• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

شب براء ت آکر گزر چکی ہے اور رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں گزشتہ سال گزر جانے کے بعد اس سال دوبارہ نصیب والوں کو نصیب ہونے آرہی ہیں۔ رات دن کا آنا جانا اور صبح شام کا ایک دوسرے کے پیچھے آتے جاتے رہنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ایسی نشانی ہے جو اللہ ربّ العزت کے حیّ و قیوم ہونے اور انسان کے فانی اور فنا درفنا کے عمل میں مبتلا ہونے کی علامت ہے اور انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مہلتِ عمل کم رہ گئی ہے، حساب و کتاب کی گھڑی قریب آن لگی ہے۔ کسی بھی وقت وہ اپنے حصے میں لکھا گیا آخری سانس نمٹاکر دارالفنا سے دارالبقا کو رخصت ہوا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی نجات اور فلاح کے لیے جس طرح کچھ انفرادی اعمال کو ذریعہ بنایا ہے اسی طرح کچھ اجتماعی اعمال کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ دونوں میں افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کے ساتھ چلتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

انفرادی اعمال سے انسان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور اجتماعی ذمہ داریوں سے معاشرے کی صلاح و فلاح حاصل ہوتی ہیں۔ کسی ایک میں اتنا لگنا کہ دوسرے سے غفلت ہونے لگے افراط ہے اور کسی کی ادائیگی میں شریعت کے اصولوں اور سنت کے نمونوں سے انحراف تفریط ہے اور یہی دو چیزیں انسان کی کوششوں کو بے نتیجہ بناتی ہیں۔ اعتدال فطرت انسانی اور عمل بنی آدم کا وہ ذریعہ ہے جو حسنِ عمل کو حسنِ اختتام تک پہنچانے کا ضامن ہے۔ شدت پسندی اور سیکولرازم دونوں افراط و تفریط ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کو مقصد حیات بنانا یا اجتماعی مقاصد کے حصول کے لیے جائز و ناجائز ذرائع سے غافل ہوجانا بھی وہی کمی زیادتی ہے جو ہمارے کردار کا روگ بن کر ہماری منزل کھوٹی کررہی ہے۔ علمائے کرام یا ان کے قافلوں پر حملے معمول کی بات بن چکے ہیں اور عالمی استعماری کے خلاف افغانستان میں جاری بے مثال جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنا ہمارے دشمنوں کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ ابھی 22؍ رجب اور شب براء ت گزری ہے۔ کچھ لوگوں نے 22؍ رجب کو کونڈے کی رسم جاری رکھنے کو اپنی دینداری کے لوازمات میں سے شمار کیا ہے اور بعض سرے سے اس شخصیت کے فضائل سے ہی غافل ہیں۔ شب براء ت کو لے لیجیے۔ نجانے کس ستم گر نے اس مبارک رات آتش بازی کا رواج دے کر ہندوانہ رسمیں اور اسلامی شعائر میں فرق مٹانے کی بنیا درکھی۔ اور دوسری طرف خدا جانے کس بنیا دپر سرے سے اس کی فضیلت کا ہی انکار کردیا گیا ہے۔

رمضان کی آمد جمعۃ المبارک سے اس اعتبار سے مشابہت رکھتی ہے کہ جس طرح جمعہ کے دن کا ایک مخصوص وقت (پہلی اذان سے جمعہ کی ادائیگی تک) اللہ کے ذکر کے لیے خاص کردیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ مہینہ بھی کچھ نیک کاموں کے لیے مخصوص ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جمعہ کے دن… کم سے کم… ایک سے دو بجے کے دوران پورے عالم اسلام میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند اور کاروبار موقوف ہو تاکہ ہفتہ بھر برکتیں ہی برکتیں نصیب ہوں۔ اسی طرح رمضان المبارک میں عالم اسلام کے ہر امیر ملک کو چاہیے تھا کہ ایک ایک غریب ملک کی کفایت ذمہ لے یا ایک ایک غیرمسلم ملک میں میں ہدایت و رحمت کی دعوت کی ذمہ داری سنبھال لے، لیکن یہاں حال یہ ہے کہ امیر اسلامی ممالک میں بھی شعائر اسلام کی پابندی اور احترام نہیں ہورہا۔ نہ وہ اپنے ان وسائل اور قدرتی دولت کی حفاظت کرسکے ہیں جو اللہ نے بغیر طلب کے ان کو دی تھیں۔ رہ گئے ہم، ہمارے ہاں تو استقبال رمضان کا انداز ہی نرالا ہے۔ اب تک تو ہم خود اپنی ہنسی اڑواتے تھے، اب اللہ کی نشانیوں سے ٹھٹھول کی روش بھی چل پڑی ہے اور احترام رمضان کے منافی اعمال کی ایک فہرست ہے جس میں ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر اضافے کی فکر میں بلکہ نت نئے اضافے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ دیکھیے گا رمضان المبارک میں جہاں ایک طرف مہنگائی اور ساتھ ہی اسراف و تبذیر کا طوفان آئے گا وہاں دوسری طرف شام جیسے تاریخی ملک کے ہزاروں باشندے اس حال میں چھ سال سے خیمے میں پڑے ہیں جہاں شہری زندگی کی کسی سہولت کا کوئی تصور ہی نہیں۔ 12، 12 افراد ایک بوسیدہ خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں اگر کوئی ایک فرد کپڑے بھی بدلنا چاہے تو بقیہ سب کو خیمے سے باہر جانا پڑتا ہے اور جہاں اگر کسی کو ناخن کاٹنے کی ضرورت ہو تو وہ اسے سخت پتھر سے رگڑ کر توڑتا ہے اور پھر نرم پتھر سے گھس کر اتنے نوکیلے ہونے سے بچاتا یا جان چھڑاتا ہے کہ خود کو بے دھیانی میں زخمی نہ کرلے۔

جس طرح ہمیں اپنی خامیوں کا کھوج لگانے اور ان سے پیچھا چھڑانے کی فکر نہیں، اسی طرح اگر کسی ملک میں کسی حد تک کوئی خوبی کی بات پائی جاتی ہے تو اس کو اپنانے کی دھن بھی نہیں۔ ترکی میں رمضان کی راتیں اپنا ہی ایک حسن رکھتی ہیں اور دنیا بھر 128 ممالک میں رفاہی خدمات انجام دینے کے ساتھ جس طرح ہر آئے دن ترکی سے خوشبودار خبر کا ایک نیا جھونکا آتا ہے، وہ بھی غموں کی چھائی گھٹا میں ایک امید افزا کرن کی مانند ہوتا ہے۔ ترک حضرات کی کوشش ہے کوئی شامی مسلمان سحری و افطاری کی کمی یا ناپیدگی سے روزہ چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔ پاکستان سے کچھ احباب بھی اس مبارک مہم میں ان کا ساتھ دینے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ ہمیں مل جل کر عہد کرنا چاہیے کہ نیک کام میں ایک دوسرے کا دست و بازو بنیں گے۔ اللہ کی ناراضگی والے کاموں سے براء ت کا اظہار کریں گے، خاص کر ایسے کاموں سے ایک دوسرے کو روکنے کی کوشش کریں گے جن پر غضب الٰہی دنیا ہی میں نازل ہوتا ہے اور بات بنتے بنتے بگڑجاتی ہے۔