• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

باتیں ہمارے اکابر کی

مدارس میں تعلیمی سال کے آغاز و اختتام پر اساتذہ کرام جن قیمتی نصیحتوں سے طلبہ کو نوازتے ہیں، ان کا مجموعہ احقر راقم الحروف نے ’’پاجا چراغ زندگی‘‘ کے نام سے جمع کیا تھا۔ اس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے لے کر برادر مکرم حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ تک کے بیانات و تحریں جمع کی گئی تھیں۔ ان بیانات اور نصائح کا تعلق تمام طلبہ سے بالعموم اور دورۂ حدیث شریف سے فراغت پانے والے فضلاء سے بالخصوص ہوتا ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تقریباً ان تمام مشاہیر کی ہدایات ، تجربات، مشوروں اور نصیحتوں کا نچوڑ آ گیا ہے جو علم اور عمل، روحانیت و للہیت کی دنیا کے آفتاب و ماہتاب تھے اور بندہ کی رسائی ان کی تحریر یا بیان تک ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس مجموعے میں مدارس کی سبقی دنیا سے نکل کر اکیسویں صدی کے معرکے میں اترنے والے نو وارد داعیانِ اسلام کے لیے اتنا کچھ ہے کہ انہیں ان شاء اللہ تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔ بعض جگہ عصری تعلیم کے حوالے سے بعض حضرات کی آراء میں ختلاف ہے، جیسے بعض حضرات تضاد پر محمول کریں گے، لیکن اس اختلاف میں بھی ان شاء اللہ خیر ہے اور اس خیر کے بطن سے امت کے لیے خیر کثیر کے نئے افق نمودار ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب وہ دن آئیں گے

ارضِ شام لخت لخت اور تار تار ہے۔ زخموں سے چور اور لہولہان ہے۔ وہی زمین جسے ارض مبارک کہا گیا۔ جہاں چار میں سے تین آسمانی کتابیں اُتریں۔ سیکڑوں انبیاء آئے۔ جس کے ایک خطہ ’’وادی غوطہ‘‘ کو زمین پر موجود چار جنت نظیر وادیوں میں سے ایک کہا گیا۔ اولوالعزم انبیاء کا مسکن، ابدال کی سرزمین، بے مثال تاریخ اور لافانی روحانی خصوصیات رکھنے والا خطۂ ارض آج ایسے سنگدل ظالموں کا تختۂ مشق بن چکا ہے کہ جنہیں نہ ربّ کائنات کا خوف ہے، نہ مخلوق خدا کی شرم۔ حدیث شریف کے مطابق تو آخری وقت میں اہلِ ایمان دنیا بھر سے سمٹ کر یہیں جمع ہوں گے۔ عالمی منظرنامے کو دیکھیں تو مقامی سورمائوں کے ساتھ عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کے بعد لگتا ہے اہلِ ایمان سے پہلے رئوسائے باطل یہاں پہنچ کر منظرنامے کی تشکیل کررہے ہیں۔ ’’جب وہ دن آئیں گے…‘‘ تو پھر کس کو کیا کرنا ہوگا؟ اور کیا کچھ کرنے والا کیسے کچھ انجام کی طرف جائے گا؟بہت کچھ بتادیا گیا ہے۔ بہت کچھ جلد یا بدیر سامنے آرہا ہے۔ بہت کچھ سامنے آئے گا۔ ہم میں سے ہر ایک سے مطالبہ ہے کہ وہ خالی نہ بیٹھے۔ مظلوم کی مدد میں ایک آہ کھینچ سکتا ہے تو اس سے بھی پیچھے نہ رہے۔ آخری فیصلہ تو ہمارے حق میں ہونا ہے پھر کم ہمتی، بے بسی اور بے چارگی کو خود پر مسلط ہونے دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اہلِ حق کے ساتھ قدم سے قدم، کندھا سے کندھا ملاکر چلتے رہیں۔ چلتے رہیں اور حوصلہ بڑھاتے رہیں۔ ہاتھ بٹاتے رہیں۔ ایک دن آئے گا جب ہم ہزیمت کا کفارہ دے کر فتوحات کے اہل ٹھہریں گے، ان شاء اللہ!

