• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

عشق کا سفر

اس دنیا کا جو زمانہ انبیاء و صحابہ و تابعین سے قریب تھا وہی اس کائنات کا بہترین زمانہ تھا۔ اس لیے اسے ’’خیرالقرون‘‘ کہا گیا ہے۔ اس میں زمین پر نیکیاں زیادہ اور گناہ کم ہوتے تھے۔ پھر جو نیکیاں ہوتی تھیں وہ ہمارے آج کے زمانے سے بظاہر تعداد میں کم ہوتی تھیں، لیکن ان میں اخلاص اور شریعت و سنت کی کامل اتباع کی وجہ سے ایسی روحانی قوت تھی کہ اس زمانے کے عوام آج کے خوص سے زیادہ متقی و دیندار ہوتے تھے۔ اور اُس زمانے کے خواص کا کیا کہنا، اُن کے گرد تو علم و عمل کے نور کا ایسا ہالہ ہوتا تھا کہ اُن کے زبان سے کہے کا اتنا اثر نہ ہوتا تھا جتنا ان کی پیشانی سے پھوٹنے والے نور اور ان کے وجود سے پھیلنے والی برکات اور فیوض کا۔ اس کی وجہ پاک نیتیں، رزق حلال، عمل صالح اور بلند عزائم ہوتے تھے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک لکیر… تین نقطے

آج کل ایک جملہ ہر ایک کی زبان پر ہے، حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کا سبب وسائل کی کمی ہے۔ اگر وسائل وافر ہوتے تو یہ مسائل نہ ہوتے جو آج ہر طرف سے منہ کھولے مسلمانوں کو ہراساں کیے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اتنے وسائل سے نوازا ہے کہ اس کی مثال دنیا کی دوسری قوموں میں مفقود ہے، لیکن ہماری بے تدبیری کے سبب وسائل کی فراوانی مسائل میں اضافے کا ذریعہ تو ہے، لیکن مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں دے رہی۔

مثلاً دنیا کے چھ سمندری درّوں کو لے لیجیے۔ ان میں سے پانچ قدرتی ہیں اور ایک مصنوعی ہے یعنی انسانی ہاتھوں کا تعمیر کردہ۔ یہ بحری گزرگاہیں دنیا کے ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک، تجارت اور نقل و حمل کی کنجیاں ہیں اور یہ وہ تنگ دروازے ہیں جن سے گزرے بغیر دنیا کی بحری شاہراہوں سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے تین عرب ممالک کے پاس ہیں اور دو ترکی کے پاس۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم ہیں پاسباں اس کے

آپ دنیا کے نقشے پر ایک نظر ڈال لیجیے! آپ کو پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوجائے گا۔ اگر آپ عالم اسلام کا نقشہ سامنے رکھ لیجیے، آپ اگر احساس کمتری کا شکار ہیں تو وہ دور ہوجائے گی۔ شرط یہ ہے کہ آپ نے طبعی، سیاسی اور تاریخی جغرافیہ کی کم از کم مبادیات پڑھ رکھی ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے جب امت محمدیہ کو پورے عالم تک ہدایت کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری دی تو اس کے وسائل بھی روزِ اول سے مہیا فرمادیے۔ ’’امت وسط‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے دنیائے وسط میں ’’جزیرہ نمائے عرب‘‘ میں آباد کیا۔ جو روحانیت کا مرکز ہونے کے ساتھ جغرافیائی اعتبار سے بھی تین بڑے براعظموں کے بالکل بیچ میں واقع ہے اور بقیہ تین یا چار براعظموں کی طرف جانے والے راستے یہیں سے ہوکر جاتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ کیسی عجیب دنیا ہے؟

آج کی دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہے۔ تعلیم، تہذیب، ترقی اور اکتشافات کے محیرالعقول سلسلے کے باوجود انسان وہیں کھڑا ہے جہاں زمانۂ جاہلیت میں تھا۔ پتھروں اور غاروں کے سارے دور کو پسماندگی کا طعنہ دینے والا آج کا متکبر انسان اپنی مادّی ترقی کی بدولت پچھلے زمانے کے انسانوں کو تاریک دور کے باسی کہتا ہے، لیکن خود اس کا انسانیت سوز کردار اتنا داغدار ہے کہ یہ اپنے گریبان میں جھانکے تو انسانیت منہ چھپاکر شرماتی نظر آئے۔

