• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دنیا جہاں ایک دوسرے سے قریب ہورہی ہے وہیں دور بھی ہورہی ہے۔ جتنی پھیل رہی ہے اتنی سمٹ بھی رہی ہے۔ عالمی سطح پر نئے تعلقات وجود میں آرہے ہیں، نئے معاہدے ہورہے ہیں، نئی دوستیوں کی بنیاد رکھی جارہی ہیں اور نئی مخالفتوں، بے بیجا کھلی دشمنیوں کا آغاز بھی ہورہا ہے۔ جو ملک دور دور تھے وہ قریب آرہے ہیں اور جو نہ ختم ہونے والے تعلقات کے حوالے سے مشہور تھے وہ دور جارہے ہیں۔ ’’اور ہم ہی ہیں جو تمہارے درمیان حالات کو بدلتے سدلتے رہتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: 140)

جو قومیں اپنے نظریات کے دفاع اور قومی مفادات کے تناظر میں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں ان کی روشنیاں پائیدار اور دشمنیاں نبھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ ان کے دوست دانا اور دشمن نادان ہوتے ہیں۔ اور جن قوموں کے فیصلے بیرونی دبائو یا ذاتی مفاد کے تحت ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ ناداں دوست اور دانا دشمنوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ان کی روشنیاں ناپائیدار اور دشمنیاں سدابہار ہوتی ہیں۔ ان کے دوست ان پر فخر نہیں کرسکتے اور ایک وقت آتا ہے کہ دشمن بھی ان پر ترس کھانے لگتے ہیں۔


امت مسلمہ پر جو حالات آئیں گے اور جس جس چیز سے اسے سابقہ پڑے گا، اس کا عکس یا مثال سیرت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور حیات صحابہ (رضی اللہ عنہم) میں پائی جاتی ہے۔ جو کچھ بعد میں آنے والوں پر بیتے گی وہ پہلے آنے والوں پر گزر چکی ہے۔ قدرت نے ایسا انتظام کیا ہے کہ یہاں ہدایات کے ساتھ عملی نمونہ بھی سامنے رہے تاکہ حوصلہ بھی برقرار رہے اور راہ عمل بھی واضح ہوسکے۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معاہدے بھی کیے اور انہیں نبھاکر بھی دکھایا۔ آپ سے لوگوں نے دشمنیاں بھی کیں اور آپ کے کمال شجاعت اور حسن تدبیر کے ہاتھوں مغلوب بھی ہوئے۔ رزم ہو یا بزم، محفل یاراں ہو یا معرکۂ حق و باطل، کہاں شبنم کی پھوار کی طرح گرنا ہے اور کہاں فولاد و آتش کی طرح برسنا ہے؟ سب کچھ بتادیا گیا ہے اور نمونہ دکھاکر سمجھادیا گیا ہے۔ اب ہم نہ جانیں یا جان کر بھی غافل رہیں تو اور بات ہے۔

سنگاپور جیسے چھوٹے ملکوں نے جنہیں کچھ خاص مادّی امکانات دستیاب نہ تھے، مچھیروں کی بستی سے اٹھ کر فلک بوس عمارتوں پر مشتمل شہر تعمیر کرلیے۔ ہم نے اسباب کا جائزہ لے کر سیکھنے کی کوشش نہ کی۔ ترکی کے مردِ بیمار تک آکسیجن نہ پہنچنے دینے کی پوری مغربی دنیا نے قسم کھائی ہوئی تھی۔ اس نے یکایک پلٹا کھایا اور ایک عشرے کے اندر گزشتہ پوری صدی کا قرض چکادیا، ہم نے اس سے بھی استفادہ کرنے کی کوشش نہ کی۔ راقم الحروف کے ساتھ ترکی جانے والے صحافیوں، دانش وروں اور تاجروں سے عرض کرتا رہا کہ آپ یہاں کچھ دن رہ کر تحقیق و مطالعہ کریں کہ گزشتہ دس سال کی قلیل مدت میں آخر کس طرح ترکی نے عالمی ساہوکاروں کے قرض اتار دیے کہ اب پوری دنیا میں جہاں بھی انسانیت کو کوئی آسمانی آفت یا زمینی حادثہ پیش آئے تو وہ مدد کے لیے سب سے پہلے آموجود ہوتا ہے۔ اللہ کرے کہ کوئی اس پر توجہ دے اور ہمارے ملک کو بھی بدعنوانی کی بنا پر آنے والے بحرانوں اور ہر روز چڑھتے سود کے ساتھ بڑھتے قرضوں سے نجات دلادے۔

ہم نے جس طرح معاصر اقوام سے سبق نہیں سیکھا، قدیم اقوام سے بھی عبرت نہیں پکڑی۔ امت مسلمہ کی طرح یہود و نصاریٰ پر بھی تیس روزے فرض کیے گئے تھے۔ نصاریٰ نے جب گرمی کے موسم میں روزوں کی شدت سے لطف اٹھانے کو گراں سمجھا تو سردی میں روزے رکھنے شروع کیے اور بدلے میں دس روز سے شروع میں اور دس آخر میں بڑھادیے۔ یہ افراط ہے۔ یہود جب روزے کی بھوک اور منہ کی بو کے بعد افطاری کی خوشی اور مُشک کی خوشبو سے مزہ لینے کی عادت نہ بناسکے تو انہوں نے تیس کے بجائے چھ روزے کردیے۔ دو روزے مغرب سے مغرب اور چار صبح سے مغرب تک۔ یہ تفریط ہے۔

ہمیں افراط و تفریط سے بچنے اور اعتدال کا راستہ اپنانے کا حکم ہے۔ ہم بیچ والی اُمت ہیں۔ ہمیں بیچ کا راستہ اپنانا چاہیے۔ وہ راستہ صرف اور صرف شریعت اور سنت ہے۔ ہم جب اس کو چھوڑ کر اپنا مطمح نظر اور غلط و صحیح کا معیار کسی اور کو بنالیتے ہیں تو ہم پر یہود کی طرح بحران یا نصاریٰ کی طرح وبال آتا رہتا ہے۔ پھر ہم ہر سال ایک یا دو حادثوں، فتنوں اور آزمائشوں کا شکار ہوتے ہیں۔

نئے اسلامی سال کے آغاز اور اس کے دسویں دن عاشورے کے روزے کو لے لیجیے! الحمدللہ! ہم نے اسلامی تقویم کو بھی محفوظ رکھا ہے اور عاشورہ کے دن کے حوالے سے مسنون اعمال کو بھی۔ مسیحی حضرات عیسوی تقویم کو اور یہودی عبرانی تقویم کو محفوظ نہیں رکھ سکے۔ ان کے مہینوں کی ترتیب کئی بار تبدیل ہوئی ہے اور دونوں کے نام تو ہیں ہی شرکیہ یادگاروں پر مشتمل۔ دس محرم کو اس کائنات میں کچھ یادگار واقعات ہوئے ہیں اور اللہ کی نشانیاں اس دن ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اس کی شکرانہ یادوں کا بہترین طریقہ اس دن روزہ رکھ کر اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنا ہے جو گناہوں کی معافی کا بھی ذریعہ ہے۔ یہودی حضرات کی عبرانی تقویم ان کی آسمانی کتاب کی طرح تحریف شدہ ہے۔ اس کا نواں مہینہ ’’تشریق‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے دسویں دن (نو کی مغرب سے اس کی موسس) 24 گھنٹے کا طویل روزہ رکھا جاتا ہے۔