• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

نقدی، مالِ تجارت میں زکوٰۃ کی تفصیل

زکوٰۃ میں کس مقام کی قیمت معتبر ہوگی ؟
سوال: ادائیگی ٔزکوٰۃ میں مال زکوٰۃ کی قیمت اس جگہ کی معتبر ہوگی جہاں زکوٰۃ اداء کرنے والا ہے یا اس مقام کی معتبر ہوگی جہاں مال موجود ہو؟ حولان حول (سال گذرنا) کہاں کا معتبر ہوگا؟ (عبدالحفیظ۔ سکھر) جواب: جہاں مال موجود ہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی، حولان حول بھی وہیں کا معتبر ہوگا۔ ویقومہا المالک فيالبلد الذی فیہ المال، حتی لو بعث عبدا للتجارۃ إلی بلد آخر فحال الحول، تعتبر قیمتہ في ذلک البلد، ولوکان مفازۃ تعتبر قیمتہ فيأقرب الأمصار إلیہ، کذا فيفتح القدیر۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۸۰)
زکوٰۃ میںکس وقت کی قیمت معتبر ہوگی؟
سوال: مال زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی، جس وقت زکوٰۃ واجب ہوئی یا جس وقت زکوٰۃ اداء کی جارہی ہے؟ (ابراہیم۔ سوات)
جواب: سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اور عشر میں وقتِ وجوب کی قیمت کا اعتبار ہے یا وقتِ اداء کا؟ اس میں دونوں قول ہیں۔ احتیاط اس میں ہے کہ جو قیمت زیادہ ہو وہ لگائی جائے، عام طورپر وقت اداء کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، وہی لگانی چاہیے، البتہ جانوروں کی زکوٰۃ میں بالاجماع ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہے۔
’’وتعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد أن تکون قیمتہا فيابتداء الحول مائتی درہم من الدراہم الغالب علیہا الفضۃ، کذا فيالمضمرات۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۷۹)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

:زکوٰۃ کی ادائیگی

عیدی کے نام سے زکوٰۃ دینا:
زکوٰۃ میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر اسے عیدی کہا جائے اور اسی نام سے مستحق رشتہ داروں کو دی جائے یا خوشخبری سنانے والے کو انعام کے نام سے دی جائے، اسی طرح باغ کا تازہ پھل ہدیہ کرنے والے کو قیمت کے نام سے نہیں بلکہ ویسے ہی اس کو خوش کر نے کے لیے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰہ اداء ہو جاتی ہے،بشرطیکہ جسے دی جا رہی ہے وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔

في الدر: ’’ دفع الزکاۃ إلی صبیان أقاربہ برسم عید أوإلی مبشرأومہدی الباکورۃ جاز إلاإذا نص علی التعویض۔‘‘ (۲/۳۵۶) عشر و زکوٰۃ چوری ہوجانے کی صورت میں ادائیگی کا حکم:
کسی نے زکوٰۃ یا عشر اداء کرنے کی نیت سے رقم یا سامان الگ کر کے رکھ دیا اور اس کے سامنے مگر اس کے علم ورضا کے بغیر کسی نے اٹھا لیا تو اس صورت میں عشر و زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ دینا ضروری ہے، الا یہ کہ بعد میں لینے والے شخص کا علم ہو جائے اور صاحب ِ مال اسے پہچانتا ہواور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو اور وہ مال اس کی ملکیت میں موجود بھی ہو اور اس کے لینے پر زکوٰۃ دہندہ راضی بھی ہو جائے تو پھر زکوٰۃ اداء ہو جائے گی، کیونکہ جب مال موجود ہے، اُٹھانے والا معلوم اور فقیر ہے اور مالک اس کے اُٹھانے پر راضی ہوگیا تو یہ اس کی طرف سے تملیکِ فقیر ہے، اس لیے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اگر ان میںسے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، مثلاً اٹھانے والا مسکین نہیں تو تملیک فقیر نہیں پائی گئی، اٹھانے والا فقیر تو ہے، مگر مالک اسے جانتا نہیں تو یہاں مجہول و نامعلوم کو تملیک ہورہی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ مال موجود نہیں، بلکہ فقیر نے اسے استعمال کرکے ختم کردیا تو اب اس میں تملیک کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان تمام صورتوں میں زکوٰب ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ و عشر کو الگ کرتے وقت نیت کافی ہے، دیتے وقت ضروری نہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

