• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دینی مدارس دنیا کے لیے مینارئہ نور

پچھلے کالم میں برصغیر کے دینی مدارس کے معاشی پس منظر اور نامساعد حالات میں لازوال دینی خدمات پر مختصر گفتگو کی گئی تھی کہ انہوں نے کس طرح جنگِ آزادی میں مسلمانانِ برصغیر کے کامیاب نہ ہونے کے بعد اور زمامِ سلطنت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر غیرملکی قابضین کے ہاتھ میں جانے کے بعد صفر سے کام شروع کیا اور ماشاء اللہ ساتوں براعظموں میں پھیلادیا۔ یہ تو مغلیہ سلطنت بھی نہ کرسکی تھی کہ علمائے ہندوستان کی علمی کاوشوں کو یا ان کے اداروں کے قائم کردہ مثالی نظم و نسق کو دنیا بھر تک پہنچاتی۔ اگر انسان انصاف کا خون نہ کرے تو اسے کہنا پڑتا ہے کہ علمائے برصغیر نے نہ صرف اسلامی ورثے کو بچائے اور سنبھالے رکھا، بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلانے کا وہ کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر پیش کرنے سے کوئی اور طبقہ عاجز ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج اقتدار اور وسائل کے بل بوتے پر دنیا بھر میں اپنے ادارے قائم کررہے ہیں۔ پوری مسلم دنیا مل کر ان کے پائے کا ایک ادارہ نہ بناسکی، جبکہ علماء نے چٹائی پر بیٹھ کر پوری دنیا میں اپنا نظام پھیلادیا۔ یہ کرامتی کارنامہ نہیں تو اور کیا ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

پکار پر لبیک کہنے کا وقت

برصغیر میں علوم دینیہ کی حفاظت، اشاعت، احیاء اور ترویج پر دو دور گزرے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب جنگ آزادی میں ظاہری کامیابی کے بعد غیرملکی قابضین نے استعمار کے نام پر تخریب کرتے ہوئے دو فیصلے کیے۔ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی، علمی زبان عربی اور عوامی زبان اردو و ہندی تھی۔ انگریز نے فیصلہ کیا کہ آیندہ سے سرکاری زبان انگریزی ہوگی۔ صبح جب لوگ اُٹھے تو بڑے بڑے عالم و فاضل جو یکتائے زمانہ تھے، سرکاری مناصب کے لیے نااہل اور اَن پڑھ قرار پاچکے تھے۔ آج تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود انگریزی کے عتاب سے قوم کی جان نہیں چھوٹ سکی جو نیم فنون خواندہ ادھورے جاہل پیدا کررہی ہے۔ اس فیصلے سے تو ’’ملأ القوم‘‘ اور ’’مترفین‘‘ کا مدارس میں آنا بند ہوگیا۔ ’’افراد‘‘ کی آمد پر بندش لگانے کے بعد ’’اموال‘‘ پر روک کے لیے دوسرا فیصلہ ہوا۔ مدارس اس ’’وقف‘‘ کی جاگیروں سے چلتے تھے۔ چنانچہ ایسی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں جو مدارس کی خدمت کے لیے وقف تھیں۔ اب نہ قابل بچے مدرسے میں آئیں نہ اخراجات کے لیے دھیلا پاس ہو۔ مدرسہ چلے تو کیونکر چلے؟ لیکن آفرین ہے علمائے کرام کو کہ ہمت نہ ہاری۔ ایک باہمت استاذ ایک کامیاب شاگرد کو لے کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور اس ٹمٹماتے چراغ کو باد مخالف سے بچانے کی کوششوں میں جُت گیا جس پر اسلامیانِ ہند کا روحانی وجود اور مادّی بقاء موقوف تھی۔ تب سے لے کر اب تک بلکہ ماضی قریب تک علوم اسلامیہ کے تحفظ اور بقاء کا پہلا دور تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نقدی، مالِ تجارت میں زکوٰۃ کی تفصیل

