• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

طلبہ امن کے سفیر ہوتے ہیں

ہمارے آج کے مہمان جن کا پورا تعارف ہمیں حاصل نہیں ہے، ترکی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ وہاں کی معزز، علمی اور انتظامی شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے پرانے کرم فرما ڈاکٹر ندیم احمد صاحب بھی تشریف فرما ہیں جو اکثر اس طرح کے مہمانوں کی زیارت میں ہمارے لیے ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم آج کے مہمان کا تعارف کروائیں گے۔ پھر اس کے بعد ان کے یہاں آنے کے مقصد پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں گے۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ ہوگا۔ سب سے پہلے ان کا تعارف پیشِ خدمت ہے۔

ان کا نام محمد علی بولاط ہے۔ یہ ترکی کے شہر کاسنی کے رہنے والے ہیں۔ استنبول یونیورسٹی میں طالب علم رہے۔ تاریخ میں گریجویشن کی اور اسی شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی میں جو غیرملکی طلبہ ہیں جنہیں یہ ’’مہمان طلبہ‘‘ کہتے ہیں۔ ان مہمان طلبہ کے لیے 12 سال پہلے ایک ادارہ بنایا گیا تھا، اس کے یہ صدر ہیں۔ اس وقت جو ادارہ ہے وہ ایک فیڈریشن ہے جسے ترکش میں ’’اُدیف‘‘ کہتے ہیں، یعنی ’’انٹر نیشنل اسٹوڈنٹ فار آرگنائزیشن‘‘ اس فیڈریشن کے اندر مختلف شہروں کے اندر 52 ایسوسی ایشنز موجود ہیں جو طلبہ کے لیے بنائی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوح و قلم تیرے ہیں

وہ جو مشہور مصرعہ ہے: ’’ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔‘‘ ہفت روزہ اخبار کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس میں ’’باعث تاخیر‘‘ کی فہرست کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی ہے۔ مضمون لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ اخبار چھپنے چلا جاتا ہے اور ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جس کے علاوہ کوئی موضوع اس ہفتے ہونا ہی نہیں چاہیے، مگر قارئین جب اخبار کھولتے ہیں تو انہیں سب کچھ ملتا ہے سوائے اس کے جس کی انہیں توقع تھی۔

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کی مرتبہ بھی صورت حال کچھ ایسی ہی رہی۔ بڑے عرصے بعد چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوا تھا اور اس کی شہادت کے واقعے نے دل کی تارو ںکو کچھ اس انداز میں چھیڑا تھا کہ لاکھوں لوگوں نے ایمان و عقیدت کے نجانے کون کون سے مقامات چند لمحوں میں طے کرلیے تھے، لیکن یہ سب کچھ پچھلا کالم لکھے جانے، بلکہ چھپ جانے کے بعد ہوا اور ہم دل کی بات دل میں ہی لیے رہ گئے۔ ویسے بھی جب موضوع ایسا ہو تو وہاں باتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متضاد سمت میں سفر

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کچھ چیزو ںکو ایسی معکوس یا متقابل صفت پر پیدا کیا ہے کہ وہ ہمیشہ متضاد سمت میں سفر کرتی ہیں۔ ایک بڑھے گی تو دوسری گھٹے گی۔ ایک جتنا پروان چڑھے گی دوسری کو اتنا ہی کم یا ختم ہونا ہوگا۔ اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کی شان عالی ظاہر ہوتی ہے وہیں انسانو ںکو ایک کسوٹی یا منضبط معیار بھی مل جاتا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ عموماً پہچان اور جانچ کے ظاہری معیارات کے دائرے میں نہیں آتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہی ہر ایک کو دوسرے کے لیے جانچ کا پیمانہ یا تول کا ترازو بنادیا ہے۔

٭… عقیدہ اور وھم ایسی چیزوں میں سرفہرست ہیں۔ انسان کا عقیدہ جتنا مضبوط اور اللہ تعالیٰ پر یقین جتنا کامل ہوتا ہے، اتنا ہی وہ توکل و تفویض کا مزہ لیتا ہے اور رضا بالقضا میں جو عافیت و اطمینان ہے اس کی مٹھاس اور ٹھنڈک سے اپنی زندگی کو پرسکون اور مسرت بھری بناتا ہے۔ اس کے برعکس وھم ایسی چیز ہے کہ اصول میں ہو یا فروع میں، دینی معاملات میں ہو یا دنیوی تعلقات میں، ضعیف الاعتقادی کی شکل میں ہو یا بدشگونی کی شکل میں، کبھی انسان کی دنیا و آخرت تباہ اور کبھی اس کا چین سکون برباد کردیتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اہم مسئلہ ، ایک آسان حل