شرائط وجوبِ زکوٰۃ… چند غلط فہمیوں کا ازالہ

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ سوال:کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولے اور چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو تو اس پرزکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟(عمیر۔کراچی)
جواب:سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی میں سے ذرا سی مقداربھی نہ ہو۔اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ= 612.35گرام اس صورت میں ہے کہ صرف چاندی ہو، سونا، مالِ تجارت اور نقدی بالکل نہ ہو۔اگر سونے یا چاندی کے ساتھ کوئی دوسرا مال زکوٰۃ بھی ہے مثلاً مالِ تجارت ہے خواہ ایک روپے کی مالیت کا ہو یا نقدی ہے، خواہ چار آنے ہی ہو تو سب اموال زکوٰۃ کی قیمت لگائی جائے گی۔ اگر سب کی مالیت 612.35گرام چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سونا ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام،چاندی ساڑھے باون تولہ= 612.35 گرام کسی کی ملکیت میں ہویامالِ تجارت یا نقدی یا ان چاروں اشیاء یا ان میں سے بعض کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر کسی شخص کے پاس ہو تو وہ صاحب ِ نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سات فنون، سات چلّے

پچھلے ہفتے اس موضوع پر بات ہوئی تھی کہ ہمارے مدارس سے تیار ہو کر نکلنے والے فضلاء میں سے جو حضرات مزید تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا رجحان ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی طرف ہے جبکہ فن فتویٰ میں مہارت کے لیے جس درجہ کی استعداد چاہیے اور آگے چل کر امت کی فقہی رہنمائی کے لیے جس درجے کا رسوخ چاہیے، اس کا تناسب کم ہے۔ یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا تھا کہ اعلیٰ استعداد کے طلبہ کو فقہ کے ساتھ حدیث شریف میں بھی مناسبت اور مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ یہ دو فن ایسے لازم ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک سے عدم مناسبت دوسرے کے حوالے سے ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بسا اوقات مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے اسلاف کی صفت تھی کہ وہ ’’محدث فقیہ‘‘ یا ’’فقیہ محدث‘‘ ہوتے تھے۔ یعنی دونوں علوم میں دسترس تھی۔ جو ماخذ و منبع اور اصل ہے اس میں بھی یعنی حدیث شریف اور جو شاخ ہے اس میں بھی یعنی فقہ اسلامی۔ پھر اس کے بعد ان کا اشتغال کسی ایک چیز میں زیادہ ہو اور دوسرے میں کم تو اس سے ان کے علمی کاموں کے استناد پر فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ان پر کیے جانے والے اعتراضات میں کوئی جان ہوتی تھی۔ اس جامعیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی ایک شکل دو سالہ ممزوج تخصص فی الحدیث و الفقہ یا ایک سال حدیث کا اور ایک سال فقہ کا تخصص ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حد: دونوں طرف