زکوٰۃ میں کس مقام کی قیمت معتبر ہوگی ؟
سوال: ادائیگی ٔزکوٰۃ میں مال زکوٰۃ کی قیمت اس جگہ کی معتبر ہوگی جہاں زکوٰۃ اداء کرنے والا ہے یا اس مقام کی معتبر ہوگی جہاں مال موجود ہو؟ حولان حول (سال گذرنا) کہاں کا معتبر ہوگا؟ (عبدالحفیظ۔ سکھر) جواب: جہاں مال موجود ہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی، حولان حول بھی وہیں کا معتبر ہوگا۔ ویقومہا المالک فيالبلد الذی فیہ المال، حتی لو بعث عبدا للتجارۃ إلی بلد آخر فحال الحول، تعتبر قیمتہ في ذلک البلد، ولوکان مفازۃ تعتبر قیمتہ فيأقرب الأمصار إلیہ، کذا فيفتح القدیر۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۸۰)
زکوٰۃ میںکس وقت کی قیمت معتبر ہوگی؟
سوال: مال زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی، جس وقت زکوٰۃ واجب ہوئی یا جس وقت زکوٰۃ اداء کی جارہی ہے؟ (ابراہیم۔ سوات)
جواب: سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اور عشر میں وقتِ وجوب کی قیمت کا اعتبار ہے یا وقتِ اداء کا؟ اس میں دونوں قول ہیں۔ احتیاط اس میں ہے کہ جو قیمت زیادہ ہو وہ لگائی جائے، عام طورپر وقت اداء کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، وہی لگانی چاہیے، البتہ جانوروں کی زکوٰۃ میں بالاجماع ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہے۔
’’وتعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد أن تکون قیمتہا فيابتداء الحول مائتی درہم من الدراہم الغالب علیہا الفضۃ، کذا فيالمضمرات۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۷۹)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

:زکوٰۃ کی ادائیگی

عیدی کے نام سے زکوٰۃ دینا:
زکوٰۃ میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر اسے عیدی کہا جائے اور اسی نام سے مستحق رشتہ داروں کو دی جائے یا خوشخبری سنانے والے کو انعام کے نام سے دی جائے، اسی طرح باغ کا تازہ پھل ہدیہ کرنے والے کو قیمت کے نام سے نہیں بلکہ ویسے ہی اس کو خوش کر نے کے لیے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰہ اداء ہو جاتی ہے،بشرطیکہ جسے دی جا رہی ہے وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔

في الدر: ’’ دفع الزکاۃ إلی صبیان أقاربہ برسم عید أوإلی مبشرأومہدی الباکورۃ جاز إلاإذا نص علی التعویض۔‘‘ (۲/۳۵۶) عشر و زکوٰۃ چوری ہوجانے کی صورت میں ادائیگی کا حکم:
کسی نے زکوٰۃ یا عشر اداء کرنے کی نیت سے رقم یا سامان الگ کر کے رکھ دیا اور اس کے سامنے مگر اس کے علم ورضا کے بغیر کسی نے اٹھا لیا تو اس صورت میں عشر و زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ دینا ضروری ہے، الا یہ کہ بعد میں لینے والے شخص کا علم ہو جائے اور صاحب ِ مال اسے پہچانتا ہواور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو اور وہ مال اس کی ملکیت میں موجود بھی ہو اور اس کے لینے پر زکوٰۃ دہندہ راضی بھی ہو جائے تو پھر زکوٰۃ اداء ہو جائے گی، کیونکہ جب مال موجود ہے، اُٹھانے والا معلوم اور فقیر ہے اور مالک اس کے اُٹھانے پر راضی ہوگیا تو یہ اس کی طرف سے تملیکِ فقیر ہے، اس لیے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اگر ان میںسے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، مثلاً اٹھانے والا مسکین نہیں تو تملیک فقیر نہیں پائی گئی، اٹھانے والا فقیر تو ہے، مگر مالک اسے جانتا نہیں تو یہاں مجہول و نامعلوم کو تملیک ہورہی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ مال موجود نہیں، بلکہ فقیر نے اسے استعمال کرکے ختم کردیا تو اب اس میں تملیک کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان تمام صورتوں میں زکوٰب ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ و عشر کو الگ کرتے وقت نیت کافی ہے، دیتے وقت ضروری نہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

