• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کامیابی کی کلید

اس دنیا میں مواقع سے فائدہ اُٹھانا… یعنی قدرت کے فراہم کردہ مواقع سے جائز فائدہ اُٹھانا… کامیابی کی کلید ہے، لیکن مواقع ضائع کرنے میں ہمارا ثانی کوئی نہیں۔ آپ ترکی کی مثال لے لیجیے۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے نتیجے میں جو نئے ممالک قائم ہوئے ان کی تعداد اس وقت (بشمول متنازع شمال ترک قبرص) 40 بنتی تھی۔ ضرب المثل ہے کہ ہاتھی مر کے بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ 40 ملکوں کے وارث کو انقلابی مہمات سے باز رکھنا آسان نہ تھا، لہٰذا 24؍ جولائی 1923ء کو سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں جنگ عظیم اول کے اتحادیوں اور ترکی کے درمیان ایک معاہدہ کروایا گیا۔ اس معاہدے کی اصل روح ترکی میں خلافت کا خاتمہ اور جمہوریت کا قیام تھا۔ اور پھر اس نوزائیدہ جمہوریت کو اس وقت تک تحت القہر رکھنا تھا جب تک وہ جاں بلب نہ ہوجائے۔ اس معاہدے کے تحت یونان، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدی حدود متعین کی گئیں۔ قبرص، عراق اور شام پر ترکی کا دعویٰ ختم کرکے آخرالذکر دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔ اسی معاہدے کے تحت نوآموز جمہوریہ ترکی کوعالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ گویا خلافت کے سابقے کو ختم کرواکر اور غیرخلافتی طرز حکومت کو قبول کرکے احسان عظیم کیا گیا۔ چند ماہ بعد 3؍ مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امانت کی سپردگی

ہمارے نومسلم (سابقہ پادری) دوست چہرے مہرے سے بھی بڑے مہربان، مرنجان مرنج لگتے تھے اور برتائو میں بھی نہایت خلیق اور ملنسار تھے۔ یہ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ وہ صاحب علم، مطالعے کے شوقین اور علم دوست بھی تھے۔ ایک مرتبہ میں میں اس ملک میں اتوار کے دن کہیں جارہا تھا تو دیکھا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگ سڑک کے کنارے درختوں تلے اکٹھ کیے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہی نظر آرہا تھا کہ کوئی عبادت یا مذہبی رسم ہورہی ہے۔ میزبان سے پوچھا: ’’کیا ماجرا ہے؟‘‘ بتایا گیا کہ یہ ایک مذہبی فرقہ ہے جو اتوار کے دن کسی گرجا کے بجائے کھلی جگہ میں مذہبی رسومات ادا کرنا پسند کرتا ہے۔ میں نے ان سے عرض کی اگر ممکن ہو ان کے ’’چیف صاحب‘‘ سے بات چیت کا موقع بنایا جائے۔ چیف صاحب ایک درخت کے نیچے لکڑی کا چولہا جلا کر دو اور صاحبان کے ساتھ الگ بیٹھے تھے۔ مٹی کی ڈول نما ہانڈی میں دودھ گرم ہورہا تھا۔ بڑا روایتی قسم کا ماحول تھا۔ موٹروے کے کنارے سرسبز جنگل نماخطہ، کھلی زمین میں مرد و عورت آمنے سامنے مذہبی گیت پڑھتے ہوئے اور ہاتھ ہلاہلاکر، کمر جھکا جھکاکے، وقفے وقفے سے کورس میں کچھ گاتے ہوئے اور ان کے سربراہ صاحبان ایک درخت کے نیچے کوئی مشروب تیار کرتے ہوئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فنا فی القرآن

12؍ ربیع الاول کی شب، وہ ہستی دنیا سے چلی گئی جس کی انگلی پکڑ ہم دین کی گلی میں داخل ہوئے تھے، جس سے ہم نے قرآن مجید سیکھا اور جس کی دعائیں ہم جیسوں کے لیے بہت بڑا سہارا تھیں۔ حضرت قاری محمد یاسین پانی پتی، جنہیں قلم آج ’’ رحمہ اللہ‘‘ اور’’ قدس اللہ سرہ‘‘ لکھنے پر مجبورہے، بے شمار علمائ، قرائ، حفاظ اورعلم دین سے وابستہ افرادکو سوگوار چھوڑ کراپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

