• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دنیا میں بنوامیہ اور بنوعباس کی شاندار عرب تہذیبوں کے بعد اب تک تین تہذیبیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اسلام کو قائم، نافذ اور غالب کیا۔ آج کل دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان ان تینوں میں سے کسی ایک کے وارث ہیں۔ ان تینوں میں کچھ صفات تھیں جن کے باقی رکھنے پر اور پروان چڑھانے پر ان تہذیبوں کی باقیات کی بقا موقوف ہے۔ دنیا بھر کی کوشش ہے کہ نہ تو یہ اپنی اصل کی طرف لوٹنے پائیں اور نہ ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں۔ ان میں سے ایک تہذیب تو اپنے ورثے کی سرے سے حفاظت ہی نہ کرسکی، لہٰذا وہ مخالفت آندھی کی نذر ہوگئی۔ بقیہ دو کی کشمکش تاحال جاری ہے اور ان کی فلاح و نجات اس پر موقوف ہے کہ اپنی اصل کی تلاش کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون اس انداز میں حاصل کریں کہ وہ تعاون علی البرّ والتقویٰ میں تبدیل ہوجائے۔


یہ تعارف اور تعاون انہیں تواصی بالحق بالبصیر کے اس مبارک عمل میں جوڑ دے گا جس سے دل جڑتے ہیں، دلوں کے بیچ خالی جگہ بھرتی ہے اور مسلمانوں کے دل اور نمازیوں کی صفیں دوایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بیچ خالی جگہ بھرنے پر اللہ ربّ العزت کی مدد و نصرت اترتی ہے اور ناممکن کو ممکن کر دکھاتی ہے۔ صدیوں کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے۔

مشرق میں مغلیہ سلطنت، مغرب میں ہسپانیہ امارت اور مشرق و مغرب کے سنگم پر عثمانی خلافت نے دنیا میں ان تین تہذیبوں کو جنم دیا جو اسلام کا معجزہ تھیں۔ انہوں نے انسانی فضل و کمال کے ایسے ایسے نقوش زمین پر چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا تک اسلام کی عظمت کی اور مسلمانوں کی اخلاقی، علمی اور فنّی برتری کی یادگار کے طو رپر جانے جائیں گے۔

دنیا کی تاریخ انسانی تہذیبوں کے عروج و زوال کی عبرت ناک اور سبق آموز داستان ہے۔ ہندوستانی تہذیب کو جب زوال ہوا تو یہاں کے علماء نے اپنے علم سے اسلام کی حفاظت کرلی۔ عثمانی خلافت کوجب سقوط کا سانحہ پیش آیا تو یہاں کے صوفیاء نے اپنی زیرزمین محنت سے مسلمانوں کے دل میں موجود ایمان کو بچائے رکھا۔ اس کی آبیاری کرتے رہے اور یہاں تک کہ وہ پھر پھل پھول دینے لگا ہے۔ اندلس والے فنون اور سائنس میں بہت آگے تھے، لیکن اپنے آباء و اجداد کے علم اور روحانیت کی حفاظت نہ کرسکے۔ وہ مغربی تہذیب میں گم ہوگئے یا گم کردیے گئے۔ خیرالدین بار بروسا نامی جہاز ران ان کی باقیات کو بحرمتوسط کے پرلے کنارے مراکش اور الجزائر میں لے آیا۔ اب اندلس میں جگر کے ٹکڑے بکھرے ہیں، لیکن دل اور دماغ کا وجود نہیں۔ اللہ باقی، باقی سب فانی۔

دنیا بھر میں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ان پر اندلس کا ماڈل دہرانے کی مشق کی جارہی ہے۔ تحقیق کی جاری ہے کہ اندلس سے مسلمان کس طرح مٹ گئے۔ بقیہ دنیا پر وہی شیطانی حربہ استعمال کیا جائے۔ مسلمانوں کی بقا اس میں ہے کہ وہ مغرب کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی اصل کی طرف دوڑیں۔ اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دامن سے چمٹے رہیں اور مغربی تہذیب کے بجائے ان علوم و فنون پر توجہ دیں جو مغرب نے ہم ہی سے سیکھیے اور ان میں کمال حاصل کیا۔ ان فنون میں سرفہرست عسکریت کا فن ہے اور پھر اقتصادیات کا۔ ضرب و حرب کے فنون میں مغلیہ سلطنت کے وارث مملکت خداداد پاکستان اور اہلِ پاکستان کو اللہ پاک نے کمال عطا کیا ہے اور ہم الحمدللہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہیں۔ تجارت و اقتصادیات میں خلافت عثمانیہ کی وارث موجودہ ترکی تہذیب امتیاز حاصل کرچکی ہے۔ ہمیں ترکی سے اور ترکی کو ہم سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں مل کر ارضِ حرمین، مملکت سعودی عرب کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور اس کی خداداد دولت سے استفادہ کرکے پورے عالمِ اسلام کے دکھوں کا مداوا بھی ان تینوں کے اتحاد سے ممکن ہے۔

عسکریت اور اقتصاد درست ہو تو ترقی کے لیے درکار بقیہ شعبے بھی خود درست ہوجاتے ہیں۔ پاکستان والوں کو علمِ دین اور فنون حرب میں اللہ تعالیٰ نے جو کمال عطا کیا ہے وہ واجب الشکر اور قابلِ فخر ہے۔ ترکی کے اصلاح پسند اصلاحی اور رفاہی سیاست کے ساتھ مالیات و معیشت میں جو استحکام حاصل کرچکے ہیں وہ لائق تحسین و قابل تقلید ہے۔ جس طرح ہم واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں اسی طرح ترکی وہ واحد ملک ہے جس نے عالمی سودی سرمایہ داروں کا قرض اتار کر دنیا بھر کو بغیر قرض کے انسانی بنیادو پر مدد فراہم کرنی شروع کی ہے۔ ترکی رفاہی تنظیمیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ رفاہی خدمات انجام دیتیں اور سب سے زیادہ یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہیں۔ پاکستان اور ترکی، ترکی اور پاکستان کے درمیان خالی جگہوں کو بھرنا ضروری ہے۔ اس پر مستقبل کے اس امتحانی پرچے میں کامیابی موقوف ہے جو عنقریب ہمارے سامنے آنے والا ہے۔

اور اصل بات یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے دائیں بائیں، گردوپیش میں پائی جانے والی خالی جگہوں کو پُر کرنا چاہیے۔ آگے بڑھیے اور جہاں دوسروں سے کوتاہی ہورہی ہے، وہاں اپنے اخلاص وتواضع اور جہد مسلسل سے خلا کو پُر کریں۔ شکوئہ ظلمت سے بہت بہتر یہ ہے کہ اپنے حصے کا چراغ جلاتے جائیں۔ ان شاء اللہ! طلوع سحر دور نہیں۔