شرائط وجوبِ زکوٰۃ… چند غلط فہمیوں کا ازالہ

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ سوال:کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولے اور چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو تو اس پرزکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟(عمیر۔کراچی)
جواب:سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی میں سے ذرا سی مقداربھی نہ ہو۔اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ= 612.35گرام اس صورت میں ہے کہ صرف چاندی ہو، سونا، مالِ تجارت اور نقدی بالکل نہ ہو۔اگر سونے یا چاندی کے ساتھ کوئی دوسرا مال زکوٰۃ بھی ہے مثلاً مالِ تجارت ہے خواہ ایک روپے کی مالیت کا ہو یا نقدی ہے، خواہ چار آنے ہی ہو تو سب اموال زکوٰۃ کی قیمت لگائی جائے گی۔ اگر سب کی مالیت 612.35گرام چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سونا ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام،چاندی ساڑھے باون تولہ= 612.35 گرام کسی کی ملکیت میں ہویامالِ تجارت یا نقدی یا ان چاروں اشیاء یا ان میں سے بعض کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر کسی شخص کے پاس ہو تو وہ صاحب ِ نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سات فنون، سات چلّے

پچھلے ہفتے اس موضوع پر بات ہوئی تھی کہ ہمارے مدارس سے تیار ہو کر نکلنے والے فضلاء میں سے جو حضرات مزید تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا رجحان ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی طرف ہے جبکہ فن فتویٰ میں مہارت کے لیے جس درجہ کی استعداد چاہیے اور آگے چل کر امت کی فقہی رہنمائی کے لیے جس درجے کا رسوخ چاہیے، اس کا تناسب کم ہے۔ یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا تھا کہ اعلیٰ استعداد کے طلبہ کو فقہ کے ساتھ حدیث شریف میں بھی مناسبت اور مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ یہ دو فن ایسے لازم ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک سے عدم مناسبت دوسرے کے حوالے سے ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بسا اوقات مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے اسلاف کی صفت تھی کہ وہ ’’محدث فقیہ‘‘ یا ’’فقیہ محدث‘‘ ہوتے تھے۔ یعنی دونوں علوم میں دسترس تھی۔ جو ماخذ و منبع اور اصل ہے اس میں بھی یعنی حدیث شریف اور جو شاخ ہے اس میں بھی یعنی فقہ اسلامی۔ پھر اس کے بعد ان کا اشتغال کسی ایک چیز میں زیادہ ہو اور دوسرے میں کم تو اس سے ان کے علمی کاموں کے استناد پر فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ان پر کیے جانے والے اعتراضات میں کوئی جان ہوتی تھی۔ اس جامعیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی ایک شکل دو سالہ ممزوج تخصص فی الحدیث و الفقہ یا ایک سال حدیث کا اور ایک سال فقہ کا تخصص ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حد: دونوں طرف

دونوں طرف حد ہے۔ اور جب معاملہ حد کو پہنچ جائے تو پردئہ غیب سے عجائبات ضرور نمودار ہوتے ہیں۔ ایک طرف سفید ریش معمر لوگ ہیں جو پہیے والی کرسی کے بغیر چل پھر بھی نہیں سکتے، لیکن انہیں نصف صدی قبل کے گڑے مردے اکھاڑ کر اس حالت میں تختۂ دار کی طرف لے جایا جارہا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر پھندے کو چومنے کا اعزاز اور اسے اپنے گلے میں خود ڈالنے کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔ اللہ کے راستے میں حق کے متوالوں کی جانیں تو بے دریغ لی گئی ہیں اور ان دیوانوں نے عجیب سے عجیب انداز میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر بے مثالی قربانیاں دی ہیں۔ عزم و ایثار کی تاریخ رقم کی ہے۔ پائے استقامت میں لغزش نہیں آنے دی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کا سامنا کیا ہے۔ آخر وقت میں بھی جابر کو نیچا دکھایا ہے، لیکن ایسا منظر بھی کم ہوگا کہ ایک نورانی صورت، فرشتۂ صفت، عمر بھر امن و سلامتی کا پیغام پہنچانے والا صاحب کردار اس حالت میں تختۂ دار کو جارہا ہے کہ اس کے قدموں میں اُٹھنے اور پائوں میں چلنے کی سکت بھی نہیں، لیکن استقامت میں ذرا بھی فرق نہیں۔ چہرے پر کسی قسم کے خوف کا سایہ ہے نہ حزن کی پرچھائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باتیں ہمارے اکابر کی