ترکی کے معاملے کو دیکھ لیجیے! کون سا جھوٹا سچ ہے جو مصدّقہ سچ کے لبادے میں ملفوف کرکے نہیں بولا جارہا۔ اور کون سا اطلاعاتی فریب ہے جو تحقیقاتی رپورٹنگ کے نام پر نہیں پھیلایا جارہا۔ اس تضاد کو دیکھ لیجیے جو بشمول پاکستان دنیا بھر کے میڈیا کے رویے میں ہے۔ ایک طرف کہا جاتا تھا ہمیں طالبانائزیشن والا اسلام نہیں چاہیے۔ علمائے کرام کو اجتہاد کی ضرورت ہے۔ استشراق کے کارخانے میں ڈھلی اسلام کی جدید شکل ہی دنیا کو قابل قبول ہوسکتی ہے۔ ہمیں ترقی چاہیے تو ٹوپی اور حجاب کو خیرباد کہہ کر زمانے کی رفتار کا ساتھ دینا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

معرکہ دونوں طرف سے اور ہر سطح پر عروج پر ہے۔ اسلام اور اصلاح پسندوں کی سادگی اور حیلہ ناشناسی اور دین بیزاروں اور دنیا پرستوں کی عیاری اور پینترا بدل بدل کر چکمہ دینے کی مہارت… دونوں پوری طرح سامنے آرہی ہیں۔ اردگان کے حق میں بولنے والوں نے چونکہ ان کو قریب سے نہیں دیکھا، لہٰذا مہر بہ لب ہیں۔ گولن نواز حضرات چونکہ گولن تحریک کی بار بار کی میزبانی سے لطف اندوز ہوچکے ہیں، لہٰذا ان کے دفاع میں یک زبان و یک جان ہیں، لہٰذا اگر بات پاکستانی میڈیا کی حد تک ہو تو صاف طور پر گولنسٹ حضرات کا پلّہ بھاری ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اردگان کی خامیاں سامنے لائی جارہی ہیں اور تلاش کر کرکے عالمی سازش کا حصہ بن کر ریاست کے خلاف عسکری بغاوت جیسے سنگین جرم کے مرتکبین کی معصومیت ثابت کی جارہی ہے۔

یہ عاجز چونکہ محض اپنے شوق مشاہدہ کی تسکین کے لیے کئی مرتبہ ترکی جاچکا ہے اور جانبین میں سے کسی کی میزبانی کی سہولت کے بغیر بغور حالات کا قریب سے اور دقت نظر سے مشاہدہ کرتا رہا ہے، اس لیے کوشش کرے گا کہ اب تک جو دیکھا سنا قارئین کو اس میں شریک کرے۔ فیصلہ اہل نظر خود کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

طلوع سحر کا نظارہ

’’جوامع الکلم‘‘ ویسے تو سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے گئے تھے جو افضل البشر تھے، لیکن آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت کی برکت سے اللہ پاک صحابہ کرام یا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی ایسے کلمات کہلوادیتے تھے جو اسلامی اور عربی ادب کا شہ پارہ ہیں۔ انہی میں سے وہ چند جملے ہیں جو اماں خدیجہؓ نے سیّد البشر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمائے تھے: ’’ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں۔ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے لیے کماتے ہیں۔ مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں۔ جو مشکل میں پڑجائے اس کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

یہ جملے وہ آفاقی صداقت ہیں جو آج ترکی پر پوری طرح صادق آتے ہیں۔ اردگان حکومت کے خلاف انسانیت کے دُشمنوں اور اسلام پسندوں کے معاندین کی سازشی کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فقیر جب پچھلے سال وہاں ’’ہدایہ شریف‘‘ اور ’’فقہ البیوع‘‘ کا کورس کروارہا تھا تو روز دھماکے ہوتے تھے، لاشیں اُٹھتی تھیں، زخمی آتے تھے، بارود سلگتا تھا، دھماکہ خیز خبریں نشر ہوتی تھیں