دونوں طرف حد ہے۔ اور جب معاملہ حد کو پہنچ جائے تو پردئہ غیب سے عجائبات ضرور نمودار ہوتے ہیں۔ ایک طرف سفید ریش معمر لوگ ہیں جو پہیے والی کرسی کے بغیر چل پھر بھی نہیں سکتے، لیکن انہیں نصف صدی قبل کے گڑے مردے اکھاڑ کر اس حالت میں تختۂ دار کی طرف لے جایا جارہا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر پھندے کو چومنے کا اعزاز اور اسے اپنے گلے میں خود ڈالنے کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔ اللہ کے راستے میں حق کے متوالوں کی جانیں تو بے دریغ لی گئی ہیں اور ان دیوانوں نے عجیب سے عجیب انداز میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر بے مثالی قربانیاں دی ہیں۔ عزم و ایثار کی تاریخ رقم کی ہے۔ پائے استقامت میں لغزش نہیں آنے دی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کا سامنا کیا ہے۔ آخر وقت میں بھی جابر کو نیچا دکھایا ہے، لیکن ایسا منظر بھی کم ہوگا کہ ایک نورانی صورت، فرشتۂ صفت، عمر بھر امن و سلامتی کا پیغام پہنچانے والا صاحب کردار اس حالت میں تختۂ دار کو جارہا ہے کہ اس کے قدموں میں اُٹھنے اور پائوں میں چلنے کی سکت بھی نہیں، لیکن استقامت میں ذرا بھی فرق نہیں۔ چہرے پر کسی قسم کے خوف کا سایہ ہے نہ حزن کی پرچھائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باتیں ہمارے اکابر کی

مدارس میں تعلیمی سال کے آغاز و اختتام پر اساتذہ کرام جن قیمتی نصیحتوں سے طلبہ کو نوازتے ہیں، ان کا مجموعہ احقر راقم الحروف نے ’’پاجا چراغ زندگی‘‘ کے نام سے جمع کیا تھا۔ اس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے لے کر برادر مکرم حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ تک کے بیانات و تحریں جمع کی گئی تھیں۔ ان بیانات اور نصائح کا تعلق تمام طلبہ سے بالعموم اور دورۂ حدیث شریف سے فراغت پانے والے فضلاء سے بالخصوص ہوتا ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تقریباً ان تمام مشاہیر کی ہدایات ، تجربات، مشوروں اور نصیحتوں کا نچوڑ آ گیا ہے جو علم اور عمل، روحانیت و للہیت کی دنیا کے آفتاب و ماہتاب تھے اور بندہ کی رسائی ان کی تحریر یا بیان تک ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس مجموعے میں مدارس کی سبقی دنیا سے نکل کر اکیسویں صدی کے معرکے میں اترنے والے نو وارد داعیانِ اسلام کے لیے اتنا کچھ ہے کہ انہیں ان شاء اللہ تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔ بعض جگہ عصری تعلیم کے حوالے سے بعض حضرات کی آراء میں ختلاف ہے، جیسے بعض حضرات تضاد پر محمول کریں گے، لیکن اس اختلاف میں بھی ان شاء اللہ خیر ہے اور اس خیر کے بطن سے امت کے لیے خیر کثیر کے نئے افق نمودار ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جب وہ دن آئیں گے

ارضِ شام لخت لخت اور تار تار ہے۔ زخموں سے چور اور لہولہان ہے۔ وہی زمین جسے ارض مبارک کہا گیا۔ جہاں چار میں سے تین آسمانی کتابیں اُتریں۔ سیکڑوں انبیاء آئے۔ جس کے ایک خطہ ’’وادی غوطہ‘‘ کو زمین پر موجود چار جنت نظیر وادیوں میں سے ایک کہا گیا۔ اولوالعزم انبیاء کا مسکن، ابدال کی سرزمین، بے مثال تاریخ اور لافانی روحانی خصوصیات رکھنے والا خطۂ ارض آج ایسے سنگدل ظالموں کا تختۂ مشق بن چکا ہے کہ جنہیں نہ ربّ کائنات کا خوف ہے، نہ مخلوق خدا کی شرم۔ حدیث شریف کے مطابق تو آخری وقت میں اہلِ ایمان دنیا بھر سے سمٹ کر یہیں جمع ہوں گے۔ عالمی منظرنامے کو دیکھیں تو مقامی سورمائوں کے ساتھ عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کے بعد لگتا ہے اہلِ ایمان سے پہلے رئوسائے باطل یہاں پہنچ کر منظرنامے کی تشکیل کررہے ہیں۔ ’’جب وہ دن آئیں گے…‘‘ تو پھر کس کو کیا کرنا ہوگا؟ اور کیا کچھ کرنے والا کیسے کچھ انجام کی طرف جائے گا؟بہت کچھ بتادیا گیا ہے۔ بہت کچھ جلد یا بدیر سامنے آرہا ہے۔ بہت کچھ سامنے آئے گا۔ ہم میں سے ہر ایک سے مطالبہ ہے کہ وہ خالی نہ بیٹھے۔ مظلوم کی مدد میں ایک آہ کھینچ سکتا ہے تو اس سے بھی پیچھے نہ رہے۔ آخری فیصلہ تو ہمارے حق میں ہونا ہے پھر کم ہمتی، بے بسی اور بے چارگی کو خود پر مسلط ہونے دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اہلِ حق کے ساتھ قدم سے قدم، کندھا سے کندھا ملاکر چلتے رہیں۔ چلتے رہیں اور حوصلہ بڑھاتے رہیں۔ ہاتھ بٹاتے رہیں۔ ایک دن آئے گا جب ہم ہزیمت کا کفارہ دے کر فتوحات کے اہل ٹھہریں گے، ان شاء اللہ!

