• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سانپ تیزی سے حرکت کررہا ہے۔ یہ سانپ نہیں اژدھا ہے۔ سانپوں کو تو عصائے موسوی نگل گیا تھا۔ یہ وہ اژدھا ہے جو سامری وقت کی پٹاری سے برآمد ہوا ہے۔ اس اژدھا نے دم کو اپنی جگہ ٹکاکر منہ کی طرف سے حرکت شروع کی تھی۔ یہ حرکت تقریباً ستر سال پہلے (1948ئ) میں شروع ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلے ’’یروشلم واپسی‘‘ کی مہم کے تحت ’’ارض موعود‘‘ میں آآکر بسنا شروع ہوگئے تھے۔ اب گیارہویں قبیلے کے لیے ’’آزاد کردستان‘‘ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ جو قوم غیراسرائیلی خون کو ’’جنٹائل‘‘ اور ’’گویم‘‘ قرار دے کر اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی، وہ سیکولر کردوں کو یوں گلے سے لگائے کھڑی ہے جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا گیارہواں بھائی ہو۔

 

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے۔ دس ایک بیوی سے اور دو دوسری زوجہ سے۔ ان بارہ کا سردار اور اس کے مشیر تو پہلے بطن میں سے تھے، لیکن ان کا چمکتا ستارہ وہ گیارہواں بھائی تھا جس کی جدائی پر اس کے والد محترم کی آنکھیں غم میں سفید ہورہی تھیں، لیکن وہ کنعان کے کنویں سے لے کر مصر کی وزارت تک اپنے اس باپ شریک بھائیوں سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ جس طرح اس زمانے میں سورج، چاند اور بارہ ستارے اکٹھے ہونے تک اجتماعی سجدہ نہ ہوا تھا، اس طرح بزعم یہود آج بھی بچھڑے ہوئے دو بھائیوں کے بغیر بارہ قبیلوں کا ستارہ گردش میں ہے۔ صہیونی افسانہ طرازوں کے نزدیک یہ داستان جس طرح کسی زمانے میں سچی تھی، آج بھی اپنی تکمیل کا سفر کررہی ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ قوم یہود کی اور کون سی بات سچی تھی کہ یہ جدید غزل بھی سچی ہو۔

بات اتنی سی ہے کہ قومِ یہود اپنے آخری انجام کے لیے ارضِ مقدس میں بالجبر والمکر آتوگئی تھی، اور اسرائیل قائم ہوگیا تھا، لیکن اب قیام کے بعد اسے توسیع چاہیے تاکہ ’’عظیم تراسرائیل‘‘ وجود میں آسکے اور دائود بادشاہ کی نسل سے آنے والا ’’مسایا‘‘ تخت دائودی کو مقدس چٹان پر بچھاکر پوری دنیا پر حکومت کرسکے۔ اس خاطر جنگ عظیم دوم کے بعد جزیرۃ العرب کے بارہ ٹکڑے کیے گئے تھے اور اب مزید تقسیم درتقسیم کا عمل جاری ہے۔ شام کے چار حصے پہلے ہوئے تھے۔ چار مزید کیے جارہے ہیں۔ عراق کے حصے بخرے بھی شروع کردیے گئے ہیں۔ شام میں گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو ملیں۔ طرسوس کی بندرگاہ روس کے ہاتھ آئی۔ لبنان تک کا راستہ ایران کے کھاتے میں کردیا گیا۔ قطر سے بحرمتوسط تک تیل گیس کی امریکی پائپ لائن کے بعد جو رہ گیا وہ داعش اور بشار کے پاس ہے۔ عراق میں بغداد حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اب آزاد کردستان بھی قائم ہوجائے گا۔ گیارہواں بچھڑا بھائی ملے یا نہ ملے، (باقی صفحہ5پر) تیل کے کنوئوں تک رسائی اور اسرائیل سے باہر تک اسرائیل کی توسیع تو ہوجائے گی۔ رہ گیا کردستان کے دارالحکومت ’’اردبیل‘‘ سے یروشلم تک بیچ کا راستہ تو وہ اگلے دس سالوں میں طے ہوجائے گا جب دجلہ سے نیل تک کی حدود اسرائیل میں ضم ہوں گی۔

