• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پاک ترک دوستی زندہ باد!

پاک ترک دوستی کی بنیادیں تو اسی دن رکھی جاچکی تھیں جب پہلے مسلمان نے برصغیر کی سوہنی دھرتی پر قدم رکھا تھا اور جب پہلے عثمانی خلیفہ نے بیعت لی تھی۔ پھر پاک ترک دوستی کی بنیادیں اس دن مضبوط ہوگئی تھیں جب برصغیر پاک ہند کے علماء نے آخری عثمانی خلیفہ کی حمایت میں پہلی آواز اٹھائی تھی، پہلا روپیہ جنگ عظیم دوم کے چندہ میں ترکی بھیجا تھا اور پہلا بندہ جنگ بلقان میں شرکت کے لیے روانہ کیا تھا، لیکن ان بنیادوں کو مستحکم اردگان صاحب کے موجودہ دورے سے پہلے کیے جانے والے اس فیصلے نے کیا ہے جس کے تحت پاک ترک اسکول کی انتظامیہ کو تبدیل کرکے گولن صاحب کے پیروکاروں کے بجائے ان دیانت دار ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جو مغرب سے عطیات کی وصولی میں ملوث نہیں، نہ مغرب کی پشت پناہی کے الزام سے ان کے دامن داغدار ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دادگیر یا داداگیر

کئی چیزیں ہیں جو اکھٹے سامنے آگئی ہیں۔ امریکی معاشرہ خواتین نواز سمجھا جاتا ہے اور تہذیب پسند بھی۔ اس نے مل کر روتی منہ بسورتی خواتین کو روتے رہنے دیا اور ایک ایسے مرد کو منتخب کرلیا جو صحیح معنوں میں ’’دادا‘‘ ہے۔ دادا بھائی نہیں، دادا گیر۔ لگا بندھا، ٹھوکا بجایا، دیکھا آزمایا دادا گیر۔ جیسے منٹو کے افسانوں میں بمبئی کے روایتی دادا ہوتے تھے ویسا بلکہ اس سے بڑھیا قسم کا دادا۔ الیکشن میں دو چیزیں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں: پیسہ اور میڈیا۔ ہیلری صاحبہ کی طرف سے پیسے کی ریل پیل اتنی زیادہ تھی کہ آنکھیں چندھیا جائیں اور میڈیا نے جیت سے پہلے جیت کا ایسا سماں باندھا تھا کہ دوسری رائے کسی کی نہ بننے دی تھی، مگر سرمائے کا سیلاب اور میڈیا کا برپاکردہ طوفان، دونوں سیلاب کا جھاگ اور بن برسے بادلوں کی گرج ثابت ہوئے اور جواخانوں سے نوراکشتی خانوں تک دادتحسین پانے والا دادا میدان مارگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ کی نشانیاں

حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق اور ہادیٔ عالم ہونے کی نشانیاں تو بہت سی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر حجت قائم کرنے کے لیے جو جو نشانیاں زمین پر اتاریں اس میں سب سے زیادہ نشانیاں اپنے انبیاء کے سچے اور برحق ہونے پر نازل کیں۔ اور سب سے زیادہ معجزات اور آیات بینات سید المرسلین رحمۃ للعالمین سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجے گئے، کیونکہ آپ کی نبوت عالمی بھی ہے اور دائمی ہے۔ زمان و مکان دونوں کے اعتبار سے ہمہ گیر اور جامع و محیط، لہٰذا آپ کو دی گئی نشانیاں بھی اسی طرح کی ہیں، ہمہ نوع اور ناقابل تردید۔ ان میں سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں اور بہت سے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہتی اور اللہ کی مخلوق پر حجت قائم کرتی رہتی ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

آج کا انسان

کہا یہ جاتا ہے کہ آج کی دنیا انتہائی ترقی یافتہ، متمدن اور مہذب ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے مذاہب کا انکار کرکے انسانیت کو سب سے بڑا مذہب قرار دے دیا ہے۔ مذاہب سے چونکہ جنگ ہوتی ہے، اس لیے مذہب کی بجائے انسانیت کو قانون عالم قرار دینے سے دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

یہ دونوں باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں جن میں مکر و فریب اور دھوکہ و دھاندلی کی اتنی زیادہ آمیزش ہے کہ اس کے تعفن سے انسان کا دماغ کام چھوڑ جاتا ہے۔ آج کی دنیا تو ’’تاریک دور‘‘ کہلائے جانے والے زمانے سے زیادہ وحشی اور غیرمہذب ہے۔ مادّیت پرستی اور روحانی و اخلاقی اقدار کی پامالی نے انسان کو درندہ اور انسانیت کو حیوانیت کا عنوان بنادیا ہے۔ اب یہ الفاظ دھوکے کا جال ہیں جن میں پڑھے لکھے انسانوں کی پڑھی لکھی عقلوں کو مسخ کرکے قابو کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چند خوبصورت مماثلتیں

