• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایک طرف تو حدیث شریف میں نام بنام کی گئی پیش گوئیاں پوری ہونے کی طرف جارہی ہیں اور دوسری طرف دجل و فریب کا وہ بازار گرم ہے کہ شیطان کو بھی تعجب ہے کہ شتونگڑے تو مجھ سے بھی آگے چلے گئے ہیں۔ دمشق دنیا کا وہ شہر تھا جس کی دو خصوصیتیں مشہور چلی آتی تھیں۔ ایک تو یہ کہ جب سے بنا ہے آباد چلا آرہا ہے۔ دوسرے جب سے آباد ہوا ہے دارالحکومت چلا آرہا ہے۔ اس قدیم انسانی تہذیب کے وارث شہر کے ساتھ ایک سرسبز و شاداب خطہ ہے جسے قدیم جغرافیہ دان دنیا کے چار ممتاز ترین خوبصورت مقامات میں سے ایک کہتے تھے۔ اب جیسے جیسے بحریہ طبریہ خشک ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے یہ مقام بھی سرسبزی کے بجائے جھاڑ جھنکاڑ میں بدلتا جارہا ہے۔ حدیث شریف میں تین مقامات کے متعلق واضح احادیث آئی ہیں: شام، دمشق، غوطہ۔ شام ملک ہے، دمشق شہر اور غوطہ ایک بستی ہے۔ شام کے متعلق حدیث سن لیجیے پھر دمشق اور غوطہ کے متعلق بھی دیکھ لیجیے گا۔ ترمذی شریف میں روایت ہے کہ جب شام میں خیر نہ ہوگی (وہ شر و فساد کے خوگروں کے ہاتھ تباہ و برباد ہوجائے گا) تو پھر تم میں بھی کوئی خیر نہ رہے گی۔‘‘


دمشق اور اس کے مضافات کے متعلق مسند احمد میں حدیث ملاحظہ کیجیے: ’’عنقریب تمہارے لیے شام فتح ہوجائے گا۔ اس میں ایک جگہ جسے ’’غُوطہ‘‘ کہتے ہیں یعنی دمشق۔ یہ جگہ سخت جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کا بہترین ٹھکانا ہوگی۔‘‘

آج اہلِ سنت مسلمانوں کا ٹھکانا پورے دمشق میں یہی غُوطہ ہے۔ واضح رہے کہ غین پر پیش ہے اور واؤ مدّہ ہے۔ بعض حضرات غین پر زبر پڑھتے ہیں جو صحیح نہیں۔ غین پر پیش ہے جو زور دے کر پڑھی جائے گی۔ شام میں خیر نہ رہنے کی متعدد تاویلیں ہوسکتی ہیں۔ امت میں ستر کے قریب بہت بڑے اولیاء اللہ موجو دہوتے ہیں، ان کا لقب ’’ابدال‘‘ ہے۔ امت کو ان کے اعمال کی برکت اور دعاؤں کی قبولیت سے خیر نصیب ہوتی اور شر سے حفاظت ہوتی ہے۔ ان کو ابدال کہتے اسی لیے ہیں کہ ان میں سے جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو کسی اور ولی کو یہ مقام دے دیا جاتا ہے۔ امت ان کے وجود سے خالی نہیں ہوتی۔ ان میں سے چالیس شام میں اور تیس بقیہ پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ اب شام اہلِ سنت مسلمانوں کے وجود سے تقریباً خالی ہوگیا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ شامی مہاجرین ترکی میں مقیم ہیں تو پھر یقیناًیہ اولیاء اللہ بھی ترکی میں ہیں اور اغلب یہ ہے کہ وہ ترکی کے بڑے شہروں کی طرف نہیں گئے، کیونکہ وہاں سیکولرازم کی فتنہ خیز باقیات جابجا جلوہ گر ہیں، غالب گمان یہ ہے کہ وہ ترکی کے سرحدی شہروں پر ہیں جہاں غریب شامی مہاجرین کی اکثریت مقامی آبادی سے بھی تجاوز کرنے لگی ہے۔ ان شہروں میں دینداری بھی بہت ہے اور غربت کے باوجود مہاجرین کی خدمت بھی نسبتاً زیادہ ہے۔ یہاں طیب اردگان کا بہت بڑا حلقہ ہے۔ کچھ جگہیں تو ایسی ہیں۔۔۔مثلاً ارض الروم وغیرہ۔۔۔ کہ لوگ سو فیصد اس کے عاشق ہیں۔ یہاں کے مدارس میں بھی پوری ترکی سے زیادہ مربوط نظام تعلیم ہے اور یہاں کی خانقاہیں بھی شاد و آباد ہیں۔ اب شام میں جو خیر تھی اسے بھی ترکی والوں نے سمیٹ لیا ہے۔ ترکی مسلمان شام کے مہاجرین کے لیے انصار بن گئے ہیں۔ ہمیں ان کا انصارالانصار بن جانا چاہیے۔ ورنہ ہم میں بھی خیر نہ رہے گی۔

