• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

صہیونی جارحیت کا علاج

جنونی اسرائیل نے ایک بار پھر محصور فلسطینیوں کو آگ و خون کی بارش میں نہلادیا ہے۔ نہ ماہ رمضان کا تقدس نہ شہری آبادی میں موجود بچوں اور عورتوں کا لحاظ، ظلم و درندگی کی ایسی داستانیں ہیں کہ لگتا ہے انسانی احساسات نام کی چیز نہ یہود میں ہے نہ اس مغرب میں جو اس سے سو درجہ کم حرارت کے واقعے پر آسمان سر پر اُٹھالیتا ہے۔ ہم ذیل میں ایک دو واقعات کی روشنی میں یہود کی اس سنگدلانہ و خونخوار نفسیات کا تجزیہ کریں گے تاکہ سمجھ میں آسکے کہ اس شوریدہ سر قوم سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے۔
محمود شیت خطاب ماضی قریب میں عرب کے مشہور ادیب گذرے ہیں۔ کئی اعلیٰ پائے کی نگارشات ان سے یادگار ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے سلیس اور شستہ قلم عطا فرمانے کے ساتھ انسانی زندگی کے رواں دواں واقعات کا مشاہدہ کرنے اور ان کی مدد سے دلچسپ تجزیہ کرنے کی نکتہ رس اور باریک بین صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے کچھ وقت عراقی فوج میں بھی اچھے عہدے پر گذارا۔ اپنے مشاہدات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے واقعات سے قیمتی سبق اَخذ کرکے ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام ’’عدالۃ السمائ‘‘ یعنی آسمان کی عدالت یا ’’آسمانی فیصلے‘‘ تھا۔ اس میں وہ اپنا چشم دید واقعہ… جو یہودی نفسیات کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرتا ہے… لکھتے ہیں کہ 1948ء میں میں عراقی فوج کی اس یونٹ میں خدمات انجام دے رہا تھا جو فلسطین میں ’’جنین‘‘ نامی مقام پر اسرائیلی فوجیوں کے بالمقابل ڈیوٹی دے رہی تھی۔ ان دنوں یہ مقام عراقی فوج کے زیر نگرانی تھا۔ جب عراق کی فوج یہاں سے چلی گئی تو یہ علاقہ انگریزوں نے ص

مزید پڑھیے۔۔۔

دو نکتے دو نتیجے

میرے سامنے دنیا کے مالدار ترین ممالک کی فہرست بھی ہے اور غریب ترین ممالک کی بھی۔ دنیا کے مالدار ترین افراد کے نام بھی ہیں اور غریب ترین ریاستوں کے نام بھی۔ تعجب کی جو بات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دونوں طرح کی فہرستوں میں مسلمان ممالک اور افراد موجود ہیں۔ یعنی وہی مسلمان جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کا اسلام حقیقی اسلام نہیں اگر خود کا پیٹ بھرا ہو اور پڑوسی بھوکا ہو، انہی کی صورتحال یہ ہے کہ کچھ اس روئے زمین کے مالدار ترین لوگوں میں شامل ہیں اور کچھ بدحال ترین لوگوں میں، جس کا صاف مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ امیر غریب کو نہیں پوچھ رہا ورنہ غربت کی ہلاکت خیزیاں نہ رہتیں… اور غریب امیر کے لیے برکت اور رحمت کی دعائیں نہیں کررہا، ورنہ بن مانگے امیر کا دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتا۔ اسلام کی بعض چیزیں ایسی ہیں جو اس کے برحق مذہب ہونے کی ناقابل تردید عقلی دلیل ہیں۔ مثلاً: میراث اور مالیات کے نظام کو لے لیجیے۔ دونوں میں ایک خاص تناسب ہے۔ میراث میں تین تین کی جوڑی میں چھ مقرر حصے ہیں جو ایک دوسرے کا نصف یا دُگنا ہیں۔ یعنی نیچے سے اوپر کو جائیں تو حصہ دگنا ہوتا چلا جائے گا اور اوپر سے نیچے کو آئیں تو آدھاہوتا چلا جائے گا۔ جو جتنا میت کے قریب ہوگااتنا زیادہ لے گا، جو جتنا دور ہوگا اتنا کم لے گا۔
کچھ اسی طرح کی صورتحال اسلامی مالیات کے نظام کی ہے۔ اس میں چار چیزیں ہیں۔ زکوٰۃ، نصفِ عُشر، عُشر اور خُمس۔ یعنی 2.50 فیصد، 5 فیصد، 10 فیصد اور 20 فیصد۔ تجارتی مال کی زکوٰۃ ڈھائی فیصدہے۔ نہری زمین کی 5 فیصد، بارانی کی 10 فیصد اور معدنیات کی 20 فیصد۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخ کے چند سبق

خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی پوری کوشش تھی کہ آخری خلیفہ کو ارضِ حرمین میں پناہ مل جائے یا پھر وہ ہندوستان آجائیں۔ ارضِ حرمین مرکز اسلام ہے۔ یہاںان کے آجانے سے شمع توحید وخلافت کے پروانے پھر ان کے گرد جمع ہو جاتے اور کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کی اجتماعی نمایندگی کی واحد ریاستی شکل یعنی ’’خلافت‘‘ کسی نہ کسی شکل میں قائم رہتی۔ اگر ہندوستان آجاتے تو یہاں علمائے دیوبند کی شکل میں حریت وجہاد کے بے لوث علمبردار موجود تھے۔ ایسی زور دار تحریک چلتی کہ انگریز کو مقبوضہ ممالک پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا۔ اسرار عالم اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’دجال‘‘ جلد سوم میں لکھتے ہیں:
’’سقوطِ خلافت 1923ء سے لے کر 1990ء تک اس امت مرحومہ پر پانچ عظیم قیامتیں ٹوٹیں:1923ء میں (Dntertainment) کے تحت ترکی میں جمہوریت قائم کرنے، خلافت عثمانیہ کے بقیہ تمام علاقوں پر قبضہ کرلینے اور ان پر لیگ آف نیشنز (League of Nations) انتداب کا اعلان کر دینے اور پھر ترکی میں قائم کی جانے والی اس جمہوریت کے ذریعے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کروانے اور خلیفہ کو ملک بدر کردینے کے بعد پوری دنیا میںخلیفہ کے لیے زمین تنگ کر دینا، وہ پہلی قیامت تھی جو بیسویں صدی عیسوی میں امت پر ٹوٹی۔ اس کی تین صورتیں سامنے آئیں:
(۱)یہودیوں نے برطانیہ اور فرانس کے توسط سے اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کی کہ کوئی آزاد یا نیم آزاد مسلم ملک اور وہاں کا سربراہ خلیفہ کو اپنے یہاں پناہ دے نہ اپنے یہاں خلافت کے نظم کو قائم کرنے دے۔ چنانچہ دنیا کہ تمام مسلم ملکوں اور ان کے حکمرانوں نے ایسا ہی کیا اور کسی نے خلیفہ کو پناہ دی

مزید پڑھیے۔۔۔

دو شہیدوں کا مشن

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے تین بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد میں تراویح بمع ترجمہ یا تفسیر کے اشتہارات نے تمام بڑے چوکوں اور اہم مقامات پر نمایاں جگہ پالی ہے۔ یہ رجحان چند سالوں سے بڑھتا جارہا ہے۔ ان اشتہارات پر غور کیا جائے تو اکثر کے پتے مسجد یا مدرسہ کے علاوہ کسی شادی ہال یا پارک وغیرہ کے ہیں۔
درسِ قرآن وہ علمی اور اصلاحی تحریک ہے جس کی وصیت ہمارے روحانی آباء واسلاف بڑی تاکید سے کرتے تھے۔