مزید پڑھیے۔۔۔

ان دنوں کی کہانی

٭… نجم الدین اربکان صاحب کے بارے میں ایک بار آپ فرما رہے تھے کہ وہ ایک واقعے کی بنا پر سیاست میں آئے۔ انہوں نے مرحلہ بہ مرحلہ دیکھا کہ ایک منزل طے ہونے کے بعد پتا چلتا ہے کہ اصل رکاوٹ یا اصل میں اس چیز کی اجازت دینے والی طاقت یہ نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی آگے کی رکاوٹ یا طاقت ہے۔ پھر وہ اس سے بھی آگے گئے، تو پھر پتا چلا کہ اس سے بھی آگے کوئی ہے۔ شروع میں وہ ایک اچھے اور کامیاب انجینئر تھے۔ ایک حادثہ انہیں اس طرف لے آیا۔ وہ کیا داستان ہے؟

t … نجم الدین اربکان استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قابل اور ذہین انجینئر تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ وہیں پڑھاتے بھی رہے۔ اس کے بعد وہ پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے جرمنی گئے تھے۔ یہ اصل میں موٹرز وغیرہ کے انجینئر تھے۔ جرمن کا جو مشہور ٹینک ہے اس کی موٹر پر بھی انہوں نے ہی کام کیا ہے۔ ہٹلر کے زمانے میں جب جرمن ٹینک روس وغیرہ کی طرف ٹھنڈے علاقوں میں گئے تو ان کا پیٹرول جم جاتا تھا۔ اس پر نجم الدین اربکان نے یہ کام کیا کہ انتہائی سرد اور گرم ترین علاقوں میں یہ موٹر کس طرح کام کر سکتی ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ان دنوں کی کہانی

٭… تبلیغ کے ساتھ جڑنے کے بعد کیا گزری؟ … ہم نے پاکستان میں پرورش پائی تھی اس لیے ایک دو سہ روزے لگانے کے بعد ہم نے تو داڑھی رکھ لی۔ اس سے وہاں کہرام مچ گیا۔ یونیورسٹی میں جو گیٹ کیپر ہوتا تھا وہی ہمیں روک لیتا۔ پروفیسر تک تو بات ہی نہیں جاتی تھی۔ اس پر ہمیں حیرت ہوتی تھی کہ پاکستان میں توکالج لیول کے طالب علم سے پروفیسر بھی کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا جبکہ یہاں تو ایک چوکیدار بھی روک لیتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے ہم کئی بار گزرے، لیکن جب میں نے باقاعدہ داڑھی رکھ لی تو میرے لیے تو مسائل کھڑے ہوگئے۔ وہاں پر اسٹوڈنٹ افیئر کی جو سیکریٹری تھی اس نے تو مجھے ایک دن پکڑ لیا اور کہا کہ ابھی جاؤ اور داڑھی کاٹ کر آؤ اور پھر مجھے آکر دکھاؤ۔ میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی تو وہ بضد ہوگئی۔اس پر میںنے صاف کہا : میں تو داڑھی نہیںکاٹوں گا۔ اس نے کہا کہ اگر نہیں کاٹو گئے تو میں ابھی رپورٹ کر دوں گی۔ چلو ڈین کے پاس۔ میں اس کے ساتھ ڈین کے پاس چلا گیا تو اتفاق سے وہ ڈین صاحب اس وقت مصروف تھے۔ ہمارے ڈین احمد سنیل صاحب تھے اور مجھے ان کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ وہ شخص خود بھی نمازی تھے۔ ظاہر ہے وہ بھی اسی طرح چھپ کر ہی نماز پڑھتے ہوں گے۔ بہرحال جب ڈین کے پاس یہ مسئلہ گیا تو مجھے ملاقات کا وقت دیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اہل وطن! ہشیارباش

دو چیزیں ایسی ہیں جو اس وقت عالمی کج فکر طاقتوں کی نگاہ میں سرفہرست ہیں۔ وہ ہر صورت میں اسے مسلمانوں کے بیچ سے ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان دونوں کا تعلق جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ جو مسلمانوں کی آخری روحانی پناہ گاہ ہیں۔ جب تک بندئہ مؤمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس سے چمٹا ہوا ہے، اس کا دین و ایمان بھی محفوظ ہے، قبر آخرت بھی خطرے سے باہر ہے اور دنیا میں بھی اس کی عزت و حرمت محفوظ ہے کہ ہماری آبرو تو آپ ہیں اور ہم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کے پاسبان ہیں تو درحقیقت ہم اپنی آبرو کی حفاظت کررہے ہوتے ہیں کہ نبی اور اُمتی کی عزت و حرمت دنیا و آخرت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ بدلے میں ہمیں کچھ نہ ملتا، ہماری آبرو کا ناس بھی ہوجائے تو کیا… ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ’’اولیاء الشیاطین‘‘ کی انگلی بھی اُٹھتی ہے اور ہم میں سے ایک زندہ ہوتا ہے تو تف ہے ہماری ان بے وفا، بے حیا اور غیرت سے عاری زندگیوں پر۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دینی مدارس دنیا کے لیے مینارئہ نور