حضرت قاری صاحب ہمارے استاذ، ہمارے مربی، ہمارے محسن اور ہمارے مخدوم و محبوب تھے۔ حدیث پاک کے مطابق بہترین انسان وہ ہے کہ جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ رشک کیوں نہ آئے اس شخصیت پر جس کی خدماتِ قرآنیہ کا دائرہ لگ بھگ سات دہائیوں پر محیط ہو۔ حضرت قاری صاحب کی ولادت 1935ء میں پانی پت میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد شکارپور تشریف لائے۔ شیخ القراء حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی صاحبؒ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ پھر مجددقراآت حضرت قاری رحیم بخش صاحبؒ کے پاس ملتان میں گردان کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اکابر کے سائے تلے

راقم الحروف حال ہی میں بیرون ملک کے سفر سے واپس آیا ہے۔ سفر کی اصل غرض تو تخصص فی الحدیث کی چند مزید کتابیں پڑھنا تھیں۔ ہمارے جامعہ میں الحمدللہ نو فاضل علمائے کرام کے لیے ہر طرح کے تخصصات اور قصیر المدت و طویل المدت تعلیمی و تربیتی نصاب تدوین کیے گئے ہیں۔ صرف… ہماری کم نصیبی کہیے یا نااہلی… کہ تفسیر اور حدیث شریف کا تخصص موجود نہیں ہے۔ اس محرومی پر دل بہت کڑھتا ہے اور یہ فکر دل پر طاری اور یہ دعا لب پہ جاری رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ گزشتہ سال کے طویل سفر کے بعد اس سال رمضان المبارک اور شوال کی چھٹیوں میں بھی یہی شغل رہا اور اب بقرعید کی تعطیلات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق عطا فرمائی۔ اگر یہ موقع چند بار اور نصیب ہوگیا تو ان شاء اللہ ہم اس سعادت کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے کہ ہمارے جامعہ میں ان مبارک علوم و فنون میں بھی تخصص کروایا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوش نصیب لوگ

مشرق کو آج بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسی نعمتیں دے رکھی ہیں جو مغرب کے پاس نہیں۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ نعمتیں اسلام کی مرہون منت ہیں۔ اہلِ مغرب کو ان سے حسد ہے۔ آپ کو شاید میری بات پر یقین نہ آئے، لیکن میں دہراتا ہوں اور آپ سچ مانیے کہ مغرب کو ان خصوصیات کی بنا پر ہم سے حسد ہے اور وہ ہمیں ان سے محروم ہوتا دیکھنے کے لیے کبھی نہایت پرفریب اور کبھی انتہائی بھونڈی حرکتیں کرتا ہے۔ پہلے ہمارے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کے دل سے ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے ان کے دل میں وساوس اور اعتراض پیدا کرتا ہے، پھر جب ہم مرعوب ہوجاتے ہیں تو ہمیں میڈیا کے ذریعے احساس کمتری کا شکار کرتا ہے تاکہ اس کے لیے راستہ ہموار ہوجائے، اور وہ اپنی احساس محرومی کا ازالہ کرسکے۔

حلال و حرام کا فرق انہی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے۔ حلال اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اسے پسند ہے۔ حرام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ممنوع حد ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کو نفرت ہے۔ حلال میں انسان کے لیے برکت ہی برکت ہے اور حرام انسان کے لیے زہر سے زیادہ مہلک ہے۔ حلال و حرام کی دو بڑی اقسام کا تعلق انسان کے دو اعضاء سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک محبوب شخصیت کی محبوب صفات

اللہ تعالیٰ کی جس طرح ہر دن اپنی ایک شان ہوتی ہے جلالی یا جمالی، اسی طرح ہر دور میں بھی اس کی شان کے مطابق ایک شان ہوتی ہے۔ نوازنے والی یا آزمانے والی۔ اللہ تعالیٰ کی انہی مبارک شانوں کا ظہور بدلتی تاریخ کی نہ بدلنے والی حقیقت ہے۔ نادانوں نے مفت میں ظاہری سبب کو مؤثر علامت مان رکھا ہے۔