تعجب ہے کہ دوسری بہت سی چیزیں جو اس خدمت سے زیادہ محنت طلب یا پیچیدہ ودشوار ہیں، ان کا بیڑا علمائے کرام نے پوری توجہ اور محنت سے اٹھایا ہوا ہے۔ صرف یہ ایک ایسی چیز ہے جو آسان بھی ہے اور عوام کے لیے انتہائی مفید بھی، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر منبرو محراب سے درسِ قرآن وحدیث کی صدائیں معدوم ہیں اور عوام اپنی یہ دینی ضرورت پوری کرنے کے لیے مسجد کی دہلیز چھوڑ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ رہے ہیں یا پھر ہالوں کا رخ کررہے ہیں۔
حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے شاگردوں اور متعلقین کو اپنے آخری دنوں میں عمر بھر کے تجربات کا نچوڑ اور غور و فکر کا حاصل بتاتے ہوئے تاکیدی وصیت کی تھی کہ قرآن کریم کے لفظ و معنی کو عام کرنے پر محنت کی جائے۔ الحمد للہ! لفظ کو عام کرنے میں تو اللہ کے فضل سے ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ دنیا میں کوئی بھی اتنی محنت کسی بھی فن کے لیے نہیں کرتا جتنی ہمارے مدارس میں قبل فجر تا بعد عشائ، تحفیظ و قراء ت کے شعبے پر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

سلطان عبدالحمید دوم کے بعد ترکی کے تخت پر تین اور سلطان بیٹھے: محمد پنجم، محمد وحیدالدین ششم اور عبدالمجید دوم، لیکن ان میں سے کوئی بھی نہ خالص عثمانی خون اور عثمانی مزاج پر تھا نہ وہ حقیقی طور پر صاحبِ اختیار تھا۔ ’’نقشِ دل‘‘ کا جادو ئی نقش چل چکا تھا۔ وہ غیرتمند عثمانی خون میں دوغلے خون کی آمیزش کر کے 29 سال کے عرصے میں اپنا کام کرچکی تھی۔ آخری 2 میں پہلے سے تو محض سلطنت عثمانیہ کے سقوط اور دوسرے سے خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کا کام لیا گیا۔ تمام نیک دل مسلمان حسرت سے عثمانی سلطنت کی ڈوبتی ہوئی نبضیں دیکھ رہے تھے۔ سرکاری طور پر تمام اقتدار GNA (گرینڈ نیشنل اسمبلی) کے پاس تھا اور اس کے ذریعے فری میسنز کے پاس۔ اخیر الذکر دونوں حکمرانوں میں سے پہلے یعنی سلطان محمد وحید الدین ششم کو سلطنت سے معزول کیا گیا۔ دوسرے کو خلافت سے بھی معزول کردیا گیا، لیکن وہ مرغِ بسمل کی طرح تڑپ بھی نہ سکے۔ کھیل کے آخری لمحات کی داستان انتہائی المناک اور دل کا خون کرنے والی ہے۔ آئیے! اس دلخراش داستان سے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ شاید یہ حسرت وندامت ہمیں مستقبل میں دشمن کے بدلتے پینتروں کو سمجھنے اور اس کے وار سے بچنے میں مدد دے سکے۔
سلطنت عثمانیہ جس کے آخری 2 حکمرانوں کی رگوں میں اگرچہ عظیم سلاطین آل عثمان کا خون تھا، لیکن اس میں یہودی