آج کل جدید ترکی میں آپ جس طرف بھی جائیں، وقفے وقفے سے کسی نہ کسی چیز سے اندازہ ہوگا کہ یہاں کی حکمران جماعت اور اس کے ارکان کس قدر حسنِ تدبیر سے کام لیتے ہیں اور دعوت کا کام ’’الحکمۃ‘‘ اور ’’الموعظۃ‘‘ کے اصول کے مطابق کرتے ہیں۔ مثلاً بڑے بڑے ہوٹلوں میں آپ کو دو نقشے نظر آئیں گے۔ ایک میں سلطان فاتح اپنا گھوڑا سمندر میں ڈالے ہوئے ہے۔ سامنے قسطنطنیہ کا بظاہر ناقابل تسخیر سمجھا جانے والا قلعہ ہے۔

سمندر کا پانی گھوڑے کے سینے تک آپہنچا ہے اور اس کے کمانڈر دائیں بائیں حیران کھڑے ہیں کہ اسے کس طرح روکا جائے۔ نیچے سلطان فاتح کا یہ جملہ ہے: ’’آج یا میں قسطنطنیہ کو فتح کرکے رہوں گا یا پھر قسطنطنیہ مجھے فتح کرے گا۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب ریاست کے تین طبقے

دنیا میں اس وقت پانچ ملک ہیں جو اپنے نام کے ساتھ سرکاری اور آئینی طور پر ’’اسلامک‘‘ کا سابقہ لگاتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان، ایران… تین ملک ایشیا میں اور موریطانیہ اور گمبیا… دو ملک افریقہ میں۔ اس حساب سے ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تاریخ کے اس پرفتن دور میں ہمیں یہ توفیق دی ہے کہ 50 سے زیادہ کثیر آبادی والے مسلم ممالک میں سے بھی سب سے پہلے ہمارا نام اس کے پسندیدہ دین کے نام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو ہم قیامت کے دن اس نام کا واسطہ دے کر مغفرت کا سوال تو کرسکتے ہیں۔ اب واللہ اعلم کے ایسا واسطہ اور وسیلہ کیا درجہ رکھے گا کہ ہم نے خود ہی اس نام کی لاج نہیں رکھی، لیکن… گنہگار کو بخشش کا آسرا تو درکار ہوتا ہے جیسا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

15 سال بعد

اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک خبر نے گردش شروع کردی ہے۔ یہ خبر محض خبر نہیں، یہ اس گئے گزرے دور میں اللہ کی قدرت کی نشانیوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور مادہ پرست، خدابیزار، دین دشمن لوگوں کو بتاتی ہے کہ اللہ آج بھی آسمانوں پر موجود ہے۔ اپنی پوری قدرت کے ساتھ موجود ہے۔ اپنے وعدوں کی سو فیصد سچائی کے ساتھ موجود ہے۔ اور نہ صرف موجود ہے، بلکہ اپنے سچے وجود، اپنی کامل قدرت اور سچے وعدوں کے ساتھ اپنا وجود ثابت کرکے نادان انسانوں کو بتارہا ہے کہ وہ جیسے ہمیشہ سے اس طرح موجود ہے، اسی طرح آیندہ بھی اپنی بابرکت ذات اور اعلیٰ صفات کے ساتھ موجود رہے گا… اور کوئی مان کر اپنی عاقبت سنوارے یا نہ مان کر اپنی عاقبت خراب کرے، لیکن وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موجود رہے گا۔

خبر یہ ہے کہ امریکا 15 سال بعد 100 ارب ڈالر خرچ کرکے بھی افغانستان کو فتح نہیں کرسکا اور عسکری ماہرین مایوس ہیں کہ وہ آیندہ کبھی اسے اس ٹوٹے پھوٹے ملک کو فتح نہیں کرسکے گا۔ تمام تر عسکری حربوں اور تعمیر و ترقی کی کوششوں کے باوجود صورت حال تعطل کا شکار اور بے نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اُحد سے کربلا تک

گزشتہ ہفتے اسلامی سال کا آخری جمعہ ہم نے پڑھا اور ان شاء اللہ اگلے ہفتے نئے اسلامی سال کا پہلا جمعہ اللہ خیر رکھے تو خیر سے پڑھنا نصیب ہوگا۔ انسانی زندگی کے ماہ و سال گزررہے ہیں اور نئے سورج طلوع ہوتے اور ڈھلتے رہتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔ ہمارے دین کی انفرادیت اور جامعیت ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے کی طرح ماہ و سال کے آنے جانے کے حوالے سے بھی کچھ اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ اس وقت چونکہ اہل مغرب دنیا میں مادّی غلبے کے بل بوتے پر اپنی تہذیب کو غالب و برتر دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے زندگی کا نیا دورانیہ شروع ہونے کے حوالے سے اس کے کچھ اپنے نظریات ہیں، جس نے انسانیت کو کئی قسم کے مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ ان نظریات سے قطع نظر عیسوی سال کی تقویم اور عیسوی مہینوں کے موجودہ نام میں اہل مغرب سے جو سنگین کوتاہیاں ہوئی ہیں، اس نے بھی دنیا کے عقائد و نظریات کو غیرشعوری طور پر ایسا رخ دیا ہے جسے ہلکے سے ہلکے لفظوں میں انتہائی المناک کہا جاسکتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی طاقتوں کا گریٹ گیم

