• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آج نئے اسلامی سال کا پہلا ہفتہ ہے۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ قدرتی طور پر دین کی خاطر قربانی دینے اور پھر اس قربانی کی یادگار کو شریعت کے تابع رہ کر زندہ رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اس حوالے سے میں آپ کو شیخ خضر کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو دین کے سچے خادموں پر آنے والے کربلا کے تسلسل کی علامت ہے اور اس میں یہ سبق ہے کہ کس طرح ہم مشکلات کے باوجود دین کی سربلندی کی محنت کو رکھ سکتے ہیں۔

شیخ خضر شہیدؒ شمالی ترکی کے رہنے والے تھے۔ صدر اردگان اور شیخ محمود آفندی دامت برکاتہم بھی شمالی ترکی کے رہنے والے ہیں۔ ترکی کے شمال میں بحراسود ہے۔ اس کے کنارے واقع ساحلی شہر اپنی فطری خوب صورتی، صحت بخش آب و ہوا کے علاوہ مردم خیز خطہ ہونے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ شیخ خضر جنہیں ترکی کے علماء و مشایخ نے ’’شہید محراب‘‘ کا لقب دیا، راسخ العلم عالم ، صحیح المشرب صوفی اورمتبع سنت بزرگ ہونے کے علاوہ بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ ان کی حق گوئی اور بے باکی ضرب المثل تھی۔ استنبول کے علاقے ’’فاتح‘‘ کے قریب جامع مسجد سلطان یاہو سلیم ایک بلند ٹیلہ نما مسطح رقبہ پر واقع ہے۔

اس کے ساتھ ایک کھائی یا وسیع و عریض پہاڑی نشیب واقع ہے۔ اس نشیب کے بیچوں بیچ ایک قدیم تاریخی مسجد تھی جو دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب خستہ حال ہوچکی تھی۔ ترکی پر گزرے سیکولر دور میں بدعنوانی اور چوربازاری کا دور دورہ تھا۔ شہری سہولتیں ناپید اور بلدیاتی ادارے کالعدم تھے۔اس مسجد کے گرد وسیع و عریض نشیبی رقبے میں ملبے یا کچرے کے ڈھیر تھے۔ قریب تھا کہ مسجد آہستہ آہستہ ویران ہوتے ہوتے منہدم ہوجائے اور بدعنوان سیکولر افراداس رقبے کو بیچ کھائیں کہ اتنے میں اس رقبے پر اردگان کی اور اس مسجد پر شیخ خضر کی نظر پڑگئی۔ اردگان استنبول کا نیا نیا میئر منتخب ہوا تھا اور استنبول کو دوبارہ اسلام بول بنانے کے لیے جنون کی حد تک شوق رکھتا تھا۔ عوام کو صحت اور صفائی کی اعلیٰ سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ بدعنوانی اور چوربازاری کا خاتمہ اس کی ترجیحات میں سے تھا۔ اس نے اس کچرا کنڈی نما گڑھے کو ایسے اعلیٰ پارک میں تبدیل کیا کہ آج تک دیکھنے والے حسن ذوق کی داد دیتے ہیں۔ یہ عاجز جب تین سال پہلے سلطان یاہو سلیم کی تاریخی مسجد کے ساتھ واقع درس گاہ میں ’’فقہ اور ھدایہ شریف کی تدریس کے اسالیب‘‘ کا دورہ کروارہا تھا تو چہل قدمی کے لیے اس پارک میں جایا کرتا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ مسجد کی جنوبی چار دیواری پر بیٹھ کر اس باغ کے خوبصورت درختوں کا نظارہ اور ہواخوری ہی طبیعت کو فرحت بخش دیتی تھی۔ اردگان کی ٹیم نے واقعتا کمال فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس پارک میں ورزشی جھولے، جاکنگ ٹریک کاور جم کے علاوہ خاندان بھر کے افراد کے لیے بہترین تفریحی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ ٹھنڈے پانی کی مشینیں، لکڑی کی خوبصورت نشستیں اور میز، پارکنگ اور سیکورٹی کا بہترین نظام، چوبیس گھنٹے آمدو رفت کی اجازت، باجماعت نماز کے علاوہ فٹ بال اور باسکٹ بال کے چھوٹے گرائونڈتھے۔فٹ بال کے دونوں میدانوں میں آسٹروٹرف بچھی تھی۔ چاروں طرف مضبوط جال تنا ھوا تھا۔ قریب ھی ٹھنڈے مشروبات کی مشینیں دھری تھیں۔ غرض کہ اردگان نے عوام کو دیوانہ کردیا تھا۔

