• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جسے اللہ نوازے

اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی غیرمعمولی قدرتی صلاحیتوں کو انسان مثبت کاموں میں کیسے استعمال کرتا ہے؟ اس کی ایک بڑی مثال اشتیاق احمد تھے۔ انسان کا حسن خلق، تحمل و بردباری اور عجز و انکسار اس کے حسن خاتمہ کا ذریعہ کیسے بنتا ہے؟ اس کا ایک زندہ نمونہ بھی اشتیاق صاحب ہیں۔ ہم نے جب آنکھیں کھولیں تو انہیں بچوں کا مقبول ترین مصنف پایا اور جب اشتیاق صاحب نے آنکھیں موندیں تو وہ بچوں کے بڑوں حتیٰ کے بڑے بڑے علمائے کرام کی محبوب شخصیت تھے۔ یہ وہ سعادت ہے جو اس فن سے بڑی نعمت ہے جو اللہ ربّ العزت نے انہیں عطا کیا تھا۔

ہم نے جب ہوش سنبھالا تو بچوں کے ادب پر اشتیاق صاحب کی حکمرانی تھی۔ ان کے ناول اور کہانیاں بے مثال قسم کی کشش اور شہرت رکھتے تھے۔ غضب یہ تھا کہ ہم جس ماحول سے تعلق رکھتے تھے، وہاں اس کی اجازت نہ تھی۔ اب ایک عجیب کشمکش سے دوچاری تھی۔ اپنے بڑوں کی نافرمانی بھی ہضم نہ ہوتی تھی اور منہ سے لگی یہ کافر کہانیاں بھی نہ چھٹتی تھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فرق کی بنیاد

ترکی میں اسلام پسند یا انصاف و ترقی پسند مسلسل کامیابیوں کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔ دنیا بھر کی دینی سیاستی جماعتوں اور اردگان کی جماعت کے طریق کار میں فرق تو بہت سے بیان کیے جاتے ہیں۔ راقم الحروف بھی اپنے سفرنامے ’’ترک ناداں سے ترک دانا تک‘‘ کے آخر میں فرق بیان کرچکا ہے۔ یہاں مزید ایک دو فرق جو اس عاجز نے ملاحظہ کیے، انہیں بیان کرتا ہوں۔ کچھ تو سب کے سامنے ہیں۔ کچھ تک عام دنیا کی رسائی کم ہوتی ہے۔ پہلا تو مہاجرین کی خدمت کا ہے۔ اس وقت ترکی میں دنیا کے سب سے زیادہ مہاجر یا اپنے ملک کے حالات سے مجبور ہوکر نقل مکانی کرنے والے افراد پائے جاتے ہیں۔ شام اور عراق تو خیر ہیں ہی ابتلا کی لپیٹ میں (اللہ تعالیٰ ان کے لیے اور سب مظلوم و بے گھر مسلمانوں کے لیے آسانی کی صورت پیدا فرمائے) اس کے علاوہ وسطی ایشیا کے کئی ملکوں کے مسلمانوں نے جو اپنی حکومتوں کے سخت گیر رویوں سے ستائے ہوئے ہیں، جیسے تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان وغیرہ… سب نے ترکی کی راہ لی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انصاف کی بات

آج کی تحریر کا اصل موضوع تو ترکی کے انتخابات اور ان کے ماقبل و مابعد کی صورتحال ہے، لیکن اس سے پہلے میں دو واقعات سنانا چاہوں گا کہ ان کی بنیاد پر اصل موضوع سے متعلق کچھ کہنے میں آسانی رہے گی۔ نیز اس افراط و تفریط کے درمیان راہِ اعتدال سمجھ آسکے گی جو ترکی کے حوالے سے ہمارے ذرائع ابلاغ میں دیکھنے کو آرہا ہے۔