مزید پڑھیے۔۔۔

دل کش نعروں کی آڑ میں

سلطان سلیم کی معزولی کے بعدسلطان محمود دوم کو 28 جولائی 1808ء کو تخت نشین کردیا گیا۔ اب نپولین اور جوزفین کی رشتہ دار ’’مارتھا‘‘ یعنی نقشِ دل، والدہ سلطان کے مرتبہ پر فائزاور اس کا دور کا بھانجا اسلامی دنیا کا طاقتور ترین حکمران تھا۔ نمک حرام مارتھا کی کوشش تھی کہ خود اپنی جنم دی ہوئی نسل کو طاقت اور سلطنت سے محروم کر کے دنیا سے ’’خلافت‘‘ نامی مثالی طرزِ حکومت کا خاتمہ کردے۔ بڑا کھیل اپنے پہلے نصف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ’’مارتھا‘‘ اگلے 29 برس تک زندہ رہی۔ و ہ مسلمانوں کے بادشاہ کی انتہائی با اثر فرانسیسی ماں تھی۔ اس نے کھیل کے لیے تیزی سے میدان سجانا شروع کیا۔ عثمانی تہذیب مفقود اور فرانسیسی تہذیب غالب آتی گئی۔ محمود دوم نے پگڑی اور جبّہ وغیرہ پہننا چھوڑ دیا۔ یورپی لباس اپنا لیا۔ آخری دو خلفائ… 36 واں اور 37 واں حکمران… جن کی تصاویر ملتی ہیں، اسی لیے یورپی لباس میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔
تاریخ سے ناواقف قاری تعجب کرتا ہے کہ ان کی سلطنت تو کمزور ہوئی تھی، ان کے حلیوں کو کیا ہوا؟ 30 ویں نمبر کے اس حکمران جو نقشِ دل کا فرزند ہونے کی بنا پر یورپی نقوش کو عثمانی آثار پر مسلط کررہا تھا، تمام عمائدین سلطنت اور سرکاری اہلکاروں کو اپنی تقلید کا حکم دیا تاکہ ترقی کو جلد از جلد آزادی کے ذریعے حاصل کرسکے۔ آزادی کس سے؟ کیا وہ غلام تھے؟ نام نہاد جمہوری آزادی جس نے ترکی کو سیکولر یورپ کی غلامی میںدھکیل دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ظلم در ظلم

یوں تو جتنے بھی شیطانی کام ہیں، اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث ہیں، لیکن سود خوری ایسا شیطانی گھن چکر ہے کہ اس پر اللہ تعالی کی ناراضی کے اظہار والی آیت اور حدیث پڑھ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب تک اس ظالمانہ دھندے کی حقیقت معلوم نہ ہو، اس وقت تک سمجھ نہیں آتا کہ رب کائنات کو اس سے اتنی شدید نفرت اور کراہیت کیوں ہے؟
ہمارے حالیہ بجٹ سے متعلق ایک اہم خبر اس راز کی کسی حد تک نقاب کشائی کرتی ہے کہ سود کے لین دین میں ملوث ہونے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ کیوں بحرانوں کا شکار رہتے ہیں اور ایک بحران ختم ہوتے ہی دوسرے کی آہٹ کیوں سنائی دینے لگتی ہے؟
اس خبر کے پڑھنے سے پہلے ہر شخص کو یہ خیال آتا تھا کہ سود سے جان بھی تو نہیں چھڑائی جا سکتی۔ بیرونی ممالک یا اداروں سے جو قرض لیا ہے، وہ بمع سود ادا تو کرنا ہی پڑے گا، ورنہ وہ ہمیں دیوالیہ قرار دے دیں گے، ناطقہ بند کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گھر کو گھر کے چراغ آگ لگا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت یا قوم پر سود کا زیادہ تر بوجھ بیرونی قرضوں کا نہیں، اندرونی قرضوں یعنی پاکستانی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا ہے۔ پاکستانی سودی اداروں کا پاکستانی حکومت پر واجب الادا سود اتنا زیادہ ہے کہ حالیہ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم جس مقصد کے لیے مختص کی گئی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی تاریخ کے چند المناک ورق

