• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

طلوع سحر کا نظارہ

’’جوامع الکلم‘‘ ویسے تو سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے گئے تھے جو افضل البشر تھے، لیکن آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت کی برکت سے اللہ پاک صحابہ کرام یا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی ایسے کلمات کہلوادیتے تھے جو اسلامی اور عربی ادب کا شہ پارہ ہیں۔ انہی میں سے وہ چند جملے ہیں جو اماں خدیجہؓ نے سیّد البشر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمائے تھے: ’’ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں۔ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے لیے کماتے ہیں۔ مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں۔ جو مشکل میں پڑجائے اس کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

یہ جملے وہ آفاقی صداقت ہیں جو آج ترکی پر پوری طرح صادق آتے ہیں۔ اردگان حکومت کے خلاف انسانیت کے دُشمنوں اور اسلام پسندوں کے معاندین کی سازشی کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فقیر جب پچھلے سال وہاں ’’ہدایہ شریف‘‘ اور ’’فقہ البیوع‘‘ کا کورس کروارہا تھا تو روز دھماکے ہوتے تھے، لاشیں اُٹھتی تھیں، زخمی آتے تھے، بارود سلگتا تھا، دھماکہ خیز خبریں نشر ہوتی تھیں

مزید پڑھیے۔۔۔

ان دنوں کی کہانی

٭… نجم الدین اربکان صاحب کے بارے میں ایک بار آپ فرما رہے تھے کہ وہ ایک واقعے کی بنا پر سیاست میں آئے۔ انہوں نے مرحلہ بہ مرحلہ دیکھا کہ ایک منزل طے ہونے کے بعد پتا چلتا ہے کہ اصل رکاوٹ یا اصل میں اس چیز کی اجازت دینے والی طاقت یہ نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی آگے کی رکاوٹ یا طاقت ہے۔ پھر وہ اس سے بھی آگے گئے، تو پھر پتا چلا کہ اس سے بھی آگے کوئی ہے۔ شروع میں وہ ایک اچھے اور کامیاب انجینئر تھے۔ ایک حادثہ انہیں اس طرف لے آیا۔ وہ کیا داستان ہے؟

t … نجم الدین اربکان استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قابل اور ذہین انجینئر تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ وہیں پڑھاتے بھی رہے۔ اس کے بعد وہ پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے جرمنی گئے تھے۔ یہ اصل میں موٹرز وغیرہ کے انجینئر تھے۔ جرمن کا جو مشہور ٹینک ہے اس کی موٹر پر بھی انہوں نے ہی کام کیا ہے۔ ہٹلر کے زمانے میں جب جرمن ٹینک روس وغیرہ کی طرف ٹھنڈے علاقوں میں گئے تو ان کا پیٹرول جم جاتا تھا۔ اس پر نجم الدین اربکان نے یہ کام کیا کہ انتہائی سرد اور گرم ترین علاقوں میں یہ موٹر کس طرح کام کر سکتی ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ان دنوں کی کہانی