جگر مراد آبادی سے اردو دنیا کاہر فردِبشر واقف ہے۔ یہ اپنے زمانے کے نہایت مقبول اور ہر دل عزیز شاعر تھے۔ غزل سے ان کو خصوصی مناسبت تھی۔ اسی وجہ سے انہیں اردو دنیا میں ’’رئیس المتغزلین‘‘ یا ’’سلطانِ تغزل‘‘ کے لقب سے یاد کیاجاتاتھا۔ آج بھی ان کے اشعار ذوق وشوق کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ جتنی شہرت ان کی غزلوں کو حاصل تھی، اتنی ہی یا اس سے کچھ کم و بیش ان کی رندی و سرشاری کو بھی تھی۔ بلانوشی کی اصطلاح شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے وضع ہوئی ہو۔ ان کی رندی، سرشاری اور بادہ خواری کے سیکڑوں واقعات مشہور ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ وصف بھی تھا کہ خواہ وہ کتنی بھی پیے ہوئے ہوں، کبھی آپے سے باہر نہیں ہوئے۔ ہمیشہ سنجیدگی کے دائرے میں رہتے تھے۔ علما اور بزرگوں کا ہرحال میں اور بے حد احترام کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باغ تو سارا جانے ہے

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں خدا جانے کیسے چند جملے قلم سے نکل گئے اور ابھی طباعت کی سیاہی سوکھی بھی نہ تھی کہ وہ حادثہ ہوگیا یا ان حوادث کی ابتدا ہوگئی جن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا: ’’سود پر آنے والی قرآن و حدیث کی وعیدیں دیکھ کر اور ہمارے ہاں عوامی سطح کے بعد قانونی اور عدالتی سطح پر سود کی ممانعت کے بجائے اسے تحفظ دیتے دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے کہ کہیں ہم اس نقطے کی طرف، اس حدّ فاصل کی طرف تو نہیں بڑھ رہے جس کے بعد کلمۂ حق نازل ہوجاتا ہے۔ مہلت ختم ہوجاتی ہے اور ایسی ایسی آسمانی و زمینی آفات آتی ہیں کہ الامان والحفیظ!‘‘

دراصل یہاں باتیں کئی ہیں جن کا… مکشوف یا ملفوف… کسی نہ کسی پیرائے میں اظہار ضروری ہے۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے، جانے نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلا وعدہ اور آخری وعید

بات نئی ہے، لیکن عادت پرانی ہے۔ نیا شوشہ پرانی فطرت کے تحت چھوڑا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ہٹلر نے فلسطین کے مفتی اعظم کے کہنے پر ہولوکاسٹ کیا تھا۔‘‘ اس ایک بیان میں اُس ٹھیٹھ یہودی فطرت کا کئی حوالوں سے اظہار کیا گیا ہے جس کی بنا پر اس قوم پر بار بار عذابِ الٰہی مختلف شکلوں میں آتا رہا، لیکن یہ ناقابل اصلاح مجرم کی طرح دوبارہ اپنی کریہہ عادتوں میں ملوث ہوتی رہی۔ قوم یہود کے حالیہ سربراہ کے بیان کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کے نیتن یاہو صاحب سے ہماری پرانی یاداللہ ہے اور ہمارے لیے ان کے اس تازہ بیان پر تبصرہ اور ان کی فطرت کا تجزیہ اس لیے آسان ہے کہ ہم ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے اس وقت سے واقف ہیں جب وہ چڈی پہن کر رنچھوڑ لائن (قدیم کراچی کا ایک علاقہ) کی سڑکوں پر سائیکل چلایا کرتے اور اپنی ٹافی چھپاکر دوست کی ٹافی (جو اتفاق سے پٹھان سپوت تھا) ہتھیانے کے چکر میں نکّو بنتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اس نقطے کی طرف

اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرکے مکرجانا نہایت خطرناک ہے۔ خصوصاً جب وعدہ مشروط ہو اور اس کے عوض اللہ احکم الحاکمین سے منت سماجت کرکے کوئی چیز منظور کروائی گئی ہو۔

انسان جیسا جرم کرتا ہے، قانون قدرت ہے کہ اسے ویسی ہی سزا ملتی ہے۔ملتی جلتی۔ ترکی بہ ترکی۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ ’’جَزَآئُ سَیِّئَۃٍم بِمِثْلِہَا‘‘’’بُرائی کا بدلہ اسی جیسی سزا ہوتی ہے۔‘‘ (یونس: 27) خفیہ اور انفرادی گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف کرتا رہتا ہے، لیکن جو گناہ کھلم کھلا، علانیہ ہوں اور اجتماعی ہوں، ان سے ایک وقت تک تو مہلت مل جاتی ہے، لیکن توبہ کا دروازہ بند ہوتے ہی اس کی سزا اس دنیا ہی میں مل کر رہتی ہے۔’’میری تمام اُمت کو معافی مل سکتی ہے سوائے کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر گناہ کرنے والوں کے۔‘‘ ’’کُلُّ أُمَّتِیْ مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاھِرِیْنََ۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