ان دنوں کی کہانی

٭ آج کے ہمارے مہمانِ خصوصی ایک ایسی شخصیت ہیں جو کل پاکستان سے ایک طالب علم کی حیثیت سے برادر اسلامی ملک ترکی گئے اور آج وہاں ایک معزز شہری کی حیثیت سے پاکستان اور ترکی دونوں حلقوں میں معروف ہیں۔ آج سے تیس پینتیس برس قبل جب وہ ترکی پہنچے تو وہاں کے حالات قطعاً کچھ اور تھے۔ ان تین چار دہائیوں کا جو عرصہ انہوں نے وہاں گزارا۔ اس دوران وہاں کے حالت میں مختلف موڑ آئے اور اس دوران خود ان پر کیا بیتی؟ اس دوران ترکی میں انہوں نے کیا کچھ ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ سوالات تو مختصر رکھیں اور معزز مہمان کو بولنے کا پورا موقع دیں۔ آج کی محفل کا آغاز اس نکتے سے کریں کہ اس وقت کیا عوامل تھے کہ جن کی وجہ سے آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ترکی کا انتخاب کیا؟ وہاں جانے کے بعد آپ کو بحیثیت مسلمان اور مہمان آتے ہیں کیا کچھ دیکھنا پڑا؟ کس طرح سے آپ نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا اور کس طرح اپنے ملک کے وقار، نظریات اور مذہبی ترجیحات کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ اس دلچسپ داستان کا آغاز ہم اس سوال سے کریں گے کہ ترکی جانے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اک نیا جہاں کریں آباد

وہ شام ذرا نکھری نکھری تھی۔ دن بھر تیز ہوائیں چلی تھیں اور اب موسم خوشگوار اور ماحول دل فریب سا ہوچلا تھا۔ لگتا تھا قدرت نے کائنات میں جو خوبصورت رنگ بکھیرے ہیں تقریب کے منتظمین نے انہیں چرا کر پنڈال میں سجا دیا ہے۔ کیا صوت و صورت کا آہنگ، کیا حاضرین اور ماحضر کا تنوع، کیا روایت اور کیا جدت… انفرادی اختراعات اجتماعی روایات کے ساتھ مل کر نئی تاریخ رقم کر رہی تھیں۔

مدارس کی سالانہ تقریب کثیر المقاصد ہوتی ہے۔ مدرسے کا تعارف، طلبہ کی حوصلہ افزائی، والدین کو مبارک باد، اہل شہر سے میل ملاقات، احباب و معاونین سے راہ رسم، دینی درس گاہوں کی خدمات سے آگاہی وغیرہ وغیرہ۔ جامعہ کی تقریب ان تمام روایتی سرگرمیوں اور نیک مقاصد کے ساتھ ایک ایسی ضرورت کی تکمیل بھی کر رہی ہے جو دینی مدارس، اہلیان پاکستان ہی نہیں، عالم اسلام پر فرض کفایہ کی اہمیت تک عائد ہوتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو درپیش ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح ان داغوں سے پیچھا چھڑایا جائے جو مہربانوں نے ہمارے سفید اجلے دامن پر چھڑک رکھے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہمان طلبہ ملکوں کو قریب لاسکتے ہیں

