• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ہولوگرام ٹیکنالوجی

شرک کی دنیا میں بہت سی قسمیں ہیں، لیکن سب سے بدترین قسم آخر زمانہ میں ظاہر ہوگی۔ فتنے دنیا میں بہت آئے، لیکن عظیم ترین فتنہ آخری زمانہ (اینڈ آف دی ٹائم) میں ظہور کرے گا۔ فتنۂ عظمیٰ کے زمانے میں شرک عظیم کا ظہور ہوگا۔ عقیدے کی کمزوری اور توھم پرستی میں اضافے کی وجہ سے شرک کی قسماقسم صورتیں وجود میں آرہی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ مادّیت پرست دنیا ’’شرکِ عظیم‘‘ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہورہی ہے یا کی جارہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے فتنوں کے ظہور کی کثرت اس امر کی نشانی ہے کہ دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فتنے کی طرف جارہی ہے۔ زمانۂ جاہلیت قدیمہ میں انسان شرک کی سادہ قسمیں گھڑتا تھا۔ مٹی پتھر، لکڑی لوہے کے بت بنالیے۔ زیادہ ہی عقیدت کا جوش چڑھا اور وسائل کی فراوانی حاصل ہوئی تو سونے چاندی کی مورتیوں تک جاپہنچا، لیکن یہ سب مخلوقات ہیں۔ مخلوق کو خالق کا شریک جاننا صریح اور واضح حماقت ہے۔ ایسے شرک میں دلیل سرے سے مفقود اور عقلیت یکسر ناپید ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم مصطفوی ہیں

باتیں تو کرنے کی کئی ہیں۔ دیکھیں کس کی باری کب آتی ہے۔ سب سے پہلی تو یہ کہ مایوسی یا پست حوصلگی کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ گنجائش ہی نہیں۔ ہم نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ ندامت کے آنسوئوں کی ذرا سی نمی چاہیے، اس کے بعد وہ زرخیزی دیکھنے کو ملے گی کہ ساقی حیران رہ جائے گا کہ یاربّ ایسی چنگاری بھی ہمارے خاکستر میں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دوڑ کر آئو میری طرف۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیر انسان کے ساتھ فضل و کرم کا پہلا معاملہ ہے۔ پھر انسان جب دنیا داری میں پڑ کر اپنے ربّ سے دور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرا احسان یہ فرماتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اسے احساس دلانے والے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ کو دل کی گہرائیوں سے ایسا یاد کرے کہ غفلت کی اگلی پچھلی کسر نکل جائے اور ایسا رجوع نصیب ہو کہ صدیوں کا فاصلہ لمحہ بھر میں طے ہوجائے۔ دنیا نے ہمیں بہت طعنے دیے، لبرلز نے حوصلہ شکنی میں کسر نہیں چھوڑی، سیکولر لوگوں نے دل کھول کر پھپھولے پھوڑے، اب سب حیران و ششدر ہیں کہ مظلوم ہوکر اس اُمت کا یہ حال ہے تو فاتح بن کر اس کی اعلیٰ ظرفی اور بلندی حوصلگی کا کیا عالم ہوگا۔ واللہ العظیم! اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتی جو خود زخموں کے چور ہوکر جاں بہ بلب ہو، لیکن اس حالت میں بھی پانی کا پیالہ دوسرے کے لبوں سے لگانے پر اصرار کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسرائیل کا تیل کہاں سے آتا ہے؟

میڈیا… خصوصاً سوشل میڈیا… انسان کے نظریات سے کیسے کھیل رہا ہے؟ اور اس کا وار کیسا کاری ہوتا ہے کہ عام آدمی کا اس سے بچنا مشکل ہے؟ اس کا اندازہ اس پوسٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کسی صاحب نے فیس بک سے لے کر بھیجی کہ یہ فیس بک کی بہتی گنگا میں ہر طرف گردش کررہی ہے، کیا آپ اس پر کوئی تبصرہ کرسکتے ہیں؟ اس عاجز نے جب پہلا جملہ پڑھا تو احساس ہوگیا کہ جھوٹ کے اس پلندے میں جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جس فریب کاری سے کام لیا گیا ہے، وہ کس کا کمال ہے؟ پھر جب پوری پوسٹ میں بیان کیے گئے ’’حقائق‘‘ کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک طبقہ ہر حال میں، ہر قیمت پر، چاہے اسے جھوٹ باندھنے اور تہمت لگانے جیسا جرم کرنا پڑے، اس امر پر تلا ہوا ہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت کے خلاف اتنا ذہن بنائے کہ کل کلاں خدانخواستہ اسے کوئی حادثہ پیش آجائے تو کوئی افسوس کرنے والا بھی ڈھونڈے سے نہ ملے۔ اس طرح کی اگر منفی ذہن سازی کی یہ پہلی کوشش نظر سے گزری ہوتی تو اسے نظرانداز کرنا بہتر تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دریافت والا ححج

