• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

پاکستان جن دنوں وجود میں آیا انہی دنوں دنیا میں دو اور ملک بھی وجود میں آئے۔ دنیا کا طبعی جغرافیہ تو کہیں صدیوں میں کائناتی حوادث کے نتیجے میں بدلتا ہے کہ ایک دریا اپنا راستہ چھوڑ کر رخ بدل لے یا پہاڑ زلزلے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں، لیکن سیاسی جغرافیہ سے بننے والی سرحدی لکیریں اکثر و بیشتر جنگی حوادث کی بنا پر ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ دو اور ملکوں کا دنیا کے نقشے پر ابھرنا کوئی انوکھی بات نہ تھی، مگر ان دونوں ملکوں میں ایک قدر مشترک ہے جس کی بنا پر اس خصوصیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا جو پاکستان اور ان دونوں کی تقابلی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شریعت اور فطرت کا امتزاج

قرآن شریف میں آتا ہے کہ ’’کچھ منصوبے انسانوں کے ہوتے ہیں اور کچھ منصوبے اور تدبیریں اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے منصوبے تو کامل اور مکمل ہوتے ہیں۔ عاجز انسانوں کے منصوبے قادرالمطلق کے منصوبے کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔‘‘ اسرائیل چونکہ تورات کی تعلیمات کے بجائے مغربی زندگی اپنا چکا تھا، تو وہاں پر بچوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور فلسطین والے مسلمان مغربی زندگی سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے، تو ان کے یہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور جس چیز کو ایک زمانے میں ہمارے ہاں عیب یا عار بنالیا گیا تھا کہ زیادہ بچے جننے والے جوڑے سے کہا جاتا تھا کہ ’’پڑھ لکھ کر تم نے ڈبودیا‘‘ تو پڑھنے لکھنے کے دوران یہ ذہن بنادیا جاتا تھا کہ کم بچے، یہ مہذب تعلیم یافتہ اور معاصر دنیا کی سمجھ رکھنے والے لوگوں کی لاگت ہے۔ فلسطین والے اس بھرم میں نہیں آئے تو وہاں نہ صرف بچوں کی تعداد زیادہ ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی تدبیر کچھ یوں ہے کہ القدس کی حفاظت کی خاطر جتنے مسلمان شہید ہوئے ہیں، ان سے دو یا چھ گنا زیادہ فلسطینی مسلمانوں کو نرینہ اولاد کا تحفہ دیا ہے۔ حال ہی میں ایک خاتون 69 نرینہ بچوں کو جنم دینے کے بعد چالیس سال کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالم اسلام کے دو بازو

اللہ تعالیٰ نے کچھ اوقات، کچھ جگہوں اور کچھ چیزوں میں خصوصی ’’برکت‘‘ رکھی ہے۔ ’’برکت‘‘ کا معنی: ’’اضافہ اور بڑھوتری‘‘۔ یہ اضافہ کبھی ظاہری اور مادّی شکل میں ہوتا ہے اور آنکھوں سے دیکھنے میں آتا ہے اور کبھی معنوی اور باطنی شکل میں ہوتا ہے اور دل کی آنکھوں سے نکلنے والی ایمان کی روشنی سے نظر آتا ہے۔ ’’لیلۃ القدر‘‘ بظاہر عام راتوں کی طرح چھ سے آٹھ گھنٹوں کی ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس میں ہزار مہینوں جتنی برکت رکھ دیتا ہے۔

حجاز اور شام کرئہ ارض کے سب سے زیادہ بابرکت حصے ’’ارض العرب‘‘ کے ممتاز ترین خطے ہیں۔ ان کی سرزمین بظاہر عام زمینوں کی طرح بلکہ ظاہری رونق اور چمک دمک دوسری جگہوں کی کچھ زیادہ ہی ہے، لیکن ان میں اللہ تعالیٰ نے خاص برکت رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دونوں گھر (قبلۂ اوّل اور قبلۂ آخر) یہیں ہیں۔ اولوالعزم پیغمبر یہیں آئے۔ عظیم المرتبت آسمانی چار کتابیں یہیں نازل ہوئیں۔ ابتدائے کائنات سے آج تک انسانی تاریخ کا رخ بدلنے والے بڑے بڑے واقعات یہیں وقوع پذیر ہوئے اور آخر زمانے میں پوری دنیا کا روحانی، سیاسی اور بشری جغرافیہ بدل دینے والے عالمگیر واقعات بھی یہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جانﷺ ہے تو جہان ہے

