• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

شرک کی دنیا میں بہت سی قسمیں ہیں، لیکن سب سے بدترین قسم آخر زمانہ میں ظاہر ہوگی۔ فتنے دنیا میں بہت آئے، لیکن عظیم ترین فتنہ آخری زمانہ (اینڈ آف دی ٹائم) میں ظہور کرے گا۔ فتنۂ عظمیٰ کے زمانے میں شرک عظیم کا ظہور ہوگا۔ عقیدے کی کمزوری اور توھم پرستی میں اضافے کی وجہ سے شرک کی قسماقسم صورتیں وجود میں آرہی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ مادّیت پرست دنیا ’’شرکِ عظیم‘‘ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہورہی ہے یا کی جارہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے فتنوں کے ظہور کی کثرت اس امر کی نشانی ہے کہ دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فتنے کی طرف جارہی ہے۔ زمانۂ جاہلیت قدیمہ میں انسان شرک کی سادہ قسمیں گھڑتا تھا۔ مٹی پتھر، لکڑی لوہے کے بت بنالیے۔ زیادہ ہی عقیدت کا جوش چڑھا اور وسائل کی فراوانی حاصل ہوئی تو سونے چاندی کی مورتیوں تک جاپہنچا، لیکن یہ سب مخلوقات ہیں۔ مخلوق کو خالق کا شریک جاننا صریح اور واضح حماقت ہے۔ ایسے شرک میں دلیل سرے سے مفقود اور عقلیت یکسر ناپید ہے۔


انسان کی بدقسمتی کہ اس نے شرک کی ترقی یافتہ قسم ایجاد کی تو اس کے پاس آسمانی علم (تورات و انجیل کی تعلیمات) آچکا تھا۔ یہ شرک کی اتنی خطرناک قسم تھی کہ خود خدائے واحد فرماتا ہے: ’’آسمان اس کی شدت سے پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے، اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر ڈھے جائیں۔‘‘ (سورئہ مریم:…) اس قسم کی ایجاد کا کارنامہ کم نصیبی سے ’’اہلِ کتاب‘‘ کا لقب پانے والے پڑھے لکھے مشرکین کے ہاتھوں انجام پایا۔ اہلِ کتاب دو ہیں: یہود اور نصاریٰ۔ نصاریٰ نے یہ نظریہ ایجاد کیا کہ اللہ کا شریک اس کی مخلوق سے نہ بنایا جائے، بلکہ خود خالق کے ایک جز یا اس سے نکلے ہوئے وجود کو اس کا شریک بنایا جائے۔ مخلوق جیسی بھی ہو وہ خالق کے رُتبے کو نہیں پہنچ سکتی، لیکن خالق کا جز یا اس کا بیٹا تو اپنے کُل یا اپنے والد کی تمام خصوصیات کا حامل ہوگا۔ اس میں تو خدائی صفات پیدائشی اور موروثی طور پر پائی جائیں گی۔ وہ خالق کے رتبے کو کیا پہنچے گا وہ تو…معاذاللہ… عین خالق ہوگا۔

عیسائی حضرات نے جناب مسیح علیہ السلام کو جو خدا کا بیٹا مانا اس شرک کی نظیر پہلے کبھی نہ تھی۔ ان کا علم اور عقیدت غلط رخ اختیار کرکے ان کے لیے وبال بن گیا اور وہ دنیا کو توحید کے نام پر تثلیث کا ایسا خطرناک شرک دے گئے جس کی نامعقولیت پر اللہ ربّ العزت کا غضب و جلال دیدنی ہے اور قرآن کریم کے مختلف مقامات پر جگہ جگہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

مادّی ترقی نے انسان کو جسم کا حرام عیش تو بہت فراہم کیا ہے، لیکن روح کو ایسا گھائل کیا کہ جاہلیت قدیمہ منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ جدید ترین سائنسی ایجادات کے بل بوتے پر ایک تیسرا شرک جو اس سے بھی خطرناک اور تباہ کن ہوگا۔ اس کی تیاری زوروں پر ہے۔ یہ اہلِ کتاب کی دوسری قسم ’’یہود‘‘ کے ہاتھوں ایجاد کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ یہ زمین پر آسمانی خدا کے بیٹے کے تصور کے بجائے زمین پر تمام خدائی صفات کے حامل ایک مقابل جیتے جاگتے زندہ زمینی خدا کے تصور پر قائم ہے۔

مغرب کی تمام سائنسی ایجادات اور جادو کے کرشمے اس جھوٹے خدا کو سونپے جائیں گے۔ تمام طبعیاتی اور ماوراء الطبعیاتی طاقتیں ملاجلاکر اس کے حوالے کی جائیں گی۔ تمام شیطانی طاقتیں اور خبیث قوتیں اس کا ساتھ دیں گی، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ اسے تمام روئے زمین پر… معاذ اللہ… تمام کائنات کا جھوٹا خدا ثابت کرنے کے لیے وہ لوگ زور لگائیں گے جو کبھی خود کو سچے اور لاشریک آسمانی خدا کا بیٹا اور محبوب کہا کرتے تھے۔ خود سوچیے! اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا کہ توحید کی تبلیغ ذمہ داری جن کے کندھوں پر تھی وہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے شرک کو جنم دینے اور اسے بالجبر و المکر تمام دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہوچکے ہیں۔