ان دنوں کی کہانی

٭ آج کے ہمارے مہمانِ خصوصی ایک ایسی شخصیت ہیں جو کل پاکستان سے ایک طالب علم کی حیثیت سے برادر اسلامی ملک ترکی گئے اور آج وہاں ایک معزز شہری کی حیثیت سے پاکستان اور ترکی دونوں حلقوں میں معروف ہیں۔ آج سے تیس پینتیس برس قبل جب وہ ترکی پہنچے تو وہاں کے حالات قطعاً کچھ اور تھے۔ ان تین چار دہائیوں کا جو عرصہ انہوں نے وہاں گزارا۔ اس دوران وہاں کے حالت میں مختلف موڑ آئے اور اس دوران خود ان پر کیا بیتی؟ اس دوران ترکی میں انہوں نے کیا کچھ ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ سوالات تو مختصر رکھیں اور معزز مہمان کو بولنے کا پورا موقع دیں۔ آج کی محفل کا آغاز اس نکتے سے کریں کہ اس وقت کیا عوامل تھے کہ جن کی وجہ سے آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ترکی کا انتخاب کیا؟ وہاں جانے کے بعد آپ کو بحیثیت مسلمان اور مہمان آتے ہیں کیا کچھ دیکھنا پڑا؟ کس طرح سے آپ نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا اور کس طرح اپنے ملک کے وقار، نظریات اور مذہبی ترجیحات کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ اس دلچسپ داستان کا آغاز ہم اس سوال سے کریں گے کہ ترکی جانے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اک نیا جہاں کریں آباد

وہ شام ذرا نکھری نکھری تھی۔ دن بھر تیز ہوائیں چلی تھیں اور اب موسم خوشگوار اور ماحول دل فریب سا ہوچلا تھا۔ لگتا تھا قدرت نے کائنات میں جو خوبصورت رنگ بکھیرے ہیں تقریب کے منتظمین نے انہیں چرا کر پنڈال میں سجا دیا ہے۔ کیا صوت و صورت کا آہنگ، کیا حاضرین اور ماحضر کا تنوع، کیا روایت اور کیا جدت… انفرادی اختراعات اجتماعی روایات کے ساتھ مل کر نئی تاریخ رقم کر رہی تھیں۔

مدارس کی سالانہ تقریب کثیر المقاصد ہوتی ہے۔ مدرسے کا تعارف، طلبہ کی حوصلہ افزائی، والدین کو مبارک باد، اہل شہر سے میل ملاقات، احباب و معاونین سے راہ رسم، دینی درس گاہوں کی خدمات سے آگاہی وغیرہ وغیرہ۔ جامعہ کی تقریب ان تمام روایتی سرگرمیوں اور نیک مقاصد کے ساتھ ایک ایسی ضرورت کی تکمیل بھی کر رہی ہے جو دینی مدارس، اہلیان پاکستان ہی نہیں، عالم اسلام پر فرض کفایہ کی اہمیت تک عائد ہوتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو درپیش ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح ان داغوں سے پیچھا چھڑایا جائے جو مہربانوں نے ہمارے سفید اجلے دامن پر چھڑک رکھے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہمان طلبہ ملکوں کو قریب لاسکتے ہیں