پچھلے کالم میں برصغیر کے دینی مدارس کے معاشی پس منظر اور نامساعد حالات میں لازوال دینی خدمات پر مختصر گفتگو کی گئی تھی کہ انہوں نے کس طرح جنگِ آزادی میں مسلمانانِ برصغیر کے کامیاب نہ ہونے کے بعد اور زمامِ سلطنت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر غیرملکی قابضین کے ہاتھ میں جانے کے بعد صفر سے کام شروع کیا اور ماشاء اللہ ساتوں براعظموں میں پھیلادیا۔ یہ تو مغلیہ سلطنت بھی نہ کرسکی تھی کہ علمائے ہندوستان کی علمی کاوشوں کو یا ان کے اداروں کے قائم کردہ مثالی نظم و نسق کو دنیا بھر تک پہنچاتی۔ اگر انسان انصاف کا خون نہ کرے تو اسے کہنا پڑتا ہے کہ علمائے برصغیر نے نہ صرف اسلامی ورثے کو بچائے اور سنبھالے رکھا، بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلانے کا وہ کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر پیش کرنے سے کوئی اور طبقہ عاجز ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج اقتدار اور وسائل کے بل بوتے پر دنیا بھر میں اپنے ادارے قائم کررہے ہیں۔ پوری مسلم دنیا مل کر ان کے پائے کا ایک ادارہ نہ بناسکی، جبکہ علماء نے چٹائی پر بیٹھ کر پوری دنیا میں اپنا نظام پھیلادیا۔ یہ کرامتی کارنامہ نہیں تو اور کیا ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

پکار پر لبیک کہنے کا وقت

برصغیر میں علوم دینیہ کی حفاظت، اشاعت، احیاء اور ترویج پر دو دور گزرے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب جنگ آزادی میں ظاہری کامیابی کے بعد غیرملکی قابضین نے استعمار کے نام پر تخریب کرتے ہوئے دو فیصلے کیے۔ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی، علمی زبان عربی اور عوامی زبان اردو و ہندی تھی۔ انگریز نے فیصلہ کیا کہ آیندہ سے سرکاری زبان انگریزی ہوگی۔ صبح جب لوگ اُٹھے تو بڑے بڑے عالم و فاضل جو یکتائے زمانہ تھے، سرکاری مناصب کے لیے نااہل اور اَن پڑھ قرار پاچکے تھے۔ آج تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود انگریزی کے عتاب سے قوم کی جان نہیں چھوٹ سکی جو نیم فنون خواندہ ادھورے جاہل پیدا کررہی ہے۔ اس فیصلے سے تو ’’ملأ القوم‘‘ اور ’’مترفین‘‘ کا مدارس میں آنا بند ہوگیا۔ ’’افراد‘‘ کی آمد پر بندش لگانے کے بعد ’’اموال‘‘ پر روک کے لیے دوسرا فیصلہ ہوا۔ مدارس اس ’’وقف‘‘ کی جاگیروں سے چلتے تھے۔ چنانچہ ایسی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں جو مدارس کی خدمت کے لیے وقف تھیں۔ اب نہ قابل بچے مدرسے میں آئیں نہ اخراجات کے لیے دھیلا پاس ہو۔ مدرسہ چلے تو کیونکر چلے؟ لیکن آفرین ہے علمائے کرام کو کہ ہمت نہ ہاری۔ ایک باہمت استاذ ایک کامیاب شاگرد کو لے کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور اس ٹمٹماتے چراغ کو باد مخالف سے بچانے کی کوششوں میں جُت گیا جس پر اسلامیانِ ہند کا روحانی وجود اور مادّی بقاء موقوف تھی۔ تب سے لے کر اب تک بلکہ ماضی قریب تک علوم اسلامیہ کے تحفظ اور بقاء کا پہلا دور تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