• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اس نقطے کی طرف

اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرکے مکرجانا نہایت خطرناک ہے۔ خصوصاً جب وعدہ مشروط ہو اور اس کے عوض اللہ احکم الحاکمین سے منت سماجت کرکے کوئی چیز منظور کروائی گئی ہو۔

انسان جیسا جرم کرتا ہے، قانون قدرت ہے کہ اسے ویسی ہی سزا ملتی ہے۔ملتی جلتی۔ ترکی بہ ترکی۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ ’’جَزَآئُ سَیِّئَۃٍم بِمِثْلِہَا‘‘’’بُرائی کا بدلہ اسی جیسی سزا ہوتی ہے۔‘‘ (یونس: 27) خفیہ اور انفرادی گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف کرتا رہتا ہے، لیکن جو گناہ کھلم کھلا، علانیہ ہوں اور اجتماعی ہوں، ان سے ایک وقت تک تو مہلت مل جاتی ہے، لیکن توبہ کا دروازہ بند ہوتے ہی اس کی سزا اس دنیا ہی میں مل کر رہتی ہے۔’’میری تمام اُمت کو معافی مل سکتی ہے سوائے کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر گناہ کرنے والوں کے۔‘‘ ’’کُلُّ أُمَّتِیْ مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاھِرِیْنََ۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

18 مارچ 1915ء یونیورسٹی

سیّد دنباشی کی کہانی انسانی تاریخ میں ایمان و استقامت اور عزم و حوصلے کی ناقابل فراموش داستان ہے۔ ایسی داستان جس کی عقلی و منطقی تعبیر ممکن نہیں۔ بس یہ ماننا پڑتا ہے کہ انسان کا ایمان اور جذبہ ناممکن کو بھی ممکن کرسکتا ہے اور تمام مادّی مشکلات کو پھلانگ کر حیرت انگیز نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

سید دنباشی کی داستان عزیمت و شجاعت کا تعلق جنگ عظیم اوّل میں اتحادیوں کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے مرکز استنبول پر بحری حملے سے ہے۔ آپ ایک نظر جغرافیہ پر ڈالیں تو دکھائی دے گا کہ ترکی کے شمال میں تین سمندر ہیں جنہیں دو درّے ملاتے ہیں۔ بحراسود اور بحرمرمرہ کو آبنائے باسفورس ملاتی ہے اور بحرمرمرہ کو بحرایجہ (Aegean Sea) سے درئہ دانیال ملاتا ہے۔ گیلی پولی کی تاریخی جنگ میں برطانیہ کا بحری بیڑہ درئہ دانیال سے گزر کر بحرمرمرہ میں آگیا تھا۔ اس بیڑے میں وہ جنگی جہاد بھی شامل تھا جو اس وقت تک بنائے جانے والے جہازوں میں سب سے بڑا اور تباہ کن جہاز سمجھا جاتا تھا۔ اس کی قیادت میں برطانوی بحری بیڑے نے سمندر میں آگ اور بارود کا طوفان برپا کر رکھا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سن شائن بکس

ایک دن میں اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے انتہائی اصرار پر ان سے ملنے گیا۔ ہمارے یہ دوست ہومیو پیتھک کے ڈاکٹر تھے اور کئی دنوں سے اصرار کررہے تھے کہ میں آپ کو ایک صاحب سے ملوانا چاہتا ہوں۔ راقم الحروف کو طبعی طور پر ایسے حضرت سے ملنے سے نفور ہوتا ہے جو اصرار کرکے بلاتے اور اہم موضوع کا حوالہ دے کر وقت لیتے ہیں۔ پھر ان کی زنبیل سے پہاڑ کھودنے کے بعد چوہا ہی برآمد ہوتا ہے۔ فرضی منصوبے، غیرحقیقی نظریات، بے معنی تجاویز اور وقت ضائع کرنے والی بوگس تدابیر۔ خیر یہاں صورتحال یہ تھی کہ میرے انکار پر ان کا اصرار بڑھتا ہی جاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پس پردہ موجود شخصیت ان پر دبائو بڑھارہی ہے جس سے مجبور ہوکر وہ اصرار پر اصرار کرتے چلے جارہے ہیں۔ آخر ایک دن یہ عاجز ان سے دیرینہ تعلق کی لاج رکھنے کی خاطر ان کے ہاں حاضری کا وعدہ کر بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سابقہ تجربات کے برعکس یہ نشست رائیگاں نہیں گئی۔ کچھ ایسی معلومات حاصل ہوئیں جن سے قارئین کو آگاہی ان شاء اللہ کئی حوالوں سے مفید رہے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باپو اور سنگوما

