• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دھوکا دیں نہ دھوکا کھائیں

نیکی کے نام پر گناہ کمانے کی کئی خطرناک مثالیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً: ایک خطرناک بلکہ انتہائی خطرناک مثال یہ کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مستند علمائے کرام اور ماہرین قرآن کریم سے بیانات اور ترجمہ و تفسیر سننے کے بجائے ہمارے ہاں ٹی وی چینلز پر دینی پروگرام کے نام سے نشریات پیش کی جاتی ہیں جن سے نہ صرف عوام کو مستند معلومات اور دینی اعمال کی ترغیب نہیں ملتی، بلکہ الٹا ماہ مبارک کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ عوام الناس کو دین و دنیا کی حقیقی سعادتیں حاصل ہوں، غیرسنجیدہ انداز میں مخلوط محفلیں اسٹیڈیم کے تماشائیوں کے طرز پر سجائی جاتی ہیں۔ انہیں مضحکہ خیز سوالات و جوابات اور بے معنی انعامات کے ذریعے مزاحیہ رنگ دینے کی جسارت کی جاتی ہے۔ قہقہوں کی گونج، تالیوں کے شور اور غیرشرعی و غیرمشرقی انداز میں محفل کو یوں آراستہ کیا جاتا ہے کہ فضائل کے بجائے رذائل کا نمونہ بن جاتی ہے۔ یہ انتہائی خطرناک روش ہے کہ لوگ سحر و افطار کا قیمتی وقت دین کے نام پر بے دینی سیکھنے میں گزاریں اور رحمت الٰہی سے جھولی بھرنے کے بجائے دامن جھاڑ کر اُٹھیں۔ دینی شعائر کا تمسخر اڑانا اتنا سخت گناہ ہے کہ اس پر عذابِ خداوندی کا اندیشہ ہے۔ حکمران طبقہ اور چینلز مالکان کو اس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے کر اصلاح کی بھرپور اور ہمہ گیر کوشش کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیکی کی تکمیل

جس طرح اس دنیا میں بدی کے کام بدی کے لباس میں ہوتے ہیں، اسی طرح نیکی کی آڑ میں بھی ہوتے ہیں۔ جن اسباب کی بنا پر نیکی کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، انہی اسباب کی بنا پر ان کاموں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے جو نیکی کے آڑ میں بدی کی افزائش کے لیے ہوتے ہیں اور معاشرے میں نیکی سے بیزاری یا گناہ کی ترغیب کا ذریعہ بنتے ہیں، چونکہ رمضان المبارک جیسا مبارک مہینہ چل رہا ہے، اسی لیے ذکر ایسی چیز کا جس کا تعلق نیکیوں کے اس موسم بہار سے ہے جس میں ہم بدقسمتی یا بدفہمی سے نیکیوں کے پھول سمیٹنے کے بجائے خزاں کے بکھرے پتوں کے سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔

کسی غریب کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے، بلکہ شاید ان چند نیکیوں میں سے ہے جن پر دنیا چل رہی ہے۔ انسانوں کے گناہ حد سے بڑھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی ستاری کا پردہ ڈالے اپنی غفاری کا صدقہ دیتے رہتے ہیں، کیونکہ بعض بظاہر گنہگار نظر آنے والے لوگ پتا نہیں کتنے لوگوں کے رزق روزی اور حاجت ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں، لیکن مستحق کی خدمت کے خوبصورت اور قابل تعریف جذبے سے بعض لوگ ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رمضان کی رونق! اللہ اکبر!