مدارس میں تعلیمی سال کے آغاز و اختتام پر اساتذہ کرام جن قیمتی نصیحتوں سے طلبہ کو نوازتے ہیں، ان کا مجموعہ احقر راقم الحروف نے ’’پاجا چراغ زندگی‘‘ کے نام سے جمع کیا تھا۔ اس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے لے کر برادر مکرم حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ تک کے بیانات و تحریں جمع کی گئی تھیں۔ ان بیانات اور نصائح کا تعلق تمام طلبہ سے بالعموم اور دورۂ حدیث شریف سے فراغت پانے والے فضلاء سے بالخصوص ہوتا ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تقریباً ان تمام مشاہیر کی ہدایات ، تجربات، مشوروں اور نصیحتوں کا نچوڑ آ گیا ہے جو علم اور عمل، روحانیت و للہیت کی دنیا کے آفتاب و ماہتاب تھے اور بندہ کی رسائی ان کی تحریر یا بیان تک ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس مجموعے میں مدارس کی سبقی دنیا سے نکل کر اکیسویں صدی کے معرکے میں اترنے والے نو وارد داعیانِ اسلام کے لیے اتنا کچھ ہے کہ انہیں ان شاء اللہ تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔ بعض جگہ عصری تعلیم کے حوالے سے بعض حضرات کی آراء میں ختلاف ہے، جیسے بعض حضرات تضاد پر محمول کریں گے، لیکن اس اختلاف میں بھی ان شاء اللہ خیر ہے اور اس خیر کے بطن سے امت کے لیے خیر کثیر کے نئے افق نمودار ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب وہ دن آئیں گے

ارضِ شام لخت لخت اور تار تار ہے۔ زخموں سے چور اور لہولہان ہے۔ وہی زمین جسے ارض مبارک کہا گیا۔ جہاں چار میں سے تین آسمانی کتابیں اُتریں۔ سیکڑوں انبیاء آئے۔ جس کے ایک خطہ ’’وادی غوطہ‘‘ کو زمین پر موجود چار جنت نظیر وادیوں میں سے ایک کہا گیا۔ اولوالعزم انبیاء کا مسکن، ابدال کی سرزمین، بے مثال تاریخ اور لافانی روحانی خصوصیات رکھنے والا خطۂ ارض آج ایسے سنگدل ظالموں کا تختۂ مشق بن چکا ہے کہ جنہیں نہ ربّ کائنات کا خوف ہے، نہ مخلوق خدا کی شرم۔ حدیث شریف کے مطابق تو آخری وقت میں اہلِ ایمان دنیا بھر سے سمٹ کر یہیں جمع ہوں گے۔ عالمی منظرنامے کو دیکھیں تو مقامی سورمائوں کے ساتھ عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کے بعد لگتا ہے اہلِ ایمان سے پہلے رئوسائے باطل یہاں پہنچ کر منظرنامے کی تشکیل کررہے ہیں۔ ’’جب وہ دن آئیں گے…‘‘ تو پھر کس کو کیا کرنا ہوگا؟ اور کیا کچھ کرنے والا کیسے کچھ انجام کی طرف جائے گا؟بہت کچھ بتادیا گیا ہے۔ بہت کچھ جلد یا بدیر سامنے آرہا ہے۔ بہت کچھ سامنے آئے گا۔ ہم میں سے ہر ایک سے مطالبہ ہے کہ وہ خالی نہ بیٹھے۔ مظلوم کی مدد میں ایک آہ کھینچ سکتا ہے تو اس سے بھی پیچھے نہ رہے۔ آخری فیصلہ تو ہمارے حق میں ہونا ہے پھر کم ہمتی، بے بسی اور بے چارگی کو خود پر مسلط ہونے دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اہلِ حق کے ساتھ قدم سے قدم، کندھا سے کندھا ملاکر چلتے رہیں۔ چلتے رہیں اور حوصلہ بڑھاتے رہیں۔ ہاتھ بٹاتے رہیں۔ ایک دن آئے گا جب ہم ہزیمت کا کفارہ دے کر فتوحات کے اہل ٹھہریں گے، ان شاء اللہ!