٭… تبلیغ کے ساتھ جڑنے کے بعد کیا گزری؟ … ہم نے پاکستان میں پرورش پائی تھی اس لیے ایک دو سہ روزے لگانے کے بعد ہم نے تو داڑھی رکھ لی۔ اس سے وہاں کہرام مچ گیا۔ یونیورسٹی میں جو گیٹ کیپر ہوتا تھا وہی ہمیں روک لیتا۔ پروفیسر تک تو بات ہی نہیں جاتی تھی۔ اس پر ہمیں حیرت ہوتی تھی کہ پاکستان میں توکالج لیول کے طالب علم سے پروفیسر بھی کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا جبکہ یہاں تو ایک چوکیدار بھی روک لیتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے ہم کئی بار گزرے، لیکن جب میں نے باقاعدہ داڑھی رکھ لی تو میرے لیے تو مسائل کھڑے ہوگئے۔ وہاں پر اسٹوڈنٹ افیئر کی جو سیکریٹری تھی اس نے تو مجھے ایک دن پکڑ لیا اور کہا کہ ابھی جاؤ اور داڑھی کاٹ کر آؤ اور پھر مجھے آکر دکھاؤ۔ میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی تو وہ بضد ہوگئی۔اس پر میںنے صاف کہا : میں تو داڑھی نہیںکاٹوں گا۔ اس نے کہا کہ اگر نہیں کاٹو گئے تو میں ابھی رپورٹ کر دوں گی۔ چلو ڈین کے پاس۔ میں اس کے ساتھ ڈین کے پاس چلا گیا تو اتفاق سے وہ ڈین صاحب اس وقت مصروف تھے۔ ہمارے ڈین احمد سنیل صاحب تھے اور مجھے ان کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ وہ شخص خود بھی نمازی تھے۔ ظاہر ہے وہ بھی اسی طرح چھپ کر ہی نماز پڑھتے ہوں گے۔ بہرحال جب ڈین کے پاس یہ مسئلہ گیا تو مجھے ملاقات کا وقت دیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اہل وطن! ہشیارباش

دو چیزیں ایسی ہیں جو اس وقت عالمی کج فکر طاقتوں کی نگاہ میں سرفہرست ہیں۔ وہ ہر صورت میں اسے مسلمانوں کے بیچ سے ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان دونوں کا تعلق جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ جو مسلمانوں کی آخری روحانی پناہ گاہ ہیں۔ جب تک بندئہ مؤمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اقدس سے چمٹا ہوا ہے، اس کا دین و ایمان بھی محفوظ ہے، قبر آخرت بھی خطرے سے باہر ہے اور دنیا میں بھی اس کی عزت و حرمت محفوظ ہے کہ ہماری آبرو تو آپ ہیں اور ہم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کے پاسبان ہیں تو درحقیقت ہم اپنی آبرو کی حفاظت کررہے ہوتے ہیں کہ نبی اور اُمتی کی عزت و حرمت دنیا و آخرت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ بدلے میں ہمیں کچھ نہ ملتا، ہماری آبرو کا ناس بھی ہوجائے تو کیا… ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ’’اولیاء الشیاطین‘‘ کی انگلی بھی اُٹھتی ہے اور ہم میں سے ایک زندہ ہوتا ہے تو تف ہے ہماری ان بے وفا، بے حیا اور غیرت سے عاری زندگیوں پر۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دینی مدارس دنیا کے لیے مینارئہ نور

پچھلے کالم میں برصغیر کے دینی مدارس کے معاشی پس منظر اور نامساعد حالات میں لازوال دینی خدمات پر مختصر گفتگو کی گئی تھی کہ انہوں نے کس طرح جنگِ آزادی میں مسلمانانِ برصغیر کے کامیاب نہ ہونے کے بعد اور زمامِ سلطنت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر غیرملکی قابضین کے ہاتھ میں جانے کے بعد صفر سے کام شروع کیا اور ماشاء اللہ ساتوں براعظموں میں پھیلادیا۔ یہ تو مغلیہ سلطنت بھی نہ کرسکی تھی کہ علمائے ہندوستان کی علمی کاوشوں کو یا ان کے اداروں کے قائم کردہ مثالی نظم و نسق کو دنیا بھر تک پہنچاتی۔ اگر انسان انصاف کا خون نہ کرے تو اسے کہنا پڑتا ہے کہ علمائے برصغیر نے نہ صرف اسلامی ورثے کو بچائے اور سنبھالے رکھا، بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلانے کا وہ کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر پیش کرنے سے کوئی اور طبقہ عاجز ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج اقتدار اور وسائل کے بل بوتے پر دنیا بھر میں اپنے ادارے قائم کررہے ہیں۔ پوری مسلم دنیا مل کر ان کے پائے کا ایک ادارہ نہ بناسکی، جبکہ علماء نے چٹائی پر بیٹھ کر پوری دنیا میں اپنا نظام پھیلادیا۔ یہ کرامتی کارنامہ نہیں تو اور کیا ہے؟

