• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جب فیصلے کی گھڑی… لمحۂ موعود… قریب آن لگے گی تو عجیب عجیب باتیں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی… لیکن کن عجیب باتوں کا فیصلے کے لمحے سے کس طرح کا تعلق ہے؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے نہایت مبہم رکھی ہے۔ اتنی مبہم کہ اس کی علامات کو بھی مبہم رکھا گیا ہے تاکہ آزمائش کے لمحات میں امتحان پر پورا اترنے والے خوش قسمت مبہم علامات کی بالجزم تطبیق میں خود کو کھپانے کے بجائے اپنے حصے کے کام میں لگے رہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک قوم اپنے کرتوتوں کی بارش میں دو مرتبہ ارضِ مقدس سے نکالی گئی۔ پہلی بار شریعت موسویہ کی تحریف و استہزاء پر اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی تضحیک و تکفیر پر۔ دونوں مرتبہ انکار بھی محدود اور بوقت شریعت کا تھا اور توبہ بھی واسطے اور وسیلے دے کر کی گئی تھی، اس لیے انہیں ’’ارضِ موعود‘‘ میں واپسی کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ تیسری مرتبہ انکار بھی دائمی اور عالمگیر شریعت محمدیہ کا ہے، اور واپسی بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کی گئی ہے، اس لیے اب معافی بھی نہ ہوگی، بلکہ پتھر اور درخت بھی پکار پکار کر ان کے خفیہ ٹھکانوں کی آگاہی دیں گے اور ان کے کلّی خاتمے میں کائنات کی ہر چیز اپنا کردار ادا کرے گی۔


اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ کل تک ایک قوم منت سماجت کرتی تھی کہ ہمیں ’’دیوارِ گریہ‘‘ کے پاس رونے دھونے کی تھوڑی سی جگہ دے دی جائے۔ تصویری تاریخ کی کتابوں میں وہ تنگ گلی آج بھی دیکھی جاسکتی ہے جو دیوارِ گریہ اور اس کے ساتھ متصل مسلمانوں کے مکانات کے درمیان پائی جاتی تھی۔ ان امکانات کے بیچ مساجد اور خانقاہیں بھی قائم تھیں۔ قومِ یہود کو اس تنگ گلی میں کھڑے ہوکر ٹسوے بہانے کی اجازت کیا ملی کہ اس نے اجازت دینے والوں کے مکانات اور عبادت گاہوں کو ہی مسمار کرکے چٹیل میدان میں تبدیل کردیا۔ آج بیت المقدس کی اس غربی دیوار کے ساتھ کھلے میدان میں دنیا بھر کے غیرمقامی یہود اور ان کے ہم نوا جمع ہوکر جب چاہیں وہ خود ساختہ عبادت کرسکتے ہیں جس کا شریعت موسوی میں یا تورات کی آیتوں میں کوئی وجود ہی نہیں، لیکن اسی دیوار کی دوسری طرف مسجد کی حدود میں مسلمان جمعہ کے مبارک دن بھی وہ عبادت نہیں کرسکتے جو تمام شریعتوں میں متوارث چلی آئی ہے اور جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے امام الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امامت میں اتنی مسجد میں ادا کی تھی۔

عجائبات کے اندر کیسے عجائبات چھپے ہوئے ہیں۔ ذرا تصور تو کریں اس فریبانہ ستم ظریفی کی کوئی حد بھی ہے کہ ایک طرف فلسطین سے سعودی عرب تک حاجیوں کو ’’براہ راست‘‘ آمدو رفت کی ’’سہولتیں‘‘ دینے کے لیے اسرائیل اور ارضِ حرمین کے درمیان فضائی رابطے بحال کیے جارہے ہیں۔ دوسری طرف اسی فلسطین کے مسلمانوں کو ان کی اپنی سرزمین پر مسجد اقصیٰ میں جمعے کی نماز کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں فرقہ واریت کی مذمت کرنے والے اپنے ہاں ان فرقوں کو مرکز بنا بناکر دے رہے اور ’’عالمی رہنمائوں‘‘ سے ان کی ملاقات کروارہے ہیں جن فرقوں کو ان کی اپنی پیدائش گاہ میں ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ مفروروں، باغیوں، توہین رسالت کے مجرمو ںکو مغربی ممالک میں محفوظ و معزز پناہ گاہیں مل رہی ہیں اور ملک کی خاطر روزِ اوّل سے قربانیاں دینے اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنے والے انبیائی وراثت کو سنبھالے رکھنے کے جرم میں معتوب و مطعون ٹھہرے ہیں۔ مشرق و مغرب کے یہود و ہنود باہمی فاصلے ختم کرکے ایسے شیر و شکر ہورہے ہیں کہ ابوجہل اور حیّ بن اخطب کے باہمی معاہدوں کی یاد تازہ ہورہی ہے… جبکہ پڑوس میں مل جل کر رہنے والے ’’نحن العرب‘‘ کے دعویدار ایک دوسرے کا ایسا بائیکاٹ کررہے ہیں کہ ازلی دشمن کسی ناقابل معافی جرم کے مرتکب سے بھی ایسا نہ کرتا ہوگا۔

جب زمین کے باسی عجیب عجیب کام کرتے ہیں تو قدرت کی طرف سے بھی عجیب عجیب فیصلے ظہور میں آتے ہیں۔ فلسطین کے مسلمان قبلۂ اوّل کے تحفظ کے لیے اکیلے کھڑے ہیں، ان کے ساتھ پوری سرزمین عرب میں سے ہمدردی کے دو بول بولنے والا نہیں۔ اگر کوئی تھا تو سب مہربان مل کر اس پر نامہربان ہوگئے ہیں۔ شام کے مسلمانوں کو ترکی کے علاوہ کوئی پناہ دینے والا نہیں، لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کی سب سے نادر مثال قائم کرنے والے کے ساتھ انسانی حقوق کا ایک بھی علمبردار دور دور تک نظر نہیں آتا۔ کہاں تک گنوائیے کہ تعجب خیز امور کی تھپیاں اوپر تلے لگی ہوئی ہیں۔ جھوٹ ایک فن، ظلم ایک پیشہ اور دھوکہ فطرت بن گیا ہے۔ باطل کی گز بھی لمبی زبان کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہر طرف ہیں اور حق کی حمایت میں دو بول کہنے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ اسرائیل کے تحفظ کے بعد اسرائیل کی توسیع کے مرحلے میں سب حصہ بقدر جثّہ کے تحت شریک ہیں۔ خوش خبری ہو ان لوگوں کے لیے جو آج بھی قبلۂ اوّل سے آنے والی مظلومانہ صدائوں پر لبیک کہنے سے نہیں جھجکتے۔ آسمانوں کی برکتیں اور آخرت کی سعادتیں انہی کے لیے ہیں۔ تھوڑی سی آزمائش کے بعد ہمیشہ کی راحتیں انہی کے لیے ہیں۔