مسلم اُمہ کے موجودہ زوال وانحطاط کے سبب ایک سے زیادہ بتائے جاتے ہیں، لیکن ایک سبب ایسا ہے جو بہت سے زمینی گھمبیر اسباب کو جنم دیتا ہے اور متفق علیہ ہے۔ مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بہت سے حل گنوائے جاتے ہیں، لیکن ایک حل ایسا ہے جو بہت سے پیچیدہ مسائل حل کرسکتا ہے اور بہت سے بند تالوں کی کنجی، بہت سی مہلک معاشرتی بیماریوں کے لیے تریاق ہے۔ یہ حل دراصل انبیاء و اولیاء اور حکماء و عقلاء کا ایسا وصف ہے اور ایسی بابرکت عادت ہے کہ اس سے نہایت اعلیٰ انسانی اخلاق پھوٹتے اور نہایت مثبت نتائج جنم لیتے ہیں۔ فاتحین اسلام کو اسی سے ترقی ملی ہے اور ترقی یافتہ اقوام اسی کی بدولت عروج پاتی ہیں۔

انسان جب ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس کے خلوص و ایثا رکی علامت ہوتی ہے اور یہ ایسی قربانی اور وسعت ظرفی پر مشتمل ہوتی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور تایید نازل ہوتی ہے۔ اور جب وہ ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفادات کو پامال کردیتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی کم ظرفی اور خبث باطن کی دلیل ہوتی ہے، بلکہ یہ ایسی خود غرضی اور خواہش پرستی ہوتی ہے جس کی پاداش میں انسان تایید و توفیق الٰہی سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر اسے اس کے نفس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ نصرتِ الٰہی سے محروم انسان کا نفس اسے کس کے حوالے کرتا اور کیسے انجام تک پہنچاتا ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلی نظر! آخری فیصلہ

ساری بات پہلی نظر کی ہے۔ انسان کو اگر یہ سعادت حاصل ہوجائے کہ اس کی پہلی نظر… خوشی ہو یا غمی، شکر کا موقع ہو یا صبر کا… اللہ تعالیٰ پر جائے تو یہ اس کے خوش قسمت ترین انسان ہونے کی علامت ہے، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ تصوف اور تزکیہ کے نام سے اصلاح باطن کی جو محنت اُمت میں مروّج چلی آرہی ہے اور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا ’’اخلاص‘‘ سے اور انتہا ’’احسان‘‘ پر ہوتی ہے۔ اس کا حاصل بھی شاید یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مختلف احوال و مراحل میں پہلی نظر اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی منشا اور اس کی مرضی پر ڈالے اور پھر بعدازاں دوسری چیزوں پر، بالخصوص اسباب کے نام سے پائے جانے والے ان حجابات پر جو اللہ تعالیٰ پر سے نظر ہٹانے کا… بسا اوقات… سبب بن جاتے ہیں۔

آج کے انسان کا ہی نہیں، مسلمان کا بھی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی پہلی نظر اللہ تعالیٰ پر نہیں جاتی۔ چاہے معاملہ اسباب کے میسر ہوتے وقت ہو یا اسباب ساتھ چھوڑ چکے ہوں، دونوں صورتوں میں آج کا مادّیت زدہ مسلمان قادر مطلق کی غیبی قدرت سے نظر اس قدر دور ہٹاچکا ہے کہ روحانیت سے صاف محروم لوگوں کی طرح اس کی نظر بھی صبح اسباب کے بغیر گھر سے نکلتے وقت یا شام کو اسباب سے لدے پھندے گھر میں داخل ہوتے وقت سب چیزوں پر ہوتی ہے، سوائے اپنے سچے ربّ کی کامل قدرت کے۔ ذرا سوچیے! انسانیت کی اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ اسے انسانیت سکھانے والے خود روحانیت کی ابجد سے محروم ہوچلے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کی کلید

