• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کامیاب ریاست کے تین طبقے

دنیا میں اس وقت پانچ ملک ہیں جو اپنے نام کے ساتھ سرکاری اور آئینی طور پر ’’اسلامک‘‘ کا سابقہ لگاتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، ایران… تین ملک ایشیا میں اور موریطانیہ اور گمبیا… دو ملک افریقہ میں۔ اس حساب سے ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تاریخ کے اس پرفتن دور میں ہمیں یہ توفیق دی ہے کہ 50 سے زیادہ کثیر آبادی والے مسلم ممالک میں سے بھی سب سے پہلے ہمارا نام اس کے پسندیدہ دین کے نام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو ہم قیامت کے دن اس نام کا واسطہ دے کر مغفرت کا سوال تو کرسکتے ہیں۔ اب واللہ اعلم کے ایسا واسطہ اور وسیلہ کیا درجہ رکھے گا کہ ہم نے خود ہی اس نام کی لاج نہیں رکھی، لیکن… گنہگار کو بخشش کا آسرا تو درکار ہوتا ہے جیسا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

15 سال بعد

اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک خبر نے گردش شروع کردی ہے۔ یہ خبر محض خبر نہیں، یہ اس گئے گزرے دور میں اللہ کی قدرت کی نشانیوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور مادہ پرست، خدابیزار، دین دشمن لوگوں کو بتاتی ہے کہ اللہ آج بھی آسمانوں پر موجود ہے۔ اپنی پوری قدرت کے ساتھ موجود ہے۔ اپنے وعدوں کی سو فیصد سچائی کے ساتھ موجود ہے۔ اور نہ صرف موجود ہے، بلکہ اپنے سچے وجود، اپنی کامل قدرت اور سچے وعدوں کے ساتھ اپنا وجود ثابت کرکے نادان انسانوں کو بتارہا ہے کہ وہ جیسے ہمیشہ سے اس طرح موجود ہے، اسی طرح آیندہ بھی اپنی بابرکت ذات اور اعلیٰ صفات کے ساتھ موجود رہے گا… اور کوئی مان کر اپنی عاقبت سنوارے یا نہ مان کر اپنی عاقبت خراب کرے، لیکن وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موجود رہے گا۔

خبر یہ ہے کہ امریکا 15 سال بعد 100 ارب ڈالر خرچ کرکے بھی افغانستان کو فتح نہیں کرسکا اور عسکری ماہرین مایوس ہیں کہ وہ آیندہ کبھی اسے اس ٹوٹے پھوٹے ملک کو فتح نہیں کرسکے گا۔ تمام تر عسکری حربوں اور تعمیر و ترقی کی کوششوں کے باوجود صورت حال تعطل کا شکار اور بے نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اُحد سے کربلا تک

گزشتہ ہفتے اسلامی سال کا آخری جمعہ ہم نے پڑھا اور ان شاء اللہ اگلے ہفتے نئے اسلامی سال کا پہلا جمعہ اللہ خیر رکھے تو خیر سے پڑھنا نصیب ہوگا۔ انسانی زندگی کے ماہ و سال گزررہے ہیں اور نئے سورج طلوع ہوتے اور ڈھلتے رہتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔ ہمارے دین کی انفرادیت اور جامعیت ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے کی طرح ماہ و سال کے آنے جانے کے حوالے سے بھی کچھ اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ اس وقت چونکہ اہل مغرب دنیا میں مادّی غلبے کے بل بوتے پر اپنی تہذیب کو غالب و برتر دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے زندگی کا نیا دورانیہ شروع ہونے کے حوالے سے اس کے کچھ اپنے نظریات ہیں، جس نے انسانیت کو کئی قسم کے مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ ان نظریات سے قطع نظر عیسوی سال کی تقویم اور عیسوی مہینوں کے موجودہ نام میں اہل مغرب سے جو سنگین کوتاہیاں ہوئی ہیں، اس نے بھی دنیا کے عقائد و نظریات کو غیرشعوری طور پر ایسا رخ دیا ہے جسے ہلکے سے ہلکے لفظوں میں انتہائی المناک کہا جاسکتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی طاقتوں کا گریٹ گیم

