• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

باتیں تو کرنے کی کئی ہیں۔ دیکھیں کس کی باری کب آتی ہے۔ سب سے پہلی تو یہ کہ مایوسی یا پست حوصلگی کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ گنجائش ہی نہیں۔ ہم نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ ندامت کے آنسوئوں کی ذرا سی نمی چاہیے، اس کے بعد وہ زرخیزی دیکھنے کو ملے گی کہ ساقی حیران رہ جائے گا کہ یاربّ ایسی چنگاری بھی ہمارے خاکستر میں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دوڑ کر آئو میری طرف۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیر انسان کے ساتھ فضل و کرم کا پہلا معاملہ ہے۔ پھر انسان جب دنیا داری میں پڑ کر اپنے ربّ سے دور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرا احسان یہ فرماتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اسے احساس دلانے والے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ کو دل کی گہرائیوں سے ایسا یاد کرے کہ غفلت کی اگلی پچھلی کسر نکل جائے اور ایسا رجوع نصیب ہو کہ صدیوں کا فاصلہ لمحہ بھر میں طے ہوجائے۔ دنیا نے ہمیں بہت طعنے دیے، لبرلز نے حوصلہ شکنی میں کسر نہیں چھوڑی، سیکولر لوگوں نے دل کھول کر پھپھولے پھوڑے، اب سب حیران و ششدر ہیں کہ مظلوم ہوکر اس اُمت کا یہ حال ہے تو فاتح بن کر اس کی اعلیٰ ظرفی اور بلندی حوصلگی کا کیا عالم ہوگا۔ واللہ العظیم! اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتی جو خود زخموں کے چور ہوکر جاں بہ بلب ہو، لیکن اس حالت میں بھی پانی کا پیالہ دوسرے کے لبوں سے لگانے پر اصرار کرے۔


تو سب سے پہلی چیز رجوع الی اللہ ہے۔ ہمیں انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر اللہ تعالیٰ سے معاملہ معاف کرلینا چاہیے۔ اس کے بعد پورے عزم و حوصلے سے اپنے مظلوم بھائی کا ہاتھ تھام لینا چاہیے۔ اپنے تھکے ہارے، لٹے پٹے، اور اس مرتبہ تو کٹے پھٹے، جو بھائی ابتلا میں آئے ہیں، ان سے ہر سطح پر اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کا ایسا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ آیندہ دنیا ہم میں سے کسی پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو مرتبہ سوچے کہ جس قوم کو اتنا گھیرنے کے بعد بھی شکست نہیں دی جاسکتی، اس سے متھا لگانے کا فائدہ کیا ہے۔ احقر ان تمام اہلِ اسلام کو سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے اس گئے گزرے دور میں ثابت کردیا کہ ہم مصطفوی ہیں۔ ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں۔

برما کے مسئلے کی مختلف توجیہات کی جاتی ہیں۔ کچھ میں تو سرمہری اور سنگدلی ہے، کسی قدر استہزاء و تمسخر بھی اور کچھ میں ہمدردی اور دل سوزی تھی۔ مسئلے کے اور پہلو تو آپ کے سامنے ہیں۔ ایک وہ ہے جو عالمگیر ہے اور انسانی حرص و ہوس اور شقاوت و سنگدلی کا بدترین مظہر ہے۔ آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں۔ تیسری دنیا کے جس ملک میں کسی قسم کی قیمتی معدنیات برآمد ہوتی ہیں اس میں کچھ قوتیں کبھی امن قائم نہیں ہونے دیں گی۔ یہ قوتیں ’’عالمی معاشی دہشت گرد‘‘ کہلاتی ہیں اور دنیا کی ہر قیمتی چیز پر اپنا حق سمجھتی ہیں۔ یہ ایسے ملکوں کے ایک طبقے کو حکومت دے کر معدنیات ہتھیاتی اور دوسرے کو اسلحے بیچ کر موت بانٹتی ہیں۔ تنزانیہ سے بوٹسوانا اور وینزویلا سے گوادر تک ایک ہی کہانی کے مختلف مناظر ہیں۔ دنیا کا سب سے قیمتی پتھر یاقوت ہے اور دنیا کا بہترین یاقوت برما میں پیدا ہوتا ہے اور بدقسمتی یا خوش قسمتی سے مسلمانوں کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ دنیا میں ان طاقتوں کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی صرف مسلمان رکھتے ہیں، اس لیے وہ معصوم اور بے ضرر ہوں تو بھی شدت اور دہشت گرد ہیں۔ اور اگر پسماندہ و غریب ہوں تو بھی پوری دنیا میں دربدر ہیں۔ جتنا ان پر ظلم ہوگا اتنا ہی وہ بدنام کیے جائیں گے اور علاقہ خالی کرنے تک ان کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے کسی کو کھڑا کرکے اس کی مدد کی جاتی رہے گی۔ دنیا حیران ہے کہ بے ضرر بھکشو اتنے شدت پسند کیسے ہوگئے؟ اور برما کے مسلمان حیران ہیں کہ ان کی یاقوت اگلتی سرزمین پر یکایک آگ کیوں برسنے لگتی ہے۔