اس دنیا میں مواقع سے فائدہ اُٹھانا… یعنی قدرت کے فراہم کردہ مواقع سے جائز فائدہ اُٹھانا… کامیابی کی کلید ہے، لیکن مواقع ضائع کرنے میں ہمارا ثانی کوئی نہیں۔ آپ ترکی کی مثال لے لیجیے۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے نتیجے میں جو نئے ممالک قائم ہوئے ان کی تعداد اس وقت (بشمول متنازع شمال ترک قبرص) 40 بنتی تھی۔ ضرب المثل ہے کہ ہاتھی مر کے بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ 40 ملکوں کے وارث کو انقلابی مہمات سے باز رکھنا آسان نہ تھا، لہٰذا 24؍ جولائی 1923ء کو سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں جنگ عظیم اول کے اتحادیوں اور ترکی کے درمیان ایک معاہدہ کروایا گیا۔ اس معاہدے کی اصل روح ترکی میں خلافت کا خاتمہ اور جمہوریت کا قیام تھا۔ اور پھر اس نوزائیدہ جمہوریت کو اس وقت تک تحت القہر رکھنا تھا جب تک وہ جاں بلب نہ ہوجائے۔ اس معاہدے کے تحت یونان، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدی حدود متعین کی گئیں۔ قبرص، عراق اور شام پر ترکی کا دعویٰ ختم کرکے آخرالذکر دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔ اسی معاہدے کے تحت نوآموز جمہوریہ ترکی کوعالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ گویا خلافت کے سابقے کو ختم کرواکر اور غیرخلافتی طرز حکومت کو قبول کرکے احسان عظیم کیا گیا۔ چند ماہ بعد 3؍ مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امانت کی سپردگی

ہمارے نومسلم (سابقہ پادری) دوست چہرے مہرے سے بھی بڑے مہربان، مرنجان مرنج لگتے تھے اور برتائو میں بھی نہایت خلیق اور ملنسار تھے۔ یہ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ وہ صاحب علم، مطالعے کے شوقین اور علم دوست بھی تھے۔ ایک مرتبہ میں میں اس ملک میں اتوار کے دن کہیں جارہا تھا تو دیکھا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگ سڑک کے کنارے درختوں تلے اکٹھ کیے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہی نظر آرہا تھا کہ کوئی عبادت یا مذہبی رسم ہورہی ہے۔ میزبان سے پوچھا: ’’کیا ماجرا ہے؟‘‘ بتایا گیا کہ یہ ایک مذہبی فرقہ ہے جو اتوار کے دن کسی گرجا کے بجائے کھلی جگہ میں مذہبی رسومات ادا کرنا پسند کرتا ہے۔ میں نے ان سے عرض کی اگر ممکن ہو ان کے ’’چیف صاحب‘‘ سے بات چیت کا موقع بنایا جائے۔ چیف صاحب ایک درخت کے نیچے لکڑی کا چولہا جلا کر دو اور صاحبان کے ساتھ الگ بیٹھے تھے۔ مٹی کی ڈول نما ہانڈی میں دودھ گرم ہورہا تھا۔ بڑا روایتی قسم کا ماحول تھا۔ موٹروے کے کنارے سرسبز جنگل نماخطہ، کھلی زمین میں مرد و عورت آمنے سامنے مذہبی گیت پڑھتے ہوئے اور ہاتھ ہلاہلاکر، کمر جھکا جھکاکے، وقفے وقفے سے کورس میں کچھ گاتے ہوئے اور ان کے سربراہ صاحبان ایک درخت کے نیچے کوئی مشروب تیار کرتے ہوئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فنا فی القرآن

12؍ ربیع الاول کی شب، وہ ہستی دنیا سے چلی گئی جس کی انگلی پکڑ ہم دین کی گلی میں داخل ہوئے تھے، جس سے ہم نے قرآن مجید سیکھا اور جس کی دعائیں ہم جیسوں کے لیے بہت بڑا سہارا تھیں۔ حضرت قاری محمد یاسین پانی پتی، جنہیں قلم آج ’’ رحمہ اللہ‘‘ اور’’ قدس اللہ سرہ‘‘ لکھنے پر مجبورہے، بے شمار علمائ، قرائ، حفاظ اورعلم دین سے وابستہ افرادکو سوگوار چھوڑ کراپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

حضرت قاری صاحب ہمارے استاذ، ہمارے مربی، ہمارے محسن اور ہمارے مخدوم و محبوب تھے۔ حدیث پاک کے مطابق بہترین انسان وہ ہے کہ جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ رشک کیوں نہ آئے اس شخصیت پر جس کی خدماتِ قرآنیہ کا دائرہ لگ بھگ سات دہائیوں پر محیط ہو۔ حضرت قاری صاحب کی ولادت 1935ء میں پانی پت میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد شکارپور تشریف لائے۔ شیخ القراء حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی صاحبؒ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ پھر مجددقراآت حضرت قاری رحیم بخش صاحبؒ کے پاس ملتان میں گردان کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اکابر کے سائے تلے