’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ یہ اردو کا ایک مشہور محاورہ ہے۔ اس کا تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہم سے تعلق سمجھنے کے لیے آپ کو کالم کی آخری سطر تک انتظار کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جیسی متبرک و بابرکت ذات سے… جو خود ربّ العزت جلّ جلالہٗ کے محبوب ہیں… عقیدت و محبت کی توفیق دی۔ بس یہ وہ سہارا ہے جس کی بنا پر ہم دنیا میں سرخ روئی اور آخرت میں نجات و فلاح کی امید رکھتے ہیں۔ جو امتی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دامن سے چمٹا ہوا ہے اس کو کامیابی و کامرانی کے لیے کسی اور ضمانت کی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف دنیا میں ایسے لوگوں کو مادّی غلبہ نصیب ہوگیا ہے جو اپنے انبیائے کرام کی گستاخی کے سبب ملعون و مغضوب ہوئے اور بندر و خنزیر بنائے گئے، ان سے یہ عادتِ بد گئی نہیں۔ انہیں کسی طور مسلمانوں کی اپنے نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بے لوث محبت اور وارفتگی کی حد تک پہنچی ہوئی والہانہ عقیدت ایک آنکھ نہیں بھائی۔ اور وہ جلن و حسد کے سبب مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے ان کی محبوب ترین ہستی… جو انسانی تاریخ کی اور اس کائنات کی محبوب ترین ہستی ہیں…

مزید پڑھیے۔۔۔

سلطان فاتح کی مسجد میں

وہ واقعہ لکھنا چاہوں گا جو سلطان فاتح کی مسجد میں پیش آیا اور اس کتاب کی تالیف کے لیے مہمیز ثابت ہوا۔ یہ احقر جن دنوں ترکی میں ’’آپ ہدایہ کیسے پڑھیں؟‘‘ کے نام سے دورہ کروارہا تھا۔ اس زمانے میں وہاں شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ کے دو شاگرد تشریف لے آئے۔ ایک تو شام کے مشہور عالم شیخ محمد عوامہ صاحب دامت برکاتہم جن سے اجازت حدیث کا یادگارواقعہ راقم اسی کتاب میں تحریر کرچکا ہے۔ دوسرے عراق کے مشہور عالم شیخ عبدالسمیع انیس صاحب۔ میزبانوںسے درخواست کر کے ان کی زیارت اور ان سے اجازت حدیث حاصل کرنے کی ترتیب بنائی گئی۔ اللہ کی شان کے سلطان محمد فاتح کی مسجد میں ملاقات طے ہوئی۔ اس کے ایک کنارے بیٹھ کر ہم نے شیخ کی ترتیب دی ہوئی سو احادیث پرمشتمل کتاب ’’الأوائل الحدیثیۃ المئۃ‘‘کی قرأت اور سماع کیا۔ طریقہ یہ تھا کہ شیخ نے اس کتاب میں حدیث مبارک کی سو کتابوں سے پہلی حدیث جمع کی ہوئی ہے۔ پہلی حدیث وہ خود پڑھتے اور پھر باری باری سب حاضرین ایک حدیث پڑھتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شرعیت وفطرت کا امتزاج

دنیا میں انسانی آبادی کا تناسب مرد و زن کے اعتبار سے تقریباً ایک اور چار کا ہمیشہ سے ہی رہا ہے یا اس کے لگ بھگ۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں جو دینی فطرت ہے اور عالم الغیب کا بھیجا ہوا نظامِ حیات ہے، اس میں ایک مرد کو چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے، حکم تو نہیں، مگر اجازت ہے اور ترغیب بھی۔ ساتھ ہی حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ یہ تناسب ایک اور چالیس ہوجائے گا۔ اس زمانے میں وہ لوگ جو ایک مرد کی چار شادی پر اعتراض کرتے تھے، وہ ازخود چار شادیوں کو تو لازم قرار دے دیں گے۔ اس زمانے کی ابتدا شاید ہوچکی ہے، کیونکہ اس وقت دنیا میں انسانی آبادی میں خواتین کا تناسب مردوں کے بنسبت چار اور ایک سے بہت بڑھ گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا

اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر زمین پر خانہ کعبہ کی شکل میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنایا۔ اس کے چالیس سال بعد دوسرا گھر مسجد اقصیٰ کی شکل میں بنا۔ (بخاری شریف بروایت حضرت ابوذرؓ) یہی دونوں گھر دو قبلے ہیں۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلے گھر سے دوسرے گھر تک لے گئے۔ وہاں تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرواکر آسمانوں پر اپنے عرش تک عروج عطا فرمایا۔

اولین و آخرین کی یہ امامت اور پھر فرش سے عرش تک کا یہ سفر جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت تامّہ کی علامت ہے وہیں آپ کی امت کی تمام امتوں پر فضیلت کا شاہد عدل بھی ہے۔ یہ امت دونوں قبلوں کی وارث اور انبیاء کرام علیہم السلام کی ان دونوں عبادت گاہوں کی امین و خادم ہے۔ آج قبلہ اوّل گھیرے میں آچکا ہے اور قبلۂ حقیقی پر دشمنانِ خدا و رسول اور حاسدین اسلام کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ روحانی وراثت کا تحفظ اور امانت کی پاسبانی ایمانی غیرت کو پکار رہی ہے۔ ’’ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

درہم نہیں کلہاڑی

اکثر باتیں پہلے کردی گئی تھیں، مگر فقیروں کی مانتا کون ہے؟ کسی نے کہا: ’’مبالغہ ہے۔‘‘ کسی نے کہا: ’’بے جا مرعوبیت ہے۔‘‘ کسی نے کہا: ’’سائنس فوبیا‘‘ ہے۔ کسی نے کہا… چلیے چھوڑیے! اس بحث سے اب کیا لینا… اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مل جل کر ایسا کچھ کیا جائے کہ ہم اپنے بھائیوں کو ایسے انداز میں بچانے کی کوشش کریں کہ ہم خود بھی بچ جائیں۔ اگر چند بھائی اکٹھے رہتے ہوں اور اپنے اپنے گھر میں لگی آگ بجھانے میں لگے ہوں اور کسی سے نہ بجھ رہی ہو تو انہیں ایک کوشش یہ کرلینی چاہیے کہ ایک دوسرے کے گھر کی آگ بجھانے میں ہاتھ بٹائیں۔ بہت ممکن ہے کہ ایک ایسی صلاحیت یا مواد کا مالک ہو کہ دوسرے کے گھر کی آگ اس کے ہاتھ سے بجھ جائے اور اس کے گھر کی آگ دوسرے کے ہاتھ سے بجھ جائے۔ اللہ کا وعدہ ہے اور کسے شک ہے کہ بالکل سچا ہے: اخوت اسلامی پر نصرتِ الٰہی اتر کر رہتی ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ روشن روشن چہرے

یہ چمکتے دمکتے چہرے، یہ روشن روشن پیشانیاں، یہ اجلے اجلے نکھرے نکھرے حلیے ان فضلاء کے ہیں جو گزشتہ ایک ڈیڑھ دھائی میں جامعۃ الرشید کے مختلف شعبوں میں سے کسی شعبے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ڈیڑھ دو دھائی کسی تعلیمی ادارے کے لیے بڑی مدت نہیں، لیکن علمی خدمات کے تنوع اور تکثر کے سبب جو امتیاز جامعہ کو حاصل ہوا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کی دین ہے جس پر بے تحاشا شکر واجب اور پہلے سے زیادہ ہمت اور توجہ کے ساتھ محنت لازم ہے۔ بہت سے قدیم فنون جو مٹتے جارہے تھے، اللہ تعالیٰ نے زندہ کیے اور بہت سے جدید فنون جن کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہاں شروع کروائے۔ فضلائے کرام کا یہ اجتماع ان سے تقاضا کرتا ہے کہ جو چیزہماری قدیم میراث ہے اسے اس کے اہل کے حوالے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کریں اور جو متاع گم گشتہ ہاتھ لگی ہے اس کی جہاں جہاں مانگ اور کھپت ہے، وہاں پہنچانے میں اور گہری بنیادوں پر پیوندکاری کرنے کے لیے انتھک کوشش کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محبت پھیلائیے آخرت سنواریے

