• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

یادوں کے آنسو

تاریخی شخصیات اس دنیا میں آتی ہیں، لیکن جس طرح کی شخصیت استاذ المشایخ صدر الوفاق جناب حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تھی، اس کی نظیر کم ہی ہوگی۔ دین کی خدمت کا کون سا میدان ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے فیوض و برکات عام نہیں کیے اور اہلِ دین کی رہنمائی و سرپرستی کی کون سی شکل ہے جو خالق کائنات نے ان کے لیے مقدر نہیں کی تھی۔ اللہ پاک نے ان کو ہر شعبے کو چلانے کے لیے ویسا مزاج دیا تھا جیسا اس کے لیے درکار ہوتا ہے اور ویسی صلاحیت عطا کی تھی جس کی متعلقہ میدان میں ضرورت ہوتی ہے۔ ذہن رسا، زبان فصیح، آہنی اعصاب، دقیق نظر، بلند حوصلہ، غرض کہ میر کارواں کے لیے جو رخت سفر درکار ہے، قدرت نے انہیں سب عطا کرکے بھیجا تھا، لہٰذا بھرپور زندگی گزاری۔ ہمہ جہت اور ہمہ گیر کام کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شامی مہاجرین کے مددگار

انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے، اس لیے اسے شرف و کرامت کے ساتھ جینے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں ان میں روٹی، کپڑا، مکان بنیادی جز نہیں ہے۔ بنیادی جز وہ ایمان، خیر کی روشنی یا روح کا اعتماد ہے جو اسے مشکلات میں جینے کا حوصلہ دیتا، ہمت بندھاتا اور ممولے کو ہتھیار سے لڑادیتا ہے۔

مسئلہ اس وقت صرف ان مہاجرین کی خدمت کا نہیں جو دنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک مثالی تہذیب کے وارث، اعلامی تاریخ کے ممتاز ترین نسب و حسب کے حامل اور صدیوں علوم و فنون کی آماجگاہ رہنے والے متمدن و مہذب علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مسئلہ صرف انصار کا دست و بازو بننے، ان کی حوصلہ افزائی کا بھی نہیں، کہ ان کو ہر طرف سے گھیرا جارہا ہے تاکہ وہ نصرت سے دستبردار ہوجائیں، اور جس طرح دو لاکھ مہاجر افراد غائب اور لاپتہ ہیں، اسی طرح یہ 35، 40 لاکھ مہاجر بھی دربدر ہوکر دوسری قوموں میں ضم ہوجائیں اور شام میں اسلامی تہذیب کا خاتمہ ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آنسوئوں کی لکیر

’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے لیے کھیلے جانے والے ’’گریٹ گیم‘‘ کو دور سے پڑھا اور سنا تھا… اب ارض مقدس کے مضافات میں آنکھوں سے بھی دیکھ لیا۔ یہ بات نہایت سطحی ہوگی کہ یہ ایک ملک میں قیام پذیر دو طبقات کی جنگ ہے۔ یہ ایک بڑے تاریخی ملک کے ٹکڑے کرکے ایک چھوٹے جبری ملک کو بڑا کرنے کی مہم ہے۔ تین طاقتوں کو شام کے تین الگ الگ ٹکڑے درکار ہیں، لہٰذا شام کے مسلمانوں کے ٹکڑے فضا میں بکھرہے ہیں اور جو بچ گئے انہیں ٹکڑیوں میں بانٹ کر بکھیرا جارہا ہے۔ اسرائیل کو گولان کی پہاڑیوں پر مشتمل اہم ترین اسٹرٹیجک زون درکار ہے۔ اس کے بغیر اس کی ’’نیل سے فرات تک‘‘ مہم کی رفتار سست ہے۔ روس کو بحرمتوسط کے کنارے طرسوس میں واقع بحری اڈے پر محفوظ تسلط چاہیے جو گرم پانیوں پر اس کا دنیا بھر میں رسائی کا واحد ذریعہ ہے۔ جب اسے وسطی ایشیا کے راستے افغانستان سے ہوکر پاکستان کا گوادر نہ ملا تو اس نے شام کے راستے ’’طرسوس‘‘ ڈھونڈ نکالا جس سے دستبرداری پر وہ تیار نہیں۔ اور چونکہ یہ تسلط تبھی تک ہے جب تک موجودہ حکمران اپنے اور اس کے واحد راستے کی واحد رکاوٹ یعنی مقامی مسلمان آبادی کو تتربتر نہیں کردیتے، لہٰذا ایک مثلث ہے جس نے شام کی ہر صبح کو ’’خون آشام‘‘ بنادیا ہے اور اس کی ہر شام ’’شام غریباں‘‘ ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شامی مہاجرین کا آنکھوں دیکھا حال