قرآن شریف کے بنیادی مضامین کیا ہیں؟ اس بارے میں مختلف محققین کی قیمتی آراء پائی جاتی ہیں اور اللہ کی کتاب سے شغف رکھنے والے اہلِ علم نے ان مضامین کا خلاصہ متعین کرنے میں اپنی اپنی بہترین کوشش صرف کی ہے۔ امام غزالیؒ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہؒ تک مختلف باکمال ہستیوں نے قرآن کریم کے بنیادی پانچ موضوعات ملتے جلتے انداز میں منضبط کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے اکابرین میں سے تفسیر قرآن کریم کا جو سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہؒ سے چلا اور حضرت مولانا حسین علی صاحبؒ پر پہنچ کر مختلف شاخوں کی صورت میں پھلا پھولا، اس میں سے حضرت درخواستیؒ کے سلسلے میں اس حوالے سے ’’سلاسلِ سبعہ‘‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی۔ یعنی قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے ضمنی عنوانات تو ہیں نہیں، اب آیات قرآنیہ کو مربوط انداز میں سمجھنے اور ان کا باہمی جوڑ اور مختصر مفہوم سمجھنے کے لیے یہ سات ذیلی عنوانات عمیق غور و فکر اور طویل تدریسی تجربے کے بعد طے کیے گئے ہیں جن کو یاد کرنے کے بعد قرآنی آیات پر تطبیق کرنے سے قرآن کریم کے طالب علم کی بہت سی شکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لبیک: مجاز سے حقیقت تک

مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کی ہماری عادت پرانی ہے۔ اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناقدری کی روایت ایسی چلی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی۔ حج اور قربانی دو ایسے ہی مواقع ہیں۔ حج کے متعلق کچھ باتیں اس مرتبہ، کچھ قربانی کے متعلق ان شاء اللہ اگلی محفل میں۔

حج جیسا عظیم اجتماع کسی اور قوم کو ملے تو نجانے وہ اس سے کیسے کیسے مادّی و غیر مادّی فوائد حاصل کرے۔ دنیا میں کسی قوم کے پاس نہ ایسا شاندار، ایسا تاریخی روایات کا حامل، ایسی با برکت قدیم ترین روحانی یادگاروں کا امین کوئی مرکز ہے اور نہ ایسے کسی سالانہ عالمی عظیم القدر مسلسل اجتماع کی کسی کے پاس کوئی مثال ہے۔ جیسے ان یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے آج تک آنے والی مقدس ہستیوں اور خدا پرستی کے مخلصانہ واقعات سے ہے، اسی طرح یہاں ہونے والے مذہبی و روحانی یادگاروں کی نسبت ابتدائے کائنات سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک یادگار دن کی روئیداد

28؍ شوال 1436ھ بمطابق 14؍ اگست 2015ء اس فقیر کی زندگی کے باسعادت ترین دنوں میں سے ہے۔ احقر یہاں استنبول میں ہدایہ شریف کی ’’کتاب البیوع‘‘ کے 25 روزہ دورے کے سلسلے میں آیا ہوا ہے۔ اس دورے میں حضرت الاستاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز کتاب ’’فقہ البیوع‘‘ کا آخری حصہ جس میں اسلامی مالیاتی قوانین یا اسلامی اقتصادی ستور 235 دفعات کی شکل میں دیا گیا ہے، بھی شامل درس ہے۔ فقیر کا ہدایہ پر مقدمہ ’’ارشاد الطالب الی مانی الہدایۃ من المطالب‘‘ اور قواعد الفقہ بھی پڑھے پڑھائے جاتے ہیں۔ شرکاء میں کئی ملکوں کے علماء اور دکتور حضرات شامل ہیں، چونکہ استنبول میں اس وقت عراق، شام، مصر اور یمن کے کبار مشایخ موجود ہیں، اس لیے فجر کے بعد اور عصر تا عشاء ان حضرات کے حلقات درس میں حاضری اور ان سے ’’اجازت حدیث‘‘ کی برکت و سعادت حاصل کرنے کا سلسلہ رہتا ہے۔ پچھلے ہفتے جب علامہ کوثریؒ کے آخری اجازت یافتہ شاگرد جناب شیخ امین سراج حفظہم اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حصولِ اجازت کے لیے حاضری دی تو انہوں نے تعارف اور کارگزاری سننے کے بعد فرمایا کہ کچھ دنوں تک آتے رہو۔ ہم روز ظہر کی نماز حضرت کے ہاں سلطان فاتح مسجد میں پڑھتے تھے۔ آخرکار انہوں نے اجازت سے مشرف فرمایا۔ اب ہمیں عادت ہوگئی کہ اپنا درس ختم کرتے ہی سلطان فاتح مسجد چل پڑتے اور ظہر حضرت کے ہاں پڑھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو تختیاں، دس آداب