ان دنوں کی کہانی

٭ آج کے ہمارے مہمانِ خصوصی ایک ایسی شخصیت ہیں جو کل پاکستان سے ایک طالب علم کی حیثیت سے برادر اسلامی ملک ترکی گئے اور آج وہاں ایک معزز شہری کی حیثیت سے پاکستان اور ترکی دونوں حلقوں میں معروف ہیں۔ آج سے تیس پینتیس برس قبل جب وہ ترکی پہنچے تو وہاں کے حالات قطعاً کچھ اور تھے۔ ان تین چار دہائیوں کا جو عرصہ انہوں نے وہاں گزارا۔ اس دوران وہاں کے حالت میں مختلف موڑ آئے اور اس دوران خود ان پر کیا بیتی؟ اس دوران ترکی میں انہوں نے کیا کچھ ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ سوالات تو مختصر رکھیں اور معزز مہمان کو بولنے کا پورا موقع دیں۔ آج کی محفل کا آغاز اس نکتے سے کریں کہ اس وقت کیا عوامل تھے کہ جن کی وجہ سے آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ترکی کا انتخاب کیا؟ وہاں جانے کے بعد آپ کو بحیثیت مسلمان اور مہمان آتے ہیں کیا کچھ دیکھنا پڑا؟ کس طرح سے آپ نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا اور کس طرح اپنے ملک کے وقار، نظریات اور مذہبی ترجیحات کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ اس دلچسپ داستان کا آغاز ہم اس سوال سے کریں گے کہ ترکی جانے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اک نیا جہاں کریں آباد

وہ شام ذرا نکھری نکھری تھی۔ دن بھر تیز ہوائیں چلی تھیں اور اب موسم خوشگوار اور ماحول دل فریب سا ہوچلا تھا۔ لگتا تھا قدرت نے کائنات میں جو خوبصورت رنگ بکھیرے ہیں تقریب کے منتظمین نے انہیں چرا کر پنڈال میں سجا دیا ہے۔ کیا صوت و صورت کا آہنگ، کیا حاضرین اور ماحضر کا تنوع، کیا روایت اور کیا جدت… انفرادی اختراعات اجتماعی روایات کے ساتھ مل کر نئی تاریخ رقم کر رہی تھیں۔

مدارس کی سالانہ تقریب کثیر المقاصد ہوتی ہے۔ مدرسے کا تعارف، طلبہ کی حوصلہ افزائی، والدین کو مبارک باد، اہل شہر سے میل ملاقات، احباب و معاونین سے راہ رسم، دینی درس گاہوں کی خدمات سے آگاہی وغیرہ وغیرہ۔ جامعہ کی تقریب ان تمام روایتی سرگرمیوں اور نیک مقاصد کے ساتھ ایک ایسی ضرورت کی تکمیل بھی کر رہی ہے جو دینی مدارس، اہلیان پاکستان ہی نہیں، عالم اسلام پر فرض کفایہ کی اہمیت تک عائد ہوتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو درپیش ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح ان داغوں سے پیچھا چھڑایا جائے جو مہربانوں نے ہمارے سفید اجلے دامن پر چھڑک رکھے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