خلافتِ عثمانیہ (خلافتِ راشدہ، خلافت امویّہ اور خلافتِ عباسیہ کے بعد) اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تھی۔ اس میں تقریباً 642 سال از 1282ء تا 1924ء تک 37 حکمران مسند آرائے خلافت ہوئے۔ پہلے 8 حکمران سلطان تھے۔ خلیفۃ المسلمین نہ تھے۔ انہیں اسلامی سلطنت کی سربراہی کا اعزاز تو حاصل تھا، خلافت کا روحانی منصب حاصل نہ تھا۔ 9 ویں حکمران سلطان سلیم اوّل سے لے کر 36 ویں حکمران سلطان وحید الدین محمد سادس تک 30 حضرات سلطان بھی تھے اور خلیفہ بھی، کیونکہ خلافتِ عباسیہ کے آخری حکمران نے سلطان سلیم کو منصب و اعزاز خلافت کی سپردگی کے ساتھ وہ تبرکاتِ نبویہ بھی بطور سند و یادگار دے دیے تھے جو کہ خلفائے بنو عباس کے پاس نسل در نسل محفوظ چلے آرہے تھے۔ یکم نومبر 1922ء کو چونکہ مصطفی کمال پاشا نے مغربی طاقتوں اور ’’برادری‘‘ کی ایما پر ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کرکے خلیفہ اسلام، عثمانی سلطان محمد وحید الدین ششم کی اٹلی کی طرف ملک بدری کے احکامات جاری کردیے تھے، اس لیے اس نامبارک دن سلطنت ختم ہوگئی، البتہ خلافت اب بھی باقی تھی۔ سلطان وحید الدین ششم کی جلا وطنی کے بعد ان کے پہلے قریبی رشتہ دار عبدالمجید آفندی کو آخری عثمانی خلیفہ بنایا گیا، مگر 3 مارچ 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے ایک مرتبہ پھراسلام دشمنی اور مغرب پروروں کا ثبوت دیتے ہوئے اتاترک کی قیادت میں اسلامی خلافت کے خاتمے کا قانون بھی منظور کرلیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انتہا پسندی کی ایک مثال

زندگی میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے انسان کو ہنسی آتے آتے رُک جاتی ہے، یا وہ جواب دیتے دیتے خاموشی بہتر سمجھتا ہے۔ایسی ہی کچھ کیفیت ہم نے اس وقت محسوس کی جب ’’اسلام پسند اتاترک‘‘ نامی کالم پڑھا۔ ہمارے ایک محترم قلم کار نے جو انقرہ سے ترکی پر کالم لکھتے ہیں، ’’اسلام پسند اتاترک‘‘ کے نام سے کالم لکھ کر صحافت کے طلبہ کے لیے ایک مثال پیش کی ہے۔ قلم کار چاہے تو دن کو رات اور سیاہ کو سفید کہنے کا محاورہ یوں سچ کر دکھاتا ہے کہ ساری دنیا کے عقلمند مل کر بھی ایسا غیرمعقول شاہکار نہ گھڑ سکیں۔ انہوں نے پہلے سیکولر ازم کی تعریف کی ہے۔ پھر اس کی رو سے اتاترک کو اسلام پسندبھی قرار دیا ہے۔ گھٹنا مارنے سے آنکھ پھوٹے یا ہرن کے پاؤں میں تیر لگے اور سر سے جا نکلے، اس پر اتنا تعجب نہیں، جتنا کسی ایک کو سیکولر مان کر اسے اسلام پسند تسلیم کروانے پر ہے۔ بھلا بتائیے! ہنسی آتے آتے کیوں نہ رُکے گی؟ اتاترک کو اسلام پسند ماننے سے بہتر ہے خود کو عقل کا دُشمن قرار د ے لیا جائے، پھر جو چاہے انسان کرتا پھرے۔
آئیے! پہلے سیکولر ازم کی تعریف جو خود اسی کالم میں درج ہے، پر نظر ڈالتے ہیں۔ پھر اس کی روشنی میں اتاترک کا سیکولر قد کاٹھ اور اس میں اسلام پسندی کا عنصر آسانی سے دریافت کیا جاسکے گا۔ ’’ہمارے مذہبی حلقوں نے سیکولر ازم کو کافرانہ نظام قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت شروع کردی، حالانکہ سیکولرازم کافرانہ نظام نہیں ہے، بلکہ مذہبی حلقے جان بوجھ کر سیکولر ازم کا ترجمہ لادین (جس کا کوئی دین نہ ہو) کرتے رہے ہیں، جبکہ