شام سے جو پناہ گزین ترکی کی سرزمین پر آچکے ہیں ان کے بچوں کو تو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ اس کا اختیار اور طاقت تو ہمارے اندر موجود ہے اور ہم اسے بروئے کار لاسکتے ہیں تو کم از کم اسے تو عملی جامہ پہنائیں، اس لیے ہمارا یہ موٹو اور نعرہ ہے کہ جو بھی ہمارے ملک میں آئے وہ ہمارا مہمان ہے اور جو مسلمان آئے تو وہ ہمارا بھائی ہے۔ اسی نظریے کے تحت ہم بارہ سال سے اسے اپنے دین اور ایمان کا حصہ سمجھ کر مہمان طلبہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جو طلبہ یہاں سے پڑھ کر جاچکے ہیں ہم ان کے ملکوں میں جاکر ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ آج میرا پاکستان کی سر زمین پر موجود ہونے کے مقاصد میں سے ایک اہم اور بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ ترکی سے تعلیم پانے والے طلبہ سے ملاقات کی جائے۔ پاکستان میں آنے کی دوسری غرض یہ بھی ہے کہ دنیا کے اسلامی ملکوں میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ یقیناً پاکستان کے اندر دنیا کے کئی ممالک سے طلبہ آکر پڑھ رہے ہیں جو پاکستانی نہیںہیں۔ کیا ہمارے طرز پر، ہماری سوچ اور طریقہ کار کے مطابق اگر پاکستان میں دوسرے ملکوں سے آنے والے طلبہ کے لیے اگر کام ہورہا ہے تو ہم ان سے بھی ملاقات کریں اور ان سے بھی مزید سیکھیں۔ ہم اپنے تجربات انہیں بتائیں اور ان کے تجربات سے خود سیکھیں۔ پاکستان میں جو غیر ملکی طلبہ موجود ہیں انہیں سنبھالنا اور ان سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ یہ کتنا ضروری ہے؟ اس حوالے سے آپس میں بیٹھ کر مذاکرہ کرنا بھی ہمارے مقاصد میں شامل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہماری پہچان، اسلامی پاکستان

دنیا میں اس کی مثال نہیں ہوگی کہ کسی کے پاس چشمۂ صافی ہو اور وہ گدلے پانی سے پیاس بجھانے کے لیے بے تاب ہو۔ کسی کے پاس ایسی نایاب متاع ہو جس پر دنیا اس سے حسد کرتی یا رَشک میں مری جاتی ہو، اور وہ ایسی بے بہا دولت سے بے خبر، احساس کمتری کا شکار، دوسروں سے ادھار پر اشیائے صرف مانگتا پھرے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام جیسا قانون دیا جس میں بچوں او ربوڑھوں کے کجا، جانوروں اور درختوں تک کے حقوق متعین کردیے گئے ہیں۔ ہزار سال سے زائد شاندار اور قابل فخر تاریخ دی جس سے اقوام عالم کی آنکھیں چندھیا جائیں، لیکن ہم اس سے شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں اور دوسری اقوام کے بچے کھچے پر رال ٹپکاتے ہیں۔ اب اسی ’’تحفظ حقوق نسواں‘‘ بل کو دیکھ لیجیے۔ اس کی شرعی و علمی استنادی حیثیت یہ ہے کہ ابھی تک اس کے مآخذ و مراجع کا بھی کسی کو علم نہیں ہوسکا کہ یہ کن اصول یا کس بنیا دکو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اس میں نہ کتاب و سنت کی حکمت و برکت کا کوئی اثر ملتا ہے نہ عقل و تہذیب کے نشانات دور دراز تک پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

طلبہ امن کے سفیر ہوتے ہیں

ہمارے آج کے مہمان جن کا پورا تعارف ہمیں حاصل نہیں ہے، ترکی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ وہاں کی معزز، علمی اور انتظامی شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے پرانے کرم فرما ڈاکٹر ندیم احمد صاحب بھی تشریف فرما ہیں جو اکثر اس طرح کے مہمانوں کی زیارت میں ہمارے لیے ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم آج کے مہمان کا تعارف کروائیں گے۔ پھر اس کے بعد ان کے یہاں آنے کے مقصد پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں گے۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ ہوگا۔ سب سے پہلے ان کا تعارف پیشِ خدمت ہے۔