کامیاب معلم کی کیا پہچان ہے؟ اس حوالے سے ماہرین نے بہت سی آراء پیش کی ہیں۔ ایک رائے وہ ہے جو ترکی کے ایک معلم نے عملاً پیش کی اور وہ اتنی کامیاب ثابت ہوئی کہ آج اس کا کام خوب اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تجربے سے وابستہ داستان بچے بچے کی زبان پر ہے۔ اس کے تجربے اور تبصرے کی بنیاد پر کئی مقالہ نگار کامیاب مقالے لکھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کو ترکی کے روایت پرست ہوٹلوں میں خطاطی کے اعلیٰ نمونے آویزاں مل جائیں گے، وہیں عثمان حمدی کے اس تجربے کی عکاسی کرتی ہوئی پینٹنگز بھی نظر آجائیں گی۔ کسی صاحبِ دل نے محض دو مناظر کو چند تختیوں میں نقش کرکے ساری داستان اور مکمل فلسفے کو سمیٹ دیا ہے۔ ان دو مناظر میں اس عبقری معلم کا فلسفہ، تجربہ اور اس کا نتیجہ ایک لمحے میں آجاتا ہے۔ ذیل کی سطروں میں ہم اس کے تجربے اور اس تجربے سے اخذ کردہ چند اصولوں کو ذکر کریں گے۔

عثمان حمدی کا ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا جو اس کی کل کائنات، اس کی امیدوں کا مرکز اور اس کا اوڑھنا بچھونا یا جینا مرنا تھا۔ اسے اس بات سے نہایت کرب اور کڑھن محسوس ہوتی تھی کہ جتنی بھی کوشش کی جائے بعض طلبہ سست رفتار ہوتے ہیں اور دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ہر طالب علم کو کامیاب، قابل اور امتیازی صلاحیت کا مالک اور امتیازی خدمات کا حامل دیکھنا چاہتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قیامت کی صبح تک

آخر کار اللہ تعالی کے امر کو قائم کرنے کی جد و جہد کرنے والا خود امر ہو گیا۔ مادّیت پرستی کے اس دور میں خدا پرستی کی ایسی مثال قائم کر گیا جو اللہ کی مخلوق پر حجت ہو گئی۔ جب کلیجے اچھل کر حلق کو آ رہے تھے، آنکھوں کی پتلیوں کا رنگ بدل گیا تھا، تب وہ چٹان کی طرح سینہ سپر ہو گیا اور ثابت کر دیا کہ ’’مؤمن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘۔ صحابہ کرام کی سیرت، فاتحین اسلام کی عبقریت، غازیان اسلام کی شجاعت و فراست، سلاطین اسلام کی بصیرت و سیاست، غرضیکہ جو چیز تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی تھی، اس کی زندہ تصویر، اس کا مجسم پیکر، اس کا مثالی نمونہ قدرت نے اس کی شکل میں پھر سے دکھا دیا۔ ایوبی سے غزنوی تک اور بن زیاد سے بن لادن تک سبھی صاحب عزیمت تھے، لیکن جس طرح مدرسے کی گود سے امارت کی مسند تک کا ایمانی و تحریکی سفر اس نے طے کیا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسجد کی امامت سے مجاہدین کی خفیہ قیادت تک کون سا روپ ہے جو حیرت انگیز نہیں؟ اس کی زندگی کے کتنے ہی رخ ایسے ہیں جس پر مستقل لیکچر دیے، مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ ناول، افسانے چھاپے اور ڈاکومنٹریاں بنائی جا سکتی ہیں۔ اس نے تاریخ میں منقول اعلی انسانی صفات، خرق عادت کرامات اور مجاہدانہ اوصاف کو پھر سے سچ کر دکھایا۔ اس کے مؤمنانہ کردار نے تاریخی روایتوں کو حقیقت اور جھوٹی داستانوں کو عبث بنا دیا۔ جھوٹ سننے کی عادی دنیا اور جھوٹے دعووں پر چلنے والے بونے حکمرانوں اور ان کے کاسہ لیس قلم کاروں، میڈیا کے فنکاروں کی پہنچ سے وہ بہت آگے نکل گیا۔ بہت آگے، اتنا بلند اور اتنا آگے کہ مریخ تک پہنچنے کا دعوی کرنے والوں کے لیے اب اس کی گرد کو پہنچنا بھی مشکل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کی کنجی