اللہ کی تقدیر کہ ازمیر اور آئیڈن جیسے ترقی یافتہ اور متمدن شہر ساحل سمندر کے کنارے اور یورپ سے قریب ہونے کی وجہ سے نیز یورپی سیاحوں کے اثرات کی بنا پر مالدار ہونے کے باوجود مہاجرین کو پسند نہیں کرتے اور سیکولر ہونے کی بنا پر اردگان کے بھی سخت مخالف ہیں اور شام ترکی کے سرحدی شہر غربت کے باوجود مہاجرین کی خدمت کو اعزاز سمجھتے ہیں اور اردگان کے بھی فدائی ہیں۔ یہ عاجز تو سرحدی شہروں کی گلی گلی میں اتنا گھوما ہے کہ مقامی لوگ بھی اتنا ان علاقوں سے واقف نہ ہوں گے جتنا اللہ والوں کی تلاش میں گھومنے کے سبب اس فقیر کو آگاہی ہوئی۔ اب دوسری طرف دجل و فریب دیکھیے۔ شام میں گزشتہ چھ سال سے وہ ظلم ہے کہ معاصر تاریخ میں اس کی کوئی مثال ہی نہیں۔ ان چھ سالوں کے دوران غوطہ پر موجودہ بے تحاشا بمباری۔۔۔ بغیر کسی سبب اور بغیر کسی نئے واقعے کے۔۔۔ وہ اندھیر ہے جس کی اس چھ سالہ جنگ میں بھی کوئی مثال ہی نہیں۔ اس کی اتنی لاتعداد تصاویر اور موقع پر لی گئی ویڈیوز دنیا تک پہنچی ہیں کہ وہ تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ ان کا انکار تو عقل کو گالی دینے کے مترادف ہے، لیکن ایک طبقہ اتنا سنگدل اور انسانیت کی رمق سے محروم ہوچکا ہے کہ چند پرانی تصویریں از خود دوبارہ ڈال کر ان کے متعلق کہہ رہا ہے کہ یہ تو پرانی ہیں۔ گویا مظلوم کی دادرسی کے لیے ضروری ہے کہ اس پر نیا ظلم ہو اور جب اس کی فریاد ہو تو کہا جائے کہ پرانے ظلم کے وقت کی فریاد آج کیوں کررہے ہو؟؟؟ چور کی داڑھی میں تنکا نہ ہو تو وہ کھجائے کیوں؟؟؟ جس کو شک ہے وہ ترکی کی سرحد پر آکر غُوطہ کے مہاجرین سے حالت زار سن لے۔ اور پھر ایمان ہو تو جس کی رسائی ہے اس کے ذریعے خدمت کرے ورنہ اپنی دولت سنبھال کر رکھے۔ آج ان مظلوموں کے کام کی نہیں، تو اس دن کیا فائدہ ہوگا جب ویسے بھی کسی کے کام کی نہ ہوگی۔

ترکی نے جب سے عفرین کو ان کمیونسٹ دہشت گردوں سے پاک کرنا شروع کیا ہے جو عراق ترکی اور شام تینوں کے اہم ترین مقامات کے لیے خطرہ ہیں، تب سے بشار افواج نے نہ صرف کمیونسٹ علیحدگی پسندوں سے معاہدہ کرلیا ہے، بلکہ اس نے ان کی مدد کے لیے اپنے قریب موجود غوطہ کے مسلمان یرغمالیوں پر بلاوجہ حملے شروع کردیے ہیں تاکہ شامیوں کے واحد ہمدرد اور شام میں برسرپیکار باطل قوتوں کے سامنے اکلوتے مزاحمت کار ’’ترکی‘‘ کو ناکام کیا جاسکے۔ ترکی کے بعد شام کے مظلوموں کا سب سے بڑا حمایتی اور معاون پاکستان کو ہونا چاہیے، کیونکہ غزوۂ شام اور غزوۂ ہند۔۔۔ دنیا میں دو بڑے غزوے ہوکر رہیں گے۔ غزوۂ شام یہود کے خلاف اور غزوۂ ہند یہود کے تاریخی حلیف ہنود کے خلاف ہوگا۔ جب تک ان دو بڑے غزووں کی ذریعے دنیا کی صفائی نہ ہوگی، عالمی خلافت قائم نہ ہوگی اور جب تک عالمی خلافت قائم نہ ہوگی، قیامت بھی نہ آئے گی۔

غزوۂ ہند کا فاتح یہاں کا صالح طبقہ ہوگا اور پھر یہ دستہ غزوۂ شام کے فاتحین کی مدد کو جائے گا۔ غزوۂ شام کے مظلومین کا سب سے بڑا حامی ترکی ہے اور الحمدللہ! ترکی سے سب سے زیادہ تعاون پاکستانی قوم کررہی ہے۔ جس کا دل چاہے جاکر ریحانیہ سے اورفہ تک وہ مشاہد و آثار (روٹی پلانٹ، ووکیشنل سینٹر، دارالیتامیٰ، پاکستانی اسکول وغیرہ) دیکھ لے جن پر ’’ھدیۃ من أھل پاکستان‘‘ کے الفاظ آویزاں ہیں اور جابجا لہراتا پاکستانی جھنڈا ایمانی اخوت اور دین کی بنیاد پر للہ فی اللہ محبت کا پیغام دے رہا ہے۔ ۔ وہ ہوکر رہے گا جو ربّ کائنات نے لکھ دیا ہے۔ جو مظلوموں کے ساتھ ہے اس کی قسمت میں سعادت لکھ دی گئی ہے اور جو ظالموں کی کاسہ لیسی کررہا ہے وہ ازلی شقی ہے کہ نہ احادیث سے سبق لیتا ہے نہ زمین پر بکھرے معصوموں کا خون اس کا دل نرم کرتا ہے۔