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جن روحانی نوازشات اور دنیوی انعامات سے نوازا ہے، ان میں سے ایک ’’حج‘‘ کا اجتماع بھی ہے۔ اپنی نوازشات کی تکمیل اور دنیوی انعامات کی تتمیم کا بہت خوبصورت منظر بھی ہے اور شان و شوکت اور رعب و دبدبے سے بھرپور مظاہرہ بھی۔ دنیا کے بالکل وسط میں، تین براعظموں کے سنگم پر تین بڑے مقدس مقامات (حرم مکی، حرم نبوی، حرم قدسی) ایک سیدھ میں اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف مسلمانوں کو عطا کیے ہیں۔ یہاں دنیا کے مقدس ترین اور قدیم و نایاب ترین مذہبی آثارِ قدیمہ (حجراسود، مقامِ ابراہیم، صخرئہ مقدسہ) ایسے ہیں جن کی کوئی نظیر اقوام عالم میں، آسمانی مذاہبی کے ماننے والوں میں یا مادہ پرست ملحدین میں کہیں نہیں، کہیں بھی نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آزمائش کے دن

جب فیصلے کی گھڑی… لمحۂ موعود… قریب آن لگے گی تو عجیب عجیب باتیں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی… لیکن کن عجیب باتوں کا فیصلے کے لمحے سے کس طرح کا تعلق ہے؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے نہایت مبہم رکھی ہے۔ اتنی مبہم کہ اس کی علامات کو بھی مبہم رکھا گیا ہے تاکہ آزمائش کے لمحات میں امتحان پر پورا اترنے والے خوش قسمت مبہم علامات کی بالجزم تطبیق میں خود کو کھپانے کے بجائے اپنے حصے کے کام میں لگے رہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک قوم اپنے کرتوتوں کی بارش میں دو مرتبہ ارضِ مقدس سے نکالی گئی۔ پہلی بار شریعت موسویہ کی تحریف و استہزاء پر اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی تضحیک و تکفیر پر۔ دونوں مرتبہ انکار بھی محدود اور بوقت شریعت کا تھا اور توبہ بھی واسطے اور وسیلے دے کر کی گئی تھی، اس لیے انہیں ’’ارضِ موعود‘‘ میں واپسی کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ تیسری مرتبہ انکار بھی دائمی اور عالمگیر شریعت محمدیہ کا ہے، اور واپسی بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کی گئی ہے، اس لیے اب معافی بھی نہ ہوگی، بلکہ پتھر اور درخت بھی پکار پکار کر ان کے خفیہ ٹھکانوں کی آگاہی دیں گے اور ان کے کلّی خاتمے میں کائنات کی ہر چیز اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرید ہندی سے مرشد رومی تک

راقم الحروف کے سامنے اس وقت دو منظر یا دو تصویریں ہیں جس کے تقابل میں کئی اہم سبق پوشیدہ ہیں،لیکن ہماری مشکل یہ بن چکی ہے کہ ہم مسلّط کی گئی بناوٹی ’’نالج‘‘ میں تو سر کھپاتے ہیں، ان چیزوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں نہ تنقیدی جائزہ لیتے ہیں جو حقیقی معنوں میں سبق آموز بھی ہیں اور عبرت انگیز بھی۔

ایک تصویر تو علامہ محمد اقبال پارک کی ہے جو ان کے مرشد مولانا رومیؒ کے مزار مبارک کے جوار میں قائم کیا گیا ہے۔ اس پارک کے قیام کی تحریک نہ اقبال فائونڈیشن جیسے کسی ادارے نے چلائی نہ ہماری حکومت نے اس کے لیے ترغیب دی نہ فنڈ عطا فرمایا۔ یہ ترک حکومت کی دور اندیشی، تاریخ شناسی اور فکر اجتماعی کا نتیجہ ہے۔ اس میں پاکستان کے سفیر یا محبان اقبال کی کسی کاوش کا کوئی دخل نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مثالیت پرست

خلافت عثمانیہ کے آخری فرماں روا سلطان عبدالحمید خان کی داڑھی والی تصویر آگئی ہے۔ کچھ دنوں میں برصغیر میں انگریزوں کے راستے کی آخری رکاوٹ ریاست میسور کے آخری تاجدار ٹیپو سلطان کی بھی آجائے گی۔ انسانی آبادی کے نوے فیصد دماغوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ مقلّد محض ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخصیت یا نظام کو ان کا آئیڈیل بنادیا جائے تو نہ سمجھ میں آنے والی چیزیں بھی بلاتکلف و بلاجھجھک اپنانا شروع کردیتے ہیں اور اگر کسی انتہائی معقول اور متوازن چیز کے ساتھ ان کی ذہنی مناسبت نہ ہو… یا نہ ہونے دی جائے… تو عقلی دلائل کا انبار لگادیں یا فوائد کی پوری فہرست سنادیں، وہ فطری اور افادیت سے بھرپور چیز نہ ان کے ذہن میں بیٹھے گی اور نہ حلق سے اترے گی۔ صرف دس فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی نظریے یا رواج کی پرکھ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں کی لگام خود تھامے رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحمت کی چھتری تلے