 

مزید پڑھیے۔۔۔

پکار پر لبیک کہنے کا وقت

برصغیر میں علوم دینیہ کی حفاظت، اشاعت، احیاء اور ترویج پر دو دور گزرے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب جنگ آزادی میں ظاہری کامیابی کے بعد غیرملکی قابضین نے استعمار کے نام پر تخریب کرتے ہوئے دو فیصلے کیے۔ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی، علمی زبان عربی اور عوامی زبان اردو و ہندی تھی۔ انگریز نے فیصلہ کیا کہ آیندہ سے سرکاری زبان انگریزی ہوگی۔ صبح جب لوگ اُٹھے تو بڑے بڑے عالم و فاضل جو یکتائے زمانہ تھے، سرکاری مناصب کے لیے نااہل اور اَن پڑھ قرار پاچکے تھے۔ آج تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود انگریزی کے عتاب سے قوم کی جان نہیں چھوٹ سکی جو نیم فنون خواندہ ادھورے جاہل پیدا کررہی ہے۔ اس فیصلے سے تو ’’ملأ القوم‘‘ اور ’’مترفین‘‘ کا مدارس میں آنا بند ہوگیا۔ ’’افراد‘‘ کی آمد پر بندش لگانے کے بعد ’’اموال‘‘ پر روک کے لیے دوسرا فیصلہ ہوا۔ مدارس اس ’’وقف‘‘ کی جاگیروں سے چلتے تھے۔ چنانچہ ایسی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں جو مدارس کی خدمت کے لیے وقف تھیں۔ اب نہ قابل بچے مدرسے میں آئیں نہ اخراجات کے لیے دھیلا پاس ہو۔ مدرسہ چلے تو کیونکر چلے؟ لیکن آفرین ہے علمائے کرام کو کہ ہمت نہ ہاری۔ ایک باہمت استاذ ایک کامیاب شاگرد کو لے کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور اس ٹمٹماتے چراغ کو باد مخالف سے بچانے کی کوششوں میں جُت گیا جس پر اسلامیانِ ہند کا روحانی وجود اور مادّی بقاء موقوف تھی۔ تب سے لے کر اب تک بلکہ ماضی قریب تک علوم اسلامیہ کے تحفظ اور بقاء کا پہلا دور تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نقدی، مالِ تجارت میں زکوٰۃ کی تفصیل

زکوٰۃ میں کس مقام کی قیمت معتبر ہوگی ؟
سوال: ادائیگی ٔزکوٰۃ میں مال زکوٰۃ کی قیمت اس جگہ کی معتبر ہوگی جہاں زکوٰۃ اداء کرنے والا ہے یا اس مقام کی معتبر ہوگی جہاں مال موجود ہو؟ حولان حول (سال گذرنا) کہاں کا معتبر ہوگا؟ (عبدالحفیظ۔ سکھر) جواب: جہاں مال موجود ہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی، حولان حول بھی وہیں کا معتبر ہوگا۔ ویقومہا المالک فيالبلد الذی فیہ المال، حتی لو بعث عبدا للتجارۃ إلی بلد آخر فحال الحول، تعتبر قیمتہ في ذلک البلد، ولوکان مفازۃ تعتبر قیمتہ فيأقرب الأمصار إلیہ، کذا فيفتح القدیر۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۸۰)
زکوٰۃ میںکس وقت کی قیمت معتبر ہوگی؟
سوال: مال زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی، جس وقت زکوٰۃ واجب ہوئی یا جس وقت زکوٰۃ اداء کی جارہی ہے؟ (ابراہیم۔ سوات)
جواب: سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اور عشر میں وقتِ وجوب کی قیمت کا اعتبار ہے یا وقتِ اداء کا؟ اس میں دونوں قول ہیں۔ احتیاط اس میں ہے کہ جو قیمت زیادہ ہو وہ لگائی جائے، عام طورپر وقت اداء کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، وہی لگانی چاہیے، البتہ جانوروں کی زکوٰۃ میں بالاجماع ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہے۔
’’وتعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد أن تکون قیمتہا فيابتداء الحول مائتی درہم من الدراہم الغالب علیہا الفضۃ، کذا فيالمضمرات۔‘‘ (ہندیۃ:۱/۱۷۹)