دنیا کے منظرنامے پر جو تصویر مسلمانوں کے حوالے سے بن رہی ہے وہ درجہ بدرجہ کچھ یوں ہے۔
-1 پاکستان کے اندر جب کوئی المناک واقعہ ہوتا ہے تو اسے کچھ عرصے سے اکثر و بیشتر مذہبی شدت پسندوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ داڑھی ٹوپی والے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں یا ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔

-2 ایشیا میں (مثلاً بھارت، بنگلہ دیش یا افغانستان میں) جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے پاکستان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ فوراً بیانات آنا شروع ہوجاتے ہیں کہ اس کے پیچھے پاکستان کا یا پاکستانی اداروں کا ہاتھ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ تمام توپیں پاکستان کی طرف منہ کرکے بیانات داغنا شروع کردیتی ہیں اور پاکستان کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گویا وہ خدانخواستہ پڑوسی ملکوں میں امن و امان چاہتا ہی نہیں اور چھوٹا سا ملک بڑے ملک کو چین سے رہنے نہیں دیتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سچی ہمدردی

الحمدللہ کہ اس سال حج کا موسم خیر و عافیت کے ساتھ بغیر کسی اتفاقی سانحے یا منصوبہ بند حادثے کے گزر گیا ہے۔ سعودی حکومت نے جسے ’’خدام حرمین‘‘ کا ہونے کا شرف حاصل ہے… اور کوئی شک نہیں کہ یہ اعزاز و افتخار وہ شرف و سعادت ہے جس کے برابر کوئی سعادت و عزت ہو ہی نہیں سکتی… اس مرتبہ غیرمعمولی انتظامات کیے تھے۔ مقامی میزبان آبادی کو جو پہلے سے کئی مرتبہ عمرہ و حج کی سعادت حاصل کرچکی ہے، پا بند کیا گیا تھا کہ وہ مہمان زائرین کو موقع دیں اور منیٰ و عرفات میں ازدحام کی کثرت کا باعث بن کر مسائل پیدا نہ کریں۔ ایسی عبادت جس کی سعادت آپ کو کئی مرتبہ حاصل ہوچکی ہے، میں شرکت سے وہ ایثار و قربانی بہتر ہے جس کے نتیجے میں دوردراز سے آئے ہوئے اس اجنبی زائر حرم کو دل کے ارمان نکالنے کا موقع ملے جو شاید اسے پھر نصیب نہ ہوگا۔ سعودی اور غیرسعودی مقیم حضرات کی ایثار و قربانی کی بنا پر ازدحام میں ایسی خاطرخواہ کمی ہوئی کہ باہر سے آنے والوں کی متوقع تعداد کے مطابق جو انتظامات کیے گئے تھے، وہ الحمدللہ پورے رہے اور غیرمنصوبہ بند اتفاقی حادثات و مشکلات میں کمی رہی۔ جہاں تک بات منصوبہ بند سانحات کی ہے تو وہ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ جن کی وجہ سے پیش آتے رہے، ان کا سدّباب کرنے سے اب ہر طرح کے سنگدلانہ حادثات بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو انتہائوں کے درمیان

افراط و تفریط کسی بھی چیز میں اچھا نہیں۔ ان سے عبادت ہو یا معاشرت، نیکی ہو یا رویے، حلیہ بگڑجاتا ہے۔ اعتدال اس کائنات کا ایسا حسن ہے جو فطرت سے لے کر صنعت تک ہر چیز کو توازن اور حقیقی خوبصورتی بخشتا ہے۔ قربانی کے حوالے سے ہمارے ہاں کسی درجے میں افراط و تفریط پایا جاتا ہے۔ اس کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ بعض حضرات اس کے لیے نہایت قیمتی نسل، خوبصورت ڈیل ڈول، انسان کو مبہوت کردینے والا حجم اور شکل، اور کئی دس لاکھوں سے تجاوز کرتی قیمت پر مشتمل جانور خریدنے کے لیے پاپڑ بیلتے ہیں۔ پھر اس کی نہایت پروٹوکول کے ساتھ خدمت کرتے ہیں۔ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ قربانی گاہ تک لے جاتے ہیں۔ ہجوم بلاخیز میں قربانی کا عمل انجام دیے جانے کے مناظر محفوظ کرتے ہیں اور نہایت پرتکلف دعوتوں کے انجام پر اس عبادت کا اختتام کرتے ہیں۔ ان کی عقیدت و محبت کی قدر افزائی سے کسے انکار ہوسکتا ہے، لیکن اسراف اور بخل دونوں ایسی انتہائیں ہیں جن کو شریعت پسند نہیں کرتی اور خود قربانی کا عمل ان کی نفی کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