شام سے جو پناہ گزین ترکی کی سرزمین پر آچکے ہیں ان کے بچوں کو تو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ اس کا اختیار اور طاقت تو ہمارے اندر موجود ہے اور ہم اسے بروئے کار لاسکتے ہیں تو کم از کم اسے تو عملی جامہ پہنائیں، اس لیے ہمارا یہ موٹو اور نعرہ ہے کہ جو بھی ہمارے ملک میں آئے وہ ہمارا مہمان ہے اور جو مسلمان آئے تو وہ ہمارا بھائی ہے۔ اسی نظریے کے تحت ہم بارہ سال سے اسے اپنے دین اور ایمان کا حصہ سمجھ کر مہمان طلبہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جو طلبہ یہاں سے پڑھ کر جاچکے ہیں ہم ان کے ملکوں میں جاکر ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ آج میرا پاکستان کی سر زمین پر موجود ہونے کے مقاصد میں سے ایک اہم اور بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ ترکی سے تعلیم پانے والے طلبہ سے ملاقات کی جائے۔ پاکستان میں آنے کی دوسری غرض یہ بھی ہے کہ دنیا کے اسلامی ملکوں میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ یقیناً پاکستان کے اندر دنیا کے کئی ممالک سے طلبہ آکر پڑھ رہے ہیں جو پاکستانی نہیںہیں۔ کیا ہمارے طرز پر، ہماری سوچ اور طریقہ کار کے مطابق اگر پاکستان میں دوسرے ملکوں سے آنے والے طلبہ کے لیے اگر کام ہورہا ہے تو ہم ان سے بھی ملاقات کریں اور ان سے بھی مزید سیکھیں۔ ہم اپنے تجربات انہیں بتائیں اور ان کے تجربات سے خود سیکھیں۔ پاکستان میں جو غیر ملکی طلبہ موجود ہیں انہیں سنبھالنا اور ان سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ یہ کتنا ضروری ہے؟ اس حوالے سے آپس میں بیٹھ کر مذاکرہ کرنا بھی ہمارے مقاصد میں شامل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہماری پہچان، اسلامی پاکستان

دنیا میں اس کی مثال نہیں ہوگی کہ کسی کے پاس چشمۂ صافی ہو اور وہ گدلے پانی سے پیاس بجھانے کے لیے بے تاب ہو۔ کسی کے پاس ایسی نایاب متاع ہو جس پر دنیا اس سے حسد کرتی یا رَشک میں مری جاتی ہو، اور وہ ایسی بے بہا دولت سے بے خبر، احساس کمتری کا شکار، دوسروں سے ادھار پر اشیائے صرف مانگتا پھرے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام جیسا قانون دیا جس میں بچوں او ربوڑھوں کے کجا، جانوروں اور درختوں تک کے حقوق متعین کردیے گئے ہیں۔ ہزار سال سے زائد شاندار اور قابل فخر تاریخ دی جس سے اقوام عالم کی آنکھیں چندھیا جائیں، لیکن ہم اس سے شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں اور دوسری اقوام کے بچے کھچے پر رال ٹپکاتے ہیں۔ اب اسی ’’تحفظ حقوق نسواں‘‘ بل کو دیکھ لیجیے۔ اس کی شرعی و علمی استنادی حیثیت یہ ہے کہ ابھی تک اس کے مآخذ و مراجع کا بھی کسی کو علم نہیں ہوسکا کہ یہ کن اصول یا کس بنیا دکو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اس میں نہ کتاب و سنت کی حکمت و برکت کا کوئی اثر ملتا ہے نہ عقل و تہذیب کے نشانات دور دراز تک پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