• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

فتنوں کے اس دور میں اندھیریاں بھی بہت ہیں، لیکن امت محمدیہ کی کرامت یہی ہے کہ روشنی کا سفر جاری ہے۔ جہاں اندھیرے مایوسی پھیلائے ہوئے ہیں وہیں روشنی کی پھوٹنی کرنیں تلاش کا سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی رہتی ہیں۔ اس عاجز کا ترکی کا پہلا سفر آج سے تقریباً پانچ چھ سال پہلے اس تحریک کے مشاہداتی مطالعے کے لیے تھا جو ترکی کے اصلاح پسندوں نے واپسی کے سفر کے طور پر شروع کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ترک معاشرے کو بدلنے میں کامیاب ہوتے چلے گئے۔ پھر شام میں مسلمانوں کے جبری انخلا کا سانحہ پیش آیا تو ان اسفار کا رُخ رفاہی سرگرمیوں کی طرف پھرگیا۔ اب موجودہ سفر میں وفاق المدارس کے سیکریٹری جنرل حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کی آمد ان شاء اللہ ان علمی سرگرمیوں کو فروغ دے گی جس سے برصغیر کے اہلِ علم کا وہ قیمتی تجربہ اور عدیم النظیر جذبۂ فروغ علم اور مثالی نظامِ تعلیم ترکی منتقل ہونے کا آغاز ہوگا جو یہاں کے علماء کی خصوصیت ہے اور دنیا مانے یا نہ مانے، یہ اس میں اپنی مثال آپ ہیں۔


حضرت قاری صاحب جس طرح انتھک محنت اور جفاکشی کے عادی ہیں، اور جس طرح کی نظریاتی فعالیت اور قوت استدلال و صلاحیت اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اس سے بہت حد تک امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہندویوں کی علمی و اصلاحی کرامات سے عثمانیوں کو مستفید ہونے کا موقع دے گا اور مسلمانوں کی عظمت گم گشتہ کے دونوں وارث ان شاء اللہ روشنی کی تلاش کے اس سفر میں ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر اپنے آباء و اسلاف کی تاریخ دہراسکیں گے۔

اس پورے سفر میں دو باتیں تعجب خیز بھی ہیں اور ایمان افروز بھی۔ ایک تو یہ کہ پوری دنیا سے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ امتیازی توفیق دی کہ وہ انصار کا ناصر و معاون بن جائے، حتیٰ کہ قطر نے جو منصوبے اپنے مجبوری کی بنا پر چھوڑنے شروع کیے ان کو بھی پاکستانیوں جیسی غریب قوم گود لے رہی ہے اور اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے۔ قطر کی خدمات کا مالیاتی حجم بہت زیادہ تھا اور یہ قطر کے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا، پاکستان کے مسلمانوں کی خدمات کا عملی وژن اور جہاتی تنوع الحمدللہ بہت قابل شکر ہے۔ کہاں قطر اور کہاں ہم، لیکن اللہ نے جو مقبولیت ترکی میں اہلِ پاکستان کو عطا کی ہے۔ آنکھوں سے نظر آتا ہے کہ وہ اللہ ربّ العزت کی امتیازی عطا ہے۔ ہر آنے والا جہاں قطر کے لیے دل سے دعا کرتا ہے وہیں اہلِ پاکستان کو بھی سلام پیش کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

دوسرے یہ کہ جس طرح پاکستان جیسے غریب ملک سے اللہ اتنا بڑا کام لے رہا ہے وہیں پاکستان میں دہشت گرد کہلانے والے اور ہر طرف سے دبائو کا شکار علماء و مدارس کا ایک طبقہ ایسا ہے جو پوری دنیا کی طرح ترکی اور شام کے مسلمانوں کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ علمائے ہند کے شاندار ماضی کے وارث اس طبقے کو خود اس کے ملک میں ملامت کا سامنا ہے، لیکن اس نے جس طرح دنیا بھر میں ملک و ملّت کا نام اپنی علمی اور اصلاحی خدمات سے روشن کیا ہے، اسی طرح ترکی میں اسی طبقے کے احباب کی کاوشیں وہ محبتیں پھیلارہی ہیں جن کے ثمرات ان شاء اللہ اہلیانِ پاکستان کی اگلی نسلیں سمیٹیں گی۔

حضرت قاری محمد حنیف جالندھری صاحب اسی طبقے کے نمایندے ہیں جو ایثار اور قربانی اور علمی رسوخ و اصلاح وارث انہیں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ اسے نہ صلے کی تمنا تھی نہ ستائش کی پروا۔ ہمیشہ موردِ طعن بھی اسے بنایا گیا۔ اس کے باوجود آج مستقبل کی ایک بڑی قوت جسے دنیا اردگان کے ترکی کے طور پر جانتی ہے، میں پاکستان کی حقیقی سفارت اور مثالی نمایندگی اسی طبقے نے کی ہے۔ یہ پاکستان اور ملّت اسلام کی وہ خدمت ہے جس کو انصاف پسند دنیا کبھی بھلا نہ سکے گی۔ اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کی رفاہی خدمات اور یہاں کے علماء و مدارس کی علمی و اصلاحی کاوشیں روشنی کے اس سفر میں وہ جگمگاتے چراغ ثابت ہوں جو منزل تک پہنچاکر دم لیتے ہیں۔