پچھلے زمانے میں ملکوں کو مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے فتح کیا اور سلاطینِ اسلام نے احکام اسلام کی تنفیذ کا کارنامہ سرانجام دیا۔ پھر مشایخ نے دلوں کو فتح کیا اور محاسن اسلام کو عوام کی زندگی میں تطبیق کا فریضہ انجام دیا۔ جہاد اور تصوف کے اس جوڑ نے ’’قران السعدین‘‘ کا کام کیا اور دنیا نے اسلام کے عروج کا وہ دور دیکھا جس کی یاد ہمارے لیے سرمایۂ فخر ہے۔ مسلمانوں کے حسنِ عمل اور حسنِ کردار کے یادگار دور کے بعد جب زوال نے ہمارے گھر کا صحن دیکھا تو علمائے کرام نے علومِ نبوت کی اور مشائخ عظام نے اوصاف و اخلاق نبوت کی تعلیم کا میدان سنبھال لیا اور امت کے عقیدے و عمل کی حفاظت اور شریعت وسنت کی اشاعت کا فرض انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہایت خوبی سے انجام دیا۔ مدارس اور خانقاہوں کی یہ خدمت نجی طور پر اور کسی طرح کی سرکاری سرپرستی کے بغیر جس انداز میں جاری و ساری رہی، یہ ہماری تاریخ اور علماء مشایخ کے امت پر احسانات نما خدمات کا وہ تابناک حصہ ہیں جن کی نظیر دنیا کی اور قوموں یا مذاہب میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جسے اللہ نوازے

اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی غیرمعمولی قدرتی صلاحیتوں کو انسان مثبت کاموں میں کیسے استعمال کرتا ہے؟ اس کی ایک بڑی مثال اشتیاق احمد تھے۔ انسان کا حسن خلق، تحمل و بردباری اور عجز و انکسار اس کے حسن خاتمہ کا ذریعہ کیسے بنتا ہے؟ اس کا ایک زندہ نمونہ بھی اشتیاق صاحب ہیں۔ ہم نے جب آنکھیں کھولیں تو انہیں بچوں کا مقبول ترین مصنف پایا اور جب اشتیاق صاحب نے آنکھیں موندیں تو وہ بچوں کے بڑوں حتیٰ کے بڑے بڑے علمائے کرام کی محبوب شخصیت تھے۔ یہ وہ سعادت ہے جو اس فن سے بڑی نعمت ہے جو اللہ ربّ العزت نے انہیں عطا کیا تھا۔

ہم نے جب ہوش سنبھالا تو بچوں کے ادب پر اشتیاق صاحب کی حکمرانی تھی۔ ان کے ناول اور کہانیاں بے مثال قسم کی کشش اور شہرت رکھتے تھے۔ غضب یہ تھا کہ ہم جس ماحول سے تعلق رکھتے تھے، وہاں اس کی اجازت نہ تھی۔ اب ایک عجیب کشمکش سے دوچاری تھی۔ اپنے بڑوں کی نافرمانی بھی ہضم نہ ہوتی تھی اور منہ سے لگی یہ کافر کہانیاں بھی نہ چھٹتی تھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فرق کی بنیاد

ترکی میں اسلام پسند یا انصاف و ترقی پسند مسلسل کامیابیوں کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔ دنیا بھر کی دینی سیاستی جماعتوں اور اردگان کی جماعت کے طریق کار میں فرق تو بہت سے بیان کیے جاتے ہیں۔ راقم الحروف بھی اپنے سفرنامے ’’ترک ناداں سے ترک دانا تک‘‘ کے آخر میں فرق بیان کرچکا ہے۔ یہاں مزید ایک دو فرق جو اس عاجز نے ملاحظہ کیے، انہیں بیان کرتا ہوں۔ کچھ تو سب کے سامنے ہیں۔ کچھ تک عام دنیا کی رسائی کم ہوتی ہے۔ پہلا تو مہاجرین کی خدمت کا ہے۔ اس وقت ترکی میں دنیا کے سب سے زیادہ مہاجر یا اپنے ملک کے حالات سے مجبور ہوکر نقل مکانی کرنے والے افراد پائے جاتے ہیں۔ شام اور عراق تو خیر ہیں ہی ابتلا کی لپیٹ میں (اللہ تعالیٰ ان کے لیے اور سب مظلوم و بے گھر مسلمانوں کے لیے آسانی کی صورت پیدا فرمائے) اس کے علاوہ وسطی ایشیا کے کئی ملکوں کے مسلمانوں نے جو اپنی حکومتوں کے سخت گیر رویوں سے ستائے ہوئے ہیں، جیسے تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان وغیرہ… سب نے ترکی کی راہ لی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انصاف کی بات

