سہولیات ماشاء اللہ بہت اچھی دی جاتی ہیں۔ دو آدمی غیر علماء ان کے مخصوص انتظام کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ اور علماء میں سے بھی ان کی رہنمائی کے لیے اساتذہ موجود ہوتے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ ہر بچے کو آپ کمپیوٹر، بریل ٹائپ رائیٹریا اس حوالے دیگرکون کون سی اشیاء آپ فراہم کرتے ہیں؟
مولانا مرچی: اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان تمام حضرات کو جو میرے ساتھ مل کر ان بچوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ بچے جو دور دراز علاقوں اور ملکوں سے ہمارے پاس تشریف لائے ہوئے ہیںاور ایک عظیم دینی مقصد لے کر ہمارے پاس آئے ہیں۔ ان کے سیکھنے کے لیے جو جو آلات مفید ثابت ہوں۔ وہ سب ہم انہیں فراہم کرتے ہیں۔ کمپیوٹرزاور ریکارڈنگ کے آلات سے انہیں فائدہ ہوتا ہے اور ہم ان کے لیے یہ اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ کم سے کم وقت میں انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوجائے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو اپنے ملک یا معاشرے کا سب سے کمزور شخص ہے، ہم اسے بھی پڑھائیں۔ اور وہ حضرات بھی دین سیکھ کر دین کے داعی بنیں۔ .
مفتی صاحب:آپ نے فرمایا کہ کراچی میں مولانا وقار یونس صاحب آپ کے فارغ التحصیل موجود ہیں۔ کوئی بھی پاکستان کا عالم ان سے سیکھنا چاہے کہ میں ان بچوں کو کیسے پڑھاؤں ؟ اور اگر کوئی نابینا عالم یا قاری ان سے سیکھنا چاہے تو اسے سیکھنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ بینا کو کتنا اور نابینا کو کتنا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی سب کے لیے

مفتی صاحب:آپ نے فرمایا کہ ایک نارمل آدمی بریل سیکھ سکتا ہے کہ بریل کیسے پڑھایا جاسکتا ہے اور نابینا بچوں کی کیسے رہنمائی کی جاسکتی ہے؟ کیا آپ نے کبھی بینا یا نابینا ٹیچرز کوئی ورکشاب یاکورس کروایا ہے کہ آگے جاکر اپنے اپنے ملک یا شہر میں ایسے مخصوص بچوں کو پڑھا سکیں؟ ابھی تک آپ نے کہاں کہاں پڑھایا ہے اور مستقبل میں کہاں کا ارادہ ہے؟ اور اس کا نظم کیا ہے؟ آپ کس طرح اس کااعلان کرتے ہیں کہ کوئی اس میں شرکت کر سکے؟

مولانا مرچی: الحمد للہ! ابھی تک انگلینڈ، پاکستان، انڈیااور افریقہ میں کئی کئی ورکشاپز کروائی ہیں۔ اس کے ذریعے ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے علماء کرام اس فن کو سیکھ کر اس میں ماہر ہوجائیں، دوسروں کو بھی سکھائیں اور خاص طور پر نابینا بچوں کو بھی پڑھاسکیں۔ اسی طرح ہم نابینا حضرات کو بھی یہ ورکشاپز کرواتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا کورس ہے جسے ہم تین سے چار دن میں مکمل کروا دیتے ہیں۔ اس کے پڑھنے والے کو سوجھ بوجھ ہوجاتی ہے کہ یہ ہے کیا؟ ماسٹرشپ یعنی مہارت کے لیے تو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دھوکا دیں نہ دھوکا کھائیں

نیکی کے نام پر گناہ کمانے کی کئی خطرناک مثالیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً: ایک خطرناک بلکہ انتہائی خطرناک مثال یہ کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مستند علمائے کرام اور ماہرین قرآن کریم سے بیانات اور ترجمہ و تفسیر سننے کے بجائے ہمارے ہاں ٹی وی چینلز پر دینی پروگرام کے نام سے نشریات پیش کی جاتی ہیں جن سے نہ صرف عوام کو مستند معلومات اور دینی اعمال کی ترغیب نہیں ملتی، بلکہ الٹا ماہ مبارک کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ عوام الناس کو دین و دنیا کی حقیقی سعادتیں حاصل ہوں، غیرسنجیدہ انداز میں مخلوط محفلیں اسٹیڈیم کے تماشائیوں کے طرز پر سجائی جاتی ہیں۔ انہیں مضحکہ خیز سوالات و جوابات اور بے معنی انعامات کے ذریعے مزاحیہ رنگ دینے کی جسارت کی جاتی ہے۔ قہقہوں کی گونج، تالیوں کے شور اور غیرشرعی و غیرمشرقی انداز میں محفل کو یوں آراستہ کیا جاتا ہے کہ فضائل کے بجائے رذائل کا نمونہ بن جاتی ہے۔ یہ انتہائی خطرناک روش ہے کہ لوگ سحر و افطار کا قیمتی وقت دین کے نام پر بے دینی سیکھنے میں گزاریں اور رحمت الٰہی سے جھولی بھرنے کے بجائے دامن جھاڑ کر اُٹھیں۔ دینی شعائر کا تمسخر اڑانا اتنا سخت گناہ ہے کہ اس پر عذابِ خداوندی کا اندیشہ ہے۔ حکمران طبقہ اور چینلز مالکان کو اس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے کر اصلاح کی بھرپور اور ہمہ گیر کوشش کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیکی کی تکمیل