مکہ مکرمہ میں جب مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں حبشہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ مکہ ارض عرب میں ہے اور حبشہ افریقہ میں۔ نہ زبان ایک، نہ رنگ و نسل، نہ نظریہ و مذہب، لیکن اخلاق اور تہذیب ایسی چیز ہے جس نے کالوں کو گورے یا سانولے رنگ والوں کا… اور عجمی کو عربی کا میزبان بنادیا۔ یہ میزبانی پناہ فراہم کرنے اور بدسلوکی نہ کرنے تک محدود تھی، ورنہ دارالہجرت اور دارالنصرت ممکن تھا کہ حبشہ ہی ہوتا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ حبشہ جو آج ایتھوپیا کہلاتا ہے، کا لحاظ کریں کہ انہوں نے ہمارے بڑوں کا اکرام و احترام کیا تھا۔ اس کی سب سے بہترین شکل یہ ہے کہ ہم وہاں زیادہ سے زیادہ اسلام کی روشنی اور ہدایت کا نور پھیلانے کی کوشش کریں۔ اور دنیا میں جہاں ایتھوپین ملیں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ حسن خلق اور وفا بالعہد ایسی چیزیں ہیں جو جاہلیت و اسلام سب میں قابل قدر تھیں اور ہیں۔

حبشہ کے مہاجر حضرات میں خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صاحبزادی بھی شامل تھیں جو حضرت عثمانؓ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ نجاشی نے ان سب کا بے مثال اکرام کیا، لیکن حبشہ والے نصرت کی وہ شکل نہ اپنارہے تھے

مزید پڑھیے۔۔۔

خون کی لکیر

پچھلی نشست میں آپ کو آنسوئوں کی ایک لکیر دکھائی تھی۔ شام اور ترکی کے درمیان حد فاصل بننے والی سرحدی لکیر۔ یہ لکیر دارالہجرۃ اور مدینۃ الانصار کے درمیان حدّفاصل کا کردار ادا کررہی تھی، لیکن اب سچ بات یہ ہے کہ ترک حضرات نے جغرافیائی لکیروں سے پیدا ہونے والے فاصلوں کو عملاً مٹاکر انصارِ مدینہ کی یاد تازہ کردی ہے۔ رات جب میں دوبارہ یہاں پہنچا تو ایک ترک شہری نے کہا کہ ہم نے سوچ لیا ہے کہ شامی مہمان یہیں رہیں گے اور ہم خود بھوکے رہ کر بھی ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ خدا جانے جہاں میں صورت آفتاب جینے اور ادھر ڈوب کر ادھر سے نکلنے کی صفت قوم رسول ہاشمی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں کس طرح اور کیسے کیسے اپنا آپ دکھاتی رہتی ہے۔ اس لکیر کے ایک طرف بسنے والے انصار میں سے ایک ایک شہر نے دوسری طرف سے آنے والے ایک ایک شہر کے قافلے کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور مقدور بھر نصرت کی کوشش کررہے ہیں۔ پیلدہ والوں نے لاذقیہ والوں کو مہمان بنالیا۔ ریحانیہ والوں کے حصے میں ادلب والے آئے۔ کلس والوں نے حلب کے لیے آنکھیں بچھائیں اور غاز ی انتب نے الباب، منبج اور دابق کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیا۔ ’’ارفہ‘‘ جس کا پورا نام ’’شان لی ارفہ‘‘ ہے، یہ نسبتاً مدینۃ الفقراء تھا۔ اس کو بیک وقت چار شہروں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ حسکہ، رقہ، طبقہ (جہاں واقع ’’بحیرۃ الاسد‘‘ نامی جھیل سے دریائے فرات نکلتا ہے) اور عین العرب۔ پاکستانی بھائیوں کو چاہیے ان چار انصار شہروں کو اپنے چار شہروں (کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد) کے جڑواں شہر بنالیں تاکہ ’’انصار الانصار‘‘ کا فخریہ لقب ہمیں حاصل ہو اور دنیا اخوت و نصرت کے سورج کو ابھرتا ہوا دیکھنے کا نظارہ کرسکے۔

مزید پڑھیے۔۔۔