آج کی تحریر کا اصل موضوع تو ترکی کے انتخابات اور ان کے ماقبل و مابعد کی صورتحال ہے، لیکن اس سے پہلے میں دو واقعات سنانا چاہوں گا کہ ان کی بنیاد پر اصل موضوع سے متعلق کچھ کہنے میں آسانی رہے گی۔ نیز اس افراط و تفریط کے درمیان راہِ اعتدال سمجھ آسکے گی جو ترکی کے حوالے سے ہمارے ذرائع ابلاغ میں دیکھنے کو آرہا ہے۔

جگر مراد آبادی سے اردو دنیا کاہر فردِبشر واقف ہے۔ یہ اپنے زمانے کے نہایت مقبول اور ہر دل عزیز شاعر تھے۔ غزل سے ان کو خصوصی مناسبت تھی۔ اسی وجہ سے انہیں اردو دنیا میں ’’رئیس المتغزلین‘‘ یا ’’سلطانِ تغزل‘‘ کے لقب سے یاد کیاجاتاتھا۔ آج بھی ان کے اشعار ذوق وشوق کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ جتنی شہرت ان کی غزلوں کو حاصل تھی، اتنی ہی یا اس سے کچھ کم و بیش ان کی رندی و سرشاری کو بھی تھی۔ بلانوشی کی اصطلاح شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے وضع ہوئی ہو۔ ان کی رندی، سرشاری اور بادہ خواری کے سیکڑوں واقعات مشہور ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ وصف بھی تھا کہ خواہ وہ کتنی بھی پیے ہوئے ہوں، کبھی آپے سے باہر نہیں ہوئے۔ ہمیشہ سنجیدگی کے دائرے میں رہتے تھے۔ علما اور بزرگوں کا ہرحال میں اور بے حد احترام کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باغ تو سارا جانے ہے

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں خدا جانے کیسے چند جملے قلم سے نکل گئے اور ابھی طباعت کی سیاہی سوکھی بھی نہ تھی کہ وہ حادثہ ہوگیا یا ان حوادث کی ابتدا ہوگئی جن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا: ’’سود پر آنے والی قرآن و حدیث کی وعیدیں دیکھ کر اور ہمارے ہاں عوامی سطح کے بعد قانونی اور عدالتی سطح پر سود کی ممانعت کے بجائے اسے تحفظ دیتے دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے کہ کہیں ہم اس نقطے کی طرف، اس حدّ فاصل کی طرف تو نہیں بڑھ رہے جس کے بعد کلمۂ حق نازل ہوجاتا ہے۔ مہلت ختم ہوجاتی ہے اور ایسی ایسی آسمانی و زمینی آفات آتی ہیں کہ الامان والحفیظ!‘‘

دراصل یہاں باتیں کئی ہیں جن کا… مکشوف یا ملفوف… کسی نہ کسی پیرائے میں اظہار ضروری ہے۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے، جانے نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلا وعدہ اور آخری وعید

بات نئی ہے، لیکن عادت پرانی ہے۔ نیا شوشہ پرانی فطرت کے تحت چھوڑا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ہٹلر نے فلسطین کے مفتی اعظم کے کہنے پر ہولوکاسٹ کیا تھا۔‘‘ اس ایک بیان میں اُس ٹھیٹھ یہودی فطرت کا کئی حوالوں سے اظہار کیا گیا ہے جس کی بنا پر اس قوم پر بار بار عذابِ الٰہی مختلف شکلوں میں آتا رہا، لیکن یہ ناقابل اصلاح مجرم کی طرح دوبارہ اپنی کریہہ عادتوں میں ملوث ہوتی رہی۔ قوم یہود کے حالیہ سربراہ کے بیان کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کے نیتن یاہو صاحب سے ہماری پرانی یاداللہ ہے اور ہمارے لیے ان کے اس تازہ بیان پر تبصرہ اور ان کی فطرت کا تجزیہ اس لیے آسان ہے کہ ہم ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے اس وقت سے واقف ہیں جب وہ چڈی پہن کر رنچھوڑ لائن (قدیم کراچی کا ایک علاقہ) کی سڑکوں پر سائیکل چلایا کرتے اور اپنی ٹافی چھپاکر دوست کی ٹافی (جو اتفاق سے پٹھان سپوت تھا) ہتھیانے کے چکر میں نکّو بنتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