18 مارچ 1915ء یونیورسٹی

سیّد دنباشی کی کہانی انسانی تاریخ میں ایمان و استقامت اور عزم و حوصلے کی ناقابل فراموش داستان ہے۔ ایسی داستان جس کی عقلی و منطقی تعبیر ممکن نہیں۔ بس یہ ماننا پڑتا ہے کہ انسان کا ایمان اور جذبہ ناممکن کو بھی ممکن کرسکتا ہے اور تمام مادّی مشکلات کو پھلانگ کر حیرت انگیز نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

سید دنباشی کی داستان عزیمت و شجاعت کا تعلق جنگ عظیم اوّل میں اتحادیوں کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے مرکز استنبول پر بحری حملے سے ہے۔ آپ ایک نظر جغرافیہ پر ڈالیں تو دکھائی دے گا کہ ترکی کے شمال میں تین سمندر ہیں جنہیں دو درّے ملاتے ہیں۔ بحراسود اور بحرمرمرہ کو آبنائے باسفورس ملاتی ہے اور بحرمرمرہ کو بحرایجہ (Aegean Sea) سے درئہ دانیال ملاتا ہے۔ گیلی پولی کی تاریخی جنگ میں برطانیہ کا بحری بیڑہ درئہ دانیال سے گزر کر بحرمرمرہ میں آگیا تھا۔ اس بیڑے میں وہ جنگی جہاد بھی شامل تھا جو اس وقت تک بنائے جانے والے جہازوں میں سب سے بڑا اور تباہ کن جہاز سمجھا جاتا تھا۔ اس کی قیادت میں برطانوی بحری بیڑے نے سمندر میں آگ اور بارود کا طوفان برپا کر رکھا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سن شائن بکس

ایک دن میں اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے انتہائی اصرار پر ان سے ملنے گیا۔ ہمارے یہ دوست ہومیو پیتھک کے ڈاکٹر تھے اور کئی دنوں سے اصرار کررہے تھے کہ میں آپ کو ایک صاحب سے ملوانا چاہتا ہوں۔ راقم الحروف کو طبعی طور پر ایسے حضرت سے ملنے سے نفور ہوتا ہے جو اصرار کرکے بلاتے اور اہم موضوع کا حوالہ دے کر وقت لیتے ہیں۔ پھر ان کی زنبیل سے پہاڑ کھودنے کے بعد چوہا ہی برآمد ہوتا ہے۔ فرضی منصوبے، غیرحقیقی نظریات، بے معنی تجاویز اور وقت ضائع کرنے والی بوگس تدابیر۔ خیر یہاں صورتحال یہ تھی کہ میرے انکار پر ان کا اصرار بڑھتا ہی جاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پس پردہ موجود شخصیت ان پر دبائو بڑھارہی ہے جس سے مجبور ہوکر وہ اصرار پر اصرار کرتے چلے جارہے ہیں۔ آخر ایک دن یہ عاجز ان سے دیرینہ تعلق کی لاج رکھنے کی خاطر ان کے ہاں حاضری کا وعدہ کر بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سابقہ تجربات کے برعکس یہ نشست رائیگاں نہیں گئی۔ کچھ ایسی معلومات حاصل ہوئیں جن سے قارئین کو آگاہی ان شاء اللہ کئی حوالوں سے مفید رہے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باپو اور سنگوما