رمضان المبارک کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو نعمتیں دی ہیں، بلکہ اپنی نعمتوں کو جس طرح ہم پر مکمل کیا ہے، اس کا شمار و اندازہ مشکل ہے۔ یہ نعمتیں روحانی بھی ہیں اور مادی بھی۔ انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔ دینی بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ غرضیکہ احسانات اور انعامات کی بھرمار ہے جن کا شکر ادا کرتے سال گزر جائے اور اگلا رمضان آجائے تو بھی شکر ادا نہ ہو۔ اسی وجہ سے بعض اکابر سے منقول ہے کہ وہ رمضان کے بعد آدھا سال ان نعمتوں کے شکرانے میں گزارتے تھے جو انہیں اس مبارک مہینے میں حاصل ہوئیں اور بقیہ آدھا اگلے سال ان نعمتوں کے دوبارہ مل جانے کی دعائیں کرتے کرتے گزار دیتے تھے۔ بس بات اتنی سی ہے کہ ہر عبادت کی طرح اس مہینے کی عبادتوں کے بھی کچھ آداب ہیں۔ بس ان کو پورا کرلیا جائے تو کچھ ایسا باطنی اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو اس سے بڑی نعمت کوئی اور چیز لگتی ہی نہیں۔ من کی اس شانتی کے آگے ساری مادّی لذتیں ہیچ ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو روح کے ساتھ نفس بھی دیا ہے۔ جنتی روح صاف شفاف، صحت مند اور طاقت ور ہوگی، نفس اتنا ہی کمزور اور مسخر ہوگا اور نفس کو مسخر کرنے میں انسان کی روحانی معراج ہے۔ تمام مذاہب میں ریاضتوں کا مقصد یہی بتایا گیا ہے کہ انسان نفس کی خباثتوں سے جان چھڑائے اور اس کی رذالتوں کا تصفیہ و تطہیر کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ خیر رکھے

عقل و فراست اور تدبیر و حکمت کے ساتھ شجاعت و جرأت جمع ہوجائے تو سمجھیے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں انسانوں پر تمام ہوگئیں۔ اس جملے میں راقم الحروف نے ’’انسان‘‘ کے بجائے ’’انسانوں‘‘ اس لیے کہا کہ ایسا شخص جس میں یہ صفات جمع ہوں اگر انہیں خیر کے راستے میں خلقِ خدا بھلائی کے لیے استعمال کرے تو یہ صفات اس کے آس پاس والوں کے لیے بھی نعمت ہوتی ہیں۔ ایسی صفات والے لوگ اپنے جیسے دوسرے ہزاروں، لاکھوں بے زبان انسانوں کے لیے قائد ہوتے ہیں اور وہ کچھ کر جاتے ہیں جو ان کے ماتحت انسان صرف سوچ رہے ہوتے ہیں، کر نہیں پاتے یا سوچ بھی نہیں سکتے، محض آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں۔

ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان… اللہ خیر رکھے… ایسے ہی نادر قسم کے لوگوں میں سے لگتے ہیں۔ ان کی جو ’’حرکتیں‘‘ انہیں انسانی تاریخ کے اس قسم کے لوگوں میں شمار کرتی ہیں، وہ دونوں قسم کی ہیں: اندرون ملک بھی بیرون ملک بھی۔ انہیں اگر ترتیب سے گنوانا شروع کیا جائے تو مبالغہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اندرون ملک صورتحال اس وقت یہ ہے کہ طیب اردگان ترکی کی معاصر تاریخ کے مقبول ترین اور ہر دل عزیز حکمران شمار ہوتے ہیں۔ ترک عوام میں ان کی شہرت و مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ وہ اس وقت مسلسل منتخب ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی سب کے لیے

مفتی صاحب: سب سے پہلے میں آپ کا تعارف، مختصر پسِ منظر اور ابتدائی تعلیم سے لے کر تکمیلِ تعلیم تک کی رُوداد جاننا چاہوں گا؟
مولانا مرچی: میرا نام حسن عبدالقادر مرچی اور میری پیدائش یہیں ساؤتھ افریقہ کی ہے۔ سب سے پہلے 14 سال کی عمر میں حفظ قرآنِ کریم اپنے ملک سے ہی کیا۔ عصری تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہندوستان میں دارالعلوم فلاحِ دارین جو کہ گجرات کے ایک قصبے ’’ترکیسر‘‘ میں واقع ہے۔ وہاں سے درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ 1985ء میں سند فراغت حاصل کی۔ جب میں فارغ ہوا تو میں جس شہر ’’پیٹرزمیریزبرگ‘‘ میں رہتا تھا۔ وہاں پر نابینا بچوں کا ایک اسکول تھا، جہاںہمارے بچے عصری تعلیم کے لیے جاتے تھے۔ وہاں پر دینی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ بچے دینی تعلیم کے حصول کے لیے قریب ایک مدرسے میں آتے تھے۔ یہ مدرسہ تو نارمل بچوں کے لیے تھا۔ اس میں معذور بچوں کے لیے کوئی انتظام نہ تھا۔ اس لیے یہ نابینا بچے پیچھے رہ جاتے تھے۔ ان بچوں کے والدین ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ ان بچوں کے لیے ایک ایسا دینی ادارہ بنائیں جو ان کے لیے مخصوص ہو۔ یوں سمجھیے کہ یہاں سے ہمارے سفر کی ابتدا ہوتی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک انوکھے مدرسے کی رودار