دنیا کے منظرنامے پر جو تصویر مسلمانوں کے حوالے سے بن رہی ہے وہ درجہ بدرجہ کچھ یوں ہے۔
-1 پاکستان کے اندر جب کوئی المناک واقعہ ہوتا ہے تو اسے کچھ عرصے سے اکثر و بیشتر مذہبی شدت پسندوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ داڑھی ٹوپی والے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں یا ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔

-2 ایشیا میں (مثلاً بھارت، بنگلہ دیش یا افغانستان میں) جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے پاکستان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ فوراً بیانات آنا شروع ہوجاتے ہیں کہ اس کے پیچھے پاکستان کا یا پاکستانی اداروں کا ہاتھ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ تمام توپیں پاکستان کی طرف منہ کرکے بیانات داغنا شروع کردیتی ہیں اور پاکستان کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گویا وہ خدانخواستہ پڑوسی ملکوں میں امن و امان چاہتا ہی نہیں اور چھوٹا سا ملک بڑے ملک کو چین سے رہنے نہیں دیتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سچی ہمدردی

الحمدللہ کہ اس سال حج کا موسم خیر و عافیت کے ساتھ بغیر کسی اتفاقی سانحے یا منصوبہ بند حادثے کے گزر گیا ہے۔ سعودی حکومت نے جسے ’’خدام حرمین‘‘ کا ہونے کا شرف حاصل ہے… اور کوئی شک نہیں کہ یہ اعزاز و افتخار وہ شرف و سعادت ہے جس کے برابر کوئی سعادت و عزت ہو ہی نہیں سکتی… اس مرتبہ غیرمعمولی انتظامات کیے تھے۔ مقامی میزبان آبادی کو جو پہلے سے کئی مرتبہ عمرہ و حج کی سعادت حاصل کرچکی ہے، پا بند کیا گیا تھا کہ وہ مہمان زائرین کو موقع دیں اور منیٰ و عرفات میں ازدحام کی کثرت کا باعث بن کر مسائل پیدا نہ کریں۔ ایسی عبادت جس کی سعادت آپ کو کئی مرتبہ حاصل ہوچکی ہے، میں شرکت سے وہ ایثار و قربانی بہتر ہے جس کے نتیجے میں دوردراز سے آئے ہوئے اس اجنبی زائر حرم کو دل کے ارمان نکالنے کا موقع ملے جو شاید اسے پھر نصیب نہ ہوگا۔ سعودی اور غیرسعودی مقیم حضرات کی ایثار و قربانی کی بنا پر ازدحام میں ایسی خاطرخواہ کمی ہوئی کہ باہر سے آنے والوں کی متوقع تعداد کے مطابق جو انتظامات کیے گئے تھے، وہ الحمدللہ پورے رہے اور غیرمنصوبہ بند اتفاقی حادثات و مشکلات میں کمی رہی۔ جہاں تک بات منصوبہ بند سانحات کی ہے تو وہ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ جن کی وجہ سے پیش آتے رہے، ان کا سدّباب کرنے سے اب ہر طرح کے سنگدلانہ حادثات بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو انتہائوں کے درمیان