نیو ورلڈ آرڈر دراصل اس شیطانی مذہب یا دجالی نظریے کی تمام دنیا پر تنفیذ کا نام ہے جس میں تمام انسانوں کا ایک مصنوعی خدا، ایک غلامانہ مذہب اور ساتوں براعظم کا ایک طرزِ زندگی ہوگا۔ اس نظام کو مکر اور جبر کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ جو ’’ہولوگرام ٹیکنالوجی‘‘ کو سمجھ کر دھوکے میں نہ آئیں ان پر جبر ہوگا اور جو اس دھوکے کو نہ سمجھ سکیں (اور اکثریت انہی کی ہوگی) ان کے ساتھ مکرو فریب ہوگا۔ کہیں شعبدہ بازی اور بازی گری کے ذریعے یہ نیا عالمی دستور نافذ کیا جائے گا اور کہیں دھونس و دھاندلی کے بل بوتے پر تھوپا جائے گا۔ امریکا و یورپ نے اپنی ایجادات سے انسان کو فروعی گناہوں میں جو آسانی فراہم کی وہ تو کی، اب عقیدے اور نظریے کی وہ تباہی اور بربادی بھی پھیلائیں گے جو ناسا کے مراکز میں تیار ہورہی ہے۔ دنیا کو آہستہ آہستہ ’’ہارپ ٹیکنالوجی‘‘ کے بعد ’’ہولوگرام ٹیکنالوجی‘‘ کے ذریعے آسمان سے غیبی آوازیں آئیں گی۔ بادلوں میں فرشتے دکھائی دیں گے۔ جنت کے بالا خانے اور جہنم کی کھائیوں کا نظارہ کروایا جائے گا۔ آسمان پر ایک بڑی اسکرین دنیا کے ہر شہر میں دکھائی دے گی۔ جہاں سے اس دنیا کا نیا خدا اپنی مصنوعی خدائی کو تسلیم کروانے کے لیے پہلا حکم دے گا۔ اس حکم کا دنیا کی تمام زبانوں میں بیک وقت ترجمہ ہورہا ہوگا۔ ہر ملک اور ہر شہر کے باسیوں کو وہ ان کی اپنی زبان میں بولتا دکھائی دے گا۔ پھر اس کے زمینی کارندے حرکت میں آجائیں گے۔ وہ پانی کو آگ اور آگ کو پانی دکھائیں گے۔ کھیت کو صحرا، برفانی پہاڑ کو آتش فشاں اور سراب کو سمندر بتائیں گے۔ دجّالی مذہب کے صہیونیت زدہ پیروکار انسانوں کو ایک کھوٹے اور جھوٹے انسان کی خدائی مان لینے پر اکسائیں گے۔ شیطنت اس قدر عروج پر ہوگی کہ لوگ سچے مسیح کو آسمان سے اترتا دیکھ کر نہ مانیں گے اور جھوٹے مسیح کی شبیہ بادلوں میں دکھائی جائے گی تو سجدے میں گرپڑنے پر تیار ہوجائیں گے۔ سچا مہدی شریعت و سنت کی ابتاع کی طرف بلائے گا، حرام خوری اور حرام کاری کے عادی حلال کو حرام اور حرام کو حلال بتائیں گے۔ جھوٹے مہدی شعبدے دکھا دکھاکر لوگوں کے ایمان سے کھیلیں گے، ان کے فریب کا پردہ چاک کرنے والے کو لوگ جھٹلانا شروع کردیں گے۔

غرض کہ وہ اودھم مچے گا کہ الامان الحفیظ۔ شام سے برما تک اور فلسطین سے افغانستان تک کے حالات ابتدا ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ دو باتیں طے ہیں: ایک یہ کہ توحید خالص پر نجات کا مدار اور شرک پر عذاب ابدی کی سزا لازم ہے۔ دوسرے مسلمان خرافات میں پڑکر جتنا بھی شریعت و سنت سے دور ہوجائیں، ان کی نجات انہی چیزوں کی طرف واپسی میں ہے۔ مشرق میں غزوئہ ہند اور ارض مقدس میں مقدس جنگ کی کٹھال سے صرف وہی فاتح بن کر نکلے گا جس نے عقیدے کو شرک سے دور، جسم کو حرام سے محفوظ رکھا ہوگا۔ جو ملوث کرچکا ہے اس کی توبہ کا دروازہ بھی بند نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آنکھ بند ہونے سے پہلے آنکھیں ندامت کے آنسوئوں سے نم کرلے۔ آج کے مادّیت زدہ انسان کی مشکل یہ ہے کہ اس کی آنکھ اس وقت تک کھلتی نہیں جب تک بند نہیں ہوجاتی۔ اسے تب تک احساس ہوتا ہی نہیں جب تک مہلت ختم نہیں ہوجاتی۔ سعادت مند ہے وہ روحیں جو مشکل وقت میں بھی توحید سے چمٹی رہتی ہیں… اور بابرکت ہیں وہ جسم جو حرام کی گندگی سے بچنے کے لیے مشتبہ کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