سنا تو تھا کہ آنکھوں دیکھی اور ہوتی ہے، سنی سنائی اور۔ ’’دیدہ کے بود مانند شنیدہ‘‘ لیکن دیکھنے اور سننے میں اتنا زیادہ فرق ہوگا اور اس قدر المناک اور روح فرسا فرق ہوگا۔ اس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔

سمجھ نہیں آتا بات کہاں سے شروع کی جائے۔ شام کے مہاجرین کی دل فگار مظلومیت بیان کی جائے اور اہل دل کو بتایا جائے کہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ معصوم بیٹیاں جو کربلا سے بچ کر شام آگئی تھیں، ان پر کیا گزر رہی ہے؟ یا ترکی کے انصار کی ہمت، سخاوت اور عزیمت کا ذکر کیا جائے جس نے انصارِ مدینہ کی یاد تازہ کردی ہے؟ یا دنیا بھر میں حقوق انسانی کا واویلا کرنے والی اور حیوانوں کے غم میں مری جانے والی دوغلی تنظیموں کی حقیقت آشکارا کی جائے جن میں سے ایک بھی… میں دہراتا ہوں… ایک بھی یہاں موجود نہیں ہے۔ یا پھر مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور صاحب حیثیت مسلمان بھائیوں کی بے بسی کا رونا رویا جائے جو شام کے مظلوموں پر شام غریباں کے چھائے بادل گرجتے برستے دیکھ کر بھی ہونٹ سیے ہوئے ہیں؟؟؟ حکمرانوں نے زبانوں پر تالے ڈال لیے ہیں اور عوام آنکھیں بند کرکے عافیت کی باقی ماندہ گھڑیاں باری آنے تک گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ذرا تصور تو کریں!

ذرا تصور تو کریں: اسرائیل سو فیصد ایک غاصبانہ ریاست ہے جو چار ہزار سال پہلے کے اس حق کی بنیاد پر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو خود ’’تورات‘‘ کی رو سے قوم یہود کو حاصل نہیں ہے۔ قرآن کریم، تورات، انجیل تمام آسمانی کتب کی رو سے قوم یہود ارض مقدس کی تولیت سے محروم کردی گئی ہے اور ان بغاوت آمیز سنگین اصولی و فروعی جرائم کی بنا پر محروم کی گئی جو اس نے بیت المقدس میں کیے تھے… لیکن… اسرائیل امن وامان سے ہے اور اس کے گرد جتنے ممالک ہیں وہ بے امنی، خونی جنگوں، بدترین المیوں اور ہولناک بحرانوں کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔

ذرا تصور تو کریں: عراق کے مسلمانوں کو آج تک سمجھ نہیں آیا، ان کا کیا قصور تھا کہ ان کا ہنستا بستا ملک ایسا ویرانہ بن جائے کہ زندگی وہاں موت کے لیے روئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آگ کی لپٹیں

انسان کے دماغ کے دو حصے ہیں: شعور اور لاشعور۔
شعور الفاظ کی زبان سمجھتا ہے۔ جب کسی سے گفتگو کی جاتی ہے تو سننے والا عام طور سے تین کام کرتا ہے: (1) وہ سننے کے عمل سے گزرتا ہے جو ایک میکانکی فعل ہے۔ (2) سمجھنے کا عمل، جس میں سامع مواد کی معنویت کو ان حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کرتا ہے جو پہلے ہی سے اس کے ذہن میں موجود ہیں۔ (3) سامع ذہنی طور پر ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے اور حاصل ہونے والی معلومات کے مستند یا غیرمستند ہونے پر، نیز مفید یا بے مصرف ہونے کے بارے میں طے کرتا ہے۔ ایک عام غلطی جو سامعین کرتے ہیں یہ ہے کہ وہ سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا عمل بیک وقت ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب معلومات کی ترسیل کا عمل جاری ہوتا ہے اور ابھی اختتام تک نہیں پہنچا ہوتا، وہ ایک فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ ابھی انہیں مکمل معلومات نہیں پہنچی ہوتیں۔ ایسے فیصلے کو عام طور پر قبل از وقت فیصلے کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ قبل از وقت فیصلہ ہماری حس ادراک یعنی سمجھنے کی قوت کو نقصان پہنچاتا ہے اور بہت سے غیرضروری تنازعات اور بدگمانیوں کو جنم دیتا ہے، لہٰذا ہمیں ’’استمعوا‘‘ اور ’’السمع والطاعۃ‘‘ کا حکم دیا گیا ہے یعنی انسان سنتے وقت غور سے سنے اور بات مکمل ہونے سے پہلے جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔ جب تک ساری معلومات حاصل نہ ہوجائیں، فیصلے کو مؤخر کیے رکھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاک ترک دوستی زندہ باد!

پاک ترک دوستی کی بنیادیں تو اسی دن رکھی جاچکی تھیں جب پہلے مسلمان نے برصغیر کی سوہنی دھرتی پر قدم رکھا تھا اور جب پہلے عثمانی خلیفہ نے بیعت لی تھی۔ پھر پاک ترک دوستی کی بنیادیں اس دن مضبوط ہوگئی تھیں جب برصغیر پاک ہند کے علماء نے آخری عثمانی خلیفہ کی حمایت میں پہلی آواز اٹھائی تھی، پہلا روپیہ جنگ عظیم دوم کے چندہ میں ترکی بھیجا تھا اور پہلا بندہ جنگ بلقان میں شرکت کے لیے روانہ کیا تھا، لیکن ان بنیادوں کو مستحکم اردگان صاحب کے موجودہ دورے سے پہلے کیے جانے والے اس فیصلے نے کیا ہے جس کے تحت پاک ترک اسکول کی انتظامیہ کو تبدیل کرکے گولن صاحب کے پیروکاروں کے بجائے ان دیانت دار ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جو مغرب سے عطیات کی وصولی میں ملوث نہیں، نہ مغرب کی پشت پناہی کے الزام سے ان کے دامن داغدار ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دادگیر یا داداگیر

کئی چیزیں ہیں جو اکھٹے سامنے آگئی ہیں۔ امریکی معاشرہ خواتین نواز سمجھا جاتا ہے اور تہذیب پسند بھی۔ اس نے مل کر روتی منہ بسورتی خواتین کو روتے رہنے دیا اور ایک ایسے مرد کو منتخب کرلیا جو صحیح معنوں میں ’’دادا‘‘ ہے۔ دادا بھائی نہیں، دادا گیر۔ لگا بندھا، ٹھوکا بجایا، دیکھا آزمایا دادا گیر۔ جیسے منٹو کے افسانوں میں بمبئی کے روایتی دادا ہوتے تھے ویسا بلکہ اس سے بڑھیا قسم کا دادا۔ الیکشن میں دو چیزیں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں: پیسہ اور میڈیا۔ ہیلری صاحبہ کی طرف سے پیسے کی ریل پیل اتنی زیادہ تھی کہ آنکھیں چندھیا جائیں اور میڈیا نے جیت سے پہلے جیت کا ایسا سماں باندھا تھا کہ دوسری رائے کسی کی نہ بننے دی تھی، مگر سرمائے کا سیلاب اور میڈیا کا برپاکردہ طوفان، دونوں سیلاب کا جھاگ اور بن برسے بادلوں کی گرج ثابت ہوئے اور جواخانوں سے نوراکشتی خانوں تک دادتحسین پانے والا دادا میدان مارگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ کی نشانیاں

حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق اور ہادیٔ عالم ہونے کی نشانیاں تو بہت سی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر حجت قائم کرنے کے لیے جو جو نشانیاں زمین پر اتاریں اس میں سب سے زیادہ نشانیاں اپنے انبیاء کے سچے اور برحق ہونے پر نازل کیں۔ اور سب سے زیادہ معجزات اور آیات بینات سید المرسلین رحمۃ للعالمین سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجے گئے، کیونکہ آپ کی نبوت عالمی بھی ہے اور دائمی ہے۔ زمان و مکان دونوں کے اعتبار سے ہمہ گیر اور جامع و محیط، لہٰذا آپ کو دی گئی نشانیاں بھی اسی طرح کی ہیں، ہمہ نوع اور ناقابل تردید۔ ان میں سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں اور بہت سے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہتی اور اللہ کی مخلوق پر حجت قائم کرتی رہتی ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

آج کا انسان

کہا یہ جاتا ہے کہ آج کی دنیا انتہائی ترقی یافتہ، متمدن اور مہذب ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے مذاہب کا انکار کرکے انسانیت کو سب سے بڑا مذہب قرار دے دیا ہے۔ مذاہب سے چونکہ جنگ ہوتی ہے، اس لیے مذہب کی بجائے انسانیت کو قانون عالم قرار دینے سے دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

یہ دونوں باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں جن میں مکر و فریب اور دھوکہ و دھاندلی کی اتنی زیادہ آمیزش ہے کہ اس کے تعفن سے انسان کا دماغ کام چھوڑ جاتا ہے۔ آج کی دنیا تو ’’تاریک دور‘‘ کہلائے جانے والے زمانے سے زیادہ وحشی اور غیرمہذب ہے۔ مادّیت پرستی اور روحانی و اخلاقی اقدار کی پامالی نے انسان کو درندہ اور انسانیت کو حیوانیت کا عنوان بنادیا ہے۔ اب یہ الفاظ دھوکے کا جال ہیں جن میں پڑھے لکھے انسانوں کی پڑھی لکھی عقلوں کو مسخ کرکے قابو کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چند خوبصورت مماثلتیں

آج کل جدید ترکی میں آپ جس طرف بھی جائیں، وقفے وقفے سے کسی نہ کسی چیز سے اندازہ ہوگا کہ یہاں کی حکمران جماعت اور اس کے ارکان کس قدر حسنِ تدبیر سے کام لیتے ہیں اور دعوت کا کام ’’الحکمۃ‘‘ اور ’’الموعظۃ‘‘ کے اصول کے مطابق کرتے ہیں۔ مثلاً بڑے بڑے ہوٹلوں میں آپ کو دو نقشے نظر آئیں گے۔ ایک میں سلطان فاتح اپنا گھوڑا سمندر میں ڈالے ہوئے ہے۔ سامنے قسطنطنیہ کا بظاہر ناقابل تسخیر سمجھا جانے والا قلعہ ہے۔

سمندر کا پانی گھوڑے کے سینے تک آپہنچا ہے اور اس کے کمانڈر دائیں بائیں حیران کھڑے ہیں کہ اسے کس طرح روکا جائے۔ نیچے سلطان فاتح کا یہ جملہ ہے: ’’آج یا میں قسطنطنیہ کو فتح کرکے رہوں گا یا پھر قسطنطنیہ مجھے فتح کرے گا۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