مزید پڑھیے۔۔۔

متوازن تعبیر، روشن تصویر

آج کل مدارس کی سالانہ تقریبات ہورہی ہیں۔ مدارس کی کارگذاری سال بھر کی محنتوں کا نچوڑ، ختم بخاری شریف کے مستجاب موقع پر رقت انگیز دعائیں، اسا تذہ کی نصیحتیں، طلبہ کے چمکتے دمکتے پرنور چہرے، فضلاء کی آہیں، سسکیاں اور آنسو… کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو بھی اپنے اکابر اور اساتذہ کی طرح قبول فرما… کیسے روح پرور مناظر ہیں؟ ایسے میں جامعۃ الرشید کا سالانہ جلسہ بھی صرف اور صرف اللہ کے فضل و کرم سے ایک منفرد مثال اور قابل تقلید نمونہ قائم کرچکا ہے۔ دنیوی شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو دین کی دعوت اور مدارس کا تعارف اور دونوں طبقوں کے بیچ پایا جانے والا خلا پاٹنے کے لیے اس نے علماء اور مدارس کی برادری کی طرف سے منفرد انداز میں نمایندگی کی ہے۔ اللہ کے توفیق سے ذہن یہ پایا جاتا ہے کہ یہ محض جامعہ کا نہیں، محض وفاق اور مدارس دینیہ کا بھی نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے حاملین و مبلغین کی اہلیت و صلاحیت کا ثبوت اور اسلام کا بہترین تعارف ہو۔ اس مرتبہ ایک جاپانی مندوب کی شرکت سے یہ تاثر اور گہرا ہو گیا ہے۔ اب یہ ایسا اجتماع ہے کہ غیر مسلموں کے سامنے بھی اسلام کی خوبصورت تعبیر اور دل نشین استعارہ قرار پاتا جا رہا ہے۔
مدارس کے سالانہ اجتماعات دو قسم کے ہیں: ختم بخاری شریف اور سالانہ جلسہ۔ ان دو کے حوالے سے ہمارے ہاں تین طرح کے مزاج یا رویّے پائے جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سب اپنی جگہ خیر سے خالی نہیں۔ بعض حضرات ختم بخاری شریف کے

مزید پڑھیے۔۔۔

آخری اینٹ


جامعۃ الرشید اور KCDR کے مشترکہ پروگرام سے مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب کا خطاب
ضبط و ترتیب: عمر فاروق راشد

حمد و صلوۃ کے بعد… استاذ محترم، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم، مہمان خصوصی جناب جسٹس سعیدالزماں صدیقی صاحب، گرامی قدر علمائے کرام اور محترم سامعین! مجھے اس کورس کے ایک شریک اور طالب علم کی حیثیت سے اظہار خیال کے لیے بلایا گیا ہے۔ اس لیے کوشش کروں گا کہ طالب علمانہ گفتگو پر ہی اکتفا کروں۔ اس سے زیادہ ہماری حیثیت ویسے بھی نہیں اور آج تو محفل کی نوعیت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ شروع میں چند باتیں اس کورس کے پس منظر کے حوالے سے عرض کرتا ہوں۔ ہمیں اس کورس کے انعقاد کا شوق کیوں پیدا ہوا؟ ہم میں سے اکثر بوڑھے طوطے تھے۔ یعنی شرکا کی اکثریت میرے محترم بوڑھے دوستوں کی تھی۔ اس کے باوجود ہم نے صبح و شام اچھی طرح سے اخذ و ضبط کی کوشش کیوں کی؟ آخر میں ایک درخواست آج کی محفل کے صدر محترم کی خدمت میں، اور ایک درخواست مہمان خصوصی جناب جسٹس صاحب کی خدمت میں عرض کرکے

رخصت چاہوں گا۔ جس ذوق و شوق سے میں نے اور میرے محترم ساتھیوں نے جو دس دس ، بیس بیس سال کا تدریس اور افتاء کا تجربہ رکھتے تھے، اور ہمارے ساتھ ایسے حضرات بھی تھے، جو مختلف پیشہ ورانہ مہارت کے اعتبار سے اپنے اپنے شعبوں میں بڑا نام رکھتے ہیں۔ ہم سب نے اس کورس میں اس واسطے پوری دلچسپی کے ساتھ شرکت کی، کورس سے پہلے اس کے لیے ہم نے کافی تیاری کی تھی، پھر کورس کے دنوں میں وقت کی پابندی کے ساتھ اسے نبھایا… یہ سب اس وجہ سے تھا کہ علمائے کرام، دینی مدارس اور دینی تحریکوں کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام شعبوں کو زندہ رکھیں، جو دین کے اصلی یا ضمنی شعبے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