 

مزید پڑھیے۔۔۔

:زکوٰۃ کی ادائیگی

عیدی کے نام سے زکوٰۃ دینا:
زکوٰۃ میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر اسے عیدی کہا جائے اور اسی نام سے مستحق رشتہ داروں کو دی جائے یا خوشخبری سنانے والے کو انعام کے نام سے دی جائے، اسی طرح باغ کا تازہ پھل ہدیہ کرنے والے کو قیمت کے نام سے نہیں بلکہ ویسے ہی اس کو خوش کر نے کے لیے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو ان سب صورتوں میں زکوٰہ اداء ہو جاتی ہے،بشرطیکہ جسے دی جا رہی ہے وہ مستحق زکوٰۃ ہو۔

في الدر: ’’ دفع الزکاۃ إلی صبیان أقاربہ برسم عید أوإلی مبشرأومہدی الباکورۃ جاز إلاإذا نص علی التعویض۔‘‘ (۲/۳۵۶) عشر و زکوٰۃ چوری ہوجانے کی صورت میں ادائیگی کا حکم:
کسی نے زکوٰۃ یا عشر اداء کرنے کی نیت سے رقم یا سامان الگ کر کے رکھ دیا اور اس کے سامنے مگر اس کے علم ورضا کے بغیر کسی نے اٹھا لیا تو اس صورت میں عشر و زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ دینا ضروری ہے، الا یہ کہ بعد میں لینے والے شخص کا علم ہو جائے اور صاحب ِ مال اسے پہچانتا ہواور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو اور وہ مال اس کی ملکیت میں موجود بھی ہو اور اس کے لینے پر زکوٰۃ دہندہ راضی بھی ہو جائے تو پھر زکوٰۃ اداء ہو جائے گی، کیونکہ جب مال موجود ہے، اُٹھانے والا معلوم اور فقیر ہے اور مالک اس کے اُٹھانے پر راضی ہوگیا تو یہ اس کی طرف سے تملیکِ فقیر ہے، اس لیے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ اگر ان میںسے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، مثلاً اٹھانے والا مسکین نہیں تو تملیک فقیر نہیں پائی گئی، اٹھانے والا فقیر تو ہے، مگر مالک اسے جانتا نہیں تو یہاں مجہول و نامعلوم کو تملیک ہورہی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ مال موجود نہیں، بلکہ فقیر نے اسے استعمال کرکے ختم کردیا تو اب اس میں تملیک کی نیت ممکن نہیں، لہٰذا ان تمام صورتوں میں زکوٰب ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ و عشر کو الگ کرتے وقت نیت کافی ہے، دیتے وقت ضروری نہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