افراط و تفریط کسی بھی چیز میں اچھا نہیں۔ ان سے عبادت ہو یا معاشرت، نیکی ہو یا رویے، حلیہ بگڑجاتا ہے۔ اعتدال اس کائنات کا ایسا حسن ہے جو فطرت سے لے کر صنعت تک ہر چیز کو توازن اور حقیقی خوبصورتی بخشتا ہے۔ قربانی کے حوالے سے ہمارے ہاں کسی درجے میں افراط و تفریط پایا جاتا ہے۔ اس کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ بعض حضرات اس کے لیے نہایت قیمتی نسل، خوبصورت ڈیل ڈول، انسان کو مبہوت کردینے والا حجم اور شکل، اور کئی دس لاکھوں سے تجاوز کرتی قیمت پر مشتمل جانور خریدنے کے لیے پاپڑ بیلتے ہیں۔ پھر اس کی نہایت پروٹوکول کے ساتھ خدمت کرتے ہیں۔ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ قربانی گاہ تک لے جاتے ہیں۔ ہجوم بلاخیز میں قربانی کا عمل انجام دیے جانے کے مناظر محفوظ کرتے ہیں اور نہایت پرتکلف دعوتوں کے انجام پر اس عبادت کا اختتام کرتے ہیں۔ ان کی عقیدت و محبت کی قدر افزائی سے کسے انکار ہوسکتا ہے، لیکن اسراف اور بخل دونوں ایسی انتہائیں ہیں جن کو شریعت پسند نہیں کرتی اور خود قربانی کا عمل ان کی نفی کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عشق کا سفر

اس دنیا کا جو زمانہ انبیاء و صحابہ و تابعین سے قریب تھا وہی اس کائنات کا بہترین زمانہ تھا۔ اس لیے اسے ’’خیرالقرون‘‘ کہا گیا ہے۔ اس میں زمین پر نیکیاں زیادہ اور گناہ کم ہوتے تھے۔ پھر جو نیکیاں ہوتی تھیں وہ ہمارے آج کے زمانے سے بظاہر تعداد میں کم ہوتی تھیں، لیکن ان میں اخلاص اور شریعت و سنت کی کامل اتباع کی وجہ سے ایسی روحانی قوت تھی کہ اس زمانے کے عوام آج کے خوص سے زیادہ متقی و دیندار ہوتے تھے۔ اور اُس زمانے کے خواص کا کیا کہنا، اُن کے گرد تو علم و عمل کے نور کا ایسا ہالہ ہوتا تھا کہ اُن کے زبان سے کہے کا اتنا اثر نہ ہوتا تھا جتنا ان کی پیشانی سے پھوٹنے والے نور اور ان کے وجود سے پھیلنے والی برکات اور فیوض کا۔ اس کی وجہ پاک نیتیں، رزق حلال، عمل صالح اور بلند عزائم ہوتے تھے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک لکیر… تین نقطے

آج کل ایک جملہ ہر ایک کی زبان پر ہے، حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کا سبب وسائل کی کمی ہے۔ اگر وسائل وافر ہوتے تو یہ مسائل نہ ہوتے جو آج ہر طرف سے منہ کھولے مسلمانوں کو ہراساں کیے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اتنے وسائل سے نوازا ہے کہ اس کی مثال دنیا کی دوسری قوموں میں مفقود ہے، لیکن ہماری بے تدبیری کے سبب وسائل کی فراوانی مسائل میں اضافے کا ذریعہ تو ہے، لیکن مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں دے رہی۔

مثلاً دنیا کے چھ سمندری درّوں کو لے لیجیے۔ ان میں سے پانچ قدرتی ہیں اور ایک مصنوعی ہے یعنی انسانی ہاتھوں کا تعمیر کردہ۔ یہ بحری گزرگاہیں دنیا کے ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک، تجارت اور نقل و حمل کی کنجیاں ہیں اور یہ وہ تنگ دروازے ہیں جن سے گزرے بغیر دنیا کی بحری شاہراہوں سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے تین عرب ممالک کے پاس ہیں اور دو ترکی کے پاس۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم ہیں پاسباں اس کے