اس دنیا میں انسان کی کامیابی کے بہت سے راز گنوائے جاتے ہیں۔ انسانی عقل، تجربہ اور تدبّر بہت سے ایسے گُر دریافت کرچکا ہے جنہیں ’’کامیابی کی کنجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس عقل کو وحی کی راہنمائی اور جس تجربے کو تائید غیبی کی توفیق حاصل ہو اس کی بات بہرحال مستند اور مفید ترین قرار دی جاسکتی ہے۔ ہمارے اکابر کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ علم کے نور اور تقویٰ کی برکات دونوں چیزوں سے نوازا تھا، پھر وہ طلبہ کی تربیت اور فضلائے کرام کی میں راہنمائی دونوں حوالوں سے سچی ہمدردی اور طویل تجربہ رکھتے تھے، اس لیے اس موضوع پر ان کا فرمایا ہوا یقینا مستند ترین اور مفید ترین ہے۔ تعلیمی سال کے آغاز پر چند ایسی باتیں عرض کروں گا جن میں ایک طرف تو ہمارے بڑوں کے فرمودات کی خوشبو ہے، دوسری طرف وہ آج کے دور میں نو فارغ التحصیل فضلاء حضرات کے احوال کے گہرے مشاہدے اور ان کے ساتھ طویل نشستوں اور مذاکروں کے بعد سامنے آئی باتوں کا نچوڑ ہیں۔

سب سے پہلی بات جو اپنے نئے ساتھیوں سے عرض کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی سب کے لیے

مفتی صاحب:مولانا صاحب جیسا کہ میں نے یہاں مشاہدہ کیا کہ بچوں کو کھانے پینے کی سہولیات ماشاء اللہ بہت اچھی دی جاتی ہیں۔ دو آدمی غیر علماء ان کے مخصوص انتظام کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ اور علماء میں سے بھی ان کی رہنمائی کے لیے اساتذہ موجود ہوتے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ ہر بچے کو آپ کمپیوٹر، بریل ٹائپ رائیٹریا اس حوالے دیگرکون کون سی اشیاء آپ فراہم کرتے ہیں؟
مولانا مرچی: اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان تمام حضرات کو جو میرے ساتھ مل کر ان بچوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ بچے جو دور دراز علاقوں اور ملکوں سے ہمارے پاس تشریف لائے ہوئے ہیںاور ایک عظیم دینی مقصد لے کر ہمارے پاس آئے ہیں۔ ان کے سیکھنے کے لیے جو جو آلات مفید ثابت ہوں۔ وہ سب ہم انہیں فراہم کرتے ہیں۔ کمپیوٹرزاور ریکارڈنگ کے آلات سے انہیں فائدہ ہوتا ہے اور ہم ان کے لیے یہ اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ کم سے کم وقت میں انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوجائے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو اپنے ملک یا معاشرے کا سب سے کمزور شخص ہے، ہم اسے بھی پڑھائیں۔ اور وہ حضرات بھی دین سیکھ کر دین کے داعی بنیں۔ .
مفتی صاحب:آپ نے فرمایا کہ کراچی میں مولانا وقار یونس صاحب آپ کے فارغ التحصیل موجود ہیں۔ کوئی بھی پاکستان کا عالم ان سے سیکھنا چاہے کہ میں ان بچوں کو کیسے پڑھاؤں ؟ اور اگر کوئی نابینا عالم یا قاری ان سے سیکھنا چاہے تو اسے سیکھنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ بینا کو کتنا اور نابینا کو کتنا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی سب کے لیے

مفتی صاحب:آپ نے فرمایا کہ ایک نارمل آدمی بریل سیکھ سکتا ہے کہ بریل کیسے پڑھایا جاسکتا ہے اور نابینا بچوں کی کیسے رہنمائی کی جاسکتی ہے؟ کیا آپ نے کبھی بینا یا نابینا ٹیچرز کوئی ورکشاب یاکورس کروایا ہے کہ آگے جاکر اپنے اپنے ملک یا شہر میں ایسے مخصوص بچوں کو پڑھا سکیں؟ ابھی تک آپ نے کہاں کہاں پڑھایا ہے اور مستقبل میں کہاں کا ارادہ ہے؟ اور اس کا نظم کیا ہے؟ آپ کس طرح اس کااعلان کرتے ہیں کہ کوئی اس میں شرکت کر سکے؟

مولانا مرچی: الحمد للہ! ابھی تک انگلینڈ، پاکستان، انڈیااور افریقہ میں کئی کئی ورکشاپز کروائی ہیں۔ اس کے ذریعے ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے علماء کرام اس فن کو سیکھ کر اس میں ماہر ہوجائیں، دوسروں کو بھی سکھائیں اور خاص طور پر نابینا بچوں کو بھی پڑھاسکیں۔ اسی طرح ہم نابینا حضرات کو بھی یہ ورکشاپز کرواتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا کورس ہے جسے ہم تین سے چار دن میں مکمل کروا دیتے ہیں۔ اس کے پڑھنے والے کو سوجھ بوجھ ہوجاتی ہے کہ یہ ہے کیا؟ ماسٹرشپ یعنی مہارت کے لیے تو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