بات شیخ خضر شہیدؒ کی ہورہی تھی۔ شیخ نے جب دیکھا کہ اس رقبے کی قسمت جاگ اٹھی ہے، لیکن سیکولر قوانین کی بنا پر مسجد کی تعمیرنو کے لیے رقم منظور ہوسکتی ھے نہ اذان و نماز کی خدمت کے لیے کسی کی تقرری ہوسکے گی تو انہوں نے بلدیہ سے درخواست کی کہ اس ویران مسجد میں انہیں نماز پڑھنے اور اسے آباد کرنے کی اجازت دی جائے۔ باقاعدہ اجازت تو ناممکنات میں سے تھی۔زیادہ سے زیادہ اردگان کی برکت سے خاموش اشارہ مل سکتا تھا۔شارہ ملتے ھی شیخ نے اپنے احباب کے ساتھ مل کر یہاں چھوٹی سی مسجد اور مکتب بنالیا۔ جب مسجد شب بھر میں بن گئی تو آہستہ آہستہ پرانے پاپی بھی سجدہ گزارنے کے لیے آنے لگے۔ شیخ کے جاندار اصلاحی بیانات نے لوگوں کو جوق درجوق یہاں آنے پر مجبور کردیا۔ اذان اور اقامت ابھی تک (بلکہ آج ستمبر 2017ء تک بھی) بغیر لائوڈ اسپیکر کے ہوتی تھی۔ اردگان کی بلدیہ تو خوش تھی چلیں پارک کے بالکل بیچوں بیچ چھوٹی سی مسجد بھی آباد ہوئی ہے، لیکن سیکولر اور لبرلز حضرات کو یہ چیز ایک آنکھ نہ بھائی۔ اردگان کے بنائے ہوئے پارک تو وہ ہضم کرلیتے تھے، کیونکہ انہیں یہاں اس ترقی پسندی کی جھلک نظر آتی تھی جو گھریلو تفریح کے بیچ شیطانی شہوت پسندی کی شکل میں ممکن ہوجاتی ہے، لیکن نمازیوں کے اجتماع میں شیخ کے اصلاحی بیانات جو زندگی بدل ڈال دیتے تھے، انہیں کسی طرح گوارا نہ تھے۔

شیخ خضر چونکہ شیخ محمود آفندی دامت برکاتہم العالیہ کے اجل خلفاء میں سے تھے، اس لیے اپنے شیخ کے ضعف کی بنا پر ان کی خانقاہ جو قریب واقع تھی، میں بیانات بھی کرتے تھے۔ نقشبندی حضرات فطری طو رپر حلیم الطبع اور بردبار ہوتے ہیں، البتہ ان کی خاموشی میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی کا نقشہ بدل ڈالتی ہے۔ شیخ خضر تو دلوں کو جھنجوڑ دینے والے خطیب بھی تھے۔ایک دن اپنے شیخ کی خانقاہ جو استنبول میں رجوع الی الدین کی تحریک کا مرکز تھی، میں بیان کررہے تھے کہ ان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ تعجب اس پر ہے کہ قاتل نے جیسے ہی ریوالور خالی کیا قریب بیٹھے دو افراد نے اس کو زدوکوب کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ گلا دبا کر مار ڈالا۔ ابھی شیخ کی روح اعلیٰ علیین نہ پہنچی تھی کہ قاتل بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ قاتل کی زبان بندی کے لیے جب اسے موقع پر مار ڈالا گیا تو لوگ ابھی شیخ کی طرف متوجہ تھے جو بیچ مسجد میں خون سے لت پت تھے کہ اتنے میں وہ دونوں افراد جو صوفیاء کے حلیے میں تھے غائب ہوگئے۔سیکولر حضرات نے پورا انتظام کیا تھا کہ اگر شیخ بچ جائیں تو بھی قاتل نہ بچے تاکہ دستور زباں بندی سے فائدہ اٹھایا جاسکے، لیکن اسلام کی تاریخ کرب و بلا شاہد ہے کہ اگر زبان خنجر چپ رہے گی تو آستین کا لہو پکارے گا۔ شیخ کی شہادت کے بعد پارک کی مسجد میں نماز تو ہوتی رہی، لیکن درس و تدریس اور بیانات کا سلسلہ موقوف ہوگیا۔ لوگ سہم گئے تھے۔ بڑی مشکل سے کربلا کے صحرائی چمن میں شیخ خضر جیسا دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ اتنے میں شام سے آئے ہوئے علماء میں سے شیخ رضوان کحیل کا یہاں گزر ہوا۔ انہوں نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس سلسلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ٹھان لی۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔

راقم الحروف نے پچھلے تین دن یہاں ’’قدوری اور ہدایہ شریف کی تدریس کے اصول و آداب‘‘ پر سہ روزہ دورہ کروایا ہے۔ اس دوران جو کچھ دیکھا اس کی بنیاد پرخودکو مجبور پاتا ھوں کہ شیخ رضوان کو ’’خضرثانی‘‘ کا لقب دوں۔ ماشاء اللہ! کیا علم اور کیا تقویٰ، کیا جذبہ اور کیا محنت، ہر اعتبار سے ایک کامیاب معلّم اور بہترین منتظم ہیں۔ ترکی میں علوم شریعت خاص طور پر حدیث و فقہ کے احیاء کی سخت ضرورت ہے۔ ترکی کے علماء کے پاس جذبہ اور صلاحیت بہت ہے۔ شام کے علماء کے پاس ماشاء اللہ وافر علم ہے۔ ان مہاجرین وانصار کے ساتھ مل کر علومِ دینیہ کے احیاء کی تحریک میں حصہ لینے کا لطف ہی الگ ہے۔ اللہ کرے کہ ’’معہد الامام ابی حنیفہ‘‘ کے نام سے قائم یہ ادارہ (جس میں حالات کی وجہ سے اب بھی اذان لائوڈ اسپیکر پر نہیں ہوتی) جلد ہی ’’جامعۃ الامام ابی حنیفۃ‘‘ بن جائے۔

شہدائے کربلا کے سچے وارث حضرت لدھیانویؒ اور حضرت شامزئی صاحبؒ سے لے کر مفتی جمیلؒ اور برادرم شیخوپوریؒ جیسے وہ لوگ ہیں جو فقر و فاقہ میں کام کرتے رہے اور شہید ہوکر گرنے سے پہلے جھنڈا دوسروں کو تھماگئے۔

ترکی میں اذان کی اجازت دینے والے پہلے نقشبندی ترک صدر عدنان میندریس سے لے کر نماز قائم کرنے کی پاداش میں جان دینے والے شیخ خضر تک ایک سنہری تاریخ ہے جو حضرت شیخ الہندؒ سے لے کر آج تک قربانی دینے والے علمائے ہند کے شاندار کردار سے مماثل ہے۔ شہداء کی قربانیوں کی برکت ایسی ہوتی ہے کہ بہت تھوڑا سا کام بہت بڑے نتائج دینے لگتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شیخ خضر شہید کی قربانی ضرور رنگ لائے گی۔ نئے اسلامی کے پہلے دن ’’غرۃ المحرم‘‘ کو جب اس مدرسے میں کورس کی آخری نشست ہورہی تھی تو دل سے بار بار یہ دعا نکل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ شیخ رضوان کحیل اور ان کے ساتھیوں کو ترکی میں شہدائے کربلا کا سچا وارث بنائے تاکہ اسلام کے اس مرکز میں دوبارہ اسلام کا بول بالا ہوسکے۔