آپ دنیا کے نقشے پر ایک نظر ڈال لیجیے! آپ کو پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوجائے گا۔ اگر آپ عالم اسلام کا نقشہ سامنے رکھ لیجیے، آپ اگر احساس کمتری کا شکار ہیں تو وہ دور ہوجائے گی۔ شرط یہ ہے کہ آپ نے طبعی، سیاسی اور تاریخی جغرافیہ کی کم از کم مبادیات پڑھ رکھی ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے جب امت محمدیہ کو پورے عالم تک ہدایت کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری دی تو اس کے وسائل بھی روزِ اول سے مہیا فرمادیے۔ ’’امت وسط‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے دنیائے وسط میں ’’جزیرہ نمائے عرب‘‘ میں آباد کیا۔ جو روحانیت کا مرکز ہونے کے ساتھ جغرافیائی اعتبار سے بھی تین بڑے براعظموں کے بالکل بیچ میں واقع ہے اور بقیہ تین یا چار براعظموں کی طرف جانے والے راستے یہیں سے ہوکر جاتے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ کیسی عجیب دنیا ہے؟

آج کی دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہے۔ تعلیم، تہذیب، ترقی اور اکتشافات کے محیرالعقول سلسلے کے باوجود انسان وہیں کھڑا ہے جہاں زمانۂ جاہلیت میں تھا۔ پتھروں اور غاروں کے سارے دور کو پسماندگی کا طعنہ دینے والا آج کا متکبر انسان اپنی مادّی ترقی کی بدولت پچھلے زمانے کے انسانوں کو تاریک دور کے باسی کہتا ہے، لیکن خود اس کا انسانیت سوز کردار اتنا داغدار ہے کہ یہ اپنے گریبان میں جھانکے تو انسانیت منہ چھپاکر شرماتی نظر آئے۔

ترکی کے معاملے کو دیکھ لیجیے! کون سا جھوٹا سچ ہے جو مصدّقہ سچ کے لبادے میں ملفوف کرکے نہیں بولا جارہا۔ اور کون سا اطلاعاتی فریب ہے جو تحقیقاتی رپورٹنگ کے نام پر نہیں پھیلایا جارہا۔ اس تضاد کو دیکھ لیجیے جو بشمول پاکستان دنیا بھر کے میڈیا کے رویے میں ہے۔ ایک طرف کہا جاتا تھا ہمیں طالبانائزیشن والا اسلام نہیں چاہیے۔ علمائے کرام کو اجتہاد کی ضرورت ہے۔ استشراق کے کارخانے میں ڈھلی اسلام کی جدید شکل ہی دنیا کو قابل قبول ہوسکتی ہے۔ ہمیں ترقی چاہیے تو ٹوپی اور حجاب کو خیرباد کہہ کر زمانے کی رفتار کا ساتھ دینا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

معرکہ دونوں طرف سے اور ہر سطح پر عروج پر ہے۔ اسلام اور اصلاح پسندوں کی سادگی اور حیلہ ناشناسی اور دین بیزاروں اور دنیا پرستوں کی عیاری اور پینترا بدل بدل کر چکمہ دینے کی مہارت… دونوں پوری طرح سامنے آرہی ہیں۔ اردگان کے حق میں بولنے والوں نے چونکہ ان کو قریب سے نہیں دیکھا، لہٰذا مہر بہ لب ہیں۔ گولن نواز حضرات چونکہ گولن تحریک کی بار بار کی میزبانی سے لطف اندوز ہوچکے ہیں، لہٰذا ان کے دفاع میں یک زبان و یک جان ہیں، لہٰذا اگر بات پاکستانی میڈیا کی حد تک ہو تو صاف طور پر گولنسٹ حضرات کا پلّہ بھاری ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اردگان کی خامیاں سامنے لائی جارہی ہیں اور تلاش کر کرکے عالمی سازش کا حصہ بن کر ریاست کے خلاف عسکری بغاوت جیسے سنگین جرم کے مرتکبین کی معصومیت ثابت کی جارہی ہے۔

یہ عاجز چونکہ محض اپنے شوق مشاہدہ کی تسکین کے لیے کئی مرتبہ ترکی جاچکا ہے اور جانبین میں سے کسی کی میزبانی کی سہولت کے بغیر بغور حالات کا قریب سے اور دقت نظر سے مشاہدہ کرتا رہا ہے، اس لیے کوشش کرے گا کہ اب تک جو دیکھا سنا قارئین کو اس میں شریک کرے۔ فیصلہ اہل نظر خود کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