شرائط وجوبِ زکوٰۃ… چند غلط فہمیوں کا ازالہ

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ سوال:کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولے اور چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو تو اس پرزکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟(عمیر۔کراچی)
جواب:سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی میں سے ذرا سی مقداربھی نہ ہو۔اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ= 612.35گرام اس صورت میں ہے کہ صرف چاندی ہو، سونا، مالِ تجارت اور نقدی بالکل نہ ہو۔اگر سونے یا چاندی کے ساتھ کوئی دوسرا مال زکوٰۃ بھی ہے مثلاً مالِ تجارت ہے خواہ ایک روپے کی مالیت کا ہو یا نقدی ہے، خواہ چار آنے ہی ہو تو سب اموال زکوٰۃ کی قیمت لگائی جائے گی۔ اگر سب کی مالیت 612.35گرام چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو زکوٰۃ فرض ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سونا ساڑھے سات تولہ= 87.479 گرام،چاندی ساڑھے باون تولہ= 612.35 گرام کسی کی ملکیت میں ہویامالِ تجارت یا نقدی یا ان چاروں اشیاء یا ان میں سے بعض کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر کسی شخص کے پاس ہو تو وہ صاحب ِ نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سات فنون، سات چلّے

پچھلے ہفتے اس موضوع پر بات ہوئی تھی کہ ہمارے مدارس سے تیار ہو کر نکلنے والے فضلاء میں سے جو حضرات مزید تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا رجحان ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی طرف ہے جبکہ فن فتویٰ میں مہارت کے لیے جس درجہ کی استعداد چاہیے اور آگے چل کر امت کی فقہی رہنمائی کے لیے جس درجے کا رسوخ چاہیے، اس کا تناسب کم ہے۔ یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا تھا کہ اعلیٰ استعداد کے طلبہ کو فقہ کے ساتھ حدیث شریف میں بھی مناسبت اور مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ یہ دو فن ایسے لازم ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک سے عدم مناسبت دوسرے کے حوالے سے ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بسا اوقات مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے اسلاف کی صفت تھی کہ وہ ’’محدث فقیہ‘‘ یا ’’فقیہ محدث‘‘ ہوتے تھے۔ یعنی دونوں علوم میں دسترس تھی۔ جو ماخذ و منبع اور اصل ہے اس میں بھی یعنی حدیث شریف اور جو شاخ ہے اس میں بھی یعنی فقہ اسلامی۔ پھر اس کے بعد ان کا اشتغال کسی ایک چیز میں زیادہ ہو اور دوسرے میں کم تو اس سے ان کے علمی کاموں کے استناد پر فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ان پر کیے جانے والے اعتراضات میں کوئی جان ہوتی تھی۔ اس جامعیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی ایک شکل دو سالہ ممزوج تخصص فی الحدیث و الفقہ یا ایک سال حدیث کا اور ایک سال فقہ کا تخصص ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حد: دونوں طرف

دونوں طرف حد ہے۔ اور جب معاملہ حد کو پہنچ جائے تو پردئہ غیب سے عجائبات ضرور نمودار ہوتے ہیں۔ ایک طرف سفید ریش معمر لوگ ہیں جو پہیے والی کرسی کے بغیر چل پھر بھی نہیں سکتے، لیکن انہیں نصف صدی قبل کے گڑے مردے اکھاڑ کر اس حالت میں تختۂ دار کی طرف لے جایا جارہا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر پھندے کو چومنے کا اعزاز اور اسے اپنے گلے میں خود ڈالنے کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔ اللہ کے راستے میں حق کے متوالوں کی جانیں تو بے دریغ لی گئی ہیں اور ان دیوانوں نے عجیب سے عجیب انداز میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر بے مثالی قربانیاں دی ہیں۔ عزم و ایثار کی تاریخ رقم کی ہے۔ پائے استقامت میں لغزش نہیں آنے دی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کا سامنا کیا ہے۔ آخر وقت میں بھی جابر کو نیچا دکھایا ہے، لیکن ایسا منظر بھی کم ہوگا کہ ایک نورانی صورت، فرشتۂ صفت، عمر بھر امن و سلامتی کا پیغام پہنچانے والا صاحب کردار اس حالت میں تختۂ دار کو جارہا ہے کہ اس کے قدموں میں اُٹھنے اور پائوں میں چلنے کی سکت بھی نہیں، لیکن استقامت میں ذرا بھی فرق نہیں۔ چہرے پر کسی قسم کے خوف کا سایہ ہے نہ حزن کی پرچھائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