مشرق ہو یا مغرب، وطن عزیز ہو یا سرزمین عرب، فتن و حوادث کی یلغار ہے جس سے بچنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چھتری تلے آئے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ کی رحمت اہل علم و تقویٰ کی جماعت پر اترتی ہے، لہٰذا مستند علماء و مشایخ سے جڑے بغیر انفرادی یا اجتماعی فتنوں سے بچنا ممکن نہیں۔

روئے زمین پر خیر کا مرکز ارض حرمین ہے۔ اللہ کی رحمت پہلے خانۂ کعبہ پر اترتی ہے پھر ساری دنیا پر پھیلتی ہے، اس لیے مشرق کی شرپسند طاقتیں ہوں یا مغرب کی، ان کی یلغار کا رُخ سرزمین عرب کی طرف ہے۔ یہاں کی نیکی اور روحانیت کی یادگاری ان سے برداشت ہوتی ہے، نہ یہاں کی دولت سے ان کی نظر ہٹتی ہے، اس لیے سرزمین عرب کی مرکزیت و اہمیت جیسے جیسے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے بدی اور شرّ کی قوتیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعمیری منصوبے

ایک حدیث شریف کا مضمون ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مسلمان کا بہترین سرمایہ اس کے جانور ہوں گے جنہیں لے کر وہ کسی پہاڑ کے دامن میں جا بیٹھے گا۔ عن ابی سعید الخذری رضی اللہ عنہ انہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’یُوشِکُ أَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَم یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِن الْفِتَن‘‘ (کتاب الایمان، صحیح بخاری)یہ حدیث شریف اس وقت یاد آئی جب ہم ترکی کے سرحدی قصبے ’’کلس‘‘ میں بیٹھے افطاری کی تیاری کررہے تھے تو ’’باب اسلاتہ‘‘ نامی شام کی سرحد پر قائم دروازے سے ایک شخص آیا۔ ہم نے حال احوال کے بعد ماحضر میں شریک ہونے کی دعوت دی جو اس نے بخوشی قبول کرلی۔ اس کی زبانی باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل شام کے وہ عوام جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، سرحدی پٹی کے دونوں طرف آئے بیٹھے ہیں۔ ان کو روزگار فراہم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک دودھ والی بکری لے کر دے دی جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خیرو برکت کے اعلیٰ کام

بعض لوگ اشکال کرتے ہیں ماہِ رحمت و برکت کے آجانے پر اللہ تعالیٰ شیاطین کو مقید کردیتے ہیں پھر شیطانی کام کیوں مقید نہیں ہوتے؟ بات یہ ہے کہ انسان کو گمراہ کرنے والی چیزیں دو ہیں: ایک اس کے اندر چھپی ہوئی اور دوسری پوری کائنات میں پھیلی ہوئی۔ پہلا دشمن جو اس کے پہلوؤں میں چھپا بیٹھا ہے نفس کہلاتا ہے اور دوسرا جو دنیا بھر میں کھلا پھرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے، شیطان کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کی برکت سے انسان پر یہ احسان کرتے ہیں کہ بیرونی دشمن کو محصور و مقید فرماکر انسان کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اندرونی دشمن پر قابو پانے کی مشق کرے۔ بیرونی دشمن طاقتور ہے اگر اس سے وقتی طور پر جان چھوٹ جائے تو اندرونی دشمن پر سال بھر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محققین کا کہنا ہے جس کا رمضان نظم و ضبط سے گزر جائے، اس کے سارے سال پر اس کا عکس رہتا ہے۔ جو اس مہینے میں ضبط نفس کے عمل پر استقامت کرے اسے اللہ تعالیٰ ایسی روحانی قوت عطا کرتے ہیں کہ سال بھر نیکی آسان اور گناہ مشکل ہوجاتا ہے۔ تمام نیکیوں کی بنیاد اور تمام برائیوں سے بچنے کا راز اسی کیفیت کے پیدا ہونے میں مضمر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

راہِ اعتدال

شب براء ت آکر گزر چکی ہے اور رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں گزشتہ سال گزر جانے کے بعد اس سال دوبارہ نصیب والوں کو نصیب ہونے آرہی ہیں۔ رات دن کا آنا جانا اور صبح شام کا ایک دوسرے کے پیچھے آتے جاتے رہنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ایسی نشانی ہے جو اللہ ربّ العزت کے حیّ و قیوم ہونے اور انسان کے فانی اور فنا درفنا کے عمل میں مبتلا ہونے کی علامت ہے اور انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مہلتِ عمل کم رہ گئی ہے، حساب و کتاب کی گھڑی قریب آن لگی ہے۔ کسی بھی وقت وہ اپنے حصے میں لکھا گیا آخری سانس نمٹاکر دارالفنا سے دارالبقا کو رخصت ہوا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی نجات اور فلاح کے لیے جس طرح کچھ انفرادی اعمال کو ذریعہ بنایا ہے اسی طرح کچھ اجتماعی اعمال کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ دونوں میں افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کے ساتھ چلتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