قرآن شریف کے بنیادی مضامین کیا ہیں؟ اس بارے میں مختلف محققین کی قیمتی آراء پائی جاتی ہیں اور اللہ کی کتاب سے شغف رکھنے والے اہلِ علم نے ان مضامین کا خلاصہ متعین کرنے میں اپنی اپنی بہترین کوشش صرف کی ہے۔ امام غزالیؒ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہؒ تک مختلف باکمال ہستیوں نے قرآن کریم کے بنیادی پانچ موضوعات ملتے جلتے انداز میں منضبط کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے اکابرین میں سے تفسیر قرآن کریم کا جو سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہؒ سے چلا اور حضرت مولانا حسین علی صاحبؒ پر پہنچ کر مختلف شاخوں کی صورت میں پھلا پھولا، اس میں سے حضرت درخواستیؒ کے سلسلے میں اس حوالے سے ’’سلاسلِ سبعہ‘‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی۔ یعنی قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے ضمنی عنوانات تو ہیں نہیں، اب آیات قرآنیہ کو مربوط انداز میں سمجھنے اور ان کا باہمی جوڑ اور مختصر مفہوم سمجھنے کے لیے یہ سات ذیلی عنوانات عمیق غور و فکر اور طویل تدریسی تجربے کے بعد طے کیے گئے ہیں جن کو یاد کرنے کے بعد قرآنی آیات پر تطبیق کرنے سے قرآن کریم کے طالب علم کی بہت سی شکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لبیک: مجاز سے حقیقت تک

مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کی ہماری عادت پرانی ہے۔ اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناقدری کی روایت ایسی چلی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ حج اور قربانی دو ایسے ہی مواقع ہیں۔ حج کے متعلق کچھ باتیں اس مرتبہ، کچھ قربانی کے متعلق ان شاء اللہ اگلی محفل میں۔

حج جیسا عظیم اجتماع کسی اور قوم کو ملے تو نجانے وہ اس سے کیسے کیسے مادّی و غیر مادّی فوائد حاصل کرے۔ دنیا میں کسی قوم کے پاس نہ ایسا شاندار، ایسا تاریخی روایات کا حامل، ایسی با برکت قدیم ترین روحانی یادگاروں کا امین کوئی مرکز ہے اور نہ ایسے کسی سالانہ عالمی عظیم القدر مسلسل اجتماع کی کسی کے پاس کوئی مثال ہے۔ جیسے ان یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے آج تک آنے والی مقدس ہستیوں اور خدا پرستی کے مخلصانہ واقعات سے ہے، اسی طرح یہاں ہونے والے مذہبی و روحانی یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک یادگار دن کی روئیداد

28؍ شوال 1436ھ بمطابق 14؍ اگست 2015ء اس فقیر کی زندگی کے باسعادت ترین دنوں میں سے ہے۔ احقر یہاں استنبول میں ہدایہ شریف کی ’’کتاب البیوع‘‘ کے 25 روزہ دورے کے سلسلے میں آیا ہوا ہے۔ اس دورے میں حضرت الاستاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز کتاب ’’فقہ البیوع‘‘ کا آخری حصہ جس میں اسلامی مالیاتی قوانین یا اسلامی اقتصادی ستور 235 دفعات کی شکل میں دیا گیا ہے، بھی شامل درس ہے۔ فقیر کا ہدایہ پر مقدمہ ’’ارشاد الطالب الی مانی الہدایۃ من المطالب‘‘ اور قواعد الفقہ بھی پڑھے پڑھائے جاتے ہیں۔ شرکاء میں کئی ملکوں کے علماء اور دکتور حضرات شامل ہیں، چونکہ استنبول میں اس وقت عراق، شام، مصر اور یمن کے کبار مشایخ موجود ہیں، اس لیے فجر کے بعد اور عصر تا عشاء ان حضرات کے حلقات درس میں حاضری اور ان سے ’’اجازت حدیث‘‘ کی برکت و سعادت حاصل کرنے کا سلسلہ رہتا ہے۔ پچھلے ہفتے جب علامہ کوثریؒ کے آخری اجازت یافتہ شاگرد جناب شیخ امین سراج حفظہم اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حصولِ اجازت کے لیے حاضری دی تو انہوں نے تعارف اور کارگزاری سننے کے بعد فرمایا کہ کچھ دنوں تک آتے رہو۔ ہم روز ظہر کی نماز حضرت کے ہاں سلطان فاتح مسجد میں پڑھتے تھے۔ آخرکار انہوں نے اجازت سے مشرف فرمایا۔ اب ہمیں عادت ہوگئی کہ اپنا درس ختم کرتے ہی سلطان فاتح مسجد چل پڑتے اور ظہر حضرت کے ہاں پڑھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