راقم الحروف حال ہی میں بیرون ملک کے سفر سے واپس آیا ہے۔ سفر کی اصل غرض تو تخصص فی الحدیث کی چند مزید کتابیں پڑھنا تھیں۔ ہمارے جامعہ میں الحمدللہ نو فاضل علمائے کرام کے لیے ہر طرح کے تخصصات اور قصیر المدت و طویل المدت تعلیمی و تربیتی نصاب تدوین کیے گئے ہیں۔ صرف… ہماری کم نصیبی کہیے یا نااہلی… کہ تفسیر اور حدیث شریف کا تخصص موجود نہیں ہے۔ اس محرومی پر دل بہت کڑھتا ہے اور یہ فکر دل پر طاری اور یہ دعا لب پہ جاری رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ گزشتہ سال کے طویل سفر کے بعد اس سال رمضان المبارک اور شوال کی چھٹیوں میں بھی یہی شغل رہا اور اب بقرعید کی تعطیلات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق عطا فرمائی۔ اگر یہ موقع چند بار اور نصیب ہوگیا تو ان شاء اللہ ہم اس سعادت کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے کہ ہمارے جامعہ میں ان مبارک علوم و فنون میں بھی تخصص کروایا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوش نصیب لوگ

مشرق کو آج بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسی نعمتیں دے رکھی ہیں جو مغرب کے پاس نہیں۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ نعمتیں اسلام کی مرہون منت ہیں۔ اہلِ مغرب کو ان سے حسد ہے۔ آپ کو شاید میری بات پر یقین نہ آئے، لیکن میں دہراتا ہوں اور آپ سچ مانیے کہ مغرب کو ان خصوصیات کی بنا پر ہم سے حسد ہے اور وہ ہمیں ان سے محروم ہوتا دیکھنے کے لیے کبھی نہایت پرفریب اور کبھی انتہائی بھونڈی حرکتیں کرتا ہے۔ پہلے ہمارے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کے دل سے ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے ان کے دل میں وساوس اور اعتراض پیدا کرتا ہے، پھر جب ہم مرعوب ہوجاتے ہیں تو ہمیں میڈیا کے ذریعے احساس کمتری کا شکار کرتا ہے تاکہ اس کے لیے راستہ ہموار ہوجائے، اور وہ اپنی احساس محرومی کا ازالہ کرسکے۔

حلال و حرام کا فرق انہی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے۔ حلال اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اسے پسند ہے۔ حرام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ممنوع حد ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کو نفرت ہے۔ حلال میں انسان کے لیے برکت ہی برکت ہے اور حرام انسان کے لیے زہر سے زیادہ مہلک ہے۔ حلال و حرام کی دو بڑی اقسام کا تعلق انسان کے دو اعضاء سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک محبوب شخصیت کی محبوب صفات

اللہ تعالیٰ کی جس طرح ہر دن اپنی ایک شان ہوتی ہے جلالی یا جمالی، اسی طرح ہر دور میں بھی اس کی شان کے مطابق ایک شان ہوتی ہے۔ نوازنے والی یا آزمانے والی۔ اللہ تعالیٰ کی انہی مبارک شانوں کا ظہور بدلتی تاریخ کی نہ بدلنے والی حقیقت ہے۔ نادانوں نے مفت میں ظاہری سبب کو مؤثر علامت مان رکھا ہے۔

پچھلے زمانے میں ملکوں کو مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے فتح کیا اور سلاطینِ اسلام نے احکام اسلام کی تنفیذ کا کارنامہ سرانجام دیا۔ پھر مشایخ نے دلوں کو فتح کیا اور محاسن اسلام کو عوام کی زندگی میں تطبیق کا فریضہ انجام دیا۔ جہاد اور تصوف کے اس جوڑ نے ’’قران السعدین‘‘ کا کام کیا اور دنیا نے اسلام کے عروج کا وہ دور دیکھا جس کی یاد ہمارے لیے سرمایۂ فخر ہے۔ مسلمانوں کے حسنِ عمل اور حسنِ کردار کے یادگار دور کے بعد جب زوال نے ہمارے گھر کا صحن دیکھا تو علمائے کرام نے علومِ نبوت کی اور مشائخ عظام نے اوصاف و اخلاق نبوت کی تعلیم کا میدان سنبھال لیا اور امت کے عقیدے و عمل کی حفاظت اور شریعت وسنت کی اشاعت کا فرض انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہایت خوبی سے انجام دیا۔ مدارس اور خانقاہوں کی یہ خدمت نجی طور پر اور کسی طرح کی سرکاری سرپرستی کے بغیر جس انداز میں جاری و ساری رہی، یہ ہماری تاریخ اور علماء مشایخ کے امت پر احسانات نما خدمات کا وہ تابناک حصہ ہیں جن کی نظیر دنیا کی اور قوموں یا مذاہب میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