ان کا نام محمد علی بولاط ہے۔ یہ ترکی کے شہر کاسنی کے رہنے والے ہیں۔ استنبول یونیورسٹی میں طالب علم رہے۔ تاریخ میں گریجویشن کی اور اسی شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی میں جو غیرملکی طلبہ ہیں جنہیں یہ ’’مہمان طلبہ‘‘ کہتے ہیں۔ ان مہمان طلبہ کے لیے 12 سال پہلے ایک ادارہ بنایا گیا تھا، اس کے یہ صدر ہیں۔ اس وقت جو ادارہ ہے وہ ایک فیڈریشن ہے جسے ترکش میں ’’اُدیف‘‘ کہتے ہیں، یعنی ’’انٹر نیشنل اسٹوڈنٹ فار آرگنائزیشن‘‘ اس فیڈریشن کے اندر مختلف شہروں کے اندر 52 ایسوسی ایشنز موجود ہیں جو طلبہ کے لیے بنائی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوح و قلم تیرے ہیں

وہ جو مشہور مصرعہ ہے: ’’ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔‘‘ ہفت روزہ اخبار کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس میں ’’باعث تاخیر‘‘ کی فہرست کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی ہے۔ مضمون لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ اخبار چھپنے چلا جاتا ہے اور ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جس کے علاوہ کوئی موضوع اس ہفتے ہونا ہی نہیں چاہیے، مگر قارئین جب اخبار کھولتے ہیں تو انہیں سب کچھ ملتا ہے سوائے اس کے جس کی انہیں توقع تھی۔

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کی مرتبہ بھی صورت حال کچھ ایسی ہی رہی۔ بڑے عرصے بعد چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوا تھا اور اس کی شہادت کے واقعے نے دل کی تارو ںکو کچھ اس انداز میں چھیڑا تھا کہ لاکھوں لوگوں نے ایمان و عقیدت کے نجانے کون کون سے مقامات چند لمحوں میں طے کرلیے تھے، لیکن یہ سب کچھ پچھلا کالم لکھے جانے، بلکہ چھپ جانے کے بعد ہوا اور ہم دل کی بات دل میں ہی لیے رہ گئے۔ ویسے بھی جب موضوع ایسا ہو تو وہاں باتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متضاد سمت میں سفر

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کچھ چیزو ںکو ایسی معکوس یا متقابل صفت پر پیدا کیا ہے کہ وہ ہمیشہ متضاد سمت میں سفر کرتی ہیں۔ ایک بڑھے گی تو دوسری گھٹے گی۔ ایک جتنا پروان چڑھے گی دوسری کو اتنا ہی کم یا ختم ہونا ہوگا۔ اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کی شان عالی ظاہر ہوتی ہے وہیں انسانو ںکو ایک کسوٹی یا منضبط معیار بھی مل جاتا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ عموماً پہچان اور جانچ کے ظاہری معیارات کے دائرے میں نہیں آتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہی ہر ایک کو دوسرے کے لیے جانچ کا پیمانہ یا تول کا ترازو بنادیا ہے۔

٭… عقیدہ اور وھم ایسی چیزوں میں سرفہرست ہیں۔ انسان کا عقیدہ جتنا مضبوط اور اللہ تعالیٰ پر یقین جتنا کامل ہوتا ہے، اتنا ہی وہ توکل و تفویض کا مزہ لیتا ہے اور رضا بالقضا میں جو عافیت و اطمینان ہے اس کی مٹھاس اور ٹھنڈک سے اپنی زندگی کو پرسکون اور مسرت بھری بناتا ہے۔ اس کے برعکس وھم ایسی چیز ہے کہ اصول میں ہو یا فروع میں، دینی معاملات میں ہو یا دنیوی تعلقات میں، ضعیف الاعتقادی کی شکل میں ہو یا بدشگونی کی شکل میں، کبھی انسان کی دنیا و آخرت تباہ اور کبھی اس کا چین سکون برباد کردیتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اہم مسئلہ ، ایک آسان حل