یہ ہے خاموش کھلاڑیوں کا وہ بولتا کھیل جو اب اس مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں… ان کے مطابق… اب آہستہ روی کی گنجائش نہیں۔ جارحانہ اور تیز کھیل کی ضرورت ہے، ورنہ سارے برج الٹ سکتے ہیں اور سارے پتے بکھرجانے کا خطرہ ہے۔ صہیونیت کے ستر دانا بزرگوں کی رہنمائی میں اسرائیل ہر دس سال بعد وہ منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ چالیس سال قبل بناتے ہیں اور بیس سال قبل اس کی بازگشت سننے کا موقع دنیا کو ملنا شروع ہوجاتا ہے، مگر نہ تو دنیا سمجھتی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بددعائی یہ لوگ جب تک مردودیت کی چھاپ سے نہیں نکلتے تب تک ان کے سارے منصوبے ان پر الٹے پڑیں گے۔ نہ خود یہ دھتکار پڑی قوم سمجھتی ہے کہ جن کرتوتوں کی سزا میں کل وہ ارض مقدس سے نکالی گئی تھی، جب تک ان سے باز نہیں آتی، تب تک دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہوکر ٹسوے بہانے سے کچھ نہ ہوگا۔ اب تک عراق کا تیل اسرائیل تک پہنچایا جاتا تھا۔ اب اسرائیل خود عراق کے ان خطوں تک پہنچ جائے گا جو تیل سے مالا مال ہیں۔ کرکوک اور اردبیل ’’معاہدہ لوزان‘‘ کے سو سال بعد ختم ہونے واپس ترکی کو ملنے کے بجائے اسرائیل کو یا اسرائیل نوازوں کو مل جائیں گے۔

اے بنی اسرائیل! یاد کرو ان نعمتوں کو جو تم پر کی گئی تھیں پھر ان کی ناشکری کی سزا میں تم لونڈی غلام بناکر جلاوطن کیے گئے۔ اے اہل! کتاب! حق کو کیوں چھپاتے ہو؟ جھوٹ کیوں پھیلاتے ہو؟ ناحق قتل کیوں کرتے ہو؟ حیلہ بازی سے ناحق کو حق کیوں باور کراتے ہو؟ ان چیزوں کی بنا پر تمہارے آباء و اجداد کی صورتیں مسخ ہوئی تھیں، وہ ملعون اور مغضوب قرار پائے تھے۔ تم ان سے افضل تو نہیں ہو۔ پھر کیوں ان حرکتوں سے باز نہیں آتے؟

اپنے آپ کو خدا کے محبوب کہنے والو! تم نے قادیانی اور بہائی دو فرقے اپنے ہاں پال لیے۔ دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں۔ دونوں پر وہ پھٹکار ہے جو تم پر اس وقت سے آج تک ہے جب سے تم نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا اور پھر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا۔ جس طرح تمہارے ان بغل بچوں کے خلاف گنہگار سے گنہگار مسلمان متحد ہوجاتا ہے اسی طرح تمہارے خلاف ارض مقدس کا ہر درخت اور پتھر متحد ہوکر پکارے گا اور تمہیں کہیں پناہ نہ ملے گی۔ تم جس عظیم تر صہیونی ریاست کی خاطر دھوکہ فریب اور ظلم کی انتہا کررہے ہو یہ تمہارا عظیم تر قبرستان بنے گا، لیکن تمہاری لاشوں کو یہاں دفن ہونا نصیب نہ ہوگا۔ انہیں پرندے اٹھاکر کہیں دور ’’بلیک ہول‘‘ میں ڈال دیں گے۔ باز آجائو! اے بنی اسرائیل باز آجائو! قبل اس کے کہ مہلت ختم ہوجائے۔