قرآن شریف میں آتا ہے کہ جنت کی حوریں گویا یاقوت اور مرجان ہیں۔ زمین سے نکلنے والا قیمتی ترین پتھر ’’یاقوت‘‘ ہے اور سمندر سے نکلنے والا قیمتی ترین مونگا ’’مرجان‘‘ ہے۔ مفہوم یہ ہوا کہ جنت کی حوروں میں بحر و برّ کی خوبصورتی اور کشش جمع کردی گئی ہے، لیکن یہ تو آخرت کی باتیں ہیں۔ اس دنیا میں تو جس غریب ملک کے پاس کوئی قیمتی چیز ہے اسے اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگا، ورنہ غربت، جہالت اور قحط و بیماری اس کے آنگن میں ڈیرے ڈال دے گی۔ اسے عالمی ساھوکار کبھی چین سے نہ رہنے دیں گے اور الٹا بدنام بھی کرتے رہیں گے۔ بدھسٹ بھکشوئوں کو بھی نہیں پتا کہ انہیں کس نے اتنا سنگدل اور شقی القلب بنادیا کہ وہ ایک طرف تارک الدنیا بننے کی ریاضت کرتے ہیں اور دوسری طرف بے رحمی اور سنگدلی کی وہ حدود بھی پار کرجاتے ہیں جس کا تصور جدید جاہلیت کے مارے کسی اور ترقی یافتہ حیوان نے بھی نہ کیا ہوگا۔

کبھی دشمن شر سوچتا ہے، لیکن اہلِ ایمان اللہ پر توکل کرکے عزم و ہمت کے ساتھ ڈٹ جائیں تو اس شر میں سے بھی اللہ تعالیٰ خیر برآمد کردیتے ہیں۔ برما سے شام تک اور چیچنیا سے انڈونیشیا تک ہم جس طرح ایک دوسرے کے درد دُکھ میں شریک نظر آئے اسی طرح اتحاد و اتفاق سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے بھی چند لمحوں کے لیے متحد ہوجائیں تو کایا پلٹ جائے۔ ہمارے اجتماعی توبہ اور پھر ایک دوسرے کی اصلاح احوال کی فکر ان شاء اللہ رنگ ضرور لائے گی۔ ترکی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اصلاح اور ترقی کی طرف واپسی کے سفر میں دنیا کے تمام مظلوموں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔ یہ فریضہ دراصل ہمیں انجام دینا چاہیے۔ ہم ہر اعتبار سے اس کے اہل ہیں۔ اور بات تو یہ ہے خیر کی قوتیں جب تک اکٹھی نہ ہوں گی باطل ان کو بکھیر بکھیرکر ستاتا رہے گا۔ کیا ہمارے لیے برما کی مظلومیت اور امت میں اٹھنے والی بیداری کی لہر کے حوالے سے اس سے اچھا کوئی پیغام ہوگا؟؟؟