مسلم اُمہ کے موجودہ زوال وانحطاط کے سبب ایک سے زیادہ بتائے جاتے ہیں، لیکن ایک سبب ایسا ہے جو بہت سے زمینی گھمبیر اسباب کو جنم دیتا ہے اور متفق علیہ ہے۔ مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بہت سے حل گنوائے جاتے ہیں، لیکن ایک حل ایسا ہے جو بہت سے پیچیدہ مسائل حل کرسکتا ہے اور بہت سے بند تالوں کی کنجی، بہت سی مہلک معاشرتی بیماریوں کے لیے تریاق ہے۔ یہ حل دراصل انبیاء و اولیاء اور حکماء و عقلاء کا ایسا وصف ہے اور ایسی بابرکت عادت ہے کہ اس سے نہایت اعلیٰ انسانی اخلاق پھوٹتے اور نہایت مثبت نتائج جنم لیتے ہیں۔ فاتحین اسلام کو اسی سے ترقی ملی ہے اور ترقی یافتہ اقوام اسی کی بدولت عروج پاتی ہیں۔

انسان جب ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس کے خلوص و ایثا رکی علامت ہوتی ہے اور یہ ایسی قربانی اور وسعت ظرفی پر مشتمل ہوتی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور تایید نازل ہوتی ہے۔ اور جب وہ ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفادات کو پامال کردیتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی کم ظرفی اور خبث باطن کی دلیل ہوتی ہے، بلکہ یہ ایسی خود غرضی اور خواہش پرستی ہوتی ہے جس کی پاداش میں انسان تایید و توفیق الٰہی سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر اسے اس کے نفس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ نصرتِ الٰہی سے محروم انسان کا نفس اسے کس کے حوالے کرتا اور کیسے انجام تک پہنچاتا ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

پہلی نظر! آخری فیصلہ

ساری بات پہلی نظر کی ہے۔ انسان کو اگر یہ سعادت حاصل ہوجائے کہ اس کی پہلی نظر… خوشی ہو یا غمی، شکر کا موقع ہو یا صبر کا… اللہ تعالیٰ پر جائے تو یہ اس کے خوش قسمت ترین انسان ہونے کی علامت ہے، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ تصوف اور تزکیہ کے نام سے اصلاح باطن کی جو محنت اُمت میں مروّج چلی آرہی ہے اور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا ’’اخلاص‘‘ سے اور انتہا ’’احسان‘‘ پر ہوتی ہے۔ اس کا حاصل بھی شاید یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مختلف احوال و مراحل میں پہلی نظر اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی منشا اور اس کی مرضی پر ڈالے اور پھر بعدازاں دوسری چیزوں پر، بالخصوص اسباب کے نام سے پائے جانے والے ان حجابات پر جو اللہ تعالیٰ پر سے نظر ہٹانے کا… بسا اوقات… سبب بن جاتے ہیں۔

آج کے انسان کا ہی نہیں، مسلمان کا بھی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی پہلی نظر اللہ تعالیٰ پر نہیں جاتی۔ چاہے معاملہ اسباب کے میسر ہوتے وقت ہو یا اسباب ساتھ چھوڑ چکے ہوں، دونوں صورتوں میں آج کا مادّیت زدہ مسلمان قادر مطلق کی غیبی قدرت سے نظر اس قدر دور ہٹاچکا ہے کہ روحانیت سے صاف محروم لوگوں کی طرح اس کی نظر بھی صبح اسباب کے بغیر گھر سے نکلتے وقت یا شام کو اسباب سے لدے پھندے گھر میں داخل ہوتے وقت سب چیزوں پر ہوتی ہے، سوائے اپنے سچے ربّ کی کامل قدرت کے۔ ذرا سوچیے! انسانیت کی اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ اسے انسانیت سکھانے والے خود روحانیت کی ابجد سے محروم ہوچلے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