آج کل مدارس کی دنیا میں تعلیمی سال کا اختتام ہورہا ہے۔ ختم بخاری شریف، جلسہ دستار بندی، اختتامی تقریبات، الوداعیہ محفلوں، دعاؤں اور مبارک بادوں کا موسم ہے۔ اس موقع پر ہمارے اکابرین جو نصیحتیں اور وصیتیں فضلائے کرام کو کرتے آئے ہیں، ان کا نمونہ اور خلاصہ راقم الحروف نے ’’پاجا چراغِ زندگی‘‘ کے نام سے یکجا کردیا ہے۔ یہاں میں مدارس کی خدمات کے مختلف روشن پہلوؤں میں سے ایک انوکھے پہلو کا ذکر کرکے آج کی محفل کو رونق بخشنا چاہوں گا۔ دینی مدارس یوں تو مختلف جہات سے دین کی تعلیم، اشاعت، حفاظت اور سربلندی کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی خدمات کے کچھ گوشے ایسے ہیں جہاں تک عام آدمی، بلکہ خود ہماری یعنی ان لوگوں کی جو پیدائشی ’’مسیتیے‘‘ ہیں، کی نظر بھی نہیں پہنچتی۔ مجھے ایک ایسے مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں سماعت اور گویائی سے معذور گونگے بچوں کو اشاروں کی زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ جو استاذ تعلیم دیتے تھے، ان کا ایک بھائی گویائی سے معذور تھا۔ اسے جب اسکول میں داخل کیا گیاتو اسکول کی انتظامیہ نے ان کے خاندان سے ایک فرد کو طلب کیا کہ اسے بھی اشاروں کی زبان سکھا دی جائے تاکہ رابطے کا ذریعہ اور گھر میں پڑھائی کی دہرائی کا انتظام ہوسکے۔ ان کے گھر سے انہیں بڑے بھائی کو بھیجا گیا وہ آگے چل کر عالم دین بنے اور انہوں نے اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کے لیے دینی تعلیم کا انتظام کیا۔ آہستہ آہستہ اس میں مہارت حاصل کرلی۔ اب وہ گویائی سے معذور بچوں کے معلم اور تبلیغی جماعت میں ان کے مترجم تھے۔ بہت عمدگی سے اپنے فرائض یا خدمات انجام دیتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اشاروں کی زبان

اللہ تعالیٰ نے انسان کے رنگ اور زبان کے اختلاف کو اپنی خاص نشانیوں میں سے قرار دیا ہے۔ دنیا میں جس طرح قسماقسم رنگ کے انسان بستے ہیں اسی طرح رنگا رنگ بولیاں بولی جاتی ہیں۔ انسان کے رنگ اتنے رنگ برنگے نہیں جتنی ان کی زبانیں قسماقسم ہیں۔ رنگوں کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے جن سے انسانی نسل آگے پھیلی حام، سام، یافث۔ ان میں سے ایک بیٹا ’’ابوالابیض‘‘ کہلایا۔ اس کی نسل سے گورے لوگ پیدا ہوئے اور گوروں کے دیس ’’یورپ‘‘ میں آباد ہوئے۔ ایک نے ’’ابوالاسود‘‘ کا نام پایا۔ اس سے کالے رنگ کے انسانوں کی نسل چلی اور کالوں کے دیس افریقہ میں بسی۔ تیسرے کو ’’ابوالاصفر‘‘ کہا جاتا ہے جس سے سانولے رنگ کے انسان آگے پھیلے اور ’’ایشیا‘‘ میں بسے۔ گورا، کالا اور سانولا، تین بڑے رنگ ہیں۔ ان کو ملالیا جائے یا کم و زیادہ، ہلکا و گہرا کرلیا جائے، بس اتنے ہی رنگ دنیا میں ہیں۔ انسانی رنگوں کی بہت زیادہ ذیلی و ضمنی قسمیں دنیا میں نہیں۔

زبانوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ان میں اتنا تنوع، اتنی رنگارنگی اور اتنے بڑے مجموعے اور ان مجموعوں کے اندر اس قدر ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں کہ ہر زبان سے ملتی جلتی یا ذیلی کئی زبانیں اور ہر زبان میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور ان نشانیوں کے اندر متعدد ذیلی نشانیا ںپائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ سیدھی زبان کو الٹا بول کر ایک نئی زبان ایجاد کرلیتے اور جب چاہتے ہیں کوڈ میں بات کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اشاروں کی زبان

قرآن و حدیث پر نظر ڈالی جائے تو بولتے اشاروں کے متعلق کچھ نہ کچھ خاموش اشارے ملتے ہیں۔ ایک نبی کی والدہ (حضرت مریم علیہا السلام) کے متعلق آتا ہے کہ ایک خاص حکمت کے تحت انہوں نے خود کچھ کہنے کے بجائے نومولود بچے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا کہ جو پوچھنا ہے اس سے پوچھ لو۔ حضرت زکریاؑ کی زبان مبارک تین دن کے لیے روک دی گئی تھی۔ اس دوران وہ تمام گفتگو اشاروں سے کرتے تھے۔ حدیث شریف کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو کی تین قسمیں ہیں: عام گفتگو، بیان و وعظ اور افتاء یا قضائ۔ جناب نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے گفتگو کے دوران انگلیوں سے اور دست مبارک سے مختلف قسم کے اشارے ثابت ہیں۔ ایک انگلی، دو انگلیاں، پانچ انگلیاں۔ ایک ہاتھ، دونوں ہاتھ، الگ الگ، دونوں ہاتھ اکٹھے سے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے بولے جانے والے الفاظ کے ساتھ ساتھ انگشت مبارک یا دست مبارک سے اس کی تفہیم و توضیح یا تاکید روایات میں آئی ہے۔

راقم نے ان احادیث کو جمع کیا تو وہ صحاح ستہ ہی میں نہیں، صحیحین میں سے مل گئیں۔ بعض احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان مبارک سے جو ارشاد فرمایا، اس کے ساتھ خاص کیفیت یا خاص حالت میں جو فعل صادر ہوا، اسے راوی حضرات نے محفوظ کرلیا اور وہ قول آج تک سلسلہ بہ سلسلہ اس فعل یا کیفیت کے ساتھ منقول ہوتا چلا آیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک نظر عالمی منظرنامے پر

کان دائیں ہاتھ سے پکڑیں یا بائیں ہاتھ سے، ترتیب ایک جیسی ہے۔ اوپر سے نیچے آئیں یا نیچے سے اوپر نظر ڈالتے جائیں، نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہے۔ انسان اور انسانیت کے پاس اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ اخلاق کے حوالے سے جتنی چیزیں تھیں، یا ان چیزوں کو ناپنے کے جتنے پیمانے تھے، ان کو ایک ایک کرکے تباہ و برباد کرنے اور نام و نشان مٹانے کی ترتیبیں بڑے عقلی و منطقی انداز میں اور انتہائی مربوط و منظم طریقے سے چلائی جارہی ہیں۔ ان کی روانی میں کچھ ایسا سحر، بلکہ طلسم ہے کہ انسانوں کے ریلے کے ریلے بہے چلے جارہے ہیں، لیکن جو جتنا زیادہ دانش بگھار و عقل مند سمجھا جاتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ مست و مدہوش ہے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔


مثلاً ہم دو چیزوں کو لے لیتے ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو حیوانوں سے ممتاز کیا اور اسے انسانیت کا شرف بخشا ہے۔ پہلے انہیں غیرمسلم دنیا سے ختم کیا گیا اور اس پُرکاری سے ختم کیا گیا کہ آج تک مغرب سمجھ ہی نہیں سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ اب ان دو خدائی نعمتوں کے خلاف یلغار کی لہریں عالم اسلام کی حدود میں داخل ہوچکی ہیں اور کہرام برپا کررہی ہیں۔ پہلی چیز مذہب ہے اور دوسری اخلاق۔ مذہب کے حوالے سے دنیا کے منظرنامے پر نظر دوڑائیے تو ترتیب یہ چل رہی ہے کہ عالم اسلام کے باہر اسلام کو دہشت گرد مذہب یا دہشت گردوں کا مذہب کہا جارہا ہے اور عالم اسلام کے اندر دیندار مسلمانوں کو دہشت گرد پکارا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فائیو اسٹار قبر

لبنان کی ایک اداکارہ کے متعلق خبر ہے کہ گزشتہ دنوں 87 سال کی طویل عمر گزار کر ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ ان کے لیے ’’فائیو اسٹار قبر‘‘ بنائی جائے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وسیع و عریض کمرہ نما قبر کی دیواروں پر قیمتی ٹائلیں لگائی جائیں۔ ان کی لاش قیمتی تابوت میں بند کرکے اس کمرے کے بیچ میں ایک آراستہ پیراستہ چبوترے پر دھری جائے۔ اس مزین و مرقع کمرے میں تمام مروجہ سامان آرائش و زیبائش مہیا کیا جائے۔ مثلاً: ہر طرح کا قیمتی فرنیچر، ڈریسنگ ٹیبل، کرسیاں اور صوفے، گلدان اور آرائشی نمونے، الیکٹرونکس کے آلات، بڑے سائز کا ایل سی ڈی اور دیگر لوازمات۔ خبر ہے کہ ماہرین کی پوری ٹیم نے کمرہ نما قبر تیار ہونے کے بعد اندر اُتر کر مطلوبہ تمام اشیاء قرینے کے ساتھ نصب کیں اور ان کی خواہش کے احترام میں فہرست میں درج تمام چیزوں کا آخری جائزہ لے کر اس ’’فائیو اسٹار قبر‘‘ کو پاٹ دیا۔ یوں زندگی میں فائیو اسٹار سہولتیں پانے والے کو مرنے کے بعد فائیو اسٹار سہولتیں مہیا ہونے کی خوشی میں مٹی کی تہہ میں چھپاکر رخصت ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ارضِ حرمین سے ہماری وابستگی

اتنا تو یقین تھا کہ سانپ اژدہا حرکت میں ہے۔ اسے دجلہ سے نیل تک اور صنوبر والی زمین سے کھجور والی زمین تک کے بیچ کا علاقہ واپس لینے کی ہوسناک بے چینی ہے۔ اس کی دُم آج بھی وہیں ہے جہاں سے اس نے ’’معاہدہ بالفور‘‘ کے بعد رینگنا شروع کیا تھا، لیکن اس کا سر سرکتے سرکتے سرک رہا ہے۔ جب اس کا سر دائرہ مکمل کرکے واپس دُم سے آملے گا تب ان خطرناک حیوانی عزائم کی تکمیل ہوگی (بلکہ تکمیل کا آغاز ہوگا) جو پورے کرئہ ارض کو انسانی تاریخ کی عظیم ترین آزمائش میں ڈال دیں گے، لیکن ان عزائم کی طرف پیش رفت اس انداز میں ہوگی جیسا ہمیں یعنی آج کی دنیا میں کرئہ ارض پر بسنے والے انسانوں کو دیکھنے کو مل رہا ہے، اس کا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے انتہا حلم ’’فَبَشَّرْٰنہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ‘‘(سورۂ صٰفٰت:101) ترجمہ: ’’چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