• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

راقم الحروف کے سامنے اس وقت دو منظر یا دو تصویریں ہیں جس کے تقابل میں کئی اہم سبق پوشیدہ ہیں،لیکن ہماری مشکل یہ بن چکی ہے کہ ہم مسلّط کی گئی بناوٹی ’’نالج‘‘ میں تو سر کھپاتے ہیں، ان چیزوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں نہ تنقیدی جائزہ لیتے ہیں جو حقیقی معنوں میں سبق آموز بھی ہیں اور عبرت انگیز بھی۔

ایک تصویر تو علامہ محمد اقبال پارک کی ہے جو ان کے مرشد مولانا رومیؒ کے مزار مبارک کے جوار میں قائم کیا گیا ہے۔ اس پارک کے قیام کی تحریک نہ اقبال فائونڈیشن جیسے کسی ادارے نے چلائی نہ ہماری حکومت نے اس کے لیے ترغیب دی نہ فنڈ عطا فرمایا۔ یہ ترک حکومت کی دور اندیشی، تاریخ شناسی اور فکر اجتماعی کا نتیجہ ہے۔ اس میں پاکستان کے سفیر یا محبان اقبال کی کسی کاوش کا کوئی دخل نہیں۔


دوسری تصویر شاہی مسجد لاہور کے سائے میں واقع علامہ اقبال کے مزار کی ہے جس کی طرف جانے والے راستے پر یہ تختی آویزاں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’لاہور لاہور ہے‘‘، اس میں سب کچھ ہے۔ اتنا کچھ کہ جس نے یہ سب کچھ نہیں دیکھا گویا وہ جیا ہی نہیں، لیکن اگر کچھ دیکھنے کو باقی نہیں بچا تو وہ شہر اقبال کے اندر مزار اقبال ہے، کیونکہ ہم اپنی تاریخ بھلانے کے ہی نہیں اسے مسخ کرنے کے درپے ہیں۔ مہربانوں کے مطابق ہمارے قومی شاعر فیض احمد فیض قرار پاچکے ہیں۔ علامہ سے ہم نے یہ اعزاز واپس لے لیا ہے۔

اس عاجز نے پچھلے سات سال میں ترک معاشرت کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا ہے، مجھ سے اگر کوئی کہے کہ ہم 60، 70 سال میں وہ فاصلے طے نہیں کرسکے جو ترک قوم نے پچھلے 10 سال میں طے کرلیے۔ اس کی وجہ دو لفظوں میں بیان کردو تو یہ فقیر انہیں ایک ہی بات کہے گا، صرف ایک… وہ یہ کہ ترک قوم نے اپنے اندر اجتماعی فکر پیدا کرلی۔ انہوں نے امت واحدہ کے اس تصور کو پروان چڑھانے میں کامیابی حاصل کرلی جس کے بعد ہر فرد اپنے لیے نہیں جیتا، پوری اُمت کے لیے جیتا ہے۔ تب پوری اُمت بھی اپنے لیے نہیں جیتی اپنے ہر فرد کے لیے جیتی ہے اور یوں سب کو حیات جاوداں نصیب ہوجاتی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کے ہر شہری میں پیدا کرگئے تھے، اور یہ وہ نظریہ حیات ہے جس کے خاک کے پتلے میں پیدا ہوتے ہی وہ اسفل السافلین سے اعلیٰ علیین تک کے فاصلے لمحے بھر میں طے کرجاتا ہے۔ یہ وہ فکر ہے جس کے سامنے ’’حب الوطنی‘‘ جیسے لفظ نہایت محدود ہوجاتے ہیں اور وہ ’’خیرالامم‘‘ قوم پروان چڑھتی ہے جسے سارے عالم کی بھلائی کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اور جو بالآخر آخری معرکہ کی فاتح بن کر ساری دنیا سے شر و فساد کا خاتمہ کرکے خیر و ہدایت کا بول بالا کرے گی۔

ایک زمانہ میں جدید ترکی کا جھانسہ دے کر ترک تاریخ کے سینے سے عظمتوں کے تمام نشانات چن چن کر نوچ لیے گئے۔ حتیٰ کہ دارالحکومت کو مسجدوں کے شہر استنبول سے منتقل کرکے شراب خانوں سے معمور شہر میں منتقل کردیا گیا۔ تب استنبول منشیات کا گڑھ، انسانی اسمگلنگ کا مرکز اور بدعنوانی، چور بازار، بدنظمی و گندگی میں دنیا کا بدنام ترین شہر بن گیا۔ تب ایک ’’ترک دانا‘‘ نے یہیں سے نفس پرستی پر قائم جدت پسندی کے خاتمے کا سفر شروع کیا اور دس سال کے قلیل عرصے میں قدامت پسندی کے سنہرے اصولوں کے بل بوتے پر اسے دوبارہ ’’اسلام بول‘‘ بنادیا۔ یہاں کے باشندے نہ صرف اپنے ملک کی تعمیر میں جتے ہوئے ہیں، بلکہ ایسا لگتا ہے سارے جہاں کا درد اُن کے دل میں سماگیا ہے۔ امت کے اجتماعی مفاد کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کی سوچ ان میں اس حد تک راسخ ہوچکی ہے کہ کبھی کبھی انسان کو تعجب ہونے لگتا ہے کہ مرید ہندی نے جو خواب اپنی قوم کے بارے میں دیکھا تھا وہ مرشد رومیؒ کی قوم کے حق میں حقیقت کا روپ دھاررہا ہے۔

اس اجتماعی سوچ کا نتیجہ ہے کہ عام ترک میں بدعنوانی، کام چوری اور ملّی مفاد سے روگردانی بہت کم ہے، جبکہ ہمارے ہاں جو جتنا بڑا ’’محبت وطن‘‘ ہے وہ اتنا ہی بڑا خائن، کام چور اور مفاد پرست ہے۔ امت واحدہ کے اسی تصور کی برکت ہے کہ ترک قوم کبھی حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے علوم کو زندہ کرنے کے لیے ان کے نام پر کانفرنس کرواتی ہے اور کبھی علامہ اقبال کے نام سے پارک منسوب کرتی ہے، جبکہ ہم شامیوں کو پناہ دینے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی حتی المقدور خدمت کرنے والے اس برادر ملک کو اپنی ترجیحات میں سے دیس نکالا دینے کے ساتھ اپنی تاریخ کو بھی مسخ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں 15؍ جولائی کے شہداء کے لیے ایصال ثواب ہورہا ہے۔ ملک بھر میں دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جارہے ہیں اور ہمارے ہاں پورے کے پورے ٹبر شاید دوبارہ تڑی پار ہورہے ہیں۔ انہوں نے بدعنوانی ختم کرکے آئی ایم ایف کے قرضے ریکارڈ مدت میں اتار دیے ہیں، ہم حکمرانوں سے لے کر افسران تک گردن گردن تک بدعنوانی کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہر پیدا ہونے والے بچے کو قرضوں سے بوجھ تلے درگور کرتے جارہے ہیں۔ ترک قوم نے اس مبارک نظریۂ اجتماعیت کی بدولت 70 سالہ جبری سیکولر دور کے اثرات محض دس سال میں دور کر دکھائے۔ دیکھتے ہیں ہم پچھلے 70 سال کی کوتاہیوں کا کفارہ دینے میں کتنے عشرے لگاتے ہیں؟