جس طرح اس دنیا میں بدی کے کام بدی کے لباس میں ہوتے ہیں، اسی طرح نیکی کی آڑ میں بھی ہوتے ہیں۔ جن اسباب کی بنا پر نیکی کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، انہی اسباب کی بنا پر ان کاموں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے جو نیکی کے آڑ میں بدی کی افزائش کے لیے ہوتے ہیں اور معاشرے میں نیکی سے بیزاری یا گناہ کی ترغیب کا ذریعہ بنتے ہیں، چونکہ رمضان المبارک جیسا مبارک مہینہ چل رہا ہے، اسی لیے ذکر ایسی چیز کا جس کا تعلق نیکیوں کے اس موسم بہار سے ہے جس میں ہم بدقسمتی یا بدفہمی سے نیکیوں کے پھول سمیٹنے کے بجائے خزاں کے بکھرے پتوں کے سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔

کسی غریب کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے، بلکہ شاید ان چند نیکیوں میں سے ہے جن پر دنیا چل رہی ہے۔ انسانوں کے گناہ حد سے بڑھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی ستاری کا پردہ ڈالے اپنی غفاری کا صدقہ دیتے رہتے ہیں، کیونکہ بعض بظاہر گنہگار نظر آنے والے لوگ پتا نہیں کتنے لوگوں کے رزق روزی اور حاجت ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں، لیکن مستحق کی خدمت کے خوبصورت اور قابل تعریف جذبے سے بعض لوگ ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رمضان کی رونق! اللہ اکبر!

رمضان المبارک کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو نعمتیں دی ہیں، بلکہ اپنی نعمتوں کو جس طرح ہم پر مکمل کیا ہے، اس کا شمار و اندازہ مشکل ہے۔ یہ نعمتیں روحانی بھی ہیں اور مادی بھی۔ انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔ دینی بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ غرضیکہ احسانات اور انعامات کی بھرمار ہے جن کا شکر ادا کرتے سال گزر جائے اور اگلا رمضان آجائے تو بھی شکر ادا نہ ہو۔ اسی وجہ سے بعض اکابر سے منقول ہے کہ وہ رمضان کے بعد آدھا سال ان نعمتوں کے شکرانے میں گزارتے تھے جو انہیں اس مبارک مہینے میں حاصل ہوئیں اور بقیہ آدھا اگلے سال ان نعمتوں کے دوبارہ مل جانے کی دعائیں کرتے کرتے گزار دیتے تھے۔ بس بات اتنی سی ہے کہ ہر عبادت کی طرح اس مہینے کی عبادتوں کے بھی کچھ آداب ہیں۔ بس ان کو پورا کرلیا جائے تو کچھ ایسا باطنی اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو اس سے بڑی نعمت کوئی اور چیز لگتی ہی نہیں۔ من کی اس شانتی کے آگے ساری مادّی لذتیں ہیچ ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو روح کے ساتھ نفس بھی دیا ہے۔ جنتی روح صاف شفاف، صحت مند اور طاقت ور ہوگی، نفس اتنا ہی کمزور اور مسخر ہوگا اور نفس کو مسخر کرنے میں انسان کی روحانی معراج ہے۔ تمام مذاہب میں ریاضتوں کا مقصد یہی بتایا گیا ہے کہ انسان نفس کی خباثتوں سے جان چھڑائے اور اس کی رذالتوں کا تصفیہ و تطہیر کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ خیر رکھے

عقل و فراست اور تدبیر و حکمت کے ساتھ شجاعت و جرأت جمع ہوجائے تو سمجھیے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں انسانوں پر تمام ہوگئیں۔ اس جملے میں راقم الحروف نے ’’انسان‘‘ کے بجائے ’’انسانوں‘‘ اس لیے کہا کہ ایسا شخص جس میں یہ صفات جمع ہوں اگر انہیں خیر کے راستے میں خلقِ خدا بھلائی کے لیے استعمال کرے تو یہ صفات اس کے آس پاس والوں کے لیے بھی نعمت ہوتی ہیں۔ ایسی صفات والے لوگ اپنے جیسے دوسرے ہزاروں، لاکھوں بے زبان انسانوں کے لیے قائد ہوتے ہیں اور وہ کچھ کر جاتے ہیں جو ان کے ماتحت انسان صرف سوچ رہے ہوتے ہیں، کر نہیں پاتے یا سوچ بھی نہیں سکتے، محض آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں۔

ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان… اللہ خیر رکھے… ایسے ہی نادر قسم کے لوگوں میں سے لگتے ہیں۔ ان کی جو ’’حرکتیں‘‘ انہیں انسانی تاریخ کے اس قسم کے لوگوں میں شمار کرتی ہیں، وہ دونوں قسم کی ہیں: اندرون ملک بھی بیرون ملک بھی۔ انہیں اگر ترتیب سے گنوانا شروع کیا جائے تو مبالغہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اندرون ملک صورتحال اس وقت یہ ہے کہ طیب اردگان ترکی کی معاصر تاریخ کے مقبول ترین اور ہر دل عزیز حکمران شمار ہوتے ہیں۔ ترک عوام میں ان کی شہرت و مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ وہ اس وقت مسلسل منتخب ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