• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سلطان فاتح کی مسجد میں

وہ واقعہ لکھنا چاہوں گا جو سلطان فاتح کی مسجد میں پیش آیا اور اس کتاب کی تالیف کے لیے مہمیز ثابت ہوا۔ یہ احقر جن دنوں ترکی میں ’’آپ ہدایہ کیسے پڑھیں؟‘‘ کے نام سے دورہ کروارہا تھا۔ اس زمانے میں وہاں شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ کے دو شاگرد تشریف لے آئے۔ ایک تو شام کے مشہور عالم شیخ محمد عوامہ صاحب دامت برکاتہم جن سے اجازت حدیث کا یادگارواقعہ راقم اسی کتاب میں تحریر کرچکا ہے۔ دوسرے عراق کے مشہور عالم شیخ عبدالسمیع انیس صاحب۔ میزبانوںسے درخواست کر کے ان کی زیارت اور ان سے اجازت حدیث حاصل کرنے کی ترتیب بنائی گئی۔ اللہ کی شان کے سلطان محمد فاتح کی مسجد میں ملاقات طے ہوئی۔ اس کے ایک کنارے بیٹھ کر ہم نے شیخ کی ترتیب دی ہوئی سو احادیث پرمشتمل کتاب ’’الأوائل الحدیثیۃ المئۃ‘‘کی قرأت اور سماع کیا۔ طریقہ یہ تھا کہ شیخ نے اس کتاب میں حدیث مبارک کی سو کتابوں سے پہلی حدیث جمع کی ہوئی ہے۔ پہلی حدیث وہ خود پڑھتے اور پھر باری باری سب حاضرین ایک حدیث پڑھتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شرعیت وفطرت کا امتزاج

دنیا میں انسانی آبادی کا تناسب مرد و زن کے اعتبار سے تقریباً ایک اور چار کا ہمیشہ سے ہی رہا ہے یا اس کے لگ بھگ۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں جو دینی فطرت ہے اور عالم الغیب کا بھیجا ہوا نظامِ حیات ہے، اس میں ایک مرد کو چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے، حکم تو نہیں، مگر اجازت ہے اور ترغیب بھی۔ ساتھ ہی حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ یہ تناسب ایک اور چالیس ہوجائے گا۔ اس زمانے میں وہ لوگ جو ایک مرد کی چار شادی پر اعتراض کرتے تھے، وہ ازخود چار شادیوں کو تو لازم قرار دے دیں گے۔ اس زمانے کی ابتدا شاید ہوچکی ہے، کیونکہ اس وقت دنیا میں انسانی آبادی میں خواتین کا تناسب مردوں کے بنسبت چار اور ایک سے بہت بڑھ گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا

اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر زمین پر خانہ کعبہ کی شکل میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنایا۔ اس کے چالیس سال بعد دوسرا گھر مسجد اقصیٰ کی شکل میں بنا۔ (بخاری شریف بروایت حضرت ابوذرؓ) یہی دونوں گھر دو قبلے ہیں۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلے گھر سے دوسرے گھر تک لے گئے۔ وہاں تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرواکر آسمانوں پر اپنے عرش تک عروج عطا فرمایا۔

اولین و آخرین کی یہ امامت اور پھر فرش سے عرش تک کا یہ سفر جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت تامّہ کی علامت ہے وہیں آپ کی امت کی تمام امتوں پر فضیلت کا شاہد عدل بھی ہے۔ یہ امت دونوں قبلوں کی وارث اور انبیاء کرام علیہم السلام کی ان دونوں عبادت گاہوں کی امین و خادم ہے۔ آج قبلہ اوّل گھیرے میں آچکا ہے اور قبلۂ حقیقی پر دشمنانِ خدا و رسول اور حاسدین اسلام کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ روحانی وراثت کا تحفظ اور امانت کی پاسبانی ایمانی غیرت کو پکار رہی ہے۔ ’’ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

درہم نہیں کلہاڑی

اکثر باتیں پہلے کردی گئی تھیں، مگر فقیروں کی مانتا کون ہے؟ کسی نے کہا: ’’مبالغہ ہے۔‘‘ کسی نے کہا: ’’بے جا مرعوبیت ہے۔‘‘ کسی نے کہا: ’’سائنس فوبیا‘‘ ہے۔ کسی نے کہا… چلیے چھوڑیے! اس بحث سے اب کیا لینا… اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مل جل کر ایسا کچھ کیا جائے کہ ہم اپنے بھائیوں کو ایسے انداز میں بچانے کی کوشش کریں کہ ہم خود بھی بچ جائیں۔ اگر چند بھائی اکٹھے رہتے ہوں اور اپنے اپنے گھر میں لگی آگ بجھانے میں لگے ہوں اور کسی سے نہ بجھ رہی ہو تو انہیں ایک کوشش یہ کرلینی چاہیے کہ ایک دوسرے کے گھر کی آگ بجھانے میں ہاتھ بٹائیں۔ بہت ممکن ہے کہ ایک ایسی صلاحیت یا مواد کا مالک ہو کہ دوسرے کے گھر کی آگ اس کے ہاتھ سے بجھ جائے اور اس کے گھر کی آگ دوسرے کے ہاتھ سے بجھ جائے۔ اللہ کا وعدہ ہے اور کسے شک ہے کہ بالکل سچا ہے: اخوت اسلامی پر نصرتِ الٰہی اتر کر رہتی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ روشن روشن چہرے

یہ چمکتے دمکتے چہرے، یہ روشن روشن پیشانیاں، یہ اجلے اجلے نکھرے نکھرے حلیے ان فضلاء کے ہیں جو گزشتہ ایک ڈیڑھ دھائی میں جامعۃ الرشید کے مختلف شعبوں میں سے کسی شعبے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ڈیڑھ دو دھائی کسی تعلیمی ادارے کے لیے بڑی مدت نہیں، لیکن علمی خدمات کے تنوع اور تکثر کے سبب جو امتیاز جامعہ کو حاصل ہوا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کی دین ہے جس پر بے تحاشا شکر واجب اور پہلے سے زیادہ ہمت اور توجہ کے ساتھ محنت لازم ہے۔ بہت سے قدیم فنون جو مٹتے جارہے تھے، اللہ تعالیٰ نے زندہ کیے اور بہت سے جدید فنون جن کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہاں شروع کروائے۔ فضلائے کرام کا یہ اجتماع ان سے تقاضا کرتا ہے کہ جو چیزہماری قدیم میراث ہے اسے اس کے اہل کے حوالے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کریں اور جو متاع گم گشتہ ہاتھ لگی ہے اس کی جہاں جہاں مانگ اور کھپت ہے، وہاں پہنچانے میں اور گہری بنیادوں پر پیوندکاری کرنے کے لیے انتھک کوشش کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محبت پھیلائیے آخرت سنواریے

مکہ مکرمہ میں جب مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں حبشہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ مکہ ارض عرب میں ہے اور حبشہ افریقہ میں۔ نہ زبان ایک، نہ رنگ و نسل، نہ نظریہ و مذہب، لیکن اخلاق اور تہذیب ایسی چیز ہے جس نے کالوں کو گورے یا سانولے رنگ والوں کا… اور عجمی کو عربی کا میزبان بنادیا۔ یہ میزبانی پناہ فراہم کرنے اور بدسلوکی نہ کرنے تک محدود تھی، ورنہ دارالہجرت اور دارالنصرت ممکن تھا کہ حبشہ ہی ہوتا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ حبشہ جو آج ایتھوپیا کہلاتا ہے، کا لحاظ کریں کہ انہوں نے ہمارے بڑوں کا اکرام و احترام کیا تھا۔ اس کی سب سے بہترین شکل یہ ہے کہ ہم وہاں زیادہ سے زیادہ اسلام کی روشنی اور ہدایت کا نور پھیلانے کی کوشش کریں۔ اور دنیا میں جہاں ایتھوپین ملیں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ حسن خلق اور وفا بالعہد ایسی چیزیں ہیں جو جاہلیت و اسلام سب میں قابل قدر تھیں اور ہیں۔

حبشہ کے مہاجر حضرات میں خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صاحبزادی بھی شامل تھیں جو حضرت عثمانؓ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ نجاشی نے ان سب کا بے مثال اکرام کیا، لیکن حبشہ والے نصرت کی وہ شکل نہ اپنارہے تھے

مزید پڑھیے۔۔۔

خون کی لکیر

پچھلی نشست میں آپ کو آنسوئوں کی ایک لکیر دکھائی تھی۔ شام اور ترکی کے درمیان حد فاصل بننے والی سرحدی لکیر۔ یہ لکیر دارالہجرۃ اور مدینۃ الانصار کے درمیان حدّفاصل کا کردار ادا کررہی تھی، لیکن اب سچ بات یہ ہے کہ ترک حضرات نے جغرافیائی لکیروں سے پیدا ہونے والے فاصلوں کو عملاً مٹاکر انصارِ مدینہ کی یاد تازہ کردی ہے۔ رات جب میں دوبارہ یہاں پہنچا تو ایک ترک شہری نے کہا کہ ہم نے سوچ لیا ہے کہ شامی مہمان یہیں رہیں گے اور ہم خود بھوکے رہ کر بھی ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ خدا جانے جہاں میں صورت آفتاب جینے اور ادھر ڈوب کر ادھر سے نکلنے کی صفت قوم رسول ہاشمی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں کس طرح اور کیسے کیسے اپنا آپ دکھاتی رہتی ہے۔ اس لکیر کے ایک طرف بسنے والے انصار میں سے ایک ایک شہر نے دوسری طرف سے آنے والے ایک ایک شہر کے قافلے کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور مقدور بھر نصرت کی کوشش کررہے ہیں۔ پیلدہ والوں نے لاذقیہ والوں کو مہمان بنالیا۔ ریحانیہ والوں کے حصے میں ادلب والے آئے۔ کلس والوں نے حلب کے لیے آنکھیں بچھائیں اور غاز ی انتب نے الباب، منبج اور دابق کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیا۔ ’’ارفہ‘‘ جس کا پورا نام ’’شان لی ارفہ‘‘ ہے، یہ نسبتاً مدینۃ الفقراء تھا۔ اس کو بیک وقت چار شہروں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ حسکہ، رقہ، طبقہ (جہاں واقع ’’بحیرۃ الاسد‘‘ نامی جھیل سے دریائے فرات نکلتا ہے) اور عین العرب۔ پاکستانی بھائیوں کو چاہیے ان چار انصار شہروں کو اپنے چار شہروں (کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد) کے جڑواں شہر بنالیں تاکہ ’’انصار الانصار‘‘ کا فخریہ لقب ہمیں حاصل ہو اور دنیا اخوت و نصرت کے سورج کو ابھرتا ہوا دیکھنے کا نظارہ کرسکے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یادوں کے آنسو

تاریخی شخصیات اس دنیا میں آتی ہیں، لیکن جس طرح کی شخصیت استاذ المشایخ صدر الوفاق جناب حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تھی، اس کی نظیر کم ہی ہوگی۔ دین کی خدمت کا کون سا میدان ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے فیوض و برکات عام نہیں کیے اور اہلِ دین کی رہنمائی و سرپرستی کی کون سی شکل ہے جو خالق کائنات نے ان کے لیے مقدر نہیں کی تھی۔ اللہ پاک نے ان کو ہر شعبے کو چلانے کے لیے ویسا مزاج دیا تھا جیسا اس کے لیے درکار ہوتا ہے اور ویسی صلاحیت عطا کی تھی جس کی متعلقہ میدان میں ضرورت ہوتی ہے۔ ذہن رسا، زبان فصیح، آہنی اعصاب، دقیق نظر، بلند حوصلہ، غرض کہ میر کارواں کے لیے جو رخت سفر درکار ہے، قدرت نے انہیں سب عطا کرکے بھیجا تھا، لہٰذا بھرپور زندگی گزاری۔ ہمہ جہت اور ہمہ گیر کام کیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شامی مہاجرین کے مددگار

انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے، اس لیے اسے شرف و کرامت کے ساتھ جینے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں ان میں روٹی، کپڑا، مکان بنیادی جز نہیں ہے۔ بنیادی جز وہ ایمان، خیر کی روشنی یا روح کا اعتماد ہے جو اسے مشکلات میں جینے کا حوصلہ دیتا، ہمت بندھاتا اور ممولے کو ہتھیار سے لڑادیتا ہے۔

مسئلہ اس وقت صرف ان مہاجرین کی خدمت کا نہیں جو دنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک مثالی تہذیب کے وارث، اعلامی تاریخ کے ممتاز ترین نسب و حسب کے حامل اور صدیوں علوم و فنون کی آماجگاہ رہنے والے متمدن و مہذب علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مسئلہ صرف انصار کا دست و بازو بننے، ان کی حوصلہ افزائی کا بھی نہیں، کہ ان کو ہر طرف سے گھیرا جارہا ہے تاکہ وہ نصرت سے دستبردار ہوجائیں، اور جس طرح دو لاکھ مہاجر افراد غائب اور لاپتہ ہیں، اسی طرح یہ 35، 40 لاکھ مہاجر بھی دربدر ہوکر دوسری قوموں میں ضم ہوجائیں اور شام میں اسلامی تہذیب کا خاتمہ ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آنسوئوں کی لکیر

’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے لیے کھیلے جانے والے ’’گریٹ گیم‘‘ کو دور سے پڑھا اور سنا تھا… اب ارض مقدس کے مضافات میں آنکھوں سے بھی دیکھ لیا۔ یہ بات نہایت سطحی ہوگی کہ یہ ایک ملک میں قیام پذیر دو طبقات کی جنگ ہے۔ یہ ایک بڑے تاریخی ملک کے ٹکڑے کرکے ایک چھوٹے جبری ملک کو بڑا کرنے کی مہم ہے۔ تین طاقتوں کو شام کے تین الگ الگ ٹکڑے درکار ہیں، لہٰذا شام کے مسلمانوں کے ٹکڑے فضا میں بکھرہے ہیں اور جو بچ گئے انہیں ٹکڑیوں میں بانٹ کر بکھیرا جارہا ہے۔ اسرائیل کو گولان کی پہاڑیوں پر مشتمل اہم ترین اسٹرٹیجک زون درکار ہے۔ اس کے بغیر اس کی ’’نیل سے فرات تک‘‘ مہم کی رفتار سست ہے۔ روس کو بحرمتوسط کے کنارے طرسوس میں واقع بحری اڈے پر محفوظ تسلط چاہیے جو گرم پانیوں پر اس کا دنیا بھر میں رسائی کا واحد ذریعہ ہے۔ جب اسے وسطی ایشیا کے راستے افغانستان سے ہوکر پاکستان کا گوادر نہ ملا تو اس نے شام کے راستے ’’طرسوس‘‘ ڈھونڈ نکالا جس سے دستبرداری پر وہ تیار نہیں۔ اور چونکہ یہ تسلط تبھی تک ہے جب تک موجودہ حکمران اپنے اور اس کے واحد راستے کی واحد رکاوٹ یعنی مقامی مسلمان آبادی کو تتربتر نہیں کردیتے، لہٰذا ایک مثلث ہے جس نے شام کی ہر صبح کو ’’خون آشام‘‘ بنادیا ہے اور اس کی ہر شام ’’شام غریباں‘‘ ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شامی مہاجرین کا آنکھوں دیکھا حال

سنا تو تھا کہ آنکھوں دیکھی اور ہوتی ہے، سنی سنائی اور۔ ’’دیدہ کے بود مانند شنیدہ‘‘ لیکن دیکھنے اور سننے میں اتنا زیادہ فرق ہوگا اور اس قدر المناک اور روح فرسا فرق ہوگا۔ اس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔

سمجھ نہیں آتا بات کہاں سے شروع کی جائے۔ شام کے مہاجرین کی دل فگار مظلومیت بیان کی جائے اور اہل دل کو بتایا جائے کہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ معصوم بیٹیاں جو کربلا سے بچ کر شام آگئی تھیں، ان پر کیا گزر رہی ہے؟ یا ترکی کے انصار کی ہمت، سخاوت اور عزیمت کا ذکر کیا جائے جس نے انصارِ مدینہ کی یاد تازہ کردی ہے؟ یا دنیا بھر میں حقوق انسانی کا واویلا کرنے والی اور حیوانوں کے غم میں مری جانے والی دوغلی تنظیموں کی حقیقت آشکارا کی جائے جن میں سے ایک بھی… میں دہراتا ہوں… ایک بھی یہاں موجود نہیں ہے۔ یا پھر مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور صاحب حیثیت مسلمان بھائیوں کی بے بسی کا رونا رویا جائے جو شام کے مظلوموں پر شام غریباں کے چھائے بادل گرجتے برستے دیکھ کر بھی ہونٹ سیے ہوئے ہیں؟؟؟ حکمرانوں نے زبانوں پر تالے ڈال لیے ہیں اور عوام آنکھیں بند کرکے عافیت کی باقی ماندہ گھڑیاں باری آنے